Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldآہ دانشؔ بھائی

آہ دانشؔ بھائی

آب دیدہ رئیس حسین

دانشؔ بھائی کے انتقال کے بعد ان کے غم زدہ دوستوں نے اس سلسلے میں اپنے اپنے جذبات کا اظہار بڑے خلوص اور درد بھرے انداز میں کیا ہے کہ سبھی کو ان کی یوں ناوقت موت کا بہت صدمہ ہے۔ چنانچہ مجھے بھی دلی تکلیف ہے اور بہت رنج ہے چونکہ مجھے اُنسے کچھ خصوصی لگائو تھا جس کا فطری تقاضہ تھا کہ میں بھی اُن کو خلوص نیت سے مانتا، چاہتا اور اُن کی عزّت کرتا تھا ۔ اور وہ تھے بھی ایسے ہی، انتہائی سادے، پُر خلوص اور ہر ایک کی مدد کے لئے تیار ۔ چنانچہ انہوں نے مجھپربہت احسانات کئے ہیں۔ وہ میرے محسن تھےمجھپر ہمیشہ اُن کی مہربانیاں رہیں۔ مجھے ان سے بہت ڈھارس تھی۔ ایک وقت تھا جب مجھ پر وقت پڑا تھا، مگر یہ مولائے مشکل کشا کا ماننے والا اُس وقت جب مجھے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا تھا یہ میرا محسن امید کی تابندہ کرن ثابت ہوا۔وہ ایک سچّےاور کھرے انسان تھے، بھولے بھالےاور دنیا کی سیاست سے بےنیاز۔
اُن کااور میرا ساتھ تقریباً پچاس ساٹھ برس کے عرصے پر محیط تھا۔ اس درمیان میرے اُن کے کبھی کسی قسم کی شکرنجی اور کمااختلافِ رائے بھی نہیں ہوا۔ میرے مشوروں کو بہت اہمیت دیتےتھے، ایسا نہیں کہ میرا کہاپتھر کی لکیر ثابت ہوتا تھا مگر میں نے کبھی ان کے چہرے پر ناگواری کے جذبات نہیں دیکھے۔ یہ اُن کے آعلیٰ اخلاق کا ثبوت تھا اور نیک نفسی تھی۔ میں تقریباً بستر علالت پہ ہوں کب پیغام قضا آجائے۔ اس خیال کے تحت میں نے کچھ وصیتیںکی تھیںیہ سوچ کر کہ ماشا اللہ ان کی صحت بہت اچھی ہے، یہ باغ و بہار،شخصیت کے مالک تھے محفل میں بہت جلد توجہ کا مرکز بن جاتے تھے مگر یہ بولتا ہوا چمن یوں اچانک خاموش ہو جائے گا۔ اس بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس وقت میرے تمام دوستوں میں صرف وہی بچے تھے۔ اُن کے بعد اب اس دنیا میں بالکُل اکیلا ہو گیا ہوں ، بالکُل اسی طرح اُن کے موجودہ دوستوں میں صرف میں ہی تھا جس کا وہ ذکر کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے دل کا درد مجھے کہا کرتے تھے اور میں اپنے کرب کا اظہار اُن سے کرتا تھا۔ اس طرح دونوں کا غم کچھ ہلکا ہوجاتا تھا۔افسوس فلک کو یہ گوارہ نہیں ہوا۔
میں ان کے یوں اچانک انتقال کے بعد فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ اس سلسے میں کیا لکھوں، میرا دل و دماغ ساتھ نہیں دیرہا ہے۔ وہ موت سے صرف ڈیڑھ گھنٹے پہلے ہمارے گھر پر تھے۔ زندگی کی تمام رعنائیوں سے سرشار تھے میرے پوتے کو کھلا رہے تھے۔ میرے گھر کے قریب کنکر کنویں پر مفتی صاحب کی مسجد پر نماز پڑھنے گئے تھے یہ کہکر کہ ’’ابھی آکے چائے پیوں گا‘‘۔ جیسا کہ اُن کا روز کا معمول تھا وہ میرے غریب خانے پر بلا ناغہ روزانہ آتے تھے۔ چونکہ اکثر میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے لہٰذا وہ خود آجاتے تھے۔
مسجد سے واپسی میں جب اُن کو تاخیر ہوئی اور اُن کے نہ آنے سے میرے گھر کے افراد نے مجھسے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آئے ۔ مگر ظاہر ہے کہ میں کیا جواب دیتاشاید نماز کے درمیاں اُن کی طبیعت خراب ہوئی ہوگی، چنانچہ وہ وہاں سے سیدھے گھر کے لئے روانہ ہو گئے ہونگے ۔ مگر وقت موعود آچکا تھا اور وہ اپنے معبود حقیقی سے جا ملے۔
افسوس کہ صبح تقریباً چھ بجے اُن کے بھتیجے نے مجھے یہ سنانی سنائی(جس کے سنّے سے پہلے بہتر تھا کہ میں مر جاتا تو اچھا تھا) اُن کے انتقال کے بعد اور لوگوں کے اظہار تعزیت کے سلسلے میں مضامین پڑھکر مجھے یہ احساس ہوا کہ میں بھی کچھ لکھوں۔ مگر کیا لکھوں؟ میرے پاس اُن کے لئے سوائے چند آنسوئوں کے کیا رکھا ہے ۔ چنانچہ یہ چند سطریں جو میں نے بڑی مشکل سے بھیگی ہوئی آنکھوں کی مدد سے لکھی ہیں(جو دراصل میرے آنسو ہیں)مجھے احساس ہے کہ یہ بے ربط تحریر میرے جذبات کی صحیح عکاسی نہیں ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہو بہتر ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے یہ چند سطریں لکھی ہیں ۔
بطورِ اطلاع عرض ہے کہ اس سے پہلے میں اُن پر ایک بہت بسیط مضمون ان کے فن کو شخصیت کو اور ان کی صلاحیتوں کو محور بنا کے لکھ چکا ہوں۔ جو ایک سیمنار میں پڑھا گیا تھا اور غالباً مولانہ ریحان حسن صاحب کے پاس محفوظ ہوگا۔ وہ اسے چھپوانے کے لئے کہکر مجھ سے لے گئے تھے۔
حال ہی میں ان کی پانچویں کتاب منظرِ عام پر آئی ہے۔ جو بہت پسند کی گئی ہے جس کی کامیابی سے وہ بہت خوش تھے۔اس میں بھی میں نے ان کے لئے کچھ لکھا ہے۔ وہ آپ بھی ملاحظہ فرمالیں۔ کیونکہ اب اس وقت آگے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا لکھوں۔
مشہور و معروف ادیب اور محقق جناب حسن عباس فطرؔت صاحب فی زمانہ علم و ادب پر چھائی ہوئی کساد بازاری و بے حسی سے دل برداشتہ ہو کر فرماتے ہیں کہ’’ شاعر ، ادیب ، محقق پہلے بھی تھے اب بھی ہیں آئندہ بھی رہیں گے مگر ایسی ہستیاں جو جامع علوم و فنون ہو کر چمنِ علم و ادب کے پودوں کی آبیاری کر سکیں ان کا وجود اب کم سے کم ہو کر رہ گیا ہے۔ ساری دنیا اپنے میں مشغول و مگن ہے۔شاعر، محقق، مصنف، ادیب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ ہاں اگر ہے تو اپنی شخصیت پر لکھنے لکھانے کے لیے……….ورنہ مہنتانہ لے کر کسی حیران و پریشان طالبِ علم کے لیے پی:ایچ:ڈی کا مقالہ تیار کرنے کے لئے………..یا اس کی گلیوں کے آوارہ گرد…….یا سال خوردہ…….کسی کو اب ایسے ٹھکانے یا افراد نہیں ملتےجہاں وہ جا کر اپنی پیاس بجھا سکیں………کچھ سیکھ سکیں۔ بحث و گفتگو اورتبادلہ خیال کریں اپنی کہیں اور دوسروں کی سُنیں۔ دروازے بند ہیں البتہ کھڑکیاں کھلی ہوئی ہیں۔ تاکہ بے فیض یا اجنبی کو دور سے دیکھ لیں تا کہ کسی سے کہلوا دیں کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ چاہے گھر پر وہ کچھ نہ کر رہے ہوں………….
مگر دانشؔ صاحب کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا ۔ اپنی کیسی بھی مصروفیت ہو وہ اس کو درگذر کر دیں گے………ضرورت مند کی سُنتے تھے ۔ کسی معاملے میں مشورہ کی ضرورت ہو گی تو اپنے بہ قدرِ مبلغ علمی اُسے مفید مشورہ دیتے تھے۔اکثر حضرات میر انیسؔ سے متعلق مرثیوں کے سلسلہ میں اُن سے اور مرثیوں کی تلاش میں اُن کی مدد لیتے تھےاور یہ کام وہ صرف اُردو کی محبت میں کرتے تھے۔ اس کے لئے نہ انھیں ستائش کی تمنا تھی نہ صلے کی پرواہ۔ اس خدمت کی تہہ میں اگر کوئی جذبہ موجزن تھا تو وہ صرف اورصرف اپنی مادری زبان کی خدمت کا تھا۔یہی جذبہ ان کے قلم کو جولاں کئے ہوئے تھا اور اُن کو پرورشِ لوح قلم کی راہ پر لگائے ہوئے تھا۔ انھیں اپنی علمی ادبی قدر اور مرتبے کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ میرے چند توصیفی جملوں سے کسی غلط فہمی کا احتمال نہ ہو کیونکہ یہ برائے تذکرہ ہے وہ خود بھی اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرتے رہتے تھے۔
دانشؔ صاحب کی پہلی کتاب ’’عکس زار ‘‘ ہے ۔ اس میں مختلف موضوعات پر مضامین ہیں ۔ زیادہ تر مرثیے سے متعلق ہیں ۔ ان کی دوسری کتاب ’’خطوطِ مشاہیر‘‘ ہے۔ اس میں ادبأ اور دانشوروں کے خطوط اور اُن کے حالات ِ زندگی بڑے سلیقے مندی سے ترتیب دئے گئے ہیں ۔ ان لکھنے والوں کے نام اس طرح ہیں۔ مالک رام ، عابد رضا بیدار، محمد صادق صفوی نیشا پوری، ڈاکٹر سید صفدر حسین، مولانا آغا مہدی مجتہد، شاہد حیدر حیدرآبادی وغیرہ۔ ظاہر ہے اس میں ادبِ عالیہ سے متعلق گفتگو ہے اور بہت دلچسپ ہے ۔ ان کی تیسری تصنیف ’’ادبی میراث‘‘ کے نام سے ہے۔ نام کی مناسبت سے کچھ مخصوص مضامین ’’انیسیات ‘‘کے سلسلے میں پہلی بار وجود میں آئے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ علمِ سینہ کی دین ہے۔ میر انیسؔ سے متعلق بہت سی وہ باتیں جو اندرونِ خانہ تھیں وہ اس سے پہلے کبھی کہیں نہیں لکھی گئی تھیں وہ انھوں نے اپنے بُزرگوں سے معلوم کر کے لکھیں ہیں۔ یہ باتیں جن کا ذکر اندرونِ خانہ کے ذیل میں ہے میر انیسؔ کی نفاست پسندی ، اُفتادِ طبع پسندی و ناپسند، نشست و برخاست سے متعلق ہیں اور ایک انکشاف کا حکم رکھتی ہیں۔ بالخصوص کھانے پینے سے متعلق تذکرے بہت معلوماتی اور میر انیسؔ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بہت پُر کشش ہیں۔
چوتھی ’’اسلاف اور اخلافِ میر انیسؔ‘‘ دراصل یہ اُن کی تالیف ہے اور یہ اُن کے چچا محمد عباس صاحب واصفؔ کے متعدد شعرأ کا تذکرہ ہے اور یہ خاندان ِ انیسؔ کا پہلا تذکرہ ہے جو لکھے جانے کے بہت عرصے کے بعد مجبوریوں کے سدّ راہ ہونے کی بنا پر شائع ہوا ہے۔
ہائے وہ وقت کے جب ساتھ کے چلنے والے
منتشر ہوتے ہیں منزل کے بدل جانے سے
۲۸۔غازی منڈی وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنو
ضضض

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular