کافر نے ہی بس ہمیں مسلمان سمجھا
مسلمانوں کے ہر فرقے نے
ایک دوسرے کو کافر کہا،
ایک کافر ہی ہے جس نے،
ہم سب کو مسلمان… کہا

شہر کا منی پاکستان کہے جانے والے محلہ مولوی گنج میں بی جے پی کارپوریٹر! تو کیا یہ مان لیا جائے کہ بی جے پی کی طرف مسلمانوں کا ہجرت شروع ہوگئی ہے اور اگر نہیں تو پھر یہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جہاں پر بس آپ ہی آپ تھے وہاں وہ منتخب کیسے ہوا جسے آپ نے ووٹ ہی نہیں دیا۔ خدارا اس کا ذمہ دار ای وی ایم کو بنانے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانک کر دیکھیں کہ اس نتیجے کی ذمہ دار ای وی ایم نہیں بلکہ آپ خود ہیں۔ آپ کا متحد نہ ہونا ہے، پھر ایک مولوی گنج ہی کیوں، ایسی نہ جانے کتنی جگہیں ہیں جہاں آپ کی اکثریت تھی لیکن آپ کو منھ کی کھانی پڑی۔ یہ نتیجے آئندہ پانچ سال تک تمام غیرتمند باشندوں، دانشوروں اور ہمارے مولویوں کو ضرور اس بات کا احساس کراتے رہیں گے کہ مسلمانوں کو اگر مسلمان سمجھا ہوتا تو کبھی یہ دن نہ دیکھنے پڑتے اور یہ غیروں نے نہیں بلکہ اپنوں نے ہی اپنوں کے درمیان ایسی کھائی بنادی ہے جس سے اُبر پانا اب آپ کے لئے ہی مشکل ہورہا ہے۔ اس لئے ایسا کہنے پر شاعر بھی مجبور ہوا کہ
خوف ہوتا ہے شیطان کو بھی مسلماں دیکھ کر
نماز بھی پڑھتا ہے، مسجد کا نام دیکھ کر
دے دی اذاں مسجد میں ہم نے ’حی علی الصلوٰہ‘
اور لکھ دیا باہر اندر نہ آئے فلاں فلاں
اگر موجودہ صورتِ حال میں ہم اب بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہے تو وہ دن دور نہیں کہ خدا نخواستہ اسپین کی تاریخ ہندوستان میں بھی دہرائی جائے۔ کیا ابھی بھی ہم اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں لیں گے؟ اگر آپ اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہیں تو چلئے آج ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہماری وسعت ِ نظر جہاں تک ہے وہاں تک سب کو متحد کریں گے اور پیغامِ انسانیت کو عام کریں۔ ہم نفرتوں کو محبتوں سے ہی ختم کرسکتے ہیں اور یہی ہمارے نبیؐ کی سُنّت بھی ہے۔ کیا ہم کبھی اس بات سے شرمندہ نہیں ہوئے کہ ہم نے اپنوں کو کبھی اپنا نہیں کہا اور مخالف نے ہمیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔ ابھی بھی وقت ہے اس بارے میں سنجیدگی سے غور کریں کہ موجودہ حالات میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔





