سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

موجودہ دور میں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین بھی مردوں کے ساتھ ساتھ شانہ بہ شانہ نہ صرف چل رہی ہیں بلکہ اپنی اہمیت کا زیادہ سے زیادہ احساس دلا کر انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حوا کی بیٹی یعنی یہ صنفِ نازک جوئے شیر لانے میں پیچھے نہیں ہے۔کون سا مقامِ سخت ایسا ہے جسے سر کرنے کے لئے آج خواتین پیش پیش نہیں؟روز مرہ کے معاملات ہوں یا تعلیم و تربیت کی دنیا ہو خواتین کی ایک طویل فہرست سامنے نظر آجاتی ہے۔ادب بھی ان کی کارگزاریوں سے مبریٰ نہیں انھوں نے ادب کی سنگلاخ وادیوں میں بھی وہ گلہائے رنگا رنگ کھلائے ہیں جن کی خوشبو سے ہر صاحبِ شعور کا مشامِ جاں معطر ہے۔
اردو ادب میں ہمیشہ سے ہی خواتین کی نمائندگی رہی ہے یہ الگ بات کہ ابتداء میں انھوں نے نام بدل کر اپنی تخلیقات پیش کیں لیکن عصرِحاضر میں خواتین کھل کر اپنے جذبات و احساسات کا بیان کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ بھی ایسی ہی خواتین میں پیش پیش ہیں جنھوںنے ادب کی خدمت کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔وہ جہاں ایک بہترین نقادہیں وہیں ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی قابلِ توجہ ہیں۔ان کا تعلق مالیر کوٹلہ ضلع سنگرور پنجاب سے ہے جہاں علم و ادب کا ماحول خصوصاً ااردو او رپنجابی زبان کے حوالے سے نہایت تسلّی بخش ہے۔ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ جہاں پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں وہیں اردو زبان میں بھی ان کا ایک غزلیات کا مجموعہ بعنوان ’’تعلقات کا برزخ‘‘ ۲۰۰۶ء میں منظرِ عام پر آچکا ہے۔اس مختصر سے مضمون میں ان کے مجموعۂ کلام کی روشنی میں ان کی شاعری کی تہداریوں اور وسعتوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اردو ادب کا قاری جانتا ہے کہ اردو ادب میں نسائی لہجے کی مستند و منفرد آواز پروینؔ شاکر کی شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔ان کے بعد ادب کی دنیا میں قدم رکھنے والی خواتین ان سے بہت متاثر نظر آتی ہیںاور ان کے جلائے ہوئے چراغوں سے اپنے چراغ روشن کرتی ہیں۔دیکھا جائے تو یہ کوئی عیب نہیں کیوں کہ ادب کا قائدہ ہی یہ ہے کہ ادب شعوری یا لاشعوری طور پرآنے والی نسلوں کو متاثر کرتا ہے۔بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے ایک ہی وقت میں ایک ہی لہجہ مختلف ادیبوں کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ بھی پروینؔ شاکر سے متاثر نظر آتی ہیں انھوں نے ان کے جلائے ہوئے چراغوں سے استفادہ کیا لیکن اس صورت میں کہ ان کی شاعری پروینؔ شاکر کی تقلید نہ ہوکر ان کی شاعری کی توسیع نظر آتی ہے یعنی انھوں نے شعوری یا لا شعوری طور پر پروینؔ شاکر سے جو استفادہ کیا اس میں خود ان کا مخصوص اسلوب نمایاں ہے ۔البتہ پسِ پردہ پروین ؔشاکرکا عکس ضرور ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔مثال کے لئے کچھ اشعار دیکھے جا سکتے ہیں:
بات پوچھی نہ کسی نے مری تنہائی کی
سب نے چڑھتے ہوئے سورج کی پزیرائی کی
راستے لوٹ کے سب اپنی طرف آتے ہیں
راہ تکتی ہوں اسی بات پہ ہرجائی کی
جیسے دنیا نے محبت کو سمجھ رکھا ہے
بات ایسی بھی نہیں ہے کوئی رسوائی کی
میں نے ہر رنگ میں چاہا ہے اسی کو شبنمؔ
زندگی قوسِ قزح ہے مری انگڑائی کی
یہ غزل پروینؔ شاکر کی زمین میں ہے اور نسائی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے لیکن ان اشعار میں ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ کا مخصوص لہجہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ پروینؔ شاکرسے متاثر ہونے کے باوجود ان کی اس معنی میں مقلد نہیں کہ پروین ؔشاکر کے موضوعات ان کی شاعری میں حاوی نظر آنے لگیں۔
ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ کی شاعری بناوٹ سے دور اور سادگی سے معمور ہے۔انھوں نے شعراس لئے نہیں کہے کہ لوگ ان کی علمی لیاقت کا لوہا مانیں یا ان کی شاعری میں یہ ہی ڈھونڈتے رہ جائیں کہ آخر بات کیا کہی گئی ہے۔بلکہ ان کی شاعری فطری ہے جو نہ زیادہ پیچیدہ اور نہ زیادہ غور و خوض کی متقاضی وہ تو شاعری کو ایک ایسا ذریعہ جانتی ہیں جو ایک صاف ستھرے آئینے کی طرح سماج اور معاشرے کی تصویر قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔مثلاً :
یہ اور بات ہمیں آج تم نہ پہچانو
تمہاری بزم کا روشن چراغ تھے ہم بھی
رخصت کے وقت اس کا وہ مڑ مڑ کے دیکھنا
اک آہ بھر کے یہ دلِ بیتاب رہ گیا
ہوش آیا تو ہوئی شرمندگی
جانے کیا کچھ کہہ دیا جذبات میں
ہاتھ ملتے ہیں مگر دل نہیں ملتے شبنمؔ
ایسے ملنے کو ملاقات نہیں مانتی میں
مندرجہ بالا اشعار کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر سادگی کے ساتھ زمانے کی تلخ حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔پہلا شعر ان کم ظرف اوربے وفا لوگوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو اپنے ماضی کو بھلا کر حال میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں جہاں انھیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان کی ترقیوں کے پیچھے کیا کیا عوامل کارفرماء رہے ہیں۔دوسرا شعرانسان کے جذبات کی خوبصورت عکاسی ہے جب کوئی چاہنے والا کسی چاہنے والے سے بچھڑتا ہے تو دلوں پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے یہ شعر اس کی بہترین تصویر کشی کرتا ہے۔تیسرا شعر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کسی وجہ سے خاطر میں نہیں لاتا اور کبھی کبھی اس کو حقیر بھی سمجھتا ہے لیکن جوں ہی اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کا عمل دوسرے کے لئے کتنا تکلیف دے ہے تو وہ پشیمانی محسوس کرتا ہے۔آخری شعر آج کے ماحول کی منافقت بیان کرتا ہے کہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے بظاہر خلوص کے ساتھ ملتے ہیں لیکن دلوں میں نفرت کا آتش فشاں بھڑکتا رہتا ہے۔
موصوفہ کا خاصہ یہ ہے کہ جہاں وہ نسائی لہجہ اختیار کرتی ہیں اور صنفِ نازک کے جذبات کی منظر کشی کرتی ہیںوہیں کبھی کبھی وہ اس کو ترک بھی کر دیتی ہیں۔کیوں کہ وہ بخوبی جانتی ہیں کہ انھوں نے جس رنگ کی غزل چھیڑی ہے اس کا تقاضہ کیا ہے۔اشعار دیکھیں:
دل پر اثر ہوا ہے کسی کے خیال کا
آئینہ بن گئی ہوں میں حسن و جمال کا
تو جانتا ہے مقابل میں عشق ہے تیرے
غرورِ حسن تجھے خاکسار کرنا ہے
پہلے شعر سے جہاں نسوانی جذبات آشکار ہیں وہیں دوسرے شعر میں یہ منظر ہے کہ ایک عاشق اپنے خوبصورت اور متکبر محبوب سے مخاطب ہے جو اسے خاکسار کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔اردو شاعری میں عاشق مذکر ہوتا ہے اور محبوب کو گرچہ مذکر کے صیغے میں خطاب کیا جاتا ہے لیکن یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ صنفِ نازک سے تعلق رکھتا ہے۔گویا کہ دوسرے شعر میں ڈاکٹر روبینہ شبنمؔ نے اپنے نسائی لہجے کو ترک کرتے ہوئے اردو ادب کی روایت کی پاسداری کی ہے۔
موصوفہ کے یہاں ہمیں چند خوبصورت علامتیں بھی ملتی ہیں۔مثلاً’’سورج‘‘’’قوسِ قزح‘‘ ’’قفس‘‘’’بادل‘‘’’ماہتاب‘‘’’پتھر‘‘اور کبھی کبھی خود ان کا تخلص’’شبنمؔ‘‘ بھی علامت بن کر شعر میں نظر آتا ہے۔مثال کے لئے کچھ اشعار ملاحظہ کریںجن میں مذکورہ الفاظ بطورِ علامت نظر آتے ہیں۔
نہ جانے کیسی فضائوں میں تھا گھرا سورج
تمام وعدوں سے یکلخت ہی پھرا سورج
پیار اس قوسِ قزح نے کبھی سمجھا ہی نہیں
میرے آنگن میں کوئی رنگ برستا ہی نہیں
اسیر ہونے کا شکوہ نہیں ہے اے صیاد
قفس میں رہتے ہوئے بھی تو بال و پر ہوتے
ُُٰٰٓٓپیاسی زمین سوئے فلک دیکھتی رہی
بادل سمندروں پہ ہی آکر برس گیا
احسان مانتی ہوں کسی ماہتاب کا
جو میری چھت پہ رات گئے تک ٹھہر گیا
دیکھ کے امبر شیشے جیسا
اڑنے کو پر تولے پتھر
گل کے رخسار پہ اک پل کے لئے بھی شبنمؔ
دھوپ کا قہر ٹھہرنے نہیں دیتا مجھ کو
اس کے علاوہ ان کی شاعری میں صنائع و بدائع کا بھی خوبصورت استعمال ہے وہ تلمیحات سے بھی خوب فائدہ اٹھاتی ہیں اور اپنی بات کو موثر انداز میں کہہ کر قارئین کوداد دینے پر مجبور کرتی ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری میںروایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ نئے دور کے فن کی جاذبیت کی معراج نظر آتی ہے۔ان کے اشعار ایسے گلاب ہیں جن کی خوشبو سے نہ صرف صحنِ چمن میں ہی فضائیں معطر ہیں بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی غیر اردو داںبھی ان کی شاعری پڑھے یا سنے تو بغیر تعریف و تحسین کے نہیں رہ سکتا۔کیونکہ ان کی شاعری آفاقیت کے زیرسایہ اپنے حسن کا جادو بکھیرتی ہے۔
،علی گڑھ یوپی
موبائل:9219782014





