Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldانسانیت کے علمبردار انورؔ جـلال پوری 

انسانیت کے علمبردار انورؔ جـلال پوری 

ڈاکٹرحسن سعید ؔ جلال پوری 
کچھ وصف تو ہوتا ہے دماغوں میں دلوں میں
   یوں ہی کوئی سقراط و سکندر نہیں ہوتا
شب کی تاریکی کا کافی حصہ گزر چکا تھا نرم بستر پر کروٹوں کی سِلوٹیں جا بجا دِکھائی پڑ رہی تھیں دفعتاً میرے ذہن و دماغ میں کوئی شفیق شگفتہ و نغمگی آواز دستک دے رہی ہے کہ بیدار ہو جائو یہ تمھارے سونے کا وقت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اٹھو قلم اُٹھائو۔۔۔۔ اور لکھو ۔۔۔۔تم لِکھ سکتے ہو ۔۔۔۔کچھ تو وفاداری کا ثبوت پیش کرو۔ یہ صدا ئے مسلسل میرے کم فہم ذہن کو جھنجھوڑ رہی تھی میں بہت ہی اضطراب و پریشانی کے عالم میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔لبوں پہ پپڑیاں پڑ کر سوکھ رہی تھیں کہ میرے معبود یہ کیا المیہ ہے میری تو ایک بھی لفظ لکھنے کی جسارت نہیں اِسی اثناء میں صبح نمودار ہو گئی باد صبا کی خوشبو اور نغمگی دل و دماغ کو معطّر کر رہی تھی اور غیب سے ایک صدا آ رہی تھی۔۔۔۔ کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔۔۔۔۔۔ خالقِ کائنات کا نام لیکر اُس عظیم شخصیت کو اپنی تحریر کا موضوع بنا کر صفحۂ قرطاس پر رقمطرازی کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں میرا شعور جب کچھ بیدار ہوا تو مجھ جیسے بد نصیب کم سخن، کم گو و کم فہم انسان کو مرحوم محترم انورؔ جلال پوری صاحب کی پُر خلوص اور شفقت بھری سر پرستی نصیب ہو چکی تھی۔ محترم کی زندگی کے بیشتر تجربات ، مشاہدات، ادبیات، سماجیات، لسانیات، سیاسیات، انسانیات، اخلاقیات ، کردار سازی و غزل گوئی وغیرہ وغیرہ موضوعات پر بیشتر گفتگو رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے ہی معذرت کے ساتھ میں اب آپ کو اپنے اصل موضوع کی طرف متوجہ کرانا چاہ رہا ہوں کہ مرحوم کا وجود جیسے ہی اِ س کائنات کی سر زمین ہندوستان پر آشکارا ہوا جہاں حضرت آدم سے لیکر تمام رشیوں منیوں، ولیوں ، میرؔ و غالبؔ ، اقبالؔ، انیسؔ و دبیرؔ وغیرہ کے قدم آئے ۔اُسی سر زمین میں جس وقت انسانیت ظلم و تشدد کی آہنی زنجیروں میں جکڑی کراہ رہی تھی ان کے ظہور پذیر ہوتے ہی اللہ نے انسانیت کے پیروں میں پڑی آ  ہنی زنجیروں کو توڑا ۔ ہمارے مجاہدین جو اِس ملک کو آزاد کرانے میں دن رات کڑی مشقت کر رہے تھے اور وہ تمام افراد جو وطن کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کر چکے تھے یکبارگی آزادی ملتے ہی سارے لوگ خوش و خرم نظر آنے لگے۔ انسانیت اور بھائی چارے کا ڈنکا بجنے لگا۔
 یہی انسان آگے چل کر انسانیت کا ایسا علمبردار بن کر سامنے آیا کہ اگر کوئی گونگا بھی ملا تو اسے قوت گویائی ملی۔۔۔۔۔ نابینا آیا تو اسے بینائی مل گئی۔۔۔۔ کوئی مفلس و ناچار آیاتو تونگر و خوش و خرم ہو گیا ۔۔۔۔کوئی روتا ہوا آیا تو ہنستے ہوئے گیا۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ جو بھی اپنا مقصد و حاجت لیکر آیا حاجت روا ہو کر گیا۔۔۔۔ اُن کے نزدیک نا کوئی کالا نہ گورا ۔۔ ناآقا نہ غلام ۔۔۔ نا امیر نہ غریب  ۔۔۔۔ نا چھوٹا نہ بڑا نا ہندو نہ مسلمان۔۔۔ نا کوئی مسلک نہ تفریق  ۔۔۔۔ نا کوئی نسلی بھید بھائو ہر کسی کو شفقت اور محبت کی نگاہوں سے دیکھتے اُن کی زندگی میں جس سے بھی اُن کی ملاقات ہوئی بڑے نرم لب و لہجہ میں پہلے سلام کرتے اور بڑی ہی بُرد باری سے ملتے گویا ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے کسی یتیم کے ساتھ شفقت کی جائے اور اُسے یتیمی و محرومی کااحساس نہ ہو ۔
  یا رب تجھے انورؔ کو بھی دینا ہے تو آنکھیں
ہر ایک کے دکھ درد میں رونے کے لئے دے
قدرت نے اندازِ تکلم و تخاطب ایسا دیا کہ اگر گفتگو کرنے یا بولنے پر آجائیں تو الفاظ سر بسجود ہو جائیں اور اُن کے دہن سے خوشیوں کے آبشار پھوٹ پڑیں۔ لہجے کی نغمگی ایسی کہ جسیے رات کی تاریکی میں کوئی شمع روشن کر دی جائے تو پروانوں کا ایک ہجوم خود بخود اُمڈ پڑے ۔ ایسی ہی کیفیت سننے والوں پر طاری ہوتی تھی۔ اب میں بڑے خلوص و معذرت کے ساتھ اپنا ایک تجزیاتی تجربہ پیش کرتا ہوں کہ محترم سے جو بھی انسان ملا وہ آپ کا گرویدہ ہو گیا۔ اُس کے اندر انسانیت کی قدریں نمایاں ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
؎ خواہش مجھے جینے کی زیادہ بھی نہیں ہے ویسے ابھی مرنے کا ارادہ بھی نہیں ہے
تم پیار کی سوغات لئے گھر سے تو نکلو رستے میں تمھیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا
کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے زمیں سے ایک مٹھی خاک لیکر ہم اُڑا دینگے
مرحوم کی تمام تر تصنیفات منظر عام پر آکر کافی مقبول و مشہور ہو چکی ہیں جس میں چند کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جیسے قرآن پاک کے تیسویں پارے(عم) کا اردو میں منظوم ترجمہ ، گیتا کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ، گیتانجلی کا اردو میں منظوم ترجمہ، مہاتمہ گوتم بدھ کی حیات و خیالات کا اردو میں منظوم ترجمہ، عمر خیّام کی رُباعی کا اردو میں منظوم ترجمہ، حمد ونعت کا مجموعہ، منقبت کا مجموعہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے کہہ لینے دیجئے کی جس انسان کے اندر  ہفت و جملہ خصوصیات یکجا ہوں تو اس انسان کو کس نام سے پکارا جائے۔ یہ تو مجھ جیسا نا قص العقل انسان کیا کہے ۔ قارئین حضرات خود فیصلہ کریں کہ ان کو کیا مانا جائے۔
اللہ نے انسان کو انسانیت کے خدمت کے مقصد کے لئے خلق کیا۔ محترم نے بے غرض۔۔۔ بے لوث وصدق نیت سے انسانیت کی خدمت کی۔ جس سے رہتی دنیا تک انسان فیضیاب ہوتا رہیگا۔ (کُلُّ مَنْ عَلَیھا فَانِِْ ) کے مصداق خالقِ کائنات کو جب یہ یقین ہو گیا کہ موصوف نے انسانیت کی خدمت کا کام بحسنُ خوبی پایۂ تکمیل تک پہونچا دیا تو اچانک انکی اکلوتی صاحبزادی پیاری بیٹی جس کو وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۷؁۔ء کو رحلت کر گئیں اور یہ صدمہ و برداشت نہ کر سکے ۔
؎ میری بستی کے لوگواب نہ روکو راستہ میرا
   میں سب کچھ چھوڑ کر جاتا ہو دیکھو حوصلہ میرا
میں خود غرضوں کی ایسی بھیڑ میں اب جی نہیں سکتا
 میرے جانے کے فوراً بعد پڑھنا فاتحہ میرا
افسوس صد افسوس ۲؍ جنوری  ۲۰۱۸؁۔ء کی صبح انسانیت کے علمبردار کو دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرنا پڑا۔ یہ خبر سنتے ہی پوری انسانیت کی آنکھیں نم و اشکبار ہو گئیں۔اُن کے جنازے میں امیر و غریب، دانشور و اُدباء، مفکرو مدبر،علماء و  فقہاء،مجتہیدین، سیاستداں، ہندو، مسلم گویا ہر مکتب و فکر کے لوگوں کا ایک جمّ ِغفیر سمندر کی لہروں کے مانند اُمڈپڑا اور اپنی پُر نم آنکھوں سے انہیں الوداع کہا۔
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا میرے لئے کبھی دل سوگوار مت کرنا
میرے جدائی ترے دل کی آزمائش ہے
اس آئینے کو کبھی شرمسار مت کرنا
 ان کے انتقال کے بعد لوگوں کی زبان پر تبصرۂ عام تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہندو ان کو اپنا پیشوا۔۔۔ اور مسلمان اپنا رہنماء و قائد گردان رہا تھا۔۔۔ لاچار و غریب اپنا بہی خواں و غم گسار۔۔۔ بس اللہ ہی جانے وہ کن صفات و کمالات کے مالک تھے۔
میں اپنے چند اشعار سے ان کو خراجِ عقیدت پیش کر کے اپنی بات ختم کر رہا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔
جیسے کہ ستاروں سے ہے مہتاب کا رشتہ
مرحوم سے اِس طرح تھا جذبات کا رشتہ
سب کاوشیں منسوب اُسی ذات سے میری تھا
 جس سے میری زیست کے ہر باب کا رشتہ
مرثیہ کا ایک بند ملاحظہ فرمائیں۔
ہو وصف بیاں آپ کے کیسے میرے صاحب
احوال ذرا اپنا بھی دیتے میرے صاحب
 اب ا شک نہیں آنکھوں میں رکتے میرے صاحب ڈھونڈے سے بھی مجھکو نہیں ملتے میرے صاحب
ششدر ہیں پریشاں ہیں سبھی چاہنے والے
حد درجہ نیم جاں ہیں تری گود کے پالے
جلال پور، ضلع امبیڈکر نگر۔
موبائل نمبر ۔
9838838425
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular