سکندر علی ’سکن‘

سردی کا موسم تھا رات اپنے شباب پر پہنچ چکی تھی سارے مخلوق خدا اپنے اپنے آشیانے میں آرام کر رہے تھے مگر عادل اپنے بستر پر پڑا کروٹیں بدل رہا تھا گویا نیند نے اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہوں عادل بارہویں جماعت کا طالب علم تھا پڑھائی میں دل زیادہ نہیں لگتا تھا مگر ناچ کا نام سن کر مچل جاتا تھا علاقے اور دور دراز کے گاؤں میں وہ اکثر ناچ دیکھنے جایا کرتا اسے ناچ سے اتنا لگاؤ تھا کہ اگر کوئی اسے ایک لاکھ روپے دے کر یہ کہہ دے کی تم اس روپے کےعوض آج ناچ دیکھنے نہ جاؤں تو بھی انکار کر دیتا عادل کے والد عبدالرحیم ایک اعلی کالج کے ٹیچر تھے اس لئے ماسٹر صاحب کو قرب و جوار کے لوگ اچھے طریقے سے جانتے تھے اور ان کا ادب کرتے تھے ماسٹر صاحب کا عادل اکلوتا اولاد تھا اس لئے ماسٹر صاحب عادل پر بہت زیادہ شکنجہ نہیں کس پاتے عادل بہت ضدی لڑکا تھا اس کے ضد کے آگے ماسٹر صاحب کو مجبور ہونا پڑتا ماسٹر صاحب اسے ناچ دیکھنے سے منع فرماتے مگر عادل ضد کرتا تو کہتے کسی کے ساتھ چلے جاؤ اس رات بھی عادل بستر پر پڑا ناچ کے سین دل و دماغ میں لاکر سوچ کر کروٹیں بدل رہا تھا ہر سمت ایک سناٹا تھا رات سائیں سائیں کر رہی تھی اسی اثنا میں اچانک ناچ کے نگاڑے کی آواز عادل کے کانوں سے ٹکرائی تو عادل کے اندر گھبراہٹ کے مارے ایک منفرد ہلچل پیدا ہو گئ وہ بے چین ہو کر اپنے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا دیکھا تو پاپا سورہے تھے پاپا کو بغیر جگائے عادل گھر سے نکلنا مناسب سمجھا اور گھر سے نکل کر نگاڑے کے آواز کے سمت اپنے قدم تیز کئے اس طرح عادل لگاڑے کی آواز کے سمت دوڑ رہا تھا گویا کوئی ناگن سپیرے کے بین کے آواز پر لبیک کہتی ہوئی دوڑی چلی جاتی ہے۔
عادل نے دوڑتے دوڑتے گاؤں سے دو تین کلومیٹر کے فاصلے طے کر ڈالے مگر یہ کیا اب تو نگاڑے کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی عادل کو حیرت ہوئی مگر وہ پیہم چلتا رہا۔
اچانک عادل کو کچھ دوری پر چند آدمیوں کے جھرمٹ جیسا احساس ہوا عادل کو لگا یہ لوگش شاید ناچ دیکھنے والے ہیں۔ بس کیا تھا عادل نےآواز دینا شروع کیا
عادل چلا چلا کر کہہ رہا تھا بھائی رکو ہم بھی آ رہے ہیں! کہتا ہوا ان کے سمت چلا جا رہا تھا مگر ان لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا عادل دوڑتے دوڑتےانکے پاس پہنچ گیا اور پہنچتے ہی بولا میں کتنی دیر سے آپ لوگوں کو آواز دے رہا ہوں مگر آپ لوگ میری آواز کو سنتے ہی نہیں تھے اچانک عادل کی نظر لوگوں کے ہاتھوں میں لیے ہتھیاروں پر پڑی تو عادل کے ہوش اڑ گئے وہ جن لوگوں کو ناچ دیکھنے والا سمجھتا تھا وہ اصل میں لٹیرے تھے جو کسی کو لوٹنے کے مقصد سے جارہے تھے ۔
ایک لٹیرے نے عادل سے کہا۔ چلتے رہو ! چلتے چلتے راہ میں ایک کؤاں نظر آیا لٹیرے کؤیں پاس ٹھہر گئے وہ کنواں بہت قدیم اور طول عرض کے لحاظ سے کافی گہرا اور بڑا تھا عادل کؤاں کو دیکھ کر پسینہ پسینہ ہوگیا اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اب اسے مکمل یقین ہو گیا تھا کہ اسے اس کی موت یہاں لے کر آئی ہے لٹیروں نے ایک دوسرے کے طرف دیکھا ایک لٹیرا عادل سے مخاطب ہوا
تمہارا کیا نام ہے؟
عادل!
عادل نے ڈرتے ہوئے جواب دیا
لٹیرا ۔ کہاں رہتے ہو ؟
اردو نگر عادل نے کہا
لٹیرا ۔ تمہارے والد کا کیا نام ہے؟
عادل – ماسٹرعبدالرحیم۔
تو تم ماسٹر عبدالرحیم صاحب کے بیٹے ہو کہاں جا رہے تھے؟ جی ناچ دیکھنے کے مقصد سے گھر سے نکلا تھا عادل کے اس جواب سے لٹیرے پڑے ہنس پڑے ان میں سے ایک جو لٹیروں کا سردار معلوم ہوتا تھا عادل سے مخاطب ہوا
بیٹا! تمہارے والد ایک اچھے ٹیچر ہیں تمہارا اتنی رات گئے رات ناچ دیکھنا مناسب نہیں تم اتنی رات ناچ دیکھنے مت جایا کرو خیریت اسی میں ہے کہ تم واپس اپنے گھر لوٹ جاؤ راستے میں کسی سے بھی بات مت کرنا لٹیرے کے اس بات سے عادل کے جان میں جان آئی اور وہ گھر کے جانب چل پڑا آج عادل کے سر سے ناچ کا عشق اتر چکا تھا راستے میں عادل نے عہد کیا کہ وہ اب کبھی ناچ دیکھنے نہیں جائگا،جب کبھی عادل کو کؤیں کے پاس کا منظر یاد آتا تو وہ کانپ جاتا ۔
رابطہ نمبر 9519902612





