محمد شفیع ساگر ؔ
ماں نے اراہ کر لیا تھا کہ بیٹے کو ہر حال میں خوش رکھوں ۔ کیونکہ والد کا کسی حادثے میں انتقال ہو گیا تھا ۔ والد ایک بہت بڑے بزنس مین تھے اس لیے اُن کے ہاں پیسے کی کمی نہیں تھی ۔ ما ں بچے کا ہر وقت خیال رکھتی تھی ۔ معصوم بچے کو بزنس اور پیسے سے کیا سروکار ۔ اُس کے لیے تو اُس کی ماں ہی سب کچھ تھی ۔ اُس کی خوشیاں بہت چھوٹی تھیٖ اور غم بھی مختصر ۔ ٹافی ملے تو گویا دُنیا کی سب سے بڑی خوشی مل گئی ۔ اگر نہیں ملی تو اتنا غمگین کہ رورو کے آسمان سر پہ اُٹھا دیتا ۔ یہ بچپن بھی کیسا عجیب ہوتا ہے آسمان میں چاند نکلے تو خوشی ، بارش ہو تو خوشی ،دھوپ کی گرمی سے پسینہ آئے تو خوشی ، بلی میاوں میاوں کرے تو خوشی سے ہنس ہنس کے بُرا حال ، کیا بتاوں کتنی خوشیاں ہوتی ہیں ۔ ان خوشیوں کے بیچ بڑے سے بڑا غم بھی نظر نہیں آتا اس معصوم کے لیے بھی ایسا ہی تھا حالانکہ لوگ ان کے والد کے گذر جانے کے بعد جب بھی اسے دیکھتے دُکھی ہو جاتے ۔ لیکن لوگ کیوں دُکھی ہوتے ہیں یہ بات اس کی سمجھ میں کبھی نہیں آئی تھی ۔
ایک دن رات کو ماں کے ساتھ باہر نکلا تھا کہ چاند دیکھ کر بڑا حیران ہوا ۔’’ ممی چاند کو کیا ہوگیا ہے ‘‘۔ حیرانگی سے پوچھا ۔ ممی نے چاند کی طرف دیکھا پھر بیٹے کے چاند سے چہرے کی طرف دیکھا ۔ جو لگاتار حیرت سے چاند کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔ بچے کی معصومیت دیکھ کر ماں کی ممتا بھر آئی بیٹے کا منہ چوما اور کہا ’’میرے چاند ، بتاو تمہیں کیا ہوا؟‘‘ ممی پہلے تو چاند بڑا ہوتا تھا آج کھوکھلا کیوں ہے ۔ ممی چاند کو کیا ہوگیا ہے ۔ ’’ممی مُسکرائی اور کہا ’’میرے چاند سے بیٹے ۔ پورا چاند پندرہ دن بعد نکلتا ہے ‘‘
’’کیوں ممی چاند کہاں جاتا ہے‘‘ بیٹے نے بڑی معصومیت سے سوال کیا ۔ ماں عجیب سوال کا جواب کہاں سے لاتی ۔ اُسے معلوم تھا کہ چاند کا وہ حصہ جو سورج کی طرف ہوتا ہے ہمیں نظر نہیں آتا ۔ لیکن ایک ننھے بچے کو کیسے سمجھاتی ۔ اس لیے کچھ دیر سوچ کر کہا ۔
’’بیٹے چاند اپنے گھر جاتا ہے ‘‘
’’ممی یہ تو آدھا نظر آرہا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا منہ ٹیڑھا ہوا ہے‘‘
’’ہاں بیٹا یہ اپنی ممی سے روٹھ گیا ہے اس لیے منہ اُس طرف پھیرا ہے ‘‘ شائد یہ جواب بچے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی تھا ۔
’’لیکن ممی چاند کو کون مناتا ہے ‘‘ بچے کے ذہن کے حساب سے معقول سوال تھا ۔
’’اُن کے پاپا اُسے مناتے ہیں ‘‘
دونوں اندر کمرے میں آئے بیٹا کچھ دیر خیالوں میں گُم رہا ۔ بیٹے کی یہ خاموشی ماں سے نہیں دیکھی گئی فوراً ماں نے چہرا چوما اور کہا ۔ میرے چاند کیا ہوا خاموش کیوں ہو ۔ بیٹے نے جواب دیا ’’ممی میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ مجھے چاند کہتی ہو ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا ‘‘
ماں نے حیرانگی سے پوچھا ’’کیو ں‘‘
بیٹے نے کہا ’’ ممی جس دن میں روٹھ جاوں گا اُس دن میرا چہرہ بھی چاند کی طرح ٹیڑھا ہو جائے گا ۔ چاند کو تو اُن کے پاپا مناتے ہیں ۔ میرے پاپا تو مر چُکے ہیں ۔ اس لیے مجھے کون منائے گا ۔ میرا چہرہ ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا رہ جائے گا ۔اس لیے مجھے چاند مت کہنا‘‘
ماں نے دیکھا کہ پہلی بار بیٹے کو والد کے مرنے کا احساس ہو رہا ہے ۔ اُسے خیال آیا کہ اس میں بچے کا قصور نہیں ہے ۔ یہ احساس تو بچے کے اندر خود نے جگایا ہے ۔ کیونکہ شوہر کے بچھڑ جانے کا احساس کسی نہ کسی طرح اُبھر کر سامنے آ جاتا تھا ۔ اُس نے بچے کو گلے لگایا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور کہا میرے لال تیری ماں تجھ پہ قربان جاوں ۔ تیرے پاپا نہیں ہیں تو کیا ہوا یہ جیسے ہزاروں چاند تیرے قدموں میں نچھاور کر دوں گی ۔
لیکن بیٹے کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اُس کی ماں نے کیا کہا ۔
موبائل نمبر :۔ 9419399487,9622221748
Email:- smartdrass786@gmail.com
لمر گوشن دراس ضلع کرگل





