Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldبرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

غلام علی اخضرؔ
خدایا ! تو نے میرے بابا (آدم )کو ذرا سی غلطی پر جنت سے نکال کر زمیں پر  پھینک دیااور پھر انھوں نے برسوں تیرے دربار میں گریہ وزاری کر کے آنسوئوں کا دریا بہا دیا، تب کہیں جاکر تو نے انھیں معاف کیا۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ تجھے اپنی ربوبیت کواس خاک دان گیتی پر عام کرنا تھا، شاید اس لیے ہمیں جنت سے دنیا میں بھیجا۔جیسا کہ خود تو نے ہی اعلان فرمایا ہے کہ “میں نے جن اور انسان کو اس لیے پیدا کیا تاکہ میں پہچانا جائوں”. بیتی ہوئی ان باتوں سے ہمیں کوئی شکوہ و شکایت نہیں ہے، لیکن بچپن سے جو میں سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کہ تو بڑا کریم ہے،رحم کرنے والا ہے، تو بڑا انصاف کرنے والا ہے اورہر وقت مظلوموں کے ساتھ ہے۔ میں کسی مولانا، مفتی، قاضی ، فقیہ یا محقق سے پوچھنے کے بجائے خود تجھ سے ہی سوال کرتاہوں۔ کہاں ہے تیری کریمی اور رحیمی ، کہاں ہے تیرا انصاف اور کہاں ہے تیرا مظلوموں کا ساتھ۔ فلسطین کی گلی گلی میں بہائے گئے ناحق خون کی ایک ایک بوند تجھ سے سسک سسک کر رحم و کرم کی بھیک مانگ رہی ہے۔یہاں کی درو دیواریں اپنے حق و انصاف پانے کے لیے تیری بارگاہ میں فریاد کْناں ہیں۔ مظلوموں کی آہ وفغاں تیری رحیمی اور کریمی کی طرف امیدوآس لگاکر بیٹھی ہیں،یہ تیرے مظلوم بندے اپنے اپنے بچوں، احباب اوردیگر مسلمانوں کی لاشوں پر جنازہ پڑھ کران کو سپرد خاک کرتے جارہے ہیں۔ تو مجھ سے ہی وعدہ وفاکرنے کے لیے کہو! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے بندوں میں صرف مسلمان ہی تیرا نافرمان ہے؟کیا تیری زمین پر مسلمان ہی اس لائق ہے ،کہ ظلم وستم کا پہاڑ اس پر توڑا جائے۔ میں نے مانا کہ تیرے بوڑھے اورجوان بندے نافرمان ہیں مگر شام وفلسطین کے یہ معصوم بچے کیا تیرے حکم کی پاسداری کے بندھن کو توڑرہے ہیں؟۔ ارے! وہ توڑ کیسے سکتے ہیں، جن پر ابھی شریعت کا حکم نافذ ہی نہ ہوا ہو، پھربھی انھیں اتنی کڑی سزا مل رہی ہے۔ اگر ایسے وقت میں بھی تیری رحمت جوش میں نہ آئے تو پھرکب آئے گی۔ لگتا ہے مجھے مجبور ہوکر یہ کہنا پڑے گا:
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
آہ! 21سالہ ‘‘رزان النجار’’جو زخمی فلسطینیوں کی مسیحاتھی، اسے بھی تیرے بے رحم بندوں نے رمضان المبارک جیسے امن و سکون اور رحمت وبرکت کے ایام میں اسنائپر(Sniper) کے ذریعے اس وقت شہید کردیا جب وہ فلسطینی زخمی مظاہرین کی علاج میں مشغول تھی۔ 70سال سے فلسطینی بیت المقدس’ کی آزادی کے لیے قربانیاں پیش کرتے آرہے ہیں۔ آخر تو کب تک ان سے اپنی محبت کا امتحان لیتا رہے گا۔
میں تو انسان ہوں،مجھے بچوں کابلکنا دیکھانہیں جاتا۔ کتابوں میں ہے کہ تو بندوں سے اس کے ماں باپ سے زیادہ پیار کرتا ہے اور تیرا فرمان بھی ہے کہ تو اپنے بندوں سے ان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ تیرے ظالم بندے اپنے ظلم کی ہوس کو مٹانے کے لیے حیا کی ساری حدود کو پار کرکے ستم ڈھارہے ہیں۔ یہ کتنا دردناک لمحہ ہے کہ خود ظلم بھی ان سے پناہ چاہتاہے۔ کیا دنیا میں مسلمان صرف اس لیے رہ گئے ہیں کہ ترے ظالم بندے ان کے خون سے کھیلا کریں۔ شام و فلسطین کے بچوں کی ایک آہ سے زمین و آسمان سہم جاتا ہے۔ راتوں کی نیندیں بچوں کی کراہتی اور دردبھری آواز سے اْڑ جاتی ہیں۔ بیت المقدس کی دیواریں خون کی وجہ سے اپنی ہیئت بدل چکی ہیں۔ افسوس! تیرے بندے، شاعر مشرق علامہ اقبال نے نہ جانے یہ کیسے کہہ دیا   ع
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
اقبال!عروج سے اب نہیں بلکہ “زوالِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں”کیا یہی عروجِ آدم خاکی ہے کہ شام ، فلسطین اور میانمارکے ضیف العمر مسلمان، بچے، جوان سب ایک ایک بوند پانی کے لیے ترس جائیں؟اقبال!اب تیرا یہ مصرع اولاد آدم کے حق میں بجا نہیں ہے۔ اسے اب مجھے پڑھ کر نہ سنائو۔ عروجِ آدم خاکی ! یہ ان دنوں کی بات ہیں جب اولاد آدم امن وامان کے زندگی گزار کر کسی نے جعفربن کر علمِ کیمیائی میں مہارت حاصل کی ، توکسی نے ابوالقاسم بن کر ہوائی جہاز کی پرواز کو شرمندہ تعبیر کیا۔کہاں اب عروج کے وہ نام ونشاں  ابن یونس، محمدموسیٰ،ابوعباس احمد الفرغانی،ابن یونس، البطانی ،البیرونی، خیام،ابن سینا، ابن رشد، ابن الہیثم، ابوبکر رازی،غزالی جیسی شخصیتیں روئے زمین پر مل جائیں،ممکن نہیں۔قوم مسلم پر غضب کا ظلم ڈھایا دین کے ان ٹھیکیداروں نے، جنھوں نے دنیاوی علوم کو دین کے علوم سے الگ کرکے دیکھنے کا نظریہ پیش کردیا۔ اب کہاں ہمارے پاس وہ علم و حکمت کی دولت اب کہاں وہ چیزجس سے دنیا والے ہمارے ہنرکا لوہامانیں۔اب کہاں صدیق کی صداقت، عمر کی عدالت،عثمان کی سخاوت، علی کی شجاعت،خالد بن ولید کی جواں مردی، قاسم کی بہادری، صلاح الدین کی اولو العزمی اوروہ رنگ و روپ جس کی وجہ سے ہم کہہ سکیں کہ ’’عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں‘‘۔ اب تو صرف توحیدی بندے اس دنیا میں بم و بارود کے نوالے بن رہے ہیں۔
اے خدا!یہ بندئہ مجبور تیری بارگاہ میں یہی التجا کررہا ہے کہ تو فلسطین وشام کے بچوں کی تڑپ کی لاج رکھ لے! ان بچھڑے پھولوں کی جو گلی گلی کی ٹھوکریں کھارہے ہیں!اس بے سہارے باپ کی پکار سن لے جس نے اپنی اولاد کو پال پوس کر جوان کیا، تاکہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے، مگر آج بڑی آسانی سے وہ ان سے رخصت ہوگیا۔ان پیاسے حلقوں کی جو کئی کئی دنوں سے تر ہونے کے لیے آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر ایک بوند پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ راہ بھٹک بھٹک کر ریگستانوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ ان بوڑھی مائوں کی آنچل کا واسطہ جن کے قدم کے نیچے تونے جنت بتایا ہے۔ ان  مجاہدین کا واسطہ، جنھوں نے فلسطین و شام کو فتح کرکے تیرے نام لیوا بندوں سے بھر دیا۔ ان پھول جیسے چہروں کی جو ماں کی گود میں ہی دم توڑ رہے ہیں۔ معصوم بچیوں کی جو مشکل حالات میں بھی تجھے نہیں بھولے۔ایک شامی بچی جو اس مشکل حالات میں بھی تیری بارگاہ میں کچھ شکوہ و شکایت نہیں کرتی بلکہ تیرے بندوں کی ہی غیرت کو جگانے کی کوشش رہی ہے۔وہ درد بھری آواز اور مظلوم لہجے میں کہتی ہے :
’’ہم کچھ کھانا چاہتے ہیں، برائے کرم ہمیں بچائیے اس مصیبت سے۔ ہردن یہاں گولے باری ہوتی ہے۔ یہاں ہم لوگ زمین کے اندر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ہمیں باہر آنے میں ڈرلگتاہے۔ زندگی کی یہ کون سی قسمیں ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس پینے کا پانی تک نہیں ہے۔ ہم لوگ زمین پر سوتے ہیں، چوٹیں آتی ہیں۔ ہم لوگوں کے پاس کمبل تک نہیں ہے۔ اگر ہم لوگ ایک تکیہ بھی لینا چاہیں تو بم کی زد میں آجائیں گے۔ کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ یہاں کیا ہورہا ہے۔ یہاں صرف بچے بھوک سے مرتے ہیں۔ آپ ہمارے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اے لوگو! ہم لوگ صرف آپ سے امن و امان مانگتے ہیں۔ کوئی بھی عرب ملک ہم لوگوں کی حفاظت نہیں کرتا۔ کیوں؟ رشیااجازت دیتا ہے سیریا کو بم باری کی۔ تمام قومیں ہمیں چھوڑچکی ہیں سوائے اللہ کے۔اللہ تو بیت المقدس اوراپنے مظلوم بندوں کو ظالم قوم سے بچالے۔بیت المقدس کی آزادی کے لیے ہم میں پھر کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا کردے، مسلمان کی جان ومال کی حفاظت فرما!تجھے واسطہ ہے رحمت والے محبوب کا ،کہ فلسطین وشام میں تو امن وامان قائم کردے۔
اے مولائے کریم! ہم تیری رحمتِ جوابی کا انتظار کریں گے!
ایم، اے اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی
7275989646
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular