
لکھنؤ ۔۱۴،مارچ :میرے علم کے مطابق غیر افسانوی ادب کی ایک اہم شاخ خود نوشت سے متعلق یہ پہلا سمینار ہے جو مولاناآزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں منعقد ہوا ۔اس میں چالیس سے زائد مقالات پڑھے گئے ۔ان مقالات میں بہت تنوع تھا ان کے ذریعہ سے نہ صرف بلکہ اساتذہ کی معلومات میں بھی بہت اضافہ ہوا ۔ان خیالات کا اظہارمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ’’خود نوشت فن اور روایت ‘‘کے موضوع پر دوروزہ قومی سمینار کے اختتامی اجلاس میں مجلس صدارت کے ایک رکن اور ممتاز ادیب و محقق پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے کیا ۔انھوں نے کہا کہ کے یہ بات خوش آیند ہے کہ نوجوان رسرچ اسکالرز نے مختلف زبانوں کی مختلف خود نوشتوں سے متعلق گراں قدر مقالے تیار کیے اور انھوںنے سمینار میں بہتر انداز میں پیش بھی کیا ۔اس موقع پرپروفیسر خالد محمود نے کہا کہ یہ ایک خوش ایند تجربہ رہا جہاں نئے لکھنے والوں نے بہت متاثر کیا ۔یہاں آکر احساس ہوا کہ اردو کا مستقل روشن اور تابناک ہے ۔اس موقع پر سمینار کی ایک نشست صرف انگریزی مقالات سے متعلق رہی ۔جس میں ان خود نوشت کا مطالعہ کیا گیا جو خواتین سے متعلق تھیں اور ان لوگوں کا جو سماج میں دبے کچلی ہوئی تھیں ۔
سمینار کے اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے رپورٹ پیش کی جبکہ ڈاکٹر نور فاطمہ نے شکریے کے کلمات ادا کیے ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا ۔کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے ایک علمی ڈکسورس کی کوشش کی ہے ۔ہماری کوشش ہوگی کہ ایک باوقار علمی فضا قائم ہو تاکہ تعلیمی ماحول کو بہتر انداز میں فروغ دیا جاسکے ۔
آج صبح کا اجلاس پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں پروفیسر خالد محمود ،ڈاکٹر ندیم احمد،ڈاکٹر شمس کمال انجم ،ڈاکٹر عائشہ قدسی ،ڈاکٹر سرفراز احمد نے مقالے پڑھے
چوتھے اجلاس کی صدارت پروفیسر رجنیش اروڑا نے فرمائی۔اس اجلاس میں ڈاکٹر نرسمھا راؤ،،ڈاکٹر رشمی اتری ،ڈاکٹر شوبی عابدی ،ڈاکٹر جبیں فاطمہ،ڈاکٹر ہما یعقوب،ڈاکٹر صدف فرید ۔
آخری اجلاس میں ڈاکٹر عرفات ظفر ،ڈاکٹرقمر اقبال ،ڈاکٹر محمد ادریس ،ڈاکٹر ثمامہ فیصل،ڈاکٹر سعید بن مخاشن ،ڈاکٹر ذیشان حیدرنے مقالہ پڑھا ۔سمینار میں کیمپس کے رسرچ اسکالرز سکینہ ایوب،شائستہ پروین،مبین الحق ،انور الحق،کلب عباس،فیروز علی ،شاہد رضا ،ثنائلہ غفران ،مریم پروین ،سجاد احمد،شاہد حبیب،اطہر حسین،موسی رضا اور محمد ارشد ،آیوش گور نے مقالے پڑھے ۔
اس موقع پر ہارون رشید،ریشما پروین،وسیم حیدر،ڈاکٹر محمد اکمل شاداب،پروفیسر عمر کمال الدین
وغیرہ موجود تھے





