Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldسید علی احمد دانشؔ (آل انیس) کچھ یادیں کچھ باتیں

سید علی احمد دانشؔ (آل انیس) کچھ یادیں کچھ باتیں

 خورشیدؔ رضا فتحپوری
۲۲؍ مئی ۲۰۱۸ کو رمضان کی ۶؍تاریخ تھی۔ابھی سحری کے بعد اذان صبح کا انتظار تھاکہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، ریسور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی میںسید علی احمد دانش ؔکا بیٹا باقر بول رہا ہوں پاپا کا انتقال ہوگیا ہے۔چند لمحوں کے لئے مجھ پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔زبان سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے کہ کیا بولوں ،میں نے اپنے کو سنبھالتے ہوئے پوچھا کیسے؟ جواب ملا’’کہ نماز مغربین سے قبل حسب معمول مسجد جانے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔واپسی میں اکبری گیٹ پر کہیں گر پڑے۔پولیس والوں نے انھیں ٹراما سینٹر میں داخل کرایا۔اطلاع ملنے پر ہم  لوگ پہنچے تو وہ زندہ تو تھے مگر غشی کے عالم میں تھے بات نہیں کر سکتے تھے آئی سی۔یو۔ میںرکھا گیا۔ڈاکٹروں کی تمام تر کوشش کے باوجود انھیں بچایا نہیں جا سکا ۔جنازہ صبح دس بجے اٹھنا ہے۔‘‘
اس خبر نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اتنا شدید صدمہ پہنچا کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا رات بھر کی شب بیداری کے باوجود نیند غائب ہوگئی آنکھیں چھت سے لگ گئیں اور دل و دماغ کی اسکرین پر یادِ ماضی کی تصاویر ابھرنے لگیں ۔ابھی ہفتہ بھر پہلے کی بات تھی ،کہ خدائے سخن میرا نیسؔ اعلی اللہ مقامہ کی ۱۴۸ویں برسی  کے موقع پر ادبی ادارہ ’’میر انیسؔ میموریل مدحت کمیٹی ‘‘کے زیراہتمام تاریخی حسینہ محمد علی شاہ (چھوٹا امام باڑہ لکھنو) ٔ میں منعقد ہونے والے طرحی مسالمہ میں دانش ساحب کی نئی کتابـــ ــ ــ’’ـــــــــ لکھنؤ جو ایک شہرتھا‘‘کی رسم اجرا انجام پائی تھی اور انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں دوشالہ اڑھا کر موصوف کے تئیں عزت و عقیدت کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔راقم الحروف اس تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
علی احمد دانش ؔصاحب سے میری شناسائی توتقریباََ۴۰؍ سال سے ہے جسکی وجہ مرثیوں کے حوالے سے میر انیسؔ علیہ الرحمہ سے مجھے دلی  محبت و عقیدت ہے۔اسی والہانہ عشق کی بنا پر ان کے خاندان کے اس باعث فخر وافتخار شخصیت کی طرف دل جھکنا اور طبیعت کا مائل ہونافطری تقاضہ تھا۔ چنانچہ ان سے سلام و دعا ہوتی تھی، موصوف بڑے خلوص و محبت سے پیش آتے تھے۔
 موصوف سے نزدیکی اس وقت اور بڑھ گئی جب  میں مولانا سید کلب صادق صاحب قبلہ کے دل میں خدائے سخن میر انیسؔ کا مزار تعمیر کرانے کا جذبہ پیدا ہوا اور انھوں نے قوم کو اس طرف متوجہ کرنے کی غرض سے دوروزہ پروگرام کا انعقاد کیا،جس کے تحت مزار انیسؔ پر مرثیہ خوانی کی دو مجالس منعقد ہوئیں۔ ایک میں راجہ محمد امیر محمد خاں صاحب قبلہ آف محمودآباد ،مر ثیہ پڑھے اور دوسری مجلس میں آفتاب مرثیہ خوانی سید حیدر نواب جعفری صاحب نے مرثیہ پڑھا تھا۔اس سلسلہ کاایک انتہائی معیاری سیمینار تاریخی حسینہ محمد علی شاہ(چھوٹا امام باڑہ) لکھنؤ میں بھی منعقد ہوا تھا۔ اس میں پاکستان کے نامور ادیب و نقاد پر ستار میر انیسؔ،جو اس وقت حکومت پاکستان میں وزیر بھی تھے۔مولانا کوثر نیازی تشریف لائے تھے۔انکے علاوہ لکھنؤ کے اہل قلم حضرات کو بھی مقالے پڑھنا تھے ۔جن میں ایک نام نامی محترم کاظم علی خاں صاحب کا بھی تھا۔ جو شیعہ کالج سٹی برانچ کے پرنسپل بھی رہ چکے تھے۔کاظم علی خاں صاحب مرحوم ومغفور نے اپنامقالہ پڑھنا شروع کیا جس کاآغاز میر انیسؔ پر تخلیق و تحقیق کرنے والے عالمی شہرت یافتہ شخصیت سید مسعود حسن رضوی کی تعریف و توصیف سے ہوا تھا۔خلاف توقع کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی جب ’’میر انیسؔ‘‘ کاذکر نہیں شروع ہوا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور میں نے باآواز بلند پکارکے کہاکہ یہ ’’میر انیسؔ‘‘ سیمنار ہے لہٰذ ا ان ہی پر مقالہ پڑھئے ۔حالانکہ مجھے اپنی اس گستاخی پر بعد میں افسوس بھی ہوا ۔بہر حال دو منٹ کے لئے ارتعاشی ماحول ہو گیا۔لوگ پیچھے گھوم کر دیکھنے لگے ۔چند افراد کے چہروں پر غیض و غضب کے آثار بھی نمایاں ہوئے۔اسی دوران پیچھے سے آواز بلند ہوئی کہ خورشیدؔ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔میں نے مٹر کو دیکھا تو یہ بلند آواز خاندان میر انیسؔ کے چشم و چراغ سید علی احمد دانش ؔ کی تھی۔ جنھوں نے کھڑے ہو کر میری تائید کی تھی۔میرادل بڑھ گیا کہ ہمہ شما نہیں ایک ایسی شخصیت نے میری بات کی تائید کی ہے ،جس کی شخصیت مسلم ہے ۔اسکے بعد سے میرے اور موصوف کے درمیان  نزدیکیاں بڑھ گئیں۔ اگر چہ اردو ادب میں میری کوئی گنتی نہیں مگر مداح اہل بیت ؑ ہونے کا شرف ضرور حاصل ہے۔تھورا بہت ادبی ذوق رکھتا ہوں کبھی کبھی ٹوٹے پھوٹے الفاظ قرطاس و قلم  کے حوالے کر دیتا ہوں ۔بہر حال یہ انکی محبت تھی کہ وہ اکثرمیرے غریب خانے پر تشریف لے آتے تھے، میں بھی وقت ملنے پر ا نکے ادبِ کدے ڈیوڑھی میر انیسؔ پر حاضری دیا کرتا تھا۔زیادہ تر ملاقاتیں محترم رئیس صاحب جنھیںمیں اپنا بڑابھائی سمجھتا ہوں اور انکی ادبی معلومات کا تہہ دل سے معتقد ومعترف ہوں۔انکی دوکان برازہ (چھتے کے نیچے ) لکھنؤمیںہے ۔جہاں بیٹھ کرگھنٹوں ادبی گفتگو ہوا کرتی تھیں۔ رئیس بھائی کی چھوٹی سی یہ گھڑی کی دوکان محض نام کی گھڑی کی دوکان ہے۔ حقیقاََ یہ ایک چھوٹا سا مگر بڑا معیاری دانش کدہ و مرکز ادب و آداب ہے۔ جہاں اردو کے اس دور انحطاط و زوال میں بھی شہر کے شاعر وادیب اہل قلم اور دانش ور حضرات کے ساتھ بیٹھ کر۔ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی ہے اور غذائے روحانی حاصل ہوتی ہے۔خدا کرے کہ یہ سلسلہ قائم رہے اور اہل ذوق فیضیاب ہوتے رہیں۔
میںنے ۱۹۹۱ء؁ میں امام زین العابدین چیر ٹبیل اسپتال اور معصومیہ مسجد کے درمیاان میدان ایلچ خاں لکھنؤمیں مکان بنوا لیاتھا اور رہائش بھی شروع کر دی تھی اسی درمیان جنا ب اکملؔشہیدی صاحب جو خود بھی مرثیہ پڑھتے تھے اور مرثیہ خوانی کی مجالس قاائم کرنے کے لئے دل و جان سے کوشاں تھے انھوں نے معصومیہ مسجد میں مرثیہ خوانی کی مجالس کا عشرہ قائم کیا جس میں ایک مجلس سید علی احمد دانش بھی پڑھتے تھے اور ایک یہ احقر بھی، اور تمام مرثیہ پڑھنے والے حضرات جمع ہوتے تھے۔ چناچہ سید علی احمد دانش ؔسے تعلقات اور بھی گہرے ہوتے چلے گئے۔۲۰۰۰ء؁ میں معروف مرثیہ خوان عاشق کلام انیسؔ جو میرا نیس علیہ الرحمہ کے تقابل میں اردو ادب کے کس شاعر و ادیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتے بقول انکے :       ؎  دیوان ِ میرؔ وغالب ؔو آتش ؔ کی کیا بساط             سارا ادب انیسؔ کے قدموں کی دھول ہے
محترم جناب غضنفر ارشاد صاحب انیسؔ سندیلوی نے ’’بزم زینت مرثیہ‘‘ کے نام سے ادبی ادارے کی تشکیل کی۔ انکی قیام گاہ اسکاا ٓفس قرارپایا وہ اس وقت تک حسینی گلستاں رستم نگر لکھنؤ میں قیام پزیر تھے ۔ایّام عزا میں عشرہء اولی کے بعد انکے گھر پر عشرۂ مجالس مرثیہ خوانی کا انعقااد اس وقت تک ہوتا رہا جب تک وہ اس گھر میں رہے ۔اسکے بعد سے اس عشرہ مجالس کاا نعقاداحقر کے عزاخانے ’’حسینستان‘‘ سلطان بہادر روڈ لکھنؤ میں ۱۴ محرم سے ۲۳ محرم تک ہوتا ہے۔اس عشرہ میں بھی ایک مجلس سید علی احمد دانش ؔصاحب پڑھا کرتے تھے۔ مگر تقریباََ روزانہ ہر مجلس میں شرکت ضرور فرماتے تھے۔ان مجالس میںبزم کے سبھی ارکان شریک رہتے ہیں۔چناچہ مجلس کے بعد چائے کے دوران مرثیہ خوانوں اور ارباب ذوق میںدیر تک مرثیہ خوانی و مرثیہ گوئی کے حوالے سے گفتگو رہتی ہے۔جس میں ہندوپاک کا ذکر رہتا ہے۔ قدیم و جد ید مرثیہ پر باتیں ہوتی ہیں۔فن خوانندگی پر سود امند مذاکرہ رہتاہے۔غرضکہ اس ادبی گرما گرم گفتگو میں جس میں سر پرست ادارہ احمد کو اب صاحب انیسؔ سندیلوی سید منظور حسن نقوی (جو خود بھی خاندان میر انیسؔ سے ہیںمگرآلِ انیسؔ نہیں لکھتے ہیں)سید علی امام زیدی گوہر (جو شدید ؔلکھنوی کے حوالے سے خاندان میرانیسؔ سے ہیں ) احمد رضا ایڈوکیٹ سید نصیر رضا رضوی( اب جو مرحوم ہیں) الحاج زوّار حسین ،ڈاکٹرپیکرجعفری اترولوی امیر رضاپاروی (مرحوم) خاندان مرزا دبیر کے چشم و چراغ گوہردبیری (مرحوم) کرنل جرار احمد صاحب،سید علی امام شانؔ عابدی،علی امام محمدآبادی،عرفان زنگی پوری، ڈاکٹر ثروت تقی اور دیگر اہل ذوق حضرات شریک رہتے تھے۔ان تمام لوگوں میں سید علی احمد دانش کی حیثیت برات میں دولہا جیسی ہوتی تھی۔اس بارا یّام عزا میں وہ بہت یاد آئیں گے۔دانشؔ صاحب کو خودمرثیہ پڑھنے سے زیادہ مرثیہ خوانی سننے اور مرثیہ خوانوںکی حوصلہ افزائی میں دلچسپی رہتی تھی۔وہ منبر کے آگے بیٹھ کر سبھی مرثیہ خوانوں کی داد و تحسین سے حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔احقر کو بھی منبر پر تحت الفاظ پڑھنے کے لئے مرحوم نے بہت سے قلمی مرثیے عنائت فرمائے تھے ۔جسکے لئے احسان مند ہوں۔
مرحوم انتہائی مخلص منکر مزااج خلیق و سادہ لوح انسان تھے۔ہر ایک سے بڑی خندہ پشیانی سے ملتے تھے ۔رہن سہن اور لباس وغیرہ بھی بہت سادہ تھا۔ مگر اس سادگی میں بھی خاندانی وقار و عظمت کی جھلک نمایاں تھی۔رفتار میں متانت و گفار میں شیرنیی و لطافت تھی۔انھیں کسی سے رقابت بھی نہیں تھی۔ انھیںکبھی کسی شاعر یا ادیب پرمنغی تبصرہ کرتے نہیں دیکھا گیا وہ صرف تعریف و ستائش ہی کرتے تھے۔
ادبی دنیا میں سید علی احمد دانشؔکے مقام و مرتبہ کے حوالے سے اگر گفتگو کی جائے تو ایک علیحدہ تفصیلی مضمون درکار ہے جو انشاء اللہ بقید حیات بعد میں قلم بند کرونگا۔اس مضمون میں محض قلبی احساسات ہی قلم بند کرنامقصود ہے۔اجمالاً اتنا ضرور کہنا ہے کہ سید علی احمد دنشؔ خدائے سخن میرا نیسؔ کی اس دعا کانتیجہ ہیں جو انھوں نے ایک مرثیہ میںخدا سے خلوص دل سے مانگی تھی:    ؎
جب تک کے چمک مہر کے پر تو سے نہ جائے
 اقلیم سخن میرے قلم رو سے نہ جائے
 میر انیسؔ کی اس گیارھویں پشت تک تو انکی دعا کا اثر باقی ہے آئندہ اللہ مالک ہے۔ ویسے حقیقت یہی ہے کہ   :؎
 موت کے سیلاب میں ہر خشک وتر بہہ جائے گا
 بس فقط نام حسین ابن علی ؑ رہ جائے گا
غرضکہ سید علی احمد دانشؔ کو شاعری تو وراثت میں ملی ہی تھی وہ فطری طور پر ایک ادیب و محقق و مرتب تھے۔انھیں تخلیقاروں و فنکاروں کی تخلیقاتی  فن پاروں کو جمع کرنے اور انکے محاسن کو قارین تک پہنچانے کا شوق تھا۔گیارہ پشتوں پر پھیلی ہوئی اپنے خاندان کی شاندار ادبی میراث کی حفاظت و بقا اور اسے تازہ رکھنے کی کوشش و کاوش میں مشغول مطالعہ ریتے تھے۔رثائی ادب کے حوالے سے میر انیسؔ اور دیگر میر انیسؔ ،عشق تعشؔ، میروحید،پیارے صاحب رشید ؔ،دولہا صاحب عروج ؔ،رشید وؔ شدیدؔ،ہادی صاحب لائقؔ ،فانقؔ ،عارفؔ،جلیسؔ، سلیسؔ،سبھی کے سلسلہ میں انھیں اچھی معلومات تھی۔اپنے خاندان کے علاوہ دیگر ادبی خانوادوں کے اہل کمال کے سلسلہ میں وافر علم رکھتے تھے۔نہ صرف مرثیہ بلکہ غزل، قصیدہ، مثنوی ،رباعی ، قطعہ، سلام سبھی اصناف سخن کے فنکارں کے فن پاروں پر انکی نظر تھی ۔نثر نگاری ،تاریخ ،خصوصناًافسانوی ادب سے بھی دلچسپی تھی۔ چنانچہ انھوں نے دور متقدمین ،دور متوسطین،اور دور حاضرکے کچھ ابھرتے ہوئے اور کچھ غیر معروف شاعروں ادبیوں افسانہ نگاروں پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔انھوں نے جہاں میر تقی میر مرزا غالب بہادر شاہ ظفر علی سردار جعفری علی جواد زیدی جعفر علی خاں،اثر لکھنوی پرخامہ فرسائی کی وہیں مضطر جونپوری کی مرثیہ نگاری ،عطیہ خان اور مسرور جہاں کی افسانوی خصوصیات بھی یہاں کیں۔اور الخطاط کے بانی شاعر، مصوراورخطا ط حسن آغا حسن صاحب عبور لکھنوی کے فن پربھی روشنی ڈالی۔ حد یہ ہے کہ دانش ؔ صاحب نے مجھ جیسے بے علم جاہل مطلق پر بھی ایک مضمون ’’ایک ہمہ جہت شخصیت خورشید’ رضا فتحپوری ‘‘کے عنوان سے مضمون تحریر کیا جو کہ اخبار ا’’اودھ نامہ ‘‘ میں۱۳؍جولائی ۲۰۱۶ شائع ہوا ۔
غرض کہ سید علی احمد دانش صاحب اپنے خاندان کی ،ادبی میراث کے وارث وامین توتھے ہی، ساتھ ہی اردو دنیا میں ہونے والی تخلیقی محرکات کی بھی خبر رکھتے تھے ۔انہوں نے انتہائی خندہ پیشانی و کشادہ ذہنی کے ساتھ تمام اہل قلم کی تخیقی کوششوں اور کاوشوں کی ستائش و حوصلہ افزائی کی  ہے۔انکی بھی ستائش میں ہند و بیرون ہند کے بڑے بڑے باکمال ادیبوں نے رائے زنی کی ہے ۔جن میں ماہر غالبیات مالک رام ، ڈاکٹر اکبر حیدر کشمیری ،ڈاکٹر فاخر حسین( لندن) ،علامہ ضمیر اختر(پاکستان) ،علطیہ خان (لندن)،پروفیسر نیر مسعود،مرزامحمد اشفاق شوقؔ لکھنوی، عرفان عباسی، ڈاکٹر وجاہت حسین، علامہ تجسس اعجازی، مجاہد حسین حسینی، ڈاکٹر توقیر احمدخاں کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ ابھی حال میں جناب عابدنظرؔ کا مضمون ’’علی احمددانش تصیفات کے آئینے میں ‘۱۷و ۱۸؍ ؍ رمضان مطابق ۲؍ اور ۳؍ جون کو اخبارات صحافت ،اودھ نامہ میں شائع ہوا۔اس میں انہو ں نے دانش صاحب کے فن اور شخصیت کا تیعن کرتے ہوئے چار ابواب مقرر فرمائیں ہیں ۔(۱)علی احمد دانشؔ بحیثیت مرتب، (۲) علی احمد دانش ؔ بحیثیت خوش نویس، (۳) علی احمد دانشؔ بحیثیت نثر نگار، اور(۴) علی احمد دانشؔ بحیثیت شاعر۔
میں عابد نظر ؔ صاحب کے نظریہ سے متفق ہوں ۔اور امید کرتاہوں کہ انشاء اللہ وہ ان چاروں حصوں کے اعتبار سے دانشؔ پر مضامین قلم بند کریںگے۔سید علی احمد دانشؔ کی کتابیں(۱)عکس زار)،(۲) ادبی میراث،(۳)خطوط مشاہیر، (۴)اسلاف و اخلاف میر انیسؔ(۵) لکھنؤ جو ایک شہر تھا۔منظر عام پر آچکی ہیں۔انکلی اگلی آنے والی کتاب ’’لکھنؤ کی چند نامورشخصیتیں‘‘اترپردیش ،اردو اکاڈمی میں برائے اشاعر جمع ہے۔امید ہے کہ انشاء اللہ یہ کتاب جلد ہی منظر عام پر آجائے گی۔آخر میںغالب ؔ کے اس شعر پر مضمون ختم کرتاہوں۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی جو پنہا ںہوگئیں
ضضضض
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular