مبصّر : مہتاب منیر(قلمی نام)

مصنف : اشرف عادل
منیر احمد شاہ:(اصل نام)
(متعلم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر)
فون: 9797795787
اشرف عادل اُردو ادب کی دنیا میں ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے اردو ادب کے مختلف شعبوں میں اپنے کارناموں سے اضافے کیے ۔ اردو شاعری ان کا خاص میدان ہے ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے اچھے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ” لذت گریہ”منظر عام پر آ چکا ہے ۔اس کے علاوہ “چاند کا ہم شکل”جو کہ ریڈیو ٹی وی ڈراموں پر مشتمل مجموعہ ہے اور ایک طویل ریڈیو ڈراما “تمثیل داغ” بھی شائع ہو چکے ہیں۔
”چاند کا ہم شکل“ فی الواقع اس قابل ہے کہ اردو ادب بالخصوص اردو ڈراما سے دلچسپی رکھنے والا ہر صاحبِ ذوق اس کا مطالعہ کرے۔ میرے سامنے اشرف عادل کی نئی کتاب ”چاند کا ہم شکل“ کی سنہری تحریریں آنکھوں کی دوش پر سوار ہو کر دل و دماغ تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ اس کتاب کا نام ہی اس کے اندر موجود تحریروں کا ترجمان اور عکاس ہے۔ یہ کتاب حقیقت میں کچھ عالمی مسائل جیسے خود غرضی، لالچ ، بے روزگاری، بھوک ، ایڈز وغیرہ کی ترجمانی کر رہی ہے۔ آٹھ ڈراموں پر مشتمل اس مجموعے کو مصنف نے دو حصوں میں منقسم کیا ہے۔ پہلے باب میں چار ریڈیو ڈرامے اور دوسرے باب میں چار ٹی وی ڈرامے شامل ہیں ۔ ”قاتل لمحے“، ”آستین کا سانپ“، ”زندگی کے آس پاس“، ”لہو رنگ تصویر“ ان کے کمال کے لکھے گئے ڈراموں میں سے چند کے عنوانات ہیں۔ اشرف عادل کی یہ کتاب معاشرے کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے بہترین ہے ۔اختصار،حقیقت،فصاحت سبھی کچھ اس طرح روانی سے اس میں ضم ہے کہ کچھ بھی ٹھونسا ہوا محسوس نہیں ہوا ۔
اشرف عادل نے کتاب ”چاند کا ہم شکل“ میں پہلا ریڈیو ڈراما ”چاند کا ہم شکل“ کے نام سے ہی تحریر کیا ہے ۔ جس میں یہ دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ کس طرح ایک انسان بنی نوع انسان کی خدمت کر کے ہی سکون اور اطمینانِ قلب حاص کرتا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ”میں ایک حقیر انسان ہوں۔۔۔۔۔ میں زندگی کو حسن و جمال کی گہراٸیوں میں تلاش کر رہا تھا لیکن آج مجھے پتہ چلا کہ زندگی کا ٹھکانہ کہاں ہے۔ سکونِ قلب کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج میرے اندر کا فنکار جاگ اٹھا۔ اب میرے فن پاروں کا موضوع حسین چہرے نہیں ہوں گے بلکہ بے رونق صورتیں ہوں گی“۔
”قاتل لمحے“ اس مجموعے کا ایک اہم ڈراما ہے جس میں لاعلاج بیماری”ایڈز“ کا بیان ہے اور کس طرح ہم اپنی لاپرواہی سے اس بیماری کے شکار ہو جاتے ہیں۔ ”آستین کا سانپ“ سماجی موضوع پر مصنف کا لکھا ہوا ایک جاسوسی ریڈیو ڈرامہ ہے جس میں داماد اپنے سسر کی دولت ہڑپ کرنے کے لیے اسے طرح طرح سے تنگ کرتا ہے لیکن آخر پر اس کی سازش کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل ایک اور ڈراما ”لہو رنگ تصویر“ جو ایک ٹی وی ڈرامہ ہے میں اشرف عادل نے یہ دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ کس طرح خود غرض اور لالچی لوگ انعام حاصل کرنے کے لیے فنکار ہونے کا ڈھونگ رچا کر اصل فنکار کی صلاحیتوں کا خون کرتے ہیں۔ اسی طرح ”زندگی کے آس پاس“، ”زہر اب“ سماجی مساٸل پر لکھے ہوۓ ڈرامے ہیں۔ ان میں ان تمام مساٸل کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے جو مصنف کی دسترس میں آۓ ہیں۔
اشرف عادل کے ڈراموں کا یہ مجموعہ”چاند کا ہم شکل“ خوبصورت موضوعات اور فنی وتکنیکی خوبیوں سے پُر ہے۔ مکالمے مختصر،زبان آسان و اہم فہم، دلکش منظر نگاری، کرداروں کی کم تعداد ہونے کے باوجود کردار نگاری کا پورا لحاظ رکھتے ہوۓ عمل کی حرکت موجود ہے۔ غرض سبھی چیزیں قاری کو متاثر کیے بغیر نہٕں رہتی ہیں۔ اس اعتبار سے فنِ ڈراما میں جو کمالات مصنف نے دکھاٸے ہیں وہ قابل داد ہیں۔ ڈراما اگر آغاز میں سامعین یا قارٸین کی دلچسپی کا باعث نہ ہو تو ظاہر ہے کہ اس کی کامیابی کی آٸندہ توقع کرنا دشوار ہے اس لیے ابتدا جازب توجہ ہو جس میں مصنف اشرف عادل واقعی کامیاب ہوا ہے۔انہوں نے پر کیف با وقار اور دلچسپ اسلوب سے ہر ایک ڈرامہ کی ابتدا کی ہے اور حسن خوبی کے ساتھ سر انجام پاۓ ہیں جس سے ہم محظوظ ہوۓ بغیر نہیں رہتے





