9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
نیر سلطان پوری

بدلی تھی گلستاں کی ہوا کوئی نہ بولا
ہر گل نے سنی میری صدا کوئی نہ بولا
کی چرخ نے جب ہم پہ جفا کوئی نہ بولا
تاروں نے سنی میری نوا کوئی بہ بولا
جب بات چھڑی ان کے مسیحا نفسی کی
ہر زخمِ جگر دل میں ہنسا کوئی نہ بولا
تقدیر کل ولالہ پہ روتی رہی شبنم
دامانِ سحر چاک ہوا کوئی نہ بولا
گل کے بھی زباں تھی پہ خموشی کا یہ عالم
کیا کچھ نہ گلستاں میں ہوا کوئی نہ بولا
اکثر ہوا ایسا بھی کہ دیوار چمن سے
ٹکرا کے پلٹ آئی صبا کوئی نہ بولا
جس وقت فغاں میری صنم خانوں میں پہنچی
کہنے کو ہر اک بت تھا خدا کوئی نہ بولا
تشریح کسی نے بھی نہ کی چین جبیں کی
پوچھا کئے ہم اپنی خطا کوئی نہ بولا
سننے کو سنی بزم نگاراں نے مری بات
لیکن زدہ شرم و حیا کوئی نہ بولا
جب دل کی گرہ کھلنے کی بات آئی نیّر
بنتے تھے سبھی عقدہ کشا کوئی نہ بولا





