علامہ اقبالؔ کا فلسفۂ خودی

ڈاکٹرشبنم رضوی یہ ہے مقصد گردشِ روزگار کہ تیری خودی تجھ پر ہو آشکار (اقبال) علامہ اقبالؔ کا ’فلسفہ خودی‘ کی عالمانہ تشریح اور فلسفیانہ توضیح تو بہت مشکل اور دقیق ہے مگر اس کا سیدھا سادھا مفہوم خودداری اور خود اعتمادی ہی ہے۔ یہ وہ خیال ہے کہ جو علاّمہ نے اپنی نظم ’’اسرارِ
 | 

ڈاکٹرشبنم رضوی

یہ ہے مقصد گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پر ہو آشکار
(اقبال)
علامہ اقبالؔ کا ’فلسفہ خودی‘ کی عالمانہ تشریح اور فلسفیانہ توضیح تو بہت مشکل اور دقیق ہے مگر اس کا سیدھا سادھا مفہوم خودداری اور خود اعتمادی ہی ہے۔ یہ وہ خیال ہے کہ جو علاّمہ نے اپنی نظم ’’اسرارِ خودی‘‘ میں پیش کیا ہے ۔ مگر اس سے پیشتر بھی کئی نظموں میں فلسفہ ٔ خودی کا سراغ ملتا ہے جیسے ’شمع و شاعر‘ جو ۱۹۲۱ء میں لکھی گئی۔ اس کے ایک بند کا مطلب ملاحظہ ہو…
’’کہ انسان (اور اس اعتبار سے مسلمان) اگر احساس کمتری اور اپنی حقیقت سے واقف ہو جائے تو اس کے اندر ترقی کرنے اور بڑھ کر ایک بے پناہ قوت بن جانے کے غیر محدود امکانات پوشیدہ ہیں…‘‘
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو ہیچ اور کمتر سمجھنا چھوڑ دیں اور دوسروںکا احسان مند اور دستِ نگر بن کر رہنے کے بجائے اپنے اوپر بھروسہ کرنا سیکھیں۔ خود اپنی قوتوں، طاقتوں، حوصلوں، صلاحیتوں، ہمت، سوجھ بوجھ سے کام لیں۔ کیا ہی خوبصورت یہ بند ’’خودی کے متعلق علاّمہ اقبالؔ نے تحریر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، بارہ بھی تو، حاصل بھی تو
آہ! کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے؟
راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو
کانپتا ہے دل ترا اندیشہ، طوفان سے کیا!
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تو
دیکھ آکر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تو
وائے نادانی! کہ تو محتاجِ ساقی ہوگیا
مے بھی تو، مینا بھی تو، ساقی بھی تو ، محفل بھی تو
اسی طرح جب علامہ اقبالؔ نے انگلستان میں قیام (۱۹۰۵-۱۹۰۸)کیا اس دوران ’پیامِ عشق‘ نظم تخلیق کی۔ اس نظم میں فرماتے ہیںکہ ترقی و کمال حکومت و ثروت پر موقوف نہیں۔ یہ وہ دولت ہے جو خدا نے ہر انسان کے سینے میں دی ہے۔ تو! جو شخص بھی محنت کرے گا اور اپنے ممکنات اور خوبی کو ابھارے گا اسے حاصل کرے گا۔
نہ صہبا ہوں، نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
میں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں
علاّمہ اقبالؔ کے سلسلہ میںیہ بات بھی غور طلب ہے کہ اردو اور فارسی کی شاعری میں خودی کو عزیز ترین چیز قرار دیتے ہیںاور خودی کو قدر کا معیار اور خیروشر کی کسوٹی تصوّر کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ جوچیز خودی کو تقویت پہنچاتی ہے خیر ہے اور جو چیز اس کو کمزور کرتی ہے وہ شر ہے۔ اس سلسلہ میں انگریز مفکر چارلس ڈارون کا خیال ہے :
’’…زندگی ایک میدان کارزار ہے جس میں فطرت اپنی تمام سنگ دلی اور بے رحمی کے ساتھ جانداروں پر چھٹتی ہے جو ان حوادث کی تاب لاسکتا ہے۔ بچ سکتا ہے، جو کمزور اور ناتواں پایا جائے، موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے…‘‘
بقول اقبالؔ زندگی کیا؟
’’… یہ کشمکش شر نہیں بلکہ خیر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری خودی بیدار ہو اور ہماری ذات نشوونما پائے… انسان سامانِ سفر نہیں خود منزل ہے…‘‘
علاّمہ اقبالؔ صرف بات ہی نہیں کرتے ’خودی‘ کی بلکہ راستہ اور منزل بھی بتاتے ہیں۔ وہ ان مرحلوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جن کو حاصل کرکے اور جن پر گامزن ہوکر ایک عام انسان خودی کو حاصل کر لیتا ہے اور زندگی کو خودداری اور عزت کے ساتھ جیتا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے۔ اطاعت، ضبطِ نفس، نیابت ِ الٰہی۔
اطاعت: علامہ اقبالؔ اطاعت کو خودی کے سلسلہ کی پہلی منزل مانتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ ہر انسان کو اطاعت شعار ہونا چاہئے۔ اقبالؔ کو بے لگامی پسند نہیں۔ وہ والدین بھی پسند نہیں جو نوجوانوں کو آزادانہ زندگی جینے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ علامہ اقبالؔ کا نظریہ ہے کہ آئین کی پابندی ہی میں فلاح و بہبود کا راز پوشیدہ ہے۔ جس نے قانون کی اطاعت کی وہ سعادت مند ہوا لیکن جس نے آئین کو توڑا اس نے خودی کے پائوں پر کلہاڑی ماری۔
ضبطِ نفس: فلسفہ خودی کی دوسری سیڑھی ضبطِ نفس ہے ۔ گویا نفس کو قابو میں رکھنا، اسے بے راہ روی سے بچانا، دنیاوی چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا، اسی طرح خوف دنیا، خوفِ عقبیٰ، خوف جان، خوف روزگار کو دل سے نکال کر جینا، خدا اور رسول کی باتوں سے آگہی حاصل کرنا اور ان پر ایمان لانا ضبطِ نفس کی بنیاد ہے۔
نیابتِ الٰہی: علامہ اقبالؔ نے جو کامل انسان کا تصوّر پیش کیا ہے وہ فلسفۂ خودی سے بھرپور ہے۔ کامل انسان شجاعت کا پتلا اور صداقت کا مجسمہ ہے۔ شرافت کو جان اور نیکی کو روحِ رواںمانتا ہے۔ اس کے ہر کام یہاں تک کہ دنیا کا چھوٹے سے چھوٹا کام، سونا جاگنا، کھانا پینا تک خدا کے لئے وقف ہوتا ہے۔ وہ مذہب کو ماننے والا ہے اپنے ماحول پر اثر ڈالتا ہے۔ نیچر کی طاقتوں کو غلام بناتا ہے۔ وہ تنبیہ کرتا ہے ۔ پیغام دیتا ہے اور اپنے اور دوسرے کے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ اقبالؔ فرماتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
ایسا نہیں ہے کہ علامہ اقبالؔ نے خود اپنے آپ کو نہیں ڈھونڈھا، اپنے اندر خودی پیدا نہیں کی۔ انہوں نے خود اس بات کی تاکید کی ہے کہ انہوں نے مدّتوں اقبالؔ کو اقبال سے ملانے کی کوشش کی۔
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں
(بانگِ درا:۱۱۱)
اور پھر تیس بتیس برس کے بعد فاتحانہ انداز میں لکھتے ہیں کہ:
اسی اقبال کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیردام آیا
(بالِ جبریل:۸۵)
مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پہلے علاّمہ نے خود اپنے اندر خودی کو تلاش کیا اور جب پالیا تو پیغام دیا، فلسفۂ خودی کا۔ شاہین کا تصور دیا، مردِ مومن کی پہچان بتائی، مرد کامل کے طور طریقہ بتائے، دنیا سے اور اپنے آپ سے آشنا ہونے کے راستے بتائے۔ یہ وہ فلسفہ ہے جو سو برس پہلے بھی کارآمد تھا اور آج بھی انسان کو راہِ نجات، راہ ترقی، راہِ راست دکھاتا ہے۔
موجودہ دور میں ہمیں علامہ اقبالؔ کے فلسفے کو ہر انسان تک پہچانا ہے تاکہ دنیا میں لوگ خیروشر کو پہچان سکے، تاکہ لوگ دنیا میں امن وشانتی کا پیغام لاسکے۔ (آمین)
علامہ کا فلسفہ خودی نے پوری دنیا میں اپنی ایک پہچان اسی طرح بنا دی تھی جیسی کہ گیتانجلی لکھنے کے بعد رویندرناتھ ٹیگور کی بنی۔
علامہ اقبالؔ چاہتے ہیں کہ انسان اپنے عمل ، عمال، قول و فعل سے پختہ اور بلند ہو جائے کہ’ خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے‘۔
qq

صدر شعبہ اردو،کرامت حسین مسلم گرلز پی جی کالج،
فیض آباد روڈ،نشاط گنج، لکھنؤ