Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldیہ کہاں ۱ٓگئے ہم؟

یہ کہاں ۱ٓگئے ہم؟

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

گلشن جہاں

میں اس لئے اداس نہیں ہوں کہ کئی راتیں اضطراب میں گزری ہیں ،کئی روز سے مطالعہ نہیں کر سکی ہوں،شدید گرمی کے باوجود تپتی دوپہر میں عدالت کے چکّر لگانے پڑے ہیں۔مایوسی کا سبب امیدو انتظار میں گزرے ہوئے لمحے بھی نہیں ہیں۔میں اس لئے بھی اداس نہیں ہوں کہ کئی ہفتوں سے میرے عزیز و اقارب میرے لئے فکرمند ہیں،دوستوں سے رابطہ بھی نہیں کر سکی ہوں بلکہ میں اس لئے حیران و پریشان ہوں کہ ہمارے عظیم ملک ہندوستان کا مستقبل ہماری نوجوان نسل جرائم کو اپنا مشغلہ بنا رہی ہے ۔جیسے ہی یہ سوال ذہن میں آتا ہے تو دل سے صدا آتی ہے کہ انسان برا نہیں ہوتا ،حالات اس کو برا بنا دیتے ہیں ۔آخردور حاضر کے انسان کی وہ کون سے حالات اور کون سی مجبوریاں و محرومیاںہیں ؟ جو صحت یاب نوجوانوں کو بھیک مانگنے،دوسروں کے آگے گڑگڑانے اور فریاد سے کام نہ چلنے پر بے قصور لوگوں کی محنت کی کمائی چھیننے پر مجبور کر رہے ہیں ؟جب کہ دوسری طرف شب و روز اچھے دن آنے کی دہائی سن سن کر کان تھک گئے ہیں کہ اچھے دن آئیںگے،آخر کب آئیں گے؟
شایدآپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں خیالی اڑان بھر رہی ہوں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے ۔اس کے برعکس تلخ تجربات و مشاہدات کو عوام کو سپرد کرکے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ یہ کہاں آگئے ہم؟کیایہ وہی گلشن ہے جس میں تمام شہریوں کو مساوات کا حق حاصل ہے ،کیا یہ وہی گاندھی اور آزاد کا چمن ہندوستان ہے جس کے آئین کی بنیاد سچ اور انصاف پر ہے ؟
اگر ہم آزاد ہیں تو کیا دوسروں کی آزادی کو بھنگ کرنے کے مستحق ہیں،کیا کسی کی جیب کاٹنے کے لئے آزاد ہیں ،کیا کسی کا فون چھیننے یاپرس مارنے کا حق حاصل ہے؟اگر نہیں ہے تو کیوں روز بروز اس طرح کی واردات ہوتی نظر آتی ہیں اور ہم آنکھیں موند کر یہ تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ بظاہر چھوٹے دکھنے والے یہ جرائم کبھی کبھی کسی کی ساری زندگی کی محنت برباد کردیتے ہیں۔تو ذرا محسوس کرکے دیکھئے اس طالبہ کے درد و تکلیف کو جوامتحان کے خوف و مسرت کے ملے جلے احساسات کے ساتھ امتحان دینے نکلتی ہے تبھی اچانک دو بائک سوار آتے ہیں اور اس کا پرس چھین کر فرار ہو جاتے ہیں ۔اس کے اکناف و اطراف کی بھیڑ تماشہ بین بنی رہتی ہے۔وہ چینختی ہے چلاتی ہے ۔لیکن نہ تو ان بائک سوار کو کوئی پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ اس کو امتحان گاہ میںداخل کیا جاتاہے کیوں کہ اس کے پرس کے ساتھ ایڈمٹ کارڈ بھی اس کے ہاتھ سے چلا گیا تھا۔اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ ہمت و حوصلہ نہیں چھوڑتی اور پولس اسٹیشن کا رخ کرتی ہے۔پولس والے چور کو پکڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس سے پچاس طرح کے سوال کرتے ہیں کہاں رہتی ہو؟ کیا نام ہے؟باپ کا نام؟ اپنے سامان کی حفاظت نہیں کر سکتی تو گھر سے باہر نکلتی ہو؟ یہ حادثہ کہاںہوا کب ہوا؟ کوئی گواہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔اس طرح کے متعدد سوالات کی فہرست پولس اس کے سامنے رکھ دیتی ہے ۔میں یہ نہیں کہتی کہ نام پتا پوچھنا غلط ہے لیکن اس حد تک کے بے قصور انسان خود کو ہی خطاوار سمجھنے لگے یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
یہی بات مجھے کئی دنوں سے پریشان کررہی ہے کہ ہمارے معاشرمیںانسانیت ،شرافت،مروت،قربانی اور امن و سکوں کیوں باقی نہ رہا۔جن شہروں کو تاریخی ،علمی و ادبی اہمیت حاصل ہے ان ہی میں سب سے زیادہ لوٹ مار کے جرائم انجام پارہے ہیں ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ کیایہ وہی علی گڑھ ہے جو تہذیب و تمدن کا قطب مینار کہا جاتا ہے ؟ کیا یہ وہی دلی ہے جس میں ہندوستان کا دل دھڑکتا ہے ؟ ہاں یہی سچ ہے لیکن دل ہے کہ مانتا نہیں کیونکہ وہ شہر جو بے شمار آنکھوں کے خوابوں کا مرکز ہیں وہاں ایسا نہیں ہونا چاہئے ،بلکہ ہمارے ہندوستان میں کہیں نہیں ہونا چاہئے ۔لیکن ہورہا ہے کیوں ہو رہا ہے ؟ کبھی لگتا ہے کہ غربت کی وجہ سے مجرم پیدا ہوتے ہیں ،کبھی محسوس ہوتا ہے بے روزگاری اس کی وجہ ہے ۔کبھی ہم حکومت کو الزام دیتے ہیں لیکن حکومت کا انتخاب کرتا کون ہے؟ یہ لمحہ فکریہ ہے ہمیں خود کو تلاش کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ ہم کہاں ہیں ،ہمارا کردار کیسا ہے ،ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں ،ملک کا شہری ہونے کے ناطے ہماری بھی کچھ ذمیداریاں ہیں ۔اگر ہم سب اپنے حقوق و ذمیداریوں کو سمجھ لیں تو شاید کسی طالب علم کو اپنی اسناد چور کے ہاتھوں نہ گنوانی پڑے کیوں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے ٹرین ،روڈ یا بس میں پرس مارنے ،موبائل چھیننے یا جیب کترنے والے لوگ تعداد میں وہاں موجود بھیڑ سے کم ہی ہوتے ہیں ۔لیکن ہمارا یہ رویہ کہ جو ہورہا ہے ہونے دیں ،ہم کیوں بیچ میںپھنسیں ،جس کے ساتھ ہورہا ہے وہ بھگتے ۔یاد رکھیے ہمارا یہی رویہ سماجی ،معاشی اور اخلاقی بہران کو تقویت پہنچا کر ہمارے ملک کو اندر ہی اندر کھوکھلا بنا رہا ہے ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،علی گڑھ
ریسرچ اسکالر ۔شعبئہ اردو

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular