Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldتبصـــــرہ

تبصـــــرہ

mravadhnama@gmail.com 

avadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

مبصر : منظور پروانہ
نام کتاب : فلمی انٹرویو
نام مصنف : محمد خالد عابدی
ضخامت : ۱۵۶؍صفحات
قیمت : ۲۰۰؍روپے
ملنے کے پتے : مکتبۂ عابد یہ، ۵۴۵،
دل آرام ہاؤس، ہوا محل روڈِ بھوپال۔۴۶۲۰۰۱

زیر تبصرہ کتاب کے نام ’’فلمی انٹر ویو‘‘ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس کتاب میں اردو کے جن قلم کاروں، شاعروں وغیرہ کے انٹرویو شامل ہیں ان سب کا تعلق فلمی دنیا سے رہا ہے۔ ۲۱عدد انٹر ویو پر مشتمل اس کتاب کے مصنف محمد خالد عابدی کو ابتدائی عمر سے ہی انٹرویو نگاری کا شوق رہا ہے۔ اپنے اس شوق کے سلسلے میں وہ ’’اپنی بات‘‘ کے عنوان سے تحریر اپنے مضمون میں اس طرح رقم طراز ہوتے ہیں کہ ’’مجھے ابتداء سے ہی انٹر ویو نگاری کا شوق رہا ہے۔ ۱۹۷۶ء کا زمانہ تھا۔ میں ان دنوں فلمی مضامین ہی لکھتا تھا اور وہ فلمی مضامین ہفت روزہ کہکشاں بمبئی، پندرہ روزہ سب رنگ حیدر آباد، سنے ایڈوانس بنگلور،روز نامہ تیج دہلی، روزنامہ پرتات دہلی، اور فلم ویکلی کلکتہ میں شائع ہواکرتے تھے۔ جس میں کسی فلمی شخصیت سے ملنے کا اتفاق ہوتا تو مختصر سے مختصر انٹرویو کے بغیر نہیں رہتا تھا اور جہاں وقت کی گنجائش ہوتی تو پھر انٹرویو طوالت بھی اختیار کر جاتا۔‘‘
زیر تبصرہ کتاب میں شامل انٹر ویوز کے سلسلے میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’’اردو انٹرویوز‘‘ اور’’اردو مراسلاتی انٹرویوز‘‘ کتابوں سے میں نے ۱۵؍مراسلاتی انٹر ویوز اور چھ غیر مطبوعہ مراسلاتی انٹر ویوز شامل کرکے ’’فلمی انٹرویوز‘‘ کتاب تیار کی ہے۔ یہ سال فلموں کے سو برس کا بھی ہے۔ اس موقع پر میری جانب سے یہ ایک تحفہ ہے۔‘‘
انٹر ویو کی اہمیت کیا ہے۔؟اکثر یہ سوال لوگوں کے ذہن میں اٹھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹر ویو ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم اس شخص کے نظریات و خیالات کو منظر عام پر لا سکتے ہیں جسکا انٹرویو کیا جارہا ہے۔ اب ایک سوال اور ابھر کر سامنے آتا ہے کہ مراسلاتی انٹریوز زیادہ کار گر ہیں یا بالمشافہ گفتگو۔ میری رائے میں آمنے سامنے بیٹھ کر جو انٹرویو کئے جاتے ہیں وہ زیادہ بہتر ہیں کیونکہ اکثر سوال کے جواب میں نیا سوال سامنے آجاتا ہے تو انٹرویو کرنے والا اس موضوع پر بھی سوال کر لیتا ہے جس سے بات کی وضاحت ہو جاتی ہے جبکہ مراسلاتی انٹرویومیں یہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی کبھی کچھ گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں۔
زیر تبصرہ ’’فلمی انٹر ویو‘‘ نامی کتاب کے مطالعہ کے یہ بات کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ محمد خالد عابدی نے سوال نامے اس طرح تیار کئے ہیں کہ جس سے مراسلاتی انٹریو لیا جا رہا ہے۔ اس کے سوانحی کوائف، ادبی رجحانات، ادبی کارنامے، کس کس میدان میں کیا خدمات انجام دی ہیں اور اردوکے سلسلے میں ان کے کیا خیالات ہیں ساتھ ہی اردو کے مستقبل کے سلسلے میں ان کے کیا خیالات ہیں، کا احاطہ ہو سکے۔
تمام انٹرویوز جس شخصیات سے کئے گئے ہیں ان میں ایک بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے محمد خالد عابدی کی اردو سے محبت کیونکہ تمام لوگوں سے اردو کے تعلق سے سوال ضرور کئے گئے ہیں۔
انٹرویو کے سوالات وجوابات کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔ احمد وصی سے گیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال اور اس پر ان کا جواب اس طرح ہے۔
محمو خالہ:گیت اور فلمی گیت میں کیا بنیادی فرق ہوتاہے۔؟
احمد وصی:گیت جیساکہ ظاہر ہے ایک صنف شاعری ہے جسے لکھنے کے لئے شاعر بہت دور تک آزاد ہوتا ہے کیونکہ اپنے لئے اپنے حساب سے لکھتا ہے۔ مگر فلمی گیت ،کہانی، کردار، سچویشن، موسیقی، طرز اور گانے کی مدت کے ساتھ تجارتی تقاضوں کو مدِ نظر رکھ کر لکھا جاتا ہے۔ بلکہ اب تو تجارت پر ہی زور دیا جاتا ہے۔
اختر الایمان سے پوچھے گئے سوال پر ان کا معلوماتی جواب ملاحظہ ہو۔
خالد:آپ کی ایک نظم’’میرا نام‘‘ بھی تو آپ کے نام کے تعلق سے ہے اس کی وجہ تخلیق کیا ہے۔؟
اختر الایمان:’’میرا نام‘‘ مولانا ابو الکلام آزاد سے متعلق ہے تفصیل اس واقعہ کی مجھے بھی معلوم نہیں۔ آل احمد سرور صاحب نے جتنی بتائی وہ یہ ہے کہ مولانا کی نگرانی میں جدید شاعری کی ایک اینتھو لوجی چھپ رہی تھی۔ بورڈ میں سرور صاحب، قادری زور اور احتشام حسین وغیرہ تھے۔ جب میرا نام اس جلد میں شمولیت کے لئے تجویز کیا گیا تو مولانا نے کہا جس شاعر کا نام غلط ہے وہ اچھا شاعر کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ مولانا عربی کے عالم تھے اختر الایمان کی جگہ نجم الایمان ہونا چاہئے تھا۔ اس لئے کہ ’’ال ‘‘ عربی اور فارسی ناموں کو جوڑنے کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ سب نے بہت سمجھایا کہ صاحب یہ تو نام ہے جو اختر الایمان غریب نے خود نہیں رکھا ہے۔ یہ قلمی نہیں اس کا اصلی نام ہے مگر مولانا اڑ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اینتھولوجی نہیں چھپی۔ میں نے یہ نظم کہی اور مولانا کو بھجوانے ہی والا تھا کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ میں نے بھی یہ نظم ان کے نام معنون نہیں کی۔
اردو کے رسم الخط کے حوالے سے جاں نثار اختر سے کئے گئے سوال اور اس کا جواب ملاحظہ ہو ۔
خالد:کیا دیوناگری لیپی میں اردو کا تحفظ ممکن ہے۔؟
اختر:کسی بھی زبان کا رسم الخط اس زبان سے وہی رشتہ رکھتا ہے جو جسم کا روح سے ہوتا ہے اگر اردو سے اس کا رسم الخط چھین لیا جائے تو اردو باقی نہیں رہے گی۔
ساگر سرحدی کے اردو اور اردو ڈرامے کے سلسلے میں خیالات ملاحظہ ہوں۔
محمد خالد عابدی:بنگالی، مرہٹی اور ہندی ڈرامے کے سامنے اردو ڈرامے کی کیا حیثیت و اہمیت ہے۔؟
ساگر سرحدی:وہی جو ایک جوان کے سامنے بچے کی ہوتی ہے۔
محمد خالد عابدی:اردو زبان کے بغیر قلم کی مقبولیت مشکوک ہے کیا یہ دعویٰ درست ہے۔؟
ساگر سرحدی:فلموں کے لئے ’’اردو‘‘کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔
شاگرد کی اصلاح کے سلسلے میں صفدر آہ کے خیالات ملاحظہ ہوں۔
محمد خالد عابدی:آپ کے نزدیک ’’اصلاح‘‘ کا صحیح طریقہ کیا ہے۔؟
صفدر آہ:خود شاگرد کے رنگ میں اصلاح دو۔ رنگ کا مطلب بیان اور خیال دونوں سے ہے۔
بہر حال یہ تو چند نمونے تھے جو میں نے بغیر کسی خاص کوشش کے پیش کر دئے ہیں لیکن اس کتاب کے سلسلے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے بہت سے ایسے سوالوں کے جواب قاری کو مل سکتے ہیں جو دوسری ادبی کتب میں ملنا ممکن نہیں۔
امید ہے کہ یہ کتاب اپنے نقش عوامی حلقوں کے ساتھ ادبی حلقوں میں بھی چھوڑنے میں کامیاب ہوگی۔
qqq
منظور پروانہ
دانش محل، امین آباد، لکھنؤ۔226018

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular