Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldانسانیت امن محبتوں کا سفیر فیض احمد فیض

انسانیت امن محبتوں کا سفیر فیض احمد فیض

آفتاب احمد

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
نقش فریادی، د ست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینا، میرے دل میرے مسافرسمیت درجنوں نادر و نایاب شعری مجموعوں اور تصنیفات کے مصنف فیض احمد فیض تیرا جنوری انیس سو گیارہ کو شاعر مشرق علامہ اقبال کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔
فیض احمد فیض بیسویں صدی کے اُن خوش قسمت شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنی زندگی میں بے پناہ شہرت و مقبولیت اور عظمت ملی ، انہوں نے دارورسن کا مزہ بھی چکھا اور کوچہ یار کی رنگینیوں اور دلکشیوں سے بھی لطف اندوز ہوئے۔
فیض شاعری میں ایک نئی روایت کے علمبردار وترقی پسند تحریک کے بانیوں میں سے ہیں مگر ان کے ہاں دیگر ترقی پسندوں کی طرح تلخی نہیں ہے۔ انہوں نے مروجہ الفاظ کو نہایت فنکارانہ انداز میں معنی عطا کیے اور غزل کی معروف روایات کو اپنے نصب العین کے مفاہیم کے ساتھ بیان کیا۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیض ترقی پسندوں کے پیر تصور کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے نہایت خلوص اور فنکاری کے ساتھ اور اپنے نظریات اور رجحانات کو شعر میں ادا کیا۔ ترقی پسندی شعرو ادب میں ایک نئی روایت ہے کہ جسے انہوں نے خوبی کے ساتھ اپنایا ، انہوں نے مزدور ، محنت کش، کسان اور دوسرے طبقات کے دکھ درد کی سچی ترجمانی کی۔ فیض کا فنکارانہ کمال یہ ہے کہ انہوں نے مروجہ شعری ڈھانچے سے فکرو خیال کی نئی عمارت کھڑی کی۔
کلام ملاحظہ ہو
اے خاک نشینوں اُٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اُچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں ، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
اب گرانی شب میں کوئی کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں علامہ اقبال ،جوش ملیح آبادی کے بعد جو نام اُبھر کر سامنے آئے اُن میں نمایاں ترین نام فیض احمد فیض صاحب کا ہے
سن تیس کے عشرے میں شروع ہونے والی اُن کی شاعری سن اسّی کی دہائی تک جاری رہی اور یوں اُن کے کلام نے نصف صدی کا عرصہ اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔۔۔ اور یہ کوئی معمولی عرصہ نہ تھا بلکہ حادثات، سانحات اور انقلابات کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کی مثال تاریخِ عالم میں دکھائی نہیں دیتی۔فیض کی شاعری میں جمال، محبت، ہجر، وفا، کے ساتھ ساتھ معاشرتی نشیب و فراز کے گہرے اثرات اور مظالم کے خلاف انقلاب کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔
غزل کا مزاج عموماًعاشقانہ ہے جس میں درد و غم اور سوزو گداز اسکی بنیادی صفات ہیں ۔ فیض کی غزل ایک منفرد روایت کی حامل ہے۔ فیض نے اپنے آئیڈیل سماجی انصاف کو اپنا محبوب بنایا ہے۔ اس طرح فیض نے غزل کی معروف روایات کو معاشرتی اور سماجی انصاف سے ہم آہنگ کر کے پیش کیا ہے۔ اور یہی فیض کا شاعرانہ آرٹ ہے۔
کلام ملاحظہ ہو
ہم نے جو طرز ِ فغاں کی ہے چمن میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روزِ قیامتیں کہ خیال روزِ جزا گیا
روزِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
فیض تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
اپنے نادر الفاظ کو محبت کے موتیوں میں پرودینے والے فیض احمد فیض کو مرزا غالب ،اقبال ،جوش ملیح آبادی کے بعد اُردو کا عظیم شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری دنیا بھر میں انتہائی زوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے ان کی ہردلعزیزی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ ان کے ادبی مجموعوں کا انگلش ، فارسی، روسی ، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
فیض کا نام ان تخلیق کاروں میں سرِفہرست ہے جنھوں نے اپنی تخلیقات کی بنیاد ترقی پسند تحریک کے عطا کردہ سیاسی شعور پر رکھی اور دوسری طرف ان فنی اور جمالیاتی تقاضوں سے بھی عہدہ برآ ہوئے جو اعلیٰ ادبی تخلیقات کی اساس ہیں۔ فیض ان ترقی پسند شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اس نظریے کی ترویج میں قابلِ تحسین کردار ادا کیا ہے اور اس کردار کو نبھانے کے لیے جس سیاسی و ادبی شعور کی ضرورت تھی فیض کے پاس وہ موجود تھا۔ آزادیِ فکر، آزادیِ اظہار، احترامِ آدمیت اور انسانی اقدار کی بحالی اور پاسداری، یہ وہ عناصر ہیں جو فیض کی آواز کو ایک مخصوص نظریے ہی کی نہیں بلکہ ایک عہد کی توانا آواز بناتے ہیں۔
فیض جبرواستحصال کے دشمن تھے۔ عدل و انصاف کے داعی تھے۔ عوام کو انسانی قوتوں کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ وہ عوام جن سے قوموں کی کھیتیاں سرسبزوشاداب ہو جاتی ہیں۔ صنعت و حرفت پھلنے پھولنے لگتی ہے اور زندگی کے چشمے ابلنے لگتے ہیں۔ ان کی شاعری عوام کی اسی قوت کی ترجمان ہے۔
اور یہی وہ عناصر ہیں جو ترقی پسندانہ سیاست کی بنیاد ہیں۔ فیض کا ترقی پسند تحریک کے منشور سے نہ صرف قلب و جاں کا تعلق تھا بلکہ وہ اس کے بنیاد گزاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی سطح پر انسانی آزادی کے خواہاں تھے بلکہ آزادی کے اس عالمگیر احساس کی آواز تھے جو اس زمانے میں استعماری قوتوں کے خلاف واضح انداز میں پیدا ہو رہا تھا۔
فیض کی شاعری کا آغاز رومانوی تحریک کے دور سے ہوتا ہے اس لیے دیگر ترقی پسند شاعروں کی طرح ان کی ابتدائی شاعری میں بھی رومانوی لب و لہجہ غالب ہے۔ لیکن یہ رومانویت فیض کے مزاج کا حصہ ہے اور تا دمِ آخر ان کی شاعری میں موجود رہتی ہے۔ فیض کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اس رومانویت کو بھی سیاسی پس منظر کے ساتھ جوڑ کر اس کو اپنے شعری تفکر کا حصہ بنایا ہے۔ نتیجتاً ان کی رومانویت ان کے سیاسی فکر سے الگ نہیں رہتی۔
فیض نے شاعری کی ابتداء غزل سے کی لیکن آہستہ آہستہ نظم کی طرف متوجہ ہوتے گئے فیض کو دونوں اصناف پر قدرت حاصل ہے ۔
مجموعی طور پر فیض کے کلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے دور کو ہم رومانی کہہ سکتے ہیں اس دور کی نظموں میں فیض نے خیالی دنیا بسائی ہے جس میں وہ غم دوراں کی تلخیوں سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
کلام ملاحظہ ہو
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تُو ہے تو ،درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
فیض کے ہاں انقلاب آفریں رومانویت پائی جاتی ہے فیض کے ہاں آدرش پایا جاتا ہے اور یہ آدرش وہ معاشرے میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسکے حسن کے گیت گاتے ہیں۔
کلام ملاحظہ ہو
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب تھے غم روزگار کے
بُجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اٹھے سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رُخ پر بکھر گئی ہوگی
فیض احمد فیض براعظم ایشیاء کے وہ واحد شاعر ہیں جنہیں روس کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے فیض احمد فیض کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کر نا پڑی ، انیس سو اکیاون میں آپ کو مشہور زمانہ راولپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزمام میں گرفتار کیا گیا۔فیض کی قید کا زمانہ ان کی شاعری میں ایک نیا نکھار لے کر آیا۔
فیض کے ہاں علامتوں کے مفاہم کی تلاش پیچیدہ نہیں اسی لئے وہ عام قاری کے فہم سے قریب ہیں۔ انہوں نے ظلمت اور سحر جیسی علامتیں اپنے اظہار کے لئے اختیار کی ہیں۔ جن کا مفہوم قدیم جبر کا نظام اور جدید امن دوستی اور انسان دوستی کا نظام ہے۔
کلام ملاحظہ ہو
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وہ سَحَر تو نہیں
یہ سحر وہ تو نہیں ،جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
اردو ادب کے بہت سے ناقدین کے نزدیک فیض احمد فیض ،غالب ،جوش ملیح آبادی اور علامہ اقبال کے بعد اُردو کے سب سے بڑے شاعر تھے ۔۔ میر غالب اور جوش ملیح آبادی کے بعد جو دادوتحسین اور مقبولیت ان کے حصے میں آئی وہ شاید ہی کسی کےنصیب میں آئی ہو ۔ فیض ایک لازوال شاعر ہی نہیں بلکہ ان کی نثر بھی باکمال اور منفرد اسلوب کی حامل ہے۔
فیض کی شاعری میں جمالیاتی پہلو بہت نمایاں ہے ان کی بحریں مترنم الفاظ سبک شیریں اور شعری تمثلیں رنگین اور حسین ہیں ۔ ان کے ہاں ایک خواب ناک فضا ملتی ہے۔
اُن کا آنچل ہے کہ رُخسار کا پیرہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں
فیض شاعری کے جدید اصولوں اور انداز سے واقفیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ جدید شاعری میں لفظی پیکر تراشی اور افکار کی تجسیم ایک اہم رجحان ہے۔ اُردو شاعری میں اس خصوصیت کے خوبصورت نمونے فیض کی شاعری میں ملتے ہیں۔
فیض احمد فیض اس لحاظ سے بھی انتہائی خوش نصیب شاعر ہیں کہ ان کے پرستاروں اور مداحوں کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔ فیض احمد فیض 20نومبر 1984ء کو 73برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
مختصر یہ کہ فیض کی شاعری جوان جذبوں کی شاعری ہے ۔ یہ جذبہ خواہ وہ انقلاب سے تعلق رکھتا ہو یا محبت سے۔ فیض کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے انقلابی آہنگ پر جمالیاتی احساس کو، جمالیاتی احساس پر انقلابی آہنگ کو قربان نہیں کیا۔ بلکہ ان دونوں کی آمیزش سے ایک نیا شعری رچاؤ پیدا کیا، ان کی شاعری میں جو دلاویزی، دل آسانی، نرمی اور قوت شفا ہے ۔ وہ اس عہد کے کسی دوسرےشاعر کے ہاں نہیں ملتی ہے۔
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤںمیں چلے چپکے سے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular