اخواجہ معین الدین چشتی یونی ورسٹی میںدوسری دوروزہ بین الاقوامی اردو کانفرنس کا افتتاحشمس الرحمن فاروقی،مسرور جہاں،عارف نقوی،مرتضی علی غزنوی اور سنیتا جھینگرن کو ایوارڈ
ڈاکٹر ہارون رشید
لکھنؤ۔۱۷؍فروری۔ اردو کسی ایک فرقہ کی زبان نہیں ہے۔یہ ہندوستان میں پیدا ہوئی ہے ۔ہندوستان میں اردو زبان کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے۔اردو نے جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو کی جو طاقت ہے ،جوش ہے اور جذبہ ہے اس نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے ۔اردو ہندوستان کی زبان ہے۔اور زبانیں دلوں کو جوڑتی ہیں۔ان خیالات کا اظہاراتر پردیش کے گورنر رام نائک نے آج خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونیورسٹی میں دوسری دو روزہ بین الاقوامی اردو کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔گورنر رام نائک نے کہا کہ مجھے بے انتہا مسرت ہو رہی ہے کہ پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس جو لکھنؤ یونیورسٹی کے مالویہ ہال میں تھی اس کے افتتاح کا موقع بھی مجھے ملا تھا اور آج بھی مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔سامعین کی تعداد کو دیکھتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اتنے شاندار اور بڑے پروگرام کا انعقاد اس سے بڑے ہال میں ہونا چاہئے یا پھر کسی میدان میں اس کا انعقاد کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ ہال چھوٹا پڑ رہا ہے۔اردو کے بارے میںگورنر نے کہا کہ اردو کسی ایک فرقہ کی زبان نہیں ہے۔یہ ہندوستان میں پیدا ہوئی ہے اور یہ پوری ہندوستان کی زبان ہے ۔ہندی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہی ہے۔ہمارے ملک کے آئین نے اسے منظوری دی ہے اور اتر پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ایسے میں اردو کو کسی ایک فرقہ ایک طبقہ کی طرف منسوب کرنا مناسب نہیں ہے۔ہمارے ملک سے جو زبانیں باہر گئی ہیں ان میں اردو بھی ہے۔اردو میں جوش ہے جذبہ ہے پیار ہے۔زبانیں ایک دوسرے کی دشمن ہو ہی نہیں سکتیں۔ْگورنر نے کہا کہ آجکل پڑھنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن پڑھنے سے دماغ روشن ہوتے ہیںاور ذہن بیدار ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ تیرا ہے یہ میرا ہے اس طرح کی باتیں چھوٹے دل والے کرتے ہیں۔جن کا دل بڑا ہوتا ہے ان کی نظر میں ساری دنیا ایک خاندان کی طرح ہے۔انھوں نے کہا کہ اردو میں جو بہترین کتابیںہیں اور جو بہترین کتابیں لکھی جا رہی ہین ان کا ترجمہ دوسری زبانوں میں بھی ہونا چاہئے اسی طرح دسری زبانوں کی بہترین کتابوں کا ترجمہ اردو میں کیا جانا چاہئے تاکہ ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع مل سکے۔انھوں نے کہا کہ میں نے راج بھون کی کارکردگی کی رپورٹ اردو میں بھی شائع کرائی کیونکہ اردو ہمارے پردیش کی دوسری سرکاری زبان ہے۔گورنر نے مزی کہا کہ جو قرادد پاس ہو اس کی نقل مجھے بھی مہیا کرائی جائے میں جو کچھ کر سکتا ہوں کروں گا۔اس سے پہلے گورنر رام نائک میں یونیورسٹی میں سی سی ٹی وی سسٹم اور طلبہ کو طبی خدمات مہیا کرانے کے پروگرام کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر گورنررام نائک کو ان کی کتاب ’’چریوتی چریوتی‘‘کے جرمن ترجمہ کی کاپی (جو عارف نقوی جرمن سے لائے تھے )پیش کی گئی۔گورنر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چریوتی چریوتی کا مطلب ہے چلتے رہو چلتے رہو۔کیونکہ جو بیٹھ جاتا ہے اس کی قسمت بھی بیٹھ جاتی ہے،۔جو کھڑا ہو جاتا ہے اس کی قسمت بھی کھڑی ہو جاتی ہے اور جو چلتا ہے اس کی قسمت بھی چلتی رہتی ہے اس لئے میرا پیغام ہے کہ زندگی میں سداچلتے رہو چلتے رہو۔ قابل ذکر ہے کہ دوسری دو روزہ بین الاقوامی اردو کانفرنس کا اہتمام خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونیورسٹی اور مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنٹیز سائنس اینڈ ٹکنالوجی ،محمود آباد کے اشتراک سئے کیا گیا تھاجس کے لئے مالی تعاون قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی،اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد کمیٹی نے فراہم کیا۔گورنر رام نائک کے کانفرنس ہال میں پہنچنے پر قومی گیت اور قومی ترانہ پیش کیا گیا۔اور روایتی طورپر شمع روشن کی گئی۔تلاوت قرآن کے بعدمہمانوں کو گلہائے محبت پیش کئے گئے۔اردو عربی فارسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ماہ رخ مرزا نے مختصرا کلمات خیر مقدم ادا کرتے ہوئے گورنر رام نائک کو ایک شعر میں اپنا خراج تحسین پیش کیا کہ ’’منزل ملی مراد ملی مدعا ملا=سب کچھ ملا جو مجھ کو ترا نقش پا ملا‘‘انھوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ رام نائک جی کے دور اندیش نقطہ نظر کی روشنی میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ تعارفی خطبہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کمیٹی کے چیئر مین ڈاکٹر عمار رضوی نے رام نائک کی اردو دوستی اور انسانیت نوازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر تو بہت ہوئے لیکن آپ سا محبت کرنے والا اور عوام میں مقبولیت رکھے والا گورنر آپ سا نہیں دیکھا ۔انھوں نے کہا کہ دو برس پہلے پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس لکھنؤ یونیورسٹی میں ہوئی تھی اس میں جو قرار داد یں پاس ہوئی تھیں اور جو مطالبات اور نشانے طے کئے گئے تھے ان میں کچھ پورے بھی ہوئے ہیں اور کچھ باقی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ جن ممالک میں اردو کا کام ہورہا ہے اس کو سمجھا جائے اور وہ ادارے ایک دوسرے کے قریب آئیں تاکہ ہم مل کر اردو کے لئے کچھ بہتر کر سکیں۔انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا دسرا اہم مقصد یہ ہے کہ اردو کو روزگار سے جوڑنے کی راہیں تلاش کی جائیں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔مزید یہ کہ ایک دارالترجمہ قائم کیاجائے جس میں اردو کی کتابیں دوسری زبانوں میں اور دوسری زبانوں کی کتابیں اردو میں منتقل کی جائیں جس سے لوگوں اور زبانوں کے مابین فاصلے کم ہوں۔ان سے بڑا کوئی جھوٹا نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ اردو کو صرف ایک فرقے کی زبان کہتے ہیں۔اردوصرف محبت کی زبان ہے۔ڈاکٹر عمار رضوی نے گورنر کی کتاب چریوتی چریوتی کو نصاب میں شامل کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ تقسیم ایوارڈ اس موقع پر گورنر رام نائک کو خواجہ معین الدین چشتی یادگاری نشان پیش کرنے کیساتھ ساتھ۔معروف نظریہ ساز اردو ناقدشمس الرحمن فاروقی کو پروفیسر نیر مسعود ایوارڈ برائے اردو تنقید و تحقیق،مشہور افسانہ نویس اور ناول نگارمسرور جہاں کو عابد سہیل ایوارڈ برائے اردو فکشن،عارف نقوی (جرمنی)کوڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد ایوارڈ برائے اردو زبان و ادب،مرتضی علی (لندن)کو ڈاکٹرانور جلال پوری ایوراڈ برائے نظامت اور ترجمہ نیزمعروف صحافی و شاعرہ سنیتا جھینگرن کو کرشن بہاری ایوارڈ برائے اردو شاعری سے نوازا گیا۔آخر میں پروفیسر شفیق اشرفی نے فردا فردا مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اورقومی گیت کے ساتھ ہی افتاحی سیشن ختم ہوا۔اردو زبان مسائل اور امکانات پر مذاکرہ کانفرنس کے افتتاحی جلسہ کے فورا بعد اردو زبان کے مسائل اور امکانات(قومی اور بین الاقوامی سطح پر)پینل ڈسکشن ہوا جس میں مرکزی کردار اردو کے معروف نظریہ ساز نقادشمس الرحمن فاروقی نے ادا کیا ۔مذاکرے میںپروفیسر شارب ردولوی،عارف نقوی(جرمنی)(پروفیسر صہبا علی کینیڈا)پروفیسر احمد محفوظ اور ڈاکٹر عباس رضا نیر نے اردو کے مکانات اور مسائل پر تفصیلی گفتگو کی،نظامت کا فریضہ پروفیسر شفیق اشرفی نے انجام دیا۔پروفیسراحمد محفوظ نے اپنی گفتگو میںان پہلؤوں اور خطوط پر روشنی ڈالی جہاں سے مذاکرے کی سمت متعین ہو سکی انھوں نے کہا کہ اردو کے مسائل تقسیم ہند کے بعد پیدا ہوئے۔شمس الرحمن فاروقی نے اپنے گفتگو میں تفصیل سے کہا کہ اردو کا مستقبل مایوس کن نہیں ہے۔آج اردو کا وہ تاریک دور نہیں ہے جو ہمارے لڑکپن میں تھا۔آج اردو بازاروں تک آ گئی ابھی گھرون میں داخل نہیں ہوئی ہے۔آج اردو کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مسئلہ یہ نہیںہے کہ ارودکو غیر مسلموں نے چھوڑ دیا مسئلہ یہ ہے کہ اردو کو مسلمانوں نے ہی چھوڑ دیا۔ارد کو اردو والے ہی برا کہتے ہیں اور اس میں خامیاں نکالتے ہیں۔کوئی الفاظ پر اعتراض کرتا ہے، کوئی آوازوں اور حروف پر۔اردو میں اچھے الفاظ کی موجود ہونے کے باوجود دوسری زبانوں کے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر خامیاں نکالی جائیں تو ہر زبان میں ہیں۔ ہندی میں بہن نہیں لکھ سکتے انگریزی مین ش کے لئے کوئی حرف نہیں ہے کبھی کیسے کبھی کیسے ش کو ادا کیا جاتا ہے۔زبان کا تو خاصہ ہی یہی ہے کہ سب کچھ جو ہم جیسے بولتے ہیںاسے لکھ نہیں سکتے۔یہ دعوی کوئی زبان نہیں کر سکتی۔انھوں نے کہا کہ یہ خیال بھی غلط ہے کہ اردو پڑھ کر نوکری نہیں ملتی کسی بھی زبان کو پڑھ کر نوکری کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔زبان ہماری ہے کیسے بولنا ہے کیسے لکھنا ہے یہ ہم طے کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ خیال غلط ہے کہ اردو لشکری زبان ہے۔ضرورت ہے زبان سے محبت اور عشق کرنے کی ۔جب عشق ہو گا تو خامیاں نہیں صرف خوبیاں نظر آئیں گی۔پروفیسر شارب ردولوی نے کہاکہ یہ سیشن اتنا اہم ہے کہ اسے دیر تک چلنا چاہئے تھا۔انھوں نے کہا کہ امکانات پر بات ہو رہی ہے لیکن مسائل پر بات نہیں ہو رہی ہے ۔ حکومت کی تنگ نظری بھی کم ْقصوروار نہیں ہے۔اس نے بھی زبان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔سرکاری سطح پر اردو کی تعلیم کا بندوبست نہیں کیا جا رہا ہے۔صرف اردو میں بوڑد لگوانے کا بکھان کب تک کرتے رہیں گے۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ جڑیں کاٹتے رہو اور پتوں کو پانی دیتے رہو۔اردو پڑھانے کے لئے اساتذہ نہیں ہیں جہاں جگہ خالی ہے وہاں اساتذہ کی تقرری نہیں کی جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کی اس کانفرنس سے یہ مطالبہ بھی جانا چاہئے کہ اردو ساتذہ کی تقرری کی جائے۔ وقار رضوی نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ اردو والوں کو روزگار نہیں ملتا ہم اخبار والوںکو تو صاف اور صحیح اردو پڑھنے والے ملتے نہیں ہیں اس مسئلہ سے ہم اخبار والے روزانہ جوجھتے ہیں ۔پروفیسر صہبا علی نے کہا کہ اردو والوں کو احساس کمتری سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ عارف نقوی نے کہا کہ میری نظر میں اردو کا مستقبل نہایت شاندار ہے۔ہم نے ادب تو تخلیق کیا لیکن زبان کی سطح پر ہم کمزور ہوئے ۔اردو کو گاؤں اور عام لوگوں تک پہونچانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ڈاکٹر عباس رضا نیر نے کہا کہ اردو پرائمری سطح پر مضبوط کئے جانے کی ضرورت ہے جب بچہ پرائمری سطح پر ہی نہیں پڑھے گا تو یونیورسٹی میں کہاں سے آئے گا۔انھوں ے دارالترجمہ اور اصطلاحات سازی کی طرف بھی توجہ دینے پر زور دیا۔آخر میں احمد عرفان علیگ نے کلمات تشکر ادا کئےمحفل مشاعرہ اور کوی سمیلناردو کانفرنس کے تیسرے دور میںظہرانے کے بعد محفل مشاعرہ اور کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر عمار رضوی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر عباس رضا نیر نے انجام دئے ۔خصوصی مہمان کی حیثیت سے نائب وزیر اعلی اتر پردیش ڈاکٹر دنیش شرما اورمہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر انیس انصاری نے شرکت کی۔ڈاکٹر دنیش شرما نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس یونیورسٹی کے لئے میں اپنی سطح سے جو کچھ کر سکوں گا ضرور کرون گا۔ہماری سرکا چاہتی ہے کہ اس کا معیار بلند ہو اور اتنا بلند ہو کہ ساری دنیا میں اس کی الگ ایک شناخت ہو۔انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں نئے کورسیز اور مزید اساتذہ کا انتظام کیا جائے گا۔ڈاکٹر شرما نے کہا کہ ملکی زبانوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی زبانیں بھی پڑھائی جانا چاہئیں۔انھوں نے کہا کہ مدرسون میں بھی جدید تعلیم ہونا چاہئے تاکہ ترقی کی دوڑ میں مدارس کے طلبہ بھی برابر کے شریک ہو ں۔یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر دنیش شرما کو نشان یادگاری پیش کیا گیا۔ڈاکٹر انیس انصاری،پروفیسر قاسم امام،پروفیسر احمد محفوظ،احمد عرفان علیگ،ڈاکٹر فخر عالم،ڈاکٹر ہارون رشید،ڈاکٹر طارق قمر۔احمد وصی۔سہیل کاکوروی،ڈاکٹر منیش شکلا،عرفان علی اور دیگر شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے داد و تحسین وصول کی۔ اس موقع پر کانفرنس ہال میں پروفیسر ق ائم مہدی(لندن)مسٹر سجاد (بحرین)پروفیسروسیم اختر ،جسٹس مسعودی،جسٹس شبیہ الحسنین،پروفیسر شافع قدوائی،احمد ابراہیم علوی،وقار رضوی،راکیش چودھری،امان عباس،ڈاکٹرعارف ایوبی،ڈاکٹر ریشماں پروین،پروین طلحہ،ڈاکٹر سلطان شاکر ہاشمی،سلیم اللہ صدیقی،پرویز ملک زادہ،ڈاکٹر شبنم،ڈاکٹر نصرت،ڈاکٹر فخر عالم اعظمی،رضوان احمد،ڈاکٹر ثوبان سعید،ڈاکٹر عمیر منظر،ڈاکٹر قاسم امام،ڈاکٹر کاظم،پروفیسر جمال نصرت،وندنا مشرا،اجے کمار سنگھ،ڈاکٹر خورشید جہاں،انجینئر عتیق الرحمن،محمد احسن،پردیپ کپورنیز یونیورسٹی کے اساتذہ طلبہ اور شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں۔





