Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldامام الہند مولانا آزاد: نظر یا ت و خدمات

امام الہند مولانا آزاد: نظر یا ت و خدمات

mravadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

      پرو فیسر شکیل احمدقا سمی 
اما م الہند مولاناابو الکلام آزاد، ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس کا طرزِ فکر بھی جداگانہ تھا اور طرزِ عمل بھی دوسروں سے الگ۔ وہ فطری طور پر تخلیقی ذہن کے آدمی تھے۔ تقلیدی فکر خواہ کسی بھی حوالے سے ہو، ان کی جودتِ طبع سے قطعاً میل نہیں کھاتی تھی۔ وہ اپنی راہ خود نکالنے اور اپنی دنیا خود تعمیر کرنے کے قائل تھے۔ مذہبی عقائد کے حوالے سے اپنے اس مزاج کو بیان کرتے ہوئے وہ خود لکھتے ہیں کہ ’عام حالات میں مذہب انسان کو اس کے خاندانی ورثہ کے ساتھ ملتا ہے اور مجھے بھی ملا مگر میں موروثی عقائد پر قانع نہ رہ سکا۔ میری پیاس اس سے زیادہ نکلی، جتنی سیرابی وہ دے سکتے تھے۔ مجھے پرانی راہوں سے نکل کرخود اپنی نئی راہیں ڈھونڈنی پڑیں‘ (مولانا ابوالکلام آزاد: شخصی پہلو)۔  وہ عمل میں اتحادِ قوم و ملت کے جتنے بڑے علمبردار اور جتنازیادہ اجتماعیت پسندی ان کا شیوہ تھا، طرزِ فکر و عمل میں وہ اتنا ہی زیادہ انفرادیت پسند تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ انفرادیت پسندی میں بھی وہ اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے تھے۔ وہ ہر چیز میں ’اپنی نئی راہ ڈھونڈنے‘ کے ذوق کے اسیر ضرور تھے لیکن یہ اسیری ’تلاشِ حق‘ کی راہ میں ان کے لئے کبھی رُکاوٹ نہیں بنی۔ منزل کی تعیین میں وہ قرآن و حدیث کے رہنما اصول کے ہی پابند نظر آتے ہیں۔ ان کی سلامت روی اور اعتدال پسندی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امتیاز کو پانے کی کوشش میں انہوں نے کبھی اعتبار مجروح نہیں ہونے دیا۔ سیاست کے متعلق عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس میدان میں آنے کے بعد انسان اگر بدنام نہ ہو، تو پہلے جیسی نیک نامی بھی برقرار نہیں رہتی۔ اس معاملے میں بھی مولانا ابوالکلام آزاد دوسروں سے مختلف واقع ہوئے ہیں۔ ا نہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سیاست میں گزارا لیکن اس کے باوجود سیاست ان کی نیک نامی پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکی۔ اپنے بعض سیاسی نظریات اور فیصلے کی وجہ سے وہ ناقدین کے معتوب ضرور ہوئے، مگر ان کے کردار اور اخلاص پر کسی ٹھوس بنیاد پر، انگلی اُٹھانے کی ہمت ان کے مخالفین کو بھی نہیں ہوئی۔
مولانا آزاد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ بیک وقت وہ سیاست کے ماہر بھی تھے اور خطابت کے رمز شناس بھی۔ وہ اگر صحافت کی فنی باریکیوں سے واقف تھے تو قرآن و حدیث کی معنوی لطافت سے بھی آشنا تھے۔ ذوقِ ادب اگر ان کی گھٹی میں تھا تو فنونِ لطیفہ سے آگہی میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری خوبیاں ان کے اندر اس قدر موجود ہیں کہ یہ فیصلہ کرپانا مشکل ہے کہ ان کی شخصیت کا امتیازی پہلو کیا ہے؟ وہ اگر سیاست کے اسٹیج پر ہیں تو مہاتما گاندھی، سردار پٹیل اور پنڈت نہرو جیسے قدآور رہنماؤں کے لئے قابلِ رشک ہیں۔ اگر خطابت کے ممبر پر ہیں تو ایسے خطیبانہ رنگ و آہنگ کی بنیاد ڈال رہے ہیں جو نہ پہلے کسی کے حصہ میں آیا تھا اور نہ ان کے بعد کسی کو میسر ہوسکا۔ ایسا خطیبانہ اسلوب جس کی تخلیق بھی انہوں نے کی، پروان بھی انہوں نے چڑھایا اور دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے خود اپنے ساتھ لے کر چلے بھی گئے۔ صحافت کے میدان میں قدم رکھا، تو ان کی صحافت بامعنی اور بامقصد صحافت کا استعارہ بن گئی اور ’’الہلال‘‘ و ’’البلاغ‘‘ کے جامے میں اردو صحافت کے اعلیٰ نمونے کی حیثیت سے زندہ و جاوید ہوگئی۔ قرآن کا ترجمہ و تفسیر لکھنے کی ٹھانی ، تو ’’ترجمان القرآن‘‘ کے نام سے ایسا شاہکار اپنے پیچھے چھوڑ گئے جس پر ریسرچ اسکالرز آج بھی انگشت بدنداں ہیں۔
مولانا آزاد نے جلاوطنی اور قید و بند کے دوران جو کارہائے نمایاں انجام دئے وہ کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ رانچی میں جامع مسجد کو مولانا نے اپنے کاموں کا مرکز بنایا ، یہاں سے خطاب اور ذہن سازی کرتے رہے ۔ کثیر المقاصد کاموں کے لئے انجمن اسلامیہ کا قیام مولانا کی کوششوں سے عمل میں آیا ، پھر اسی انجمن کے زیر انتظام مدرسہ اسلامیہ رانچی کرائے کے مکان میں 16نومبر 1917کو قائم کیا گیا ۔ پھر 28فروری 1918کو مدرسہ کی عمارت کے سنگ بنیاد کی مناسبت سے عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا ۔ تعلیمی بیداری اور ماحول سازی کے لئے 3-5نومبر1918اور  31اکتوبر تا 2نومبر 1919کو عظیم الشان تعلیمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس طرح مولانا کی ان کوششوں سے بہار ، بنگال کے ساتھ پورے ملک میں غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔
مو لا نا آ زا د ملی اتحا دکو ضرو ر ی سمجھتے تھے اور وہ اس اہم مقصد کی تکمیل کے لئے ملت کے سا رے نظر یا تی اور فکر ی طبقو ں سے ارتبا ط پر یقین رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انکا تعلق جمیعۃ علما ، دا رالعلوم دیو بند ، دا رالعلوم ند و ۃ العلما ء ،اہل حدیث علما ء ، اور دیگر ادار وں اور نما ئندہ شخصیتو ں سے مضبو ط رہا ۔ مو لا نا آ زا د مدا رس کے نظا م تعلیم کو جا مع اور نفع بخش بنانا چا ہتے تھے ، انہوںنے 1947میں لکھنو میں نصا ب کمیٹی کے جلسہ میں منتظمین مدر سہ کو مخاطب کر تے ہو ئے فر ما یا تھا ’آ پ جا نتے ہیں کہ چندکتا بو ں کا علم حا صل کر نے اور نفس علم حا صل کر نے میں بڑا فرق ہو تا ہے۔ آج 1947میں جن چیزو ں کو معقو لا ت کے نام سے پڑھا رہے ہیں وہ وہی چیزیں ہیں جن سے دنیا کا دما غی کا روا ں 200برس پہلے گزر چکا ہے، آ ج اس کی دنیا میں کو ئی جگہ نہیں ہے ‘گو یا مو لا نا آ زا د ’ قدیم صا لح اور جدید نا فع ‘کے قا ئل تھے اور یہی ان کا نظر یہ تعلیم تھا ۔علا مہ سید سلما ن ند و ی کے الفا ظ میں ’ مو لا نا آ زا د کی دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انہوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنہ فرنگ کے عہد میں اسی طرز و روش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے فتنہ تاتار میں پسند کیا تھا اور جس طرح انہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا۔ اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسولؐ کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل اور فلسفہ سے سمجھنا چاہئے‘۔مفکر اسلا م سید ابو الحسن علی ند وی کے خیا ل میں ’مو لا نا آ زا د ہند وستا نی سیا ست اور ہما ری قدیم تہذیب و ثقا فت کا ایک ستون تھے ۔ان کا حا فظہ، ان کی غیر معمو لی ذہا نت ، ان کی حا ضردماغی اور بیدا رمغزی،ان کی ادبیت اور ان کی انشا ء پر دا زی جو کسی وقت اور کسی جگہ ان کا سا تھ نہیں چھو ڑتی ، ان کی اپنے مطا لعہ اور معلو ما ت سے زیا دہ سے زیا دہ فا ئدہ اٹھا نے کی عجیب و غریب صلا حیت ، ان کی سیا سی بصیرت اور دور بینی ، انکی اپنے خیا لا ت میں پختگی اور اپنے مسلک پر ثا بت قدمی و استقا مت اور لو گوں کی مدح وتنقید سے بے پر وا ہی ، ان کی خو د دا ری اور غزت نفس ہر شبہ سے با لا تر اور ہر اختلاف سے بے نیا ز تھی‘(پرا نے چرا غ)
مو لا نا کے افکا ر و خیا لا ت ،وسیع النظری، وسعت معلو ما ت اور دو ر اندیشی کا اندا زہ اس سے ہو تا ہے کہ ملک کے پہلے و زیر تعلیم کی حیثیت سے انھوں نے یو نیور سٹی گرا نٹس کمیشن (یو جی سی)، یو نیور سٹی ایجو کیشن کمیشن ، سیکنڈ ری ایجو کیشن کمیشن ، انڈین کو نسل فا رایگریکلچر اینڈسا ئنٹفک ریسر چ سینٹر، سینٹرل کو نسل فا ر فیز یکل ریسرچ سنٹر ، سینٹرل کو نسل فا ر کلچر ل سینٹر ،انڈین کو نسل فا ر میڈیکل ریسرچ سینٹر ، سا ہتیہ اکیڈ می ’ للت کلا اکیڈ می و غیر ہ کی بنیا د رکھی۔ انھو ں نے آ ل انڈیا کو نسل فا ر ٹکنکل ایجو کیشن قا ئم کیا ،ملک میں سب سے پہلا انسٹی ٹیو ٹ آف ہا ئر ٹکنا لو جی1951 میں اسی کو نسل کے زیر اہتما م کھر کپور انسٹی ٹیو ٹ آ ف ہا ئر ٹکنا لو جی کے نا م سے کھو لا گیا جس کا سنگ بنیا د مو لا نا آ زا د نے اپنے ہا تھو ں رکھا تھا۔ اس مو قع پر مو لا نا کے خطا ب میں دو ر اندیشی دیکھئے :’میرا پہلا کا م تھا کہ ٹکنیکل تعلیم کی طرف توجہ دوں تا کہ اس سلسلہ میں ہم خو د کفیل بن سکیں، ہما رے بہت سے نو جوا ن ٹکنیکل تعلیم کے حصو ل کے لئے غیرممالک میں جا تے ہیں ،میں اس دن کا انتظا ر کر رہا ہوں جب غیر مما لک کے طلباء ہندو ستا ن میں اس تعلیم کو حا صل کر نے کے لئے آ ئیں ۔‘
مو لا نا آ زا د کی دو ر اندیشی اور ان کے مؤثر اقدا ما ت کی وجہ سے  ہند وستا ن نے ٹکنکل ایجو کیشن میں غیر معمو لی ترقی کی ہے او ر یہا ں سے ما ہر انجینئر  اب دو سر ے مما لک میں جا کر خد ما ت انجا م دے رہے ہیں ۔ اس کی شدید ضر و رت ہے کہ مولانا آ زا د نے اپنے دو ر و زا رت میں جس طرح کے فیصلے کئے تھے اس پر تحقیق کی جا ئے اور دیکھا جا ئے کہ ان خطو ط پر کہاں کہا ںکیا کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ ملک کی ترقی کے لئے منا سب ہو گا ۔اس لحا ظ سے مو لا نا آ زا د کے افکا ر اقدامات میں عصری معنو یت پا ئی جا تی ہے ۔اما م الہند کے خطا ب کے ایک اقتبا س پر ہم اپنی تحریر کو ختم کر تے ہیں :
’آ ئو عہد کرو کہ یہ ملک ہما را ہے اور ہم اس کے لئے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیا دی فیصلے ہما ری آ وا ز کے بغیر ادھو رے ہی رہیں گے۔ آ ج زلزلو ں سے ڈرتے ہو ،کبھی تم خو د ایک زلزلہ تھے ۔آ ج اندھیرے سے کا نپتے ہو ، کیا یا د نہیں کہ تمہا را وجود ایک اجا لا تھا ۔یہ با دلو ں نے میلا پا نی بر سا یا ہے تم نے بھیگ جا نے کے خد شے سے اپنے پا ئینچے چڑھا لئے ہیں ، وہ تمہا رے ہی اسلا ف تھے جو سمند روں میں اتر گئے ، پہا ڑیو ں کی چھا تیوں کو رو ند ڈا لا ، بجلیا ں آ ئیں ، تو ان پر مسکرا دئے ، با دل گر جے تو قہقہو ں سے جوا ب دیا ، صر صر اٹھی ،تواس کا رخ پھیر دیا ، آ ندھیا ں آ ئیں تو ان سے کہا کہ تمہا را را ستہ یہ نہیں ہے ۔ یہ ایما ن کی جا نکنی ہے کہ شہنشا ہوں کے گریبانوںسے کھیلنے وا لے آ ج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس در جہ غا فل ہو گئے کہ جیسے ا س پرکبھی ایما ن ہی نہیں تھا‘۔
    چیرمین، فاران انٹر نیشنل فاؤنڈیشن
M- 09431860419
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular