غزل
جمیل ارشد خان
امیرِ شہر کا ان کی طرف جھکاؤ ہے دوست
سو ترکِ عشق کا ہم پر بہت دباؤ ہے دوست
یہ سودا ہوتا ہے بس ایک ہی نظر میں طے
کہاں مزاجِ محبت میں بھاؤ تاؤ ہے دوست
اگر بلانا ہے واپس تو بھیج دے قاصد
سوادِ شہر میں اب بھی مرا پڑا ؤ ہے دوست
اسی لئے تو دہن سے اگلتے ہو شعلے
تمہارا ذہن سلگتا ہوا الاؤ ہے دوست
وجود مٹنا ہے جب دونوں صورتوں میں ہی
سو اب کے جانبِ صحرا مرا بہاؤ ہے دوست
دل و دماغ میں جاری ہے کشمکش پیہم
حدودِ جسم میں پھیلا ہوا تنا ؤ ہے دوست
جب اس سے تیرا نہیں کوئی واسطہ ارشد
تو اس کے ذکر پہ سینے میں کیوں کھچاؤ ہے دوست
+91 95036 00264
سکونت:فی الحال نرکھیڑ ضلع ناگپور۔۔تعلیم: بی اے ، بی ایڈ۔۔پسندیدہ اصنافِ سخن:غزل ؛ نظم ؛ ہزل۔۔مجموعہِ کلام:زیرِ ترتیب۔شرِ کلام:آل انڈیا ریڈیو ناگپور
٭٭٭





