9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

ایچ ۔ایم۔یٰسین
پیارے بچّو! اللہ میاں نے اپنی قدرت کا ایسی ایسی چیزیں بناکر مظاہرہ کیا ہے کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پہاڑ، دریا، آسمان، زمین تو بہت بڑی تخلیق ہیں اور انکی موجودگی اور فائدے دیکھ کر اللہ کے نیک بندے خدا کی ذات میں فکر کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ اسکی بنائی بہت چھوٹی چھوٹی جاندار مخلوق جیسے بھنگے، کھٹمل، پسّو، ٹڈّی، گھن، جھینگے، شرمپ، ننھے کوکروچ، مکڑی، مکھی، مچھر، پروانے وغیرہ دیکھتے ہیں تو کیا آپ سوچتے نہیں کہ بھلا انسانوں یا دیگر چرند و پرند کی طرح اللہ میاں نے ان کے اندر بھی زندگی بخشنے اور جسم میں بہنے والا مادہ (خون) بنایا ہے اور پھر اسکے بہانے کے لئے کتنی مہین مہین نسیں بنائی ہیں اور ان کے اندر بھی سانس لینے ، سوچنے اور دیگر داخل و خارج کا سسٹم، نظام ہضم، پھیپڑے، دماغ، جگر، معدہ سب کچھ ہی رکھا ہوگا اور وہ کتنا ننھا ننھا ذروں کی طرح کا ہوتا ہوگا۔
خدا کی قدرت کا نظارہ چاند، سورج، ستارے، ہوا، پانی یہ سب دیکھ کر تو ہوتا ہی ہے اور خیال آتا ہے کہ دنیا میں زندگی کیلئے اللہ میاں کا کتنا بڑا احسان اسکی مخلوق پر ہے۔ لیکن یہ حیرانی اور تجسس اسوقت بہت بڑھ جاتا ہے جب انسان سمندر کی تہہ میں بسی ہوئی آباد دنیا کو دیکھتا ہے۔ ہزارہا قسم کی نباتات اور زندہ جاوید چیزیں، طرح طرح کی مچھلیاں، آکٹوپس، دریائی گھوڑے، شرمپ، کیکڑے، جھینگے، اور نہ معلوم کتنی طرح کے انجانے جانداروہاں آباد ہیں۔ ہماری سوچ سے بھی پرے۔ اللہ میاں، انسانوں کو اسی لیئے اسکی اپنی تخلیقات میں فکر کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اسکی کتاب قرآن کریم کا صحیح مطالعہ، سوچ اور گہری فکر انسانی دماغ میں معلومات کے پرت کے پرت کھولتا ہے، اسکی معلومات میں اضافہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسکو شکر و حمد کی توفیق عطا کرتا ہے۔ کارخانے قدرت میں یہ چھوٹے کیڑے مکوڑے بھی بڑے کمال کے ہوتے ہیں اور خود کو شکاریوں سے بچانے کے لئے طرح طرح کے روپ دھارتے ہیں، کبھی ایک سُنڈی (Caterpillar) خود کو کھینچ کر سانپ کی طرح کر لیتی ہے اسی طرح ایک پتنگا(Moth) جس کا نام ’’یورو پیا میٹی کیولوڈینا ‘‘(Europeameti Quolodina)ہے جو کسی بھی مصیبت کے وقت مردہ سوکھے پتے کی طرح بن جاتا ہے۔
بچو!ہم آپ کو آج اللہ تعالیٰ کی سمندر میں پائے جانے والی ایک ایسی ہی مخلوق اور ایک دیگر کینہ پرور پرندے کے بارے میں بتلاتے ہیں۔ پہلے جانیے سنگاپور کے سمندر میں پائے جانے والے ایک خاص جھینگے ’’مینٹس‘‘(Mantis Shrimp)کے بارے میںجو بہت زور دار گھونسہ مارنے کے لیے مشہور ہے ۔ یہ جھینگا ’’مینٹس ‘‘جس کو اپنا گھونسہ مار دے وہ اسکو بالکل .22کی گولی کی طرح لگتا ہے اور اسکی رفتار 23میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے ۔
’’نانیانگ ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی ‘‘ سنگاپور میں تجربہ کرکے وہاں کے ماہر ڈاکٹر علی مصریزنے ’’مینٹس‘‘ کے حملے کے بارے میں بتلایا کہ وہ گھونسہ مارنے سے پہلے اپنے بازو کو بالکل کمان میں لگے تیر کی طرح کھینچتا ہے اور پھر پوری طاقت سے گھونسہ مارتا ہے جو گولی کی طرح لگتا ہے ۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ اس ’’مینٹس ‘‘جھینگے کے بازو کی دو ساختیں(بناوٹ)ہوتی ہیں اور جب یہ جھینگا اسکو موڑتا یا سکوڑتا ہے تو اوپری ساخت کھینچتی ہے اور نیچے والا حصہ تن جاتا ہے جس سے اسکو بازو میں اسپرنگ کی طرح زبردست قوت جمع ہوتی ہے اور جب یہ اپنا بازو کھولکر کسی جانور یا شکار کو مارتا ہے تو وہ توانائی (طاقت) خارج ہوتی ہے اور اسکے شکار کو گولی کی طرح لگتی ہے یہی نہیں یہ گھونسہ اگرکسی کھچوے یا اسی جیسے سخت خول ( کمر )والے کے پڑ جائے تو اسکا سخت خول ٹو ٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے ۔
بچو! دوسرا عجیب جانور اللہ میاں نے ایک اڑنے والا پرندہ بنایا ہے جو بہت ہی کینا پرور اور کمینہ ہوتا ہے یہ ’’انٹار کٹیکا‘‘میں پایا جانے والا ’’اسکوا‘‘(Eskiva)نامی پرندہ ہے جو اپنے دشمن کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے ۔بچوں انٹارکٹیکا ایسی جگہ ہے جہاں عام طور پر انسان نہیں پہنچ پاتے ہیں یہاں کی آبادی مشکل سے ایک ہزار چند سو افراد ہیں۔تاہم کوریا کے تحقیقاتی شعبہ کے ماہرین نے انٹارکٹیکا کے ایک رسرچ اسٹیشن پر ’’اسکوا‘‘ کے سلسلے میں رسرچ کرکے یہ معلوم کیا کہ اس پرندے کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنے گھونسلے اور انڈوں کے قریب جانے والے لوگوں کے چہروں کو یاد رکھتا ہے اور انکو اٹھانے یا نقصان پہنچانے والوں کو جب بھی ان میں سے کوئی انکے سامنے آئیگا تو وہ اسکو پہچان کر اسپر حملہ کر دیگا۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ’’ونسن ماسف‘‘(Vinson Massif)شہر میں جیمس اور ڈیوڈ دو جڑواں بھائیوں (جن کی شکل ایک دوسرے سے بہت ملتی تھی)نے ’’اسکو ‘‘ا کے انڈے چرانے کا پلان بنایا۔’’اسکوا‘‘ اس وقت اپنی کسی ضرورت سے گھونسلہ سے باہر گیا ہوا تھا چنانچہ یہ دونوں انڈے لینے کے لیے اسکے گھونسلہ کے پاس جاکر انڈے اٹھا ہی رہے تھے کہ’’ اسکوا ‘‘آگیا۔ ڈیوڈ نے جیسے ہی ’’اسکوا ‘‘کو دیکھا وہ چیخنے لگا’’بھاگ جیمس بھاگ ’’اسکوا ‘‘آگیا‘‘ یہ سنتے ہی جیمس وہاں سے بھاگا لیکن اس دوڑ بھاگ میں دو انڈے ٹوٹ گئے۔ اسکوا نے جیمس کو دیکھ لیا تھا وہ غصہ سے پاگل ہو گیا لیکن اور اسنے جیمس کا حلیہ ،جو وہاں سے چلا گیا تھا ،اپنے میموری کارڈ میں محفوظ کر لیا تھا۔
’’براؤن اسکوا ‘‘میں تو چہروں کو پہچاننے کی اور بھی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے وہ چہرے اپنے ذہن میں ہمیشہ محفوظ رکھتے ہیں۔کوریا کے سائنس دانوں نے اس سمت میں کئی تجربے کیے اور ایک دو اشخاص کو ’’اسکوا‘‘ کے گھونسلہ کی طرف بھیجا اور جب وہ واپس ہوئے تو ’’اسکوا ‘‘نے ان پر حملہ کر دیا ۔اس تجربہ کو مزید تقویت اس وقت ملی جب ڈیوڈ اور جیمس ایک دن پھر ’’اسکوا ‘‘کے انڈے اٹھانے کے لیے اسکے گھونسلے کی طرف گئے۔(جس کے ذہن میں انکی تصویر پہلے سے محفوظ تھی)۔اسنے پہچان لیا اور حملہ کرکے سخت زخمی کر دیا اسکی آنکھ پر چوٹ لگے ہونے کی وجہ سے اسے ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیے رہا تھا۔ڈیوڈ اس کو بہ مشکل زخمی حالت میں گھر لایا جہا ں کئی دن اسکا علاج چلا اور کوریا کی ٹیم نے اس سے اس تجربے کی مزید معلومات حاصل کرکے یہ تصدیق کر دی کہ ’’ اسکوا‘‘ واقعی اپنے دشمن کے چہرے کو یاد رکھتا ہے اور نقصان پہنچانے والے کے مل جانے پر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔
موبائل:9839569575
٭٭٭





