Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldکروڑوں خواتین کے مقابلے میں چند سو کی حقیقت کیا ہے

کروڑوں خواتین کے مقابلے میں چند سو کی حقیقت کیا ہے

حفیظ نعمانی

جمہوریت کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہار اور جیت کو بہت آسان کردیا 1967 ء میں جب سی بی گپتا نے جوڑ توڑ سے حکومت بنالی اور گورنر کے سامنے اکثریت ثابت کردی تو سب کے منھ بند ہوگئے۔ لیکن جب حکومت کی صف سے چودھری چرن سنگھ کے ساتھ 14 ممبر اُٹھے اور حزب مخالف میں جا بیٹھے تو پھر گپتا جی نے دیر نہیں کی اور اجلاس چھوڑکر سیدھے گورنر کے پاس گئے اور استعفیٰ دے دیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ اقلیت میں آگئے۔
اور یہ بات تو وزیراعظم مودی جی کو اچھی طرح یاد ہوگی کہ اٹل جی کے خلاف جب عدم اعتماد پر رائے شماری ہوئی اور ان کی حمایت میں پڑنے والے ووٹوں میں صرف ایک کم رہ گیا تو وہ سیدھے صدر کے پاس گئے اور استعفیٰ دے دیا۔ اب وزیراعظم کے اور وزیر داخلہ کے پاس ملک کے گوشہ گوشہ سے خبریں آرہی ہوں گی کہ ہزاروں ہزار برقع پوش مسلم خواتین مظاہرہ کررہی ہیں کہ حکومت ایک وقت میں تین طلاق والا بل واپس لے اور قانون نہ بنائے۔ مالے گائوں جے پور پٹنہ گوگری بیگو سرائے دربھنگہ بھوپال اور متعدد شہروں کے بعد لکھنؤ میں مسجد ٹیلہ شاہ پیر محمد کے میدان میں ہزاروں برقع پوش عورتوں نے جمع ہوکر مطالبہ کیا کہ طلاق ثلاثہ بل کو قانون کا درجہ نہ دیا جائے۔ حکومت کے ہر شعبہ کو معلوم ہے کہ یہ جو خواتین جمع ہوئیں اور صبح سے آنا شروع ہوگئی تھیں یہ نہ کسی کے دبائو میں آئی تھیں اور نہ کسی لالچ میں۔ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے ان کو خطاب کرتے ہوئے جو کہا وہ صرف یہ تھا کہ اسلامی شریعت نے ہم خواتین کو جو دیا ہے اس پر کملا داس ثریا نے کہا ہے کہ میں نے اسلام میں خواتین کے حقوق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا ہے اور محترمہ ڈاکٹر کملا ثریا نے 65 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔
لکھنؤ میں ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کہا کہ تین طلاق بل کو قانون بنایا گیا تو مسلم خواتین کا خاندان اور کنبہ بکھر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کو شرعی قانون کے ذریعہ کنبہ پروری کی تعلیم دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلم خاندانوں کے عمر رسیدہ بزرگوں کی اولڈ ایج ہوم میں تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور یہ تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے رشتہ داروں اور دوستوں کا بہت بڑا حلقہ ہے لیکن ہم نے اپنے کسی عزیز یا دوست کے کسی بزرگ کے بارے میں نہیں سنا کہ وہ اولڈ ایج ہوم میں ہیں۔ یہ بات مسلم خواتین کو بھی برداشت نہیں ہے کہ خواتین کی آزادی کے نام پر قانون بنے ۔
یہ صرف بے دین اور آزاد خیال عورتوں کا کھڑا کیا ہوا فتنہ ہے کہ مرد اور عورت ہر اعتبار سے برابر ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ بہت سے کام جو مرد کرتے ہیں وہ عورتیں بھی کرتی ہیں لیکن ایسے بھی نہ جانے کتنے کام ہیں جو یا مرد کرسکتے ہیں یا عورتیں۔ یہ بات صرف عورتوں میں نہیں مردوں میں بھی ہوتی ہے کہ وہ سماج کی پابندیوں کو توڑکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور یہی باغی فطرت والی خواتین کرتی ہیں۔ جہاں تک طلاق کی بات ہے تو یہ خیال بھی غلط ہے کہ صرف مرد عورت کو طلاق دیتے ہیں نہ جانے کتنی عورتیں ہیں جو شوہر سے آزادی چاہتی ہیں اور فیصلہ کرتی ہیں کہ ہمیں اس کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سبب کس کا کیا ہو؟
اسلام میں عورت قاضی کے ذریعہ یا ماڈرن ہے تو عدالت کے ذریعے علیحدگی کی کوشش کرتی ہیں اور عدالتیں جب محسوس کرتی ہیں کہ اگر عورت کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کے پاس ہی رہے تو دونوں کی زندگی عذاب بن جائے گی ایسی صورت میں مرد کے نہ چاہنے کے باوجود دونوں کو الگ کردیتے ہیں۔ اور اس کے تو ہم خود گواہ ہیں کہ ایک لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ دو سال رہ کر اچانک اپنے گھر چلی گئی اور پھر اس کی یہ ضد سامنے آئی کہ مجھے طلاق چاہئے۔ ہم نے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردیں گھنٹوں سمجھایا اور یقین ہوگیا کہ اب وہ مان گئی، لیکن دو گھنٹے کے بعد اس کا نوکر آکر ایک خط دے گیا اور رُکا نہیں اس میں صرف یہ لکھا تھا کہ آپ کی ہر بات صحیح ہے مگر مجھے طلاق چاہئے۔
ہمارے معاشرہ پر فلموں نے اور دنیا کے دوسرے ملکوں نے بہت اثر ڈالا ہے طلاق اسلام کی ابتدا میں عربوں میں عام تھی اور اس کی یہ حیثیت نہیں تھی کہ اگر طلاق ہوگئی تو لڑکی مہینوں منھ چھپاتی پھر رہی ہے۔ اس زمانہ میں عدت پوری ہوئی اور کوئی اچھا رشتہ آیا تو دوسرا نکاح کرلیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے نہ جانے کتنی باتیں ہندو سماج سے لے لی ہیں جیسے بیوہ لڑکی وہ چاہے جس عمر کی ہو اگر بیوہ ہے تو منحوس ہے ۔ جبکہ اسلام میں بیوہ کی شادی پر زور دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک طبقہ وہ ہے جس کے مرد تو اسلامی ماحول کے پروردہ ہیں لیکن ان کی عورتیں اپنی ماں نانی اور دادی کی دیکھا دیکھی اسی ذہنیت کی ہیں جو اسلام سے پہلے تھی۔ اچھے برے دن ماننا بلی کا راستہ کاٹنا ہر کسی کا برتن الگ ہونا جوٹھا پانی یا کھانا نہ کھانا بیوہ عورت کا اچھے کپڑے نہ پہننا وغیرہ وغیرہ اگر عورتوں کو بھی اسلامی معاشرہ میں ڈھال لیا جائے تو ہر مسئلہ حل ہوجائے۔ وزیراعظم جنہوں نے صرف چند سو نام کی مسلمان خواتین کی ضد پر قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے اب چند کروڑ کا مطالبہ مان لیں اس لئے کہ اتنی بڑی اکثریت کو نظر انداز کرنا انصاف کے خلاف ہے۔

 

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular