9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

رئیسہ خمارآرزو
وہ ستم کرکے سوچتا ہی نہیں
جیسے مظلوم کا خدا ہی نہیں
جس کی آنکھوں میں ڈوبنا چاہوں
وہ مری سمت دیکھتا ہی نہیں
میں ہوں عنوان زندگی تیری
اور تو نے مجھے پڑھا ہی نہیں
کیا بجھائے گی چاہتوں کا چراغ
اے ہوا تجھ میں حوصلہ ہی نہیں
داستان اب کسے سنائے خمار
حال دل کوئی اب پوچھتا ہی نہیں
ناسک، مہاراشٹر





