9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
زبیر احمد قادری
یہ بار درد جو رکھا ہے دل پر کیوں نہیں جاتا
بچھڑ کر بھی بچھڑ جانے کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا
خوشی آتی ہے اک پل کے لئے پھر لوٹ جاتی ہے
مگر دل میں جو غم آتا ہے آ کر کیوں نہیں جاتا
ہزاروں غم سہے ہنس کر شکایت ہے تو بس اتنی
مقدر اپ کے کوچے میں لے کر کیوں نہیں جاتا؟
بہت چہروں کو پیچے چھوڑ کر آگے بڑھا تو ھوں
مگر آنکھوں سے وہ گھر کا کھلا در کیوں نہیں جاتا
بلا سے روٹھ جاتا، میں منا لیتا زبیر اسکو
مگر یوں چھوڑ کر وہ بھی بھرا گھر تو نہیں جاتا
، مدیر ماہنامہ ترقیم و ترسیل ،دہلی





