رئیسہ خمار آرزو

اپنے چھوٹے سے آشیانے میں پرانی سی کرسی پر کھڑکی کے قریب بیٹھی بالوں میں چاندی ،آنکھوں پر چشمہ ،کرسی سے لگی ایک چھڑی جس کے سہارے وہ اپنے کمزور قدموں کو حرکت میں لا پاتی ۔ یہ ہے ۸۰ سالا عائشہ جس کی ویران آنکھوں میں نمی تھی وہ کھڑکی سے باہر اس سوکھے شجر کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ جس میں اب ہریالی کی کوئ امید نہ تھی ۔ وہ اس درخت میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی ۔اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے قریب ہی ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھایا اور گلے کو تر کرتے ہوئے لمبی سانس لی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا شاید وہ اپنے ماضی میں الجھی ہوئی تھی۔ جس کی راہ حیات کبھی نہ سلجھی اور وہ آہستہ سے بڑبڑانے لگی ۔
سانسو ںکو اب نہیں ہے مسلسل سفر کی تاب
اب راہِ زندگی کو چلو مختصر کرو
عائشہ اپنے ذہن کی دیوار سے سر ٹکرا رہی تھی ۔ وہ عامر کے پیار کو کیوں نہ سمجھ سکی ۔ اپنے آپ پر اسے بہت غصہ آرہا تھا ۔ کہ آخر وہ کہاں کمزور تھی جو عامر کے پیار کو اس کے چہرے پر نہ پڑھ سکی اور بہت دور تک تپتے صحرا میں ننگے پاؤں دوڑتی رہی اور جب مڑ کر دیکھا تو خود کو ویران بیابان جنگل میں تنہا پایا ۔ یا خدا۔۔۔ محبت کی اتنی سخت سزا۔؟۔۔ اگر وہ میری قسمت میں نہیں تھا تو اسے مرے روبرو لایا ہی کیوں۔ اس دل میں پیار کی شمع کو جلایا ہی کیوں ۔ وہ ریگستان میں پیاسی ہرنی کی مانند تڑپ اٹھی اور اپنے آپ سے خود کلامی کرنے لگی ۔
مر مر کے یوں تو جیتے ہیں اہل جگر بہت
قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھئے
عائشہ کی آنکھو ںسے دریا بہنے لگا وہ ماضی کے ان حسین لمحات کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔
عامر سے عائشہ کی ملاقات کالج کے پہلے سال میں ہوئ وہ عائشہ کا ہم کلاس تھا ۔ عا مر اور لڑکوں سے مختلف تھا ۔ وہ کم گو تھا ۔ نہ کوئ دوست تھا نہ وہ کسی سے دوستی کرنا پسند کرتا ۔ وہ کتابی کیڑا تھا ۔ کلاس میں اوّل درجہ سے پاس ہوتا ۔ عائشہ ذرا طفلانہ مزاج تھی ۔شرارتی تھی ۔ کیو ں کہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی تھی ۔ دل کی مگر بہت صاف تھی ۔ ہر ایک کے دل میں جگہ بنا لیتی ۔ مگر عامر سے دوستی کرنے کی جسارت وہ کبھی نہ کر سکی ۔مگر ایسا بھی نہیںتھا کہ وہ عامر سے متا ثر نہ تھی ۔ عائشہ تو عامر کو دل ہی دل میں پسند کر نے لگی تھی ۔ وہ سب کی نظریںبچا کر عامر کو ہی تلاش کرتی ۔
ایک روز کالج سے گھر جا تے وقت بس میں بیٹھنے کے لئے سیٹ تلاش کر رہی تھی ۔ مگر مایوسی ہوئ کہ پیچھے سے آواز آئ “ آپ یہاں بیٹھ جائیں۔ جیسے ہی عائشہ نے مڑ کر دیکھا دل دھک سے رہ گیا۔ دل میں شہنائ سی بجنے لگی ۔عامر کو دیکھ کر جیسےاس کے ہوش کھو گئے ۔ وہ سوچ رہی تھی کے عامر کو دیکھ کے دل کو کیا ہو گیا ۔ دل ایک لمحہ کے لئے جیسے رک سا گیا ۔ عامر نے دوبارہ اس سے کہا آپ میری جگہ پر تشریف رکھئیے ۔عائشہ نے اپنی کیفیت کو چھپاتے ہوئے عامر کا شکریہ ادا کیا اور بیٹھ گئ ۔وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی ۔ جیسے کوئ خزانہ مل گیا ہو ۔ اور وہ دل ہی دل میں کہنے لگی۔
ہلچل سی کوئ ہےدلِ خانہ خراب میں
کیا جانے کیا کشش ہے تمہاری جناب میں
جاگتے سوتے ہوئے خواب تمہارے دیکھے
روزوشب خود کو پریشان کیا ہے ہم نے
ایسے ہی اشعار اس کے ذہن میں دھوم مچا رہے تھے ۔ جیسے ہی بس رکی عائشہ بوکھلا کر ادھر ادھر نظریں گھما نے لگی ۔ وہ عامر کو تلاش کر رہی تھی ۔ مگر وہ نظر نہیں آیا وہ سوچ رہی تھی کہ آخر وہ کون سے اسٹا پ پہ اترا ہوگا ۔ اسے ہوش ہی نہیں ۔
عائشہ خوشی خوشی اپنے گھرپہنچ گئی ۔ اس کے کا نوں میں عامر کی آواز بار بار گونج رہی تھی ۔ “ جی آپ یہاں بیٹھ جائے “ اسی بس سے دونوں کا آنا جانا ہوتا رہا مگر دونوں کے بیچ خاموشی نے جگہ بنا لی ۔ عائشہ اسے کسی نہ کسی بہانے سے دیکھ لیتی مگر عامر تو بس اپنی کتاب پر نظریںجمائے گم رہتا ۔ رفتہ رفتہ ایسے ہی کچھ وقت گزر گیا ۔
ایک روز بس میں عامر کو نہ پا کر پریشان ہو گئ اور اسے بس میں پاگلوں کی طرح اسے تلاش کرنے لگی ۔ مگر مایوسی ہوئ ۔ کالج میں بھی اس کی نظریںعامر کو ہی تلاش کر رہی تھیں۔ وہ اس کا ذکر کرے بھی تو کس سے ۔ اس کا تو کوئی دوست بھی نہیں ہے ۔ سارا دن عائشہ نے پریشانی میں گزارا ۔ ذہن میں آتا بھی کہ ارے پگلی کیوں پریشان ہو رہی ہو۔ کچھ کام ہوگا تو وہ آ نہیں سکا ۔ مگر دل کو کون سمجھائے ۔ اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا مگر عامر کالج نہیں آیا ۔ عائشہ تو جیسے مجسمہ بن کے رہ گئی ۔ سہیلیوں کے پوچھنے پر کہتی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ ایک روز وہ اس درخت کے نیچے بیٹھی جہاں اکثر عامر بیٹھا کرتا تھا ۔ کاغذ پر اپنے جذبات کو لفظوں کی شکل دے رہی تھی۔۔
تمام حسرت ِبے تاب کا قرار ہو تم
خزاں رسیدہ چمن کے لئے بہار ہو تم
تمہاری راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
دھڑکتے دل کی تمنا کا انتظار ہو تم
اپنے خیالوں میں لکھے جا رہی تھی کہ اچانک اک آواز نے اسے چونکا دیا ۔ “ آپ کو کب سے پڑھائی میں دلچسپی ہو گئی میڈم “ عائشہ نے جیسے ہی مڑ کے دیکھا عامر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکے روبرو تھا ۔ عائشہ بوکھلا سی گئ یہ خواب ہے یا حقیقت ۔ اور وہ دل ہی دل میں کہنے لگی۔ ۔
عشق کر دیگا ہر اک لمحہ ٔ ہستی تیرے نام
اپنے دیدار کی پہلےذرا رشوت دے دے
عامر نے دوبارہ کہا کے “ کچھ کہا آپ نے “ ۔۔۔ وہ خاموشی سے عامر کو دیکھ رہی تھی ۔ پھر اچانک عامر پر سوالوں کی بارش کی ۔ “ تم کہا ںرہے؟ اتنے دن ہو گئے کالج بھی نہیں آئے؟ سب خیریت تو ہے؟ ایک ہی سانس میں سوال کئے جا رہی تھی ۔ تو عامر نے کہا۔۔ ارے عائشہ ذرا سانس تو لو اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو ۔ مجھے کچھ ضروری کام سے شہر جانا تھا۔ اسی میں ہفتہ گزر گیا ۔ اچانک عائشہ کو ہوش آیا اور وہ جھینپ سی گئی ۔ خود کو سنبھالا ۔ اس طرح دونوں میں دوستی ہو گئی بس میں کالج ساتھ ہی جانے آنے لگے ۔ مگر عائشہ اپنے پیار کا اظہار نہ کر سکی وہ اس لئے کہ اسے عامر کی نظروں میں کبھی وہ بے چینی ، وہ پیار نظر ہی نہیں آتا اب وہ پہل کرے بھی تو کیسے ؟ اگر انکار کی صورت نظر آئی تو عائشہ خود اپنی ہی نظروں میں گر جائے گی ۔ رفتہ رفتہ کالج کے سال بھی مکمل ہو گئے ۔ اس دوران عائشہ کے لئے بہترین سے بہترین رشتے آنے لگے مگر عائشہ نے اپنی ماں سے کہا۔ وہ فکر نہ کرے پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہی میں شادی کروں گی۔
دونوں کی پڑھائ مکمل ہو گئ عائشہ کی خاموش محبت اپنے سپنوں کے تاج محل بناتی رہی ۔ دونوں نوکری پیشہ ہو گئے ۔ عائشہ عامر کے اظہا رکا انتظار کرتی رہی ۔ اتفاقیہ دونوں کی کہیں ملا قات ہو جاتی ۔ مگر عائشہ کو محسوس ہوتا ہے جیسے ملاقات اتفاق نہیں ہے۔ عامر ہی خود ملنا چاہتا ہو ۔ مگر وہ کچھ کہتا کیوں نہیں ۔ عائشہ اسی کشمکش میں تھی ۔ آخر عامر کے دل میں کیا ہے وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔ وقت رفتہ رفتہ اپنی رفتار سے گزرتا رہا ۔
ایک روز قاصد لفا فے کی شکل میں اس کے خوابوں کے تاج محل کے ٹکڑے تھما گیا ۔ خط میں عامر نے لکھا تھا کہ وہ نوکری کے سلسلے میںو دیش جا رہا ہے سب کچھ اچانک اور جلد بازی میں ہوا ۔اس لئے ملاقات کا مو قعہ نہ مل سکا۔ کل میری فلائٹ ہے اگر مناسب موقع ملے تمہیں تو ملاقات کرتے ہیں ورنہ واپسی پر ملاقات ہوگی انشاء اللہ ۔۔۔
عائشہ کو کچھ لمحے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔
ایک دیوار بھی اگر گھر کی گر جائے تو دل دکھتا ہے عائشہ کے تو خوابوں کے تاج محل ٹوٹے ہیں ۔ اس کی جو کیفیت تھی اس کا انداذہ لگا نا ناممکن تھا ۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ اس کی محبت یک طرفہ ہے ورنہ خط کی بجائے عامر اس کے روبرو ہوتا ۔ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں خواہ مخوہ اذیت ہی ہوگی ۔ مگر ایک امید کی ہلکی سی روشنی اسے پھر بھی نظر آ رہی تھی ۔ عامر کا وہ خط میں لکھنا کہ واپسی پر ملاقات۔۔۔۔۔ بس اسی کے انتظار میں نہ شادی کی نہ کبھی سوچا کہ اگر عامر نہ آیا تو ؟
والدین کے اسرار پر کہہ دیا کہ وہ عامر کا انتظار کرے گی ۔۔۔۔ وہ آئے گا اور ضرور آئیگا ۔۔۔۔۔
تیری یادوں سے میں بہلا لونگی دل کو لیکن
یہ طریقہ بھی اگر کام نہیں آیا تو ؟
آج عامر کو گئے دس سال ہو چکے ہیں ۔ ایک روز عائشہ روز مرہ کی طرح دفتر جانے کی تیاری میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئ ۔ عائشہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا اور اس نے جو دیکھا اپنی اس کے لئےیقین کرناممکن نہیںلگا ۔ وہ آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑے عامر کو دیکھ رہی تھی ۔۔ عامر ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے مسکرا رہا تھا ۔ اس نےدیوانوں کی طرح بے ساختہ سوالوں کی بارش شروع کر دی ۔ عامر نے اسے روکا اور کہا۔ ذرا سانس تو لو عائشہ تم بلکل بھی نہیں بدلی ویسی ہی ہو ۔ اور ہلکے سے مسکرا کر کہا کہ وہ و دیش جانے کے بعد اتنا مصروف ہو گیا کہ اسے وقت ہی نہ مل پایا کہ وہ دوستوں سے رابطہ کرے۔ وہاں جانے کے بعد ایک سال میں اس کی شادی ہو گئ اس کے ماموں کی بیٹی سے جو کے بچپن سے ہی طے تھی ۔ عائشہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ عامر نے کہا “ میں نے سوچا تم اپنے سسرال میں ہو گی میں تو تمہاری امی سے ملاقات کے لئے آیا تھا کہ تمہاری خیریت معلوم کر لوں ۔ چلو اچھا ہوا کہ تم سے ملاقات ہو گئ ۔ عائشہ تو بس جیسے بہری گونگی اور بد ہواس سی عامر کو دیکھے جا رہی تھی تبھی پیچھے سے عائشہ کی ماں کی آواز آئ عائشہ بیٹا کون آیا ہے ۔
اور عامر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کون ہو تم ؟ عامر نے اپنا تعارف دیتے ہوئے کہاں کہ میں عامر ہوں عائشہ کا ہم کلاس ۔۔۔ بوڑھی ماں کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئ اور ماں نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر ہی عامر سے کہا عائشہ نے تمہارے انتظار میں اپنی زندگی گزار دی ۔۔ اور تم اب آ رہے ہو ۔؟
عامر کے سر پہ جیسے پہاڑ ٹوٹا ہو یا کسی نے اسے اونچے پہاڑ سے دھکا دے دیا ہو ۔ عائشہ نظریں جھکا ئے کھڑی تھی ۔ اور عامر کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے چلا گیا ۔ چند لمحوں میں جیسے وہا ںماتم سا چھا گیا ۔ عائشہ اب بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کچھ دیر پہلے یہا ںجو طوفان آیا تھا وہ خواب تھایا حقیقت ۔
زخم تازہ ہیں ابھی تک عاشق دلگیر کے
گر نہیں آتا یقیں تو دیکھ لو دل چیرکے
دو روز کے بعد اسے عامر کا خط ملا اس خط کو پڑنا چاہا مگر نہ پڑھ سکی۔ عامر نے معذرت کی ہو گی اور کیا اس میں عامر کا کیا قصور۔۔ محبت تو اس نے کی عامر نے نہیں اور اس کے نے خط کو دراز میں رکھ دیا ۔
اور بس اس کی زندگی کے باقی بچے سال ایسے ہی گزرتے گئے اپنی ہی لاش اپنے کاندھوں پر اٹھائےزندگی کا سفر موت کے انتظار میں گزارتی رہی۔ ماں باپ بھی بیٹی کے غم میں وقت سے پہلے ہی زندگی کا سفر گزار کر چلے گئے۔ چالیس سال کا وقفہ گزر چکا تھا اسے آج عامر کا خیال نہ جانے کیوں بار بار پریشان کر رہا تھا ۔ اسے اچانک یاد آیا عامر کا وہ خط۔ اور وہ آخری ملاقات ۔۔اس نے سوچا کے آج اس خط کی تحریر کو پڑھ لیتی ہوں شاید دل کو سکون ملے۔
شاید اس خط کو پڑھنے کے بعد موت بھی آسان ہو جائے ۔ اور عائشہ نے دراز سے خط نکالا اور کانپتے ہاتھوں سے اسے کھولا اور پڑھنے لگی ۔
سلام
عائشہ تم مجھ سے محبت کرتی تھیں اور مجھے احساس بھی نہیں ہونے دیا ۔ میری منگنی تو بچپن میں ہی میرے والدین نے طے کی تھی میرے ماموں کی بیٹی سے جسے میں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ ماموں کی رہائش و دیش میں تھی ۔ مگر تم سے چند ملاقات میں ہی تم مجھے اچھی لگنے لگیں اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ میں تم سے دل ہی دل میں پیار کرنے لگا ۔ اپنی چاہت کا اظہار کرنے سے ڈر بھی لگا کہیں تم مجھے غلط نہ سمجھو کیوں کہ مجھے تمہاری چاہت کا علم ہی نہیں تھا ۔ گھر والوں نے مجبور کیا کہ ودیش میں جا کر ماموں کی بیٹی سے شادی کر لوں اور وہی سٹل ہو جاؤں مگر میں نے صاف انکار کیا ۔۔۔ اور کہا کہ میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔میرے والدین بھی راضی ہو گئے ۔ میری خوشی کی خاطر ۔ مگر میں تم سے اس تعلق سے بات کرنے کی جسارت نہ کر سکا اسی کشمکش میں رہا اور تمہاری طرف سےکسی اشارہ ملنے کے انتظار میں تھا ۔ مگر مایوسی ہوئ اور اچانک کمپنی سے ودیش جانے کا آفر آیا اور میں نے تمہیں خط لکھا اور ملنے کے لئے بھی کہا۔ نہ کوئ جواب آیا نہ تم آئیں۔ میں نے بہت انتظار کیا ۔ آخر مجھے یقین ہو گیا کہ میری محبت یک طرفہ ہے ۔ میں بہت مایوس ہو کر چلا گیا ۔ جانے کے ایک سال بعد میں نے شادی کر لی اور شادی کے ایک سال بعد خدا کے فضل وکرم سے ایک چاند سی بیٹی ہماری زندگی میں روشنی بن کے آئی ۔میں نے اس کا نام عائشہ رکھا ۔ اور شاید وہ خدا کو بھی بہت پیاری لگی ایک سال کی عمر میں خدا نے اسے اپنے پاس بلوا لیا ۔ ایک کار حادثہ میں میری رفیقۂٔ حیات اور عائشہ دونوں فوت ہو گئیں ۔ میری تو دنیا ہی اجڑ گئی۔ میں اب زندگی کے سفر میں تنہا ہو گیا ہوں ۔ چار سال بعد میں انڈیا آیا ہوں کچھ گھریلو معا ملات ہیں ۔ تو میں نے سوچا کہ تمہاری خیریت تمہاری امی سے پوچھتا چلوں ۔ تم تو اپنے سسرال میں ہوگی ۔مگر جب میں تمہارے گھر آیا اور جو منظر دیکھا ۔۔۔ تم میرا انتظار کر رہی ہو ۔۔۔ خدایا یہ منظر دیکھنے سے پہلے مجھے موت کیو ںنہ آئ ۔ میں بدحواس سا کچھ بھی کہے بغیر تمہارے گھر سے آگیا ۔ اب بہت سوچ کر ہی خط لکھ رہا ہوں ۔ اگر تم چاہو تو ہم اپنی زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں تمہارا انتظار بھی ختم ہوگا اور مجھے اپنا پیار بھی حاصل ہوگا ۔ جو عرصہ تم نے میرے انتظار میں گزارا ہے وہ تو لوٹ کر نہیں آئیگا مگر میں کوشش کرونگا کہ وہ وقت تمہیں یاد ہی نہ آئے ۔ ہم اپنی زندگی کو بہترین سے بہترین گزارنے کی کوشش کریں گے انشاء اللہ ۔۔ میں آٹھ روز شہر میں ہی ہوں تمہارے جواب کا انتظار رہیگا ۔ شادی کر کے ہم ودیش چلے جائیں گے میرا وہا ںسب کچھ سٹل ہے گھر ، نوکری ۔ ۔۔۔ہم اپنی باقی کی زندگی وہی گزاریں گے صرف اپنے لئے جئیں گے۔
تمہارے جواب کا طلب گار
عامر
عائشہ نے یہ خط چالیس سال کے بعد پڑھا اس کی کیفیت کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے ۔قسمت بھی کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے۔ اس نے اگر وہ خط اسی وقت پڑھ لیا ہوتا تو وہ آج عامر کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہوتی ۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ جو قسمت میں نہ ہو وہ کبھی نہیں ہوتا۔۔ وہ خط پڑھتے پڑھتے عائشہ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ کرسی پر بیٹھی اسی سوکھے درخت کو نہار رہی تھی اور سوچ کے اس درخت میں توسوکھنے سے پہلے بہار بھی آئی تھی مگر اس کی زندگی میں تو بہار کا موسم آیا ہی نہیں ۔ اور بس آہستہ آہستہ اس کی سانسوں نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ۔
ترے خوابوں میں جب پائ ہے میں نے زندگی اپنی ۔
ترے قدموں میں مر جانے کا موقع کیوں نہیں آیا
رئیسہ خمار آرزو
ناسک۔ مہاراشٹر
940307786





