Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldجیل والا پھاٹک

جیل والا پھاٹک

mravadhnama@gmail.com 

avadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

 

ایچ ایم یٰسین

وہ میر صاحب، شیخ جی، میاں صاحب، جیسے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہیں کیا ہیں۔لیکن تھے پکے انسان۔ انسانیت کے ہمدرد، کھلے دل والے، بااصول، غیر متعصب، خدمت کے جذبے سے سرشار، ڈیوٹی کے پابند۔ ریلوے میں ملازم تھے اور ان کی ڈیوٹی ریلوے کے گیٹ کیپر کی تھی۔ یہ گیٹ ویسے تو اس سڑک پر تھا جو ایک دوراہے سے چند میٹر کے فاصلے پر ریل گاڑیوں اور روڈ ٹریفک کی حفاظت کے لئے اسٹیشن سے قریب ہی بنا تھا اور جس کی ایک سڑک پانچ منٹ کی مسافت کے بعد جیل کمپائونڈ میں پہنچا دیتی اور دوسری سڑک مختلف دیہاتوں کے لئے جاتی تھی۔ یہ جیل کا پھاٹک نہیں تھا لیکن چونکہ ریل کا پھاٹک جیل کے راستہ پرجیل سے بہت نزدیک تھا اس لئے ’’جیل والا پھاٹک‘‘ کہلاتا تھا اور گائوں شہروالے سب اس کو جیل والا پھاٹک ہی کہتے تھے۔ اور اس جیل کے پھاٹک سے زیادہ مشہور اس کا گیٹ کیپر میر صاحب، شیخ جی، یامیاں صاحب تھے۔ لمبے قد کے سلونے سے خوبصورت داڑھی والے میاں صاحب۔ جن کے چہرے میں عجیب سی کشش تھی اور ان کا ہروقت مسکراتا ہوا چہرہ جس سے بھی گفتگو کرتا اس کو اپنا مطیع کرلیتا۔ ان کی نیکیوں کا نور ان کے چہرے پر صاف جھلکتا۔ اور ریلولے ریکارڈ میں تو ان کا صحیح نام درج ہوگا لیکن عوام میں تو وہ بس میر صاحب، شیخ جی اور میاں صاحب ہی تھے۔
ایک زمانے سے وہ جیل والے پھاٹک پر ملازم تھے۔ اور وہیں بنے سرکاری کوارٹر کے ایک کمرے میں رہتے تھے۔ جس کے ایک طرف کچھ فاصلے پر تو پولس اسپتال اور دوسری طرف جیل تھی۔ ڈیوٹی ان کی بھلے ہی بارہ گھنٹے کی ہو لیکن میاں صاحب چوبیس گھنٹے وہیں ملتے تھے۔ اور ریل کے مقابلے ان کی رونق کی وجہ جیل تھی یادیہاتی بیل گاڑیوں والے جن کا راستہ وہ ہر ٹرین کی آمد پر روک دیتے۔ جیل آنے جانے والے تو اکثر پید ل ہی یہ سفر کرتے تھے۔ بھلے وہ پولیس والے ہوں جو قیدیوں کو عدالت لے جانے کے لئے گارد کی شکل میں آتے یا پھر قیدیوں کے ملاقاتی جن کو ان کی سواری جیل والے پھاٹک کے اس طرف چھوڑ دیتی جو دراصل سواریوں یعنی رکشہ ، تانگہ کا ٹرمنس بن گیا تھا۔ اور جیل کا قصد کرنے والا ہر شخص یہاں سے پانچ منٹ کی پیدل مسافت طے کرکے جیل کے دروازہ پر پہنچ جاتا تھا۔
میاں جی کا ایک بیٹا اور بیوی تھی جو ان کے ہمراہ ہی رہتے تھے۔ بیٹے کو میاں جی مسجد اور اسکول دونوں جگہ پڑھنے بھیجتے تھے۔ خود تو میاں جی شاید واجبی سے پڑھے لکھے تھے۔ لیکن پکے نمازی اور دین دار تھے۔ اور گیٹ پر مختلف اندازوخیال کے لوگوں سے سابقہ ہونے کے باعث دنیا سے بھی غافل نہ تھے۔ اور یوں تو اکثر تسبیح ان کے ہاتھ میں ہوتی لیکن صبح کو اخبار بھی نظر آجاتا تھا۔ اور اگر کہیں کبھی کوئی دنیاوی یا مذہبی مسئلہ زیر بحث آجاتا تو میاں جی کی معلومات کا پلندہ کھلتا اور پتہ لگتا کہ دوسرے مذاہب کی بھی میاں جی کو کتنی معلومات تھیں اور ان کی ہر دل عزیزی کی شاید یہی ایک وجہ تھی غریب امیر سب سے ان کی راہ ورسم تھی اور ایک معمولی گیٹ کیپر ہونے کے باوجود شہر کے شرفاء اور دیہات کے زمیں دار یا کسان سب ان کی عزت کرتے۔ جیل کا عملہ ان کا پڑوسی ہونے کے ناتے اور اس جیل کے قیدیوں سے ملاقات کرنے آنے والے دور نزدیک کے ملاقاتی جن کا سابقہ ان سے پڑتا، سب ان کے معتقد ہوجاتے۔ نہ معلوم بقول شخصے کون سی ’’گیدڑسنگھی‘‘ ان کے پاس تھی۔ ظاہرہ ان کے دو حقے، ایک مسلمانوں کے لئے اور دوسرا ہندئوں کے لئے دیہات کی پنچایت گھر کی طرح ہمیشہ سلگے رہتے اور جس سے دیہات والے خوب فیضیاب ہوتے۔ ایک اور ہتھیار جو ان کے پاس عوام کو اپنا گرویدہ کرنے کے لئے تھا وہ تھا ان کا جھاڑنے پھوکنے اور تعویذ گنڈہ دینے کا شغل۔ پیلیاکا مریض آیا۔ انھوں نے اس کی جھاڑ پھونک کردی اور کچھ نصیحتیں کیں وہ ٹھیک ہو گیا۔ بخار والا یا کسی قسم کے درد والا آیا۔ انھوں نے تعویذ دیا۔ ، یا گنڈہ (دھاگہ بٹا ہوا) اس پر کچھ دم کردیا اور دے دیا۔ وہ بھی ٹھیک ہو گیا۔ میاں جی کی کوٹھری (چوکی) کیا تھی آئوٹ پیشنٹ (Out patient)ڈپارٹمنٹ تھا۔ جس پر بعض دفع پولس اسپتال سے زیادہ مریض آجاتے۔
ندیمؔ اپنے اکلوتے بیٹے کی پرورش میاں صاحب نے بہت اچھے ڈھنگ سے کی تھی۔ کھیل اور پڑھائی دونوں میں مضبوط۔ جیل کے پڑوس میں ہونے کی وجہ سے جیل اسٹاف اور آفسرز کے بچوں سے دوستی ان کے ہی ساتھ کھیلنا کودنا، اسکول جانا اس دوستی کو بہت مضبوط کیئے ہوئے تھا۔
جیل پرستیہ پال ملک صاحب جیلر کے چھ بچے تھے۔ جو ہمیشہ توام (Twin)ہی پیدا ہوئے۔ ان میں رمیش اور دنیش اس کے ہی کالج میں پڑھتے تھے اور دو بیٹیاں اور سب سے چھوٹے دو بہن بھائی تقریباً تین سال کے بہت پیارے تو تلی زبان سے جب بولتے تو انجانوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتے۔ ملک صاحب کی پتنی تو ان بچوں کی دیکھ بھال کم کرتیں لیکن آئوٹ گنیگ کے قیدی جو ان کے یہاں کام کے لئے مقرر تھے وہ ان کے ساتھ دن میں بہت زیادہ رہتے اور ان کی محبت اور دیکھ بھال میں وہ نئی نئی باتیں سیکھ رہے تھے۔ حتی کہ انھوں نے ان ننھے معصوموں کو گالیاں بھی سکھادی تھیں۔ جو ان کے منہ سے ’’گالیاں کھاکے بد مزہ نہ ہوا‘‘ کے مصداق ہوتیں۔ کسی کو بری نہ لگتیں لیکن جب ان کو کسی پر غصہ آتا یا وہ ناراض ہو جاتے تو ممی سے شکایت کرتے۔
’’ممی اس تور (سور) نے ہم کو ڈانٹا تھا‘‘
’’تم نے شرارت کی ہوگی۔ ممی کہتیں‘‘
’’نہیں ترارت نہیں کی تھی۔ ہم نے ات تے دھلانے (جھلانے) کو کہا تھا۔‘‘
’’کہاں جھلانے کو؟‘‘
’’اپنی قمر(کمر) پر اور تہاں (کہاں)؟‘‘
ملک صاحب کے گھر والی گینگ کے تو نہیں لیکن دوسرے ڈپٹی جیلر یا نائب جیلر صاحبان کی گینگ کے گھر کا کام کرنے والے قیدیوں کے ذریعہ جو گالی سکھائی گئی تھی اس کو دلار کرکے وہ گندی گالی بھی اگلوالیتے جو توتلی زبان سے سننے میں مزہ بھی دیتیں اور بعض اوقات تو ندیم دنیش اور رمیش بھی اکیلے میں ان کے اس کمال سے لطف اندوز ہوتے۔
جیل والوں کی اولاد یں جب باہر کھیلتے کھیلتے بور ہو جاتیں تو جیل کے اندر بھی ذائقہ بدلنے کو چلے جاتے۔ وہ لوگ کھیلتے کودتے ٹہلتے اور جیل میں ان کی بلاروک ٹوک آمد و رفت ہوتی۔ اس دنیا میں تو عمل داری جیل اسٹاف کی ہی ہوتی ہے۔ الگ دنیا۔ الگ جگہ سول افسرآن اور پولس کے ظاہر ہ دخل سے دُور اور بَری۔
ایک روز کا واقعہ ہے کہ ندیم رمیش اور دنیش اپنے کالج سے واپس آرہے تھے پیدل ہی آنا جانا ہوتا تھا۔ راستہ لائن کے پٹری کے ساتھ ساتھ پگڈنڈی سے ہوتا ہوا شورٹ کٹ اسٹیشن پر سے ہوکر گزرتا تھا۔ اسٹیشن کے بعد اور جیل والے پھاٹک سے کچھ پہلے کافی بھیڑ جمع تھی۔ جب یہ تینوں گھر کے لئے آگے بڑھے تو ان کو لوگوں نے روکا کہ آگے نہ جائیں۔ کسی نے کہا:
’’آگے نہ جائیں ۔ جیل پر حملہ ہو گیا ہے ۔‘‘ کیوں کیا ہوا؟ دنیش نے پوچھا‘‘
’’قیدیوں نے حملہ کر دیا ہے۔ گولی چل گئی ہے۔ یہیں رکیں۔ آگے خطرہ ہے۔‘‘
’’ارے آگے ہمارا گھر ہے۔ جیل پر۔ ہم وہیں جارہے ہیں۔ تینوں نے ایک زبان ہو کر کہا۔‘‘
’’مریئے۔ جائیے، ہمیں کیا‘‘ کسی نے جواب دیا۔
یہ لوگ آگے بڑھے ۔ دیکھا کہ ریل کے جیل والے پھاٹک کی چوکی پر ایک سپاہی جو معمولی زخمی ہوا تھا۔ میاں جی اس کی مرہم پٹی کررہے ہیں۔ ندیم نے سوال کیا۔
’’(ابّا)کیا ہوا؟‘‘
میاں صاحب بولے: بیٹا آج تو غضب ہو گیا۔ ایسا واقعہ تو اس جیل پر کبھی نہیں ہوا تھا۔ دراصل شام ۴؍بجے کے قریب کچہری سے پیشی پر گئے ہوئے۔ ملزموں کو پولس والے واپس لارہے تھے۔ کچھ ابھی باہر تھے کچھ معمول کے مطابق ایک ایک کرکے مین گیٹ سے داخل ہو رہے تھے تب ہی اچانک باہر والوں نے پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت ایک طرف پولس کے آرمڈدو سپاہیوں اور جیل کے باہری سنتری کو اپنے قبضہ میں کرلیا اور اتنا موقعہ ہی نہ دیا کہ وہ اپنی بندوق سنبھال پاتے اور دوسری طرف اندروالوں نے گیٹ کیپر اور وارڈر کو گھیر لیااور چابیاں اپنے قبضے میں کرکے دونوں گیٹ کھول دیئے اندر کے موجود قیدی بھی جو تیار تھے اس بھگدڑ میں شامل ہو گئے اور جتنے بھاگ سکتے تھے باہر نکل کر غائب ہو نا شروع ہو گئے۔
اس ہنگامے کی خبر جیلر صاحب کو جب ہوئی تو پہلے تو انھوں نے پولس منگوانے کے لئے فون کیا اور پھر اپنی پستول لے کر ڈرتے ڈرتے باہر نکلے تو دیکھا کہ کچھ مجرم آرمری کا تالا توڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور باقی دو ایک پولس والوں کی بندوق ہی ان پر تانے کھڑے ہیں۔ جیلر صاحب نے گولی چلائی شکر خدا کا یہ ہوا کہ بندوق تو یہ چھین پائے لیکن کارتوس کی بیلٹ پولس والوں نے مل کر بچالی ورنہ نہ جانے کتنا خون خرابہ ہوتا۔ جیلر صاحب کی گولی سے ایک آدھ قیدی اور سپاہی زخمی ہوئے۔ اور باقی اندر باہر کے جتنے بھاگ سکتے تھے بھاگ گئے۔ اور یہ خبر آناً فاناً میں پھیل گئی کہ جیل ٹوٹ گئی ۔ پولس چاروں طرف پھیل گئی اور کچھ کو تو کھیتوں سے پکڑ لائی لیکن چھ سات جو فرار ہو چکے تھے نہ ملے۔ انکوائری بٹھائی گئی اور تب اس سازش کا پتہ لگا کہ بنسی بدمعاش نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ ہونے والے دن کے لئے یہ سازش رچی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا یہ ہی موقع اور طریقہ طے کیا گیا تھا۔
بنسی بہت شاطر قسم کا قیدی تھا۔ کئی معاملوں میں سزا پاچکا تھا۔ کئی مقدمے ابھی عدالتوں میں چل رہے تھے۔ بنسی تھا تو بہت دبلا پتلا لیکن پھرتیلا بہت تھا۔ اور اس کی اصل خوبی اس کی قوت برداشت تھی۔ پولیس والوں کی مار ایسے کھاتا تھا جیسے شادی میں ائس کریم اور شاید چوٹ اس کے جسم پر نہ پڑ کر روئی کے گدے پر پڑ رہی ہو۔کبھی آہ اوئی ہائے یا سسکاری نہیں بھرتا تھا۔ اور اس کا مظاہرہ جیل والوں کو اس دن ہوا جب کسی جرم میں مجسٹریٹ نے اس کو قید کے ساتھ دس بینت (Canning)کی سزا بھی سنائی تھی اور وہ جیل میں اس کو دی گئی۔ جیل کے اندر سرکل میں ٹکٹکی لگائی گئی ۔بنسی کو بلایا گیا۔ بدن ننگا کرکے سرین پر ایک کپڑا باندھا گیا۔ جلّاد جیل کا ایک قیدی ہی تجویز کیا گیا۔ جیلر صاحب نے بینت منگوائے۔ جلاد نے اس کو ٹکٹکی پر اوندھے منھ جھکا کر دوایک بینت ہلکے ہاتھ سے پورا ہاتھ نہ کھول کر لگائے جس پر جیلر صاحب نے ڈپٹی جیلر صاحب کو بینت لگانے کے لئے کہا۔ لیکن ان کے بھی ہلکے بیت لگانے پر جیلر ملک صاحب کو بہت غصہ آگیا اور ملک صاحب نے خود بھرپور ہاتھ سے اتنی شدت سے بینت لگائے کہ دو تین بینت کے بعد ہی گوشت چوٹ سے کپکپانے لگا۔ لیکن بنسی نے سی بھی نہ کی برداشت کرتا رہا۔ گویا اس کا گوشت سن ہو گیا ہو۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ ہو رہی ہو۔ دس بینت پوری ہونے کے بعد اس کو کپڑے پہناکر جیل کے اسپتال لے جایا گیا۔ وہ بے ہوش تھا۔ دو الگاکر گازپٹی وغیرہ ٹیپ سے چپکادی گئی۔ اور وہ کئی روز چت کمر کے بل نہیں لیٹ سکا۔ شوگر کا مریض تھا۔ اور اس کی تکلیف بڑھتی گئی۔ اور چوٹ کی جگہ سے اس کا گوشت گلنے لگا۔ اور اسی میں بنسی کی موت ہو گئی۔ جیل میں قیدی کی موت بڑا عجیب اور پریشان کن سانحہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ بنسی کے گھروالوں نے جان بوجھ کر اس کو مارنے کا الزام لگادیا۔اس کیس کی انکواری شروع ہو گئی اور رپورٹ میں جیلر صاحب اور ڈپٹی جیلر صاحب پر الزام آیا ۔ ڈپٹی جیلر صاحب کا تو ٹرانسفر کر دیا گیا لیکن ملک صاحب کے معاملے میں جیل ٹوٹنے والا معاملہ بھی پھر کھلا اور اس میں بھی ملک صاحب پر کچھ چھینٹے پڑے تھے جو کسی طور دب گئے تھے لیکن کیننگ (کوڑے مارنے کی سزا) اور وہ دونوں معاملے ملاکر ان کو سسپنڈ (معطل) کر دیا گیا۔
ملک صاحب ابھی معطل ہی تھے کہ جیل میں ایک نیا معاملہ سامنے آیا وہاں شِورام نام کا ایک قیدی جس کو کسی قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں دس سال کی قید ہوئی تھی اور جس کو چکی کی مشقت ملی تھی۔ اپنے حصے کا اناج بہت جلد پیس کر بقیہ وقت میں وہیں سوجاتا۔ وارڈر اس کو روز ڈانتے پھٹکارتے لیکن اس کی جوانی اور تندرستی اور جیل سے باہر محنت کی عادت جیل کی چکی کی مشقت کو کسی طرح اذیت یا مشقت ہی نہ سمجھتی اور وہ اپنے حصہ کی پسائی فٹافٹ ختم کرکے فارغ ہو جاتا۔ اب جب وارڈرز کی ڈانٹ نے اس کا سونا بند کیا تو اس نے ایک نئی ترکیب نکالی کہ بقیہ قیدیوں میں کسی ایک کا اناج وہ اجرت پر پیسنے لگا۔ ان سے اس کے بدلے بیڑی بنڈل یا گڑوغیرہ طے کرکے پیستا اور وارڈر سمجھتے کہ وہ اب سدھر گیا ہے۔ ملک صاحب تو اس سے کسی تعلق کی وجہ سے درگزر کئے رہتے لیکن اس کے سونے اور اب اجرت پر پسائی کے حربے اور کسی سے جھگڑے کی شکایت ہوئی تو اس کی پیشی قائم مقام جیلر صاحب کے سامنے ہوئی۔ انہوں نے انکواری کی تو معلوم ہوا کہ اس کی سزا میں صرف چھ ماہ باقی ہیں اور وہ کسی بڑے زمیندار گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کو آئوٹ گینگ میں افسران کے یہاں کام کرنے کی مشقت تجویز کردی اور وہ اس میں کام کرنے لگا۔ جس میں وہ زیادہ تر ملک صاحب کے گھر میں صفائی، چوکابرتن پر ہی معمور کر دیا گیا۔ وہاں بھی وہ بہت اچھے طریقہ سے کام کرتا۔ ہر کسی کو خاص طور پر ملک صاحب کی بیوی اور بیٹیوں کو اس کا طریقہ، تہذیب اور گھر کا کام بہت پسند تھا۔ ملک صاحب پہلے سے ہی اس پر مہربان تھے اس لئے وہ گھر میں سب کا پسندیدہ انسان قیدی بن گیا۔ ادھر ملک صاحب اپنی معطّلی سے جب زیادہ پریشان ہوئے تو انہوں نے بھی جیل والا پھاٹک کے میاں صاحب سے اپنے لئے دعا کی درخواست کی میاں جی نے کہا: ’’ملک صاحب آپ کے معاملے میں ۴۰ دن سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس سے پہلے آرڈر نہیں ہوں گے۔‘‘
ملک صاحب بولے۔ ’’میاں صاحب کافی عرصہ سے پریشان ہوں اب تو بس یہی تمنا ہے کہ معاملہ ادھر ہو یا ادھر۔‘‘
’’دیکھئے مجھے چالیس دن کا چلہ کرنا پڑیگا۔ آپ کے معاملے میں تب ہی میں کچھ کہہ سکوں گا۔ ‘‘میاں جی نے کہا اور واقعی چالیس دن بعد، ان کی بحالی کے آڈر آگئے۔ اب یہ روٹین میں بحالی ہوئی یا میاں جی کے چلے کی دعائوں سے، کہنا مشکل ہے۔ لیکن انہوں نے جیل میں بحالی کے بعد ڈیوٹی جوائن کرلی۔ لیکن جس دن انھوں نے ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ اسی دن جیل میں ملاقات کے سلسلے میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ قاعدہ یہ ہے کہ اندر جانے والے ملاقاتیوں کی ہتھیلی پر مہر لگانے سے رہ گئی اور اب جب ملاقاتی واپس جانے لگے تو یہ ایک ملاقاتی جو شاطر تھا اور باہر اپنی زندگی کو خطرہ محسوس کررہا تھا یہ سوچ کر کہ اس کے مہر نہیں لگی جان بوجھ کر اندر ہی رہ گیا۔ دن بھر تو پتہ نہ لگا لیکن جیل بند کرتے وقت ایک کا اضافہ ہوا، تو بینک میں کیش بک بیلنس نہ ملنے پر جس طرح دماغ پچی کرنی پڑتی ہے، یہاں بھی پریڈ شرو ع ہوگئی۔ بارک ، بارک جانچ، آمدوروانگی کا میلان، سب طرح سے ایک زاید، بڑی دیر تلاش کے بعد پتہ چلا کہ ایک ملاقاتی اندر ہی ہے۔ باہر نہیں گیا۔ تفتیش میں گیٹ کیپر اور انٹرویوانچارج پر گاذگئی اور جواب طلبی کے بعد سخت وارننگ دی گئی اور ان کی ریکارڈ بک میں اینٹری کر دی گئی اور اگلے دن پوری تسلی کے بعد ملاقاتی کو باہر کیا گیا لیکن جیل ریکارڈ میں اس سلسلے میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا۔ صرف زبانی جمع خرچ ہی رہا۔
شِورام اپنی چھ ماہ کی بقایا سزا آئوٹ گینگ میں کاٹنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ لیکن ملک صاحب کے گھر میں اس چھ ماہ میں اسنے اپنی کارکردگی سے سبکا دل جیت لیا تھا اور سب سے زیادہ ملک صاحب اور ان کی پتنی اس کے اس عمل سے بہت متاثر تھے جس میں اس نے ان کی بیٹی سندھیا کے اس معاشقے کو جس میں ایک رات وہ اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہورہی تھی بہت خاموشی سے ملک صاحب کو بتلاکر اس کو ناکام کرادیا تھا اور ان کے بے عزتی ہونے سے بچائی تھی وہ اس کے بہت مشکور اور خوش تھے۔
ایک ماہ بعد شورام پھر آیا اور ملک صاحب سے نیز دیگر سب گھروالوں سے ملاقات کی ان کے لئے دیہاتی قسم کے سامان مثلاً رساول، گنے کا کارس، مکئی کے تازہ دودھیا بھٹے، بانسمتی چاول وغیرہ تحفے میں لایا۔ اس نے ملک صاحب سے رازدارانہ انداز میں ایک معقول رقم کے ذریعہ ان کے جیل کے اندر بند ایک ملزم کو اپنی ماں کے کریا کرم میں شمولیت کے لئے صرف ایک دن کے لئے جیل سے باہر نکلنے کی اجازت چاہی اور دوسرے دن واپسی کی ضمانت اور یقین دہانی کے ساتھ خود پہچانے کا وعدہ کرلیا ۔ملک صاحب اس سے متاثر تھے، اس احسان اور رقم کے لالچ میں شِورام پر اعتماد کرکے انھوں نے یہ جوکھم اٹھالی۔
شِورام حسب وعدہ کریا کرم سے فارغ ہو کر اور اس ملزم کو ساتھ لیکر جیل واپس پہنچانے کے لئے آرہا تھا کہ مقتول کے گھروالوں نے موقع پر شِورام پر حملہ کرکے گولی چلادی جو شِورام کو نہ لگ کر اس ملزم کو لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ شِورام کے تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی وہ کچھ دیر مبہوت کھڑا رہا اور وعدہ ایفا نہ ہوتا دیکھ کر اس نے وہاں سے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔
پولس تفتیش میں ملزم کے شناخت میں دشواری ہونے پر اس کی لاوارث کے طور آخری رسوم ادا کردی گئی۔ اور ملک صاحب جیل میں شِورام و ملزم کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔ جب وہ دوسرے دن بھی نہ آئے تو ان کو فکر لاحق ہوئی۔ راز کھلا اور ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے رشوت کی بڑی رقم لے کر جیل کی دنیا کے اس سب سے بڑے جرم کو سرانجام دیا ہے۔ ان کو ایک بار پھر معطل کر دیا گیا۔
شِورام کو نہ آنا تھا نہ وہ آیا۔ آتا بھی کیسے وہ تو خود اب تک مفرور ہے۔ اور یہ علم ہی نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا۔ ملک میں ہے یا ملک کے باہر۔
جیل والوں کو اس ملزم کا اور ملک صاحب کو شِورام کا آج تک انتظار ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ ملزم اس دنیا میں نہیں اور شِورام بھی نہ جانے کہاں ہے ۔ فقط ملک صاحب اپنی غلطی پرپشیمان اور معطل ہیں اور سندھیا کسی دوسرے عشق یا شادی کا انتظار کررہی ہے۔ جو ملک صاحب کی بحالی میں قیدہے حتی کہ جیل کے پھاٹک والے میاں صاحب بھی اس معاملے میں کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular