Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldپروفیسر محمد علی اثرؔ

پروفیسر محمد علی اثرؔ

ڈاکٹر محمد علی اثر سے میری پہلی ملاقات حال ہی میں ان کی رہائش گاہ پر ہوئی ۔ ہو ا یہ کہ ماہنامہ آج کل، شمارہ مئی ۲۰۱۴ ء میں ان کابڑا ہی محققا نہ اور معلوماتی مضمون دکنی نثر کا آغاز وار تقاء نظر سے گزرا ۔ اس مضمون میں نہ صرف دکن سے اردو کے رشتوں کا پتہ ملتا ہے بلکہ دکن سے شمالی ہند کے روابط کا بھی بخوبی انداز ہ ہو جا تا ہے جو دکنی زبان کے ارتقاء کا سبب بنا ۔ اس پر اثر مضمون نے مجھے کچھ اس قدر متاثر کیا کہ میں نے ڈاکٹر اثر کو فون کیا اور ان کے اس مضمون کے بارے میں چند تعریفی کلمات کہے اور ان سے ملنے کی اجازت طلب کی۔
ڈاکٹر اثر نے نہایت ہی انکساری کے ساتھ اپنے گھر کا پتہ بتایا جو کہ میرے حیدرآباد والے گھر سے بہت زیادہ دور نہیں تھا اور چارمینار سے نسبتاً نزدیک واقع ہے۔ ان مخلص کرم فرما کی سادگی سے میںنہایت متاثر ہوا اور ان کی رہائش گاہ کی جانب چل پڑا ۔
ان کی رہائیش گاہ پہنچ کر میں نے انھیں صاحب فراش حالت میں اور نہایت کرب میں مبتلا پایا۔
ان کی سماعت بھی متاثر کن تھی بار بار کا نپتے ہاتھوں سے آلہ سماعت ٹھیک کر کے میری بات سننے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے مجھ سے گفتگوکی۔
اپنی بزرگی اور کرب کو بالائے طاق رکھ کر مجھ سے گفتگو کرتے رہے ۔ ان کے علمی اور ادبی کا رناموں کی قدر و قیمت اس وقت میری نظر وں میں اور بھی بڑھ گئی جب حقیقت سے آگاہی ہوئی۔
دراصل ڈاکٹر اثر ایک عرصہ سے ایک عجیب و غریب عاضے میں مبتلا ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کی شدید تکلیف سے اٹھنے بیٹھنے سے محروم ہیں۔
اس مرض میں جسم کے اعضاء رفتہ رفتہ مفلوج ہونے لگتے ہیں۔ ابھی تک اس مرض کاکوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر اثر کے اس مرض کی شروعات ۱۹۸۲ء سے ہی ہوگئی تھی وہ ۱۹۸۸ء میں علاج کے لئے امریکہ بھی گئے۔ چھ ماہ تک وہاں مختلف ڈاکٹر وں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیںہوا اور مرض بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ آج کروٹ بدلنے تک کی طاقت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایسی ناگہانی بیماری کا یوں شکار ہو کر بے بسی کی تصویر بن جانا نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ لیکن ڈاکٹر اثر بڑے حوصلے کے ساتھ اس کا سامنا کرتے ائے ہیں اور اسی حالت میں انھوں نے اپنی یونیورسٹی کی ملازمت کے فرائض انجام دئے اور مسلسل مطالعہ اور تصنیف و تالیف کا کام جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ نا سازی مزاج اور موذی مرض کی شدت کے باوجود و جہد مسلسل اور اپنی محنت و لگن و علمی اور فکری دیانت کے سبب اردو تحقیق و تنقید کی دنیا میں ڈاکٹر اثرکا بے حد اعتبار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اثر ایک خوبصور ت شخصیت کے مالک ہی نہیں وہ بڑے خوش اطوار بھی ہیں ان سے مل کر ذرا بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ انھوں نے اپنی تحقیق و تنقید اور تدوین سے متعلق انتیس منتخب مضامین و مقالات کا اپنا دسواں مجموعہء بصارت سے بصیرت تک ( جس کی تاریخ اشاعت فروری ۲۰۱۲ ہے) اور اپنا ایک شعری مجموعہء اٹھو اں آسمان ( جس کی سن اشاعت ۲۰۱۳ ہے) اہلیہ ڈاکٹر راحت سلطانہ (جو خود ایک ممتاز مصنفہ اور شاعرہ بھی ہیں ) سے نکلواکر اس پر لکھا بر ادر گرامی پرویز شکوہ کی نذر ، خاکسار محمد علی اثر ، اور مجھے عنایت کیا۔ میں نے ان کے تخلیق کردہ مجموعہء آٹھواں آسمان کے اور اق کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو میری نگاہ ڈاکٹر محمد علی اثر کے مند رجہ ذیل اشعار پر پڑی جو ان کے حالات زندگی کی عکاسی کرتے ہیں اور علم و ادب کی دنیا میں انھیں قا بل رشک مقام پر پہنچاتے ہیں۔
سانس چلے گی جب تک کام تو کرنا ہے
سردی گرمی کیا ہے اثر بیماری کیا
ہے کار ہائے مسلسل یہ زندگی اپنی
قرار ڈھونڈرہے یہاں کہا صاحب
یہ الگ بات کہ پر ہم نہیں رکھتے لیکن
ایک پرواز مسلسل یہ یقین رکھتے ہیں
الجھنیں پائوں کی زنجیر ہیں تو بنتی ہیں مگر
ہم کہاں راہ میں رکنے پہ یقیں رکتھے ہیں
ڈاکٹر اثر کو سال ۲۰۱۲ کے دوران شائع شدہ ان کی تصنیف بصارت سے بصیرت تک ، پر اتر پردیش اردو اکادمی ، لکھنئو سے سند تو صیف اور اکادمی کا پانچ ہزار کا انعام تفویض کیاگیا ہے۔
آٹھواں آسمان ڈاکٹر اثر کا آٹھواں شعری مجموعہ ہے ۔ اس شعری مجمو عہ پر بھی سال ۲۰۱۳ ء کے دوران شائع شدہ ان کی تخلیق کو اتر پردیش اردو کادمی نے سند تو صیف اور اکادمی کا پانچ ہزار روپئے کا انعام تفویض کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد علی اثر ۲۲؍ ڈسمبر ۱۹۴۹ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد حکیم شیخ محبوب اور والدہ غفور النساء بیگم تھیں۔ ان کی شریک حیات ڈاکٹر راحت سلطانہ ہیں۔ ڈاکٹر اثر کو علم و ادب سے غیر معمولی دلچسپی شروع سے رہی ہے ۔ انہوں نے شاعری سے اپنے ادبی سفر کی ابتداء کی اور اثر تخلص کیا۔ طالب علمی کے ہی دور سے ڈاکٹر اثر کی غزلیں اخبارات و غیرہ میں شائع ہونے لگی تھیں۔ مارچ ۱۹۸۰ میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ملاقات ، منظر عام پر آیا۔ یہ مجموعہ غزلوں اورنظموں پر مشتمل تھا۔ ان کا دورسرا شعری مجموعہ حرف نم دیدہ ، ۱۹۹۰ میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر اثر کو ذاتی طور پر جن کر بناک مرحلوں سے گزار نا پڑا اس کا انعکاس ان کی سوچ و فکر میں بڑی حد تک نمایاں ہے۔
انھیں دکنی شاعری سے بھی غیر معمولی دلچسپی رہی ہے ۔ شاعری کے ساتھ ہی ایم ۔ اے (اردو) کے طالب علمی کے دور سے ہی ڈاکٹر اثر کو تحقیق و تنقید اور خصوصی طور پر دکنی ادب کی تحقیق سے دلچسپی پیدا ہوئی۔
بقول مشفق خواجہ مرحوم (کراچی ) : “محمد علی اثر ، تحقیق اور شاعری دونوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو ماضی میں سانس لیتے ہیں۔ شاعری میں وہ جدید ترین دنیا کے شہری ہیں۔ کسی ایک شخص میں ایسا توازن کم ہی دیکھنے میں آتا ہے”۔
دکنی ادب کی تاریخ میں دبستان گولکنڈہ کے ملک الشعرا غواصی کو ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔
غواصی اپنے عہد کا نامور اور شاہ عبد اللہ قطب شاہ کا درباری شاعر تھا۔دکن کایہ عظیم المرتبت شاعر ڈاکٹر اثر کا محبوب سخنور ہے۔ اس لئے طا لب علمی کے زمانے میں ڈاکٹر اثر ۱۹۷۴میں پر وفیسر غلام عمر خان کی زیر نگرانی غواصی پر اپنا ایم .اے کا تحقیقی مقالہ بعنوان غواصی : شخصیت اور فن ، قلم بند کیا جو ۱۹۷۷ میں کتابی شکل میں شائع ہو کر منظر عام پر آیا ۔ اس کتاب میں غواصی کے کلام کے غیر مطبوعہ حصے کی شمو لیت نے کتاب کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ ڈاکٹر اثر کی اس کتاب سے نہ صرف غواصی کی شخصیت اور سیرت کے بعض نئے زاویے پہلی بار،متعارف ہوئے بلکہ اس کے ہم عصر شعراء کے کلام سے تقا بلی مطالعہ کر کے دکنی شاعری میں غواصی کے مقام کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے ، اور غواصی کی مثنویوں ، قصیدوں ، رباعیوں اور غزلوں کا سیر حاصل تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
اثر کی اس کتاب کو آندھراپردیش اردہ اکیڈمی نے انعام سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر اثر نے ۱۹۸۴ میں مخطوطہ شناسی میں پوسٹ ایم .اے ڈپلوما پاس کیا۔ دکنی شعراء وا دیبوں کی تخلیقات مخطو طوں ، کشکو لوں اور قلمی بیا ضوں میں محفوظ ہیں جو مختلف کتب خانوں اور نجی ذخیروں میں بکھرے پڑے ہیں۔ دبستان گولکنڈہ کے ملک الشعر اء ملاغواصی کی غیر مطبوعہ غزلوں کی باز یافت ڈاکٹر اثر کا اہم کار نامہ ہے۔
دکنی غزل کی نشو نما کے موضوع پر ڈاکٹر اثر نے پروفیسر غلام عمر خان کی وزیر نگرانی اپنا پی ایچ ڈی کا مقا لہ لکھاتھا۔ جو ۱۹۸۶ میں منظر عام پر آیا۔
ان کی یہ کتاب تحقیقی اور تنقیدی دونوں اعتبار سے بلند پا یہ ہے وہ دکنیات میں ایک ایسا اضافہ ہے جو آئندہ محققین کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ان کے تحقیقی مقالات کا ایک اور مجموعہ دکنی شاعری تحقیق و تنقید مزید دریافتوں کے ساتھ ۱۹۸۷ میں منظر عام پر آیا ۔ جس میں بعض اہم اور غیر مطبوعہ متون بھی پہلی بار سا منے آئے۔ ڈاکٹر اثر کے تحقیقی کا رناموں میں ان کی مخطوطہ شناسی خاص طور سے اہمیت کی حامل ہے۔وہ صف اول ،مخطوطہ شناس ہیں۔ اور اپنی اعلی تحقیقی کا وشوں سے اردو زبان و ادب کے نا معلوم گوشوں کے انکشافات میں مصروف ہیں۔ بقول پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی (بھاگل پور ):
“پروفیسر محمد علی بنیاد ی طور پر محقق ہیں۔ دکنی سرمائے کے دیمک زدہ گوشوں کو سائنٹفک طریقے سے تحقیق و مطالعہ کا حصہ بنانے کا ہنرانھیں آتا ہے۔ ان کی جستجو زدہ طبیعت اور دور بین نگاہی کی داد دینی پڑتی ہے”۔
ڈاکٹر اثر بے شمار صلاحیتون کے مالک ہیں ۔ درس و تدریس ان کی زندگی کا اہم حصہ رہے ہیں اور ان کی تحقیقی و تنقیدی خدمات کے علاوہ انھیں تدریسی خدمات کے اعترا ف میں مختلف اردو اکیڈمیوں کی طرف سے متعدد انعامات سے نواز ا جا چکا ہے۔ اور عالمی اداروں کی جانب سے بھی گولڈ میڈلس اور اسنادمل چکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد علی اثر جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد سے طویل عرصے تک منسلک رہے ہیں۔ انھوں نے جامعہ عثمانیہ کے شعبئہ اردو میں درس و تدریس کی خدمات کا آ غاز بہ حیثیت یو جی سی فیلو جز و قتی لکچر ر ۱۹۷۵ میں کیا تھا۔
اس کے ساتھ مخطوطہ شناسی کے طلباء کو وہ ایک عرصے تک سالار جنگ میوزیم میں پڑھا تے رہے۔ ۱۹۸۷ میں ڈاکٹر اثر کا انتخاب جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد کے شعبہ اردو میں معاون پروفیسر کے حیثیت سے ہوا اور پھر ۱۹۹۸ میں وہ پروفیسر کی عہد ے پر منتخب ہوئے۔
ناسازی صحت کے باوجود ڈاکٹر اثر نے شعبئہ اردو ، جامعہ عثمانیہ میں سبکدوش ہونے کے بعد بھی جنوری ۲۰۰۰ء سے جولائی ۲۰۰۰ تک بطور مہمان پروفیسر بھی اپنی تدریسی خدمات بحسن و خوبی انجام دیں۔ خرابی صحت کے باوجود آج بھی ڈاکٹر اثر تخلیقی ، تحقیقی تنقیدی اور تدوینی کاموں میں شب وروز عرق ریزی اور تلاش جستجو کے ساتھ اپنی نئی دریافتوں کے کارنامے انجام دے کر اردو کے شعری اور نثری سرمایہ میں مسلسل اضانہ کر رہے ہیں۔
دکنی ادب کی تاریخ پر ان کی نظر بہت گہری ہے۔ ان کی تحقیقی کارناموں نے کچھ ایسا منفرد رنگ جمایا ہے کہ ان کا شمار پرصغیر ہند و پاک کے سرکردہ ماہرین دکنیات میں ہوتاہے۔
پروفیسر محمد علی اثر کی تقریباً ۶۲کتابیں شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں میں غواصی ، شخصیت اور فن ، ملاقات ، شمع جلتی رہے، دکنی اور دکنیات ، دکن کی تین مثنویاں ، دکنی شاعری : تحقیق اور تنقید ، دکنی غزل کی نشوونما، تحقیقی نقوش، مقالات اثر ، دیوان عبداللہ قطب شاہ ، محی الدین قادری زور، دکنی غزلوں کا انتخاب ، بصارت سے بصیرت تک، اور آٹھواں آسبان ، خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
پروفیسر اثر کی ایک غیر مطبوعہ تصنیف اشراقِ ادبیات دکن ہے۔ یہ کتاب بھی ان کے تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ عنوان کی مناسبت سے اس کے سارے مضامیں دکنیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یقین ہے ان کی یہ تصنیف بھی جلد شائع ہوکر منظر عام پر آئے گی اور علمی اور ادبی حلقوں کو روشن کرے گی۔
پرویز شکوہ
موبائل 9963041959

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular