ڈاکٹر منتظر قائمی

تجھے نفرت، تعصّب، رنجشوں نے
اتنی بے دردی سے مارا ہے
قبائے تن لہو سے تر بہ تر کردی
سجا ڈالے تیرے پیراہنِ جاں پر
کئی چھوٹے بڑے زخموں کے گلُ بوٹے
تیرے خوں کی ڈری ۔سہمی شفق کو
صبحِ فردا کو نیا عنواں بنا کر
قتل اور غارت گری کا اک نیا فرمان لکھا ہے
تیری قربانیوں کا رنگ اڑنے سے بہت پہلے
تمھارے باپ نے رسمِ حسینیت بجا لاتے ہوئے
ارزانیِ جاں کے عوض امن و اماں چاہا
وہ اپنے نوجواں بیٹے کے لاشے پر کھڑا
شعلہ بہ داماںشہر سے
امن و اماں کی التجا کرتا رہا
اسے معلوم تھا کہ
اس کی آنکھوں کی کوئی ہلکی نمی بھی
خوںکا اک سیلاب لا دے گی
جگر گوشے کو کھو کرہاتھ پھیلائے
وہ قاتل کو دعائیں دے رہا تھا
کہیں پر صبر ایوبی، کہیں صبرحسینی
چاند کے مانند اس کے دل میں روشن تھے
جواں بیٹے کے غم میں ماں پچھاڑیں کھا رہی ہے
کبھی دہلیز پر اک ٹکٹکی باندھے
کبھی سوتے ہوئے اٹھ کر اچانک
جاکے اپنے لال کے بے خواب کمرے میں
ہر اک شے کو مثال زلف بکھراتی چلی جاتی ہے
پھر بکھری ہوئی شے کو نئی ترتیب دیتی ہے
اسے اب بھی یقیں ہے
صبح کا بھولا ہوا اک شام آئے گا۔
نئے ہندوستاں کے خواب گر ناراض ہیں تیری جسارت سے
صدرشعبہء اردو، فخرالدین علی احمد پی جی کالج
محمودآباد، سیتا پور





