Saturday, February 28, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمیرے استاد پروفیسر صغیر افراہیم

میرے استاد پروفیسر صغیر افراہیم

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

انسان جب شعور کی منزل پر قدم رکھتا ہے اور اپنے آس پاس کا جائزہ لیتا ہے تو کچھ شخصیتیں اس کے شعور کا حصہ بن جاتی ہیں جنھیں وہ زندگی بھر یاد رکھتا ہے ۔ان شخصیتوں میں کچھ ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو اس کی دل شکنی یا حوصلہ شکنی کا سبب بنتی ہیں اور کچھ ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو قدم قدم پر اس کی نفسیات کا دھیان رکھتے ہوئے نہایت محبت و شفقت اور بے لوث خلوص کے ساتھ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے اس لائق بناتی ہیں کہ وہ دنیا کے ہر مقام ہر موڑ اور ہر مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا بچپن سے لیکر اب تک مجھے بھی طرح طرح کے لوگ ملے لیکن اگر انھیں دو خانوں میں منقسم کیا جائے تو وہی بات سامنے آئے گی کہ کچھ لوگ حوصلہ شکنی کا کام کرتے رہے اور کچھ لوگ حوصلہ بڑھاتے رہے۔ایسے لوگوں میں میرے دوست ،رشتے دار اور اساتذہ بھی رہے۔میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکول منٹو سرکل جسے ایس ٹی ایس ہائی اسکول کہا جاتا ہے اڈمیشن لیا تو اس دور سے ہی مجھے بفضلِ خدا ایسے اساتذہ ملے جنھوں نے بڑی محبتوں اور شفقتوں سے نوازا۔اس سلسلے سے کسی ایک شخص کا نام نہیں لے سکتا کیوں کہ بہت سی یادیں وقت کے ساتھ دھندلی پڑ جاتی ہیں۔جب میں نے ٹین پلس ٹو میں داخلہ لیا تو جو نام وہاں کے اساتذہ میں میرے لئے نہایت اہم ہے اور میری زندگی کے مختلف مرحلوں میں جنھوں نے میرا سچے دل اور ایک سرپرست کی حیثیت سے ساتھ دیا وہ ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری صاحب کا ہے۔جنھوں نے مجھے ہندی زبان کی تعلیم بھی د ی اور شاعری کے رموز سے بھی آشنا کیا اور آج تک میں ان کی سرپرستی میں شاعری کا سفر طے کر رہا ہوں۔جب میری ۲۰۰۶ء میں بحیثیت طالبِ علم باقاعدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستگی ہوئی یعنی میرا ایم اے اردومیں ایڈمیشن ہوا تو مختلف اساتذہ نے بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ نوازا سوائے ایک بڑے نقاد کے جن کا نام لینا مناسب نہیں ان کے ساتھ طالبِ علم کی حیثیت سے گزارے ہوئے لمحات زندگی بھر یاد رہیں گے کہ کس طرح انھوں نے حوصلہ شکنی کا کام انجام دیا۔لیکن مجھے تو اپنے مشفق استاذ پروفیسر صغیر افراہیم کا ذکر کرنا ہے جن کی بے انتہاء محبت کو تا حیات فراموش نہیں کر سکتا۔
جہاں تک مجھے یاد ہے پروفیسر صغیر افرہیم سے میری پہلی ملاقات آرٹس فیکلٹی اے ایم یو علی گڑھ کے کمرہ نمبر ایک میں ہوئی ۔ایم اے اردو پریوئس کی کلاس تھی ناول کا پرچہ تھا ۔میرے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ موجود تھا اور وہ مسکراتا ہوا چہرہ محترم پروفیسر صغیر افراہیم کا تھا۔جن کی باتیں کانوں میں رس گھول رہی تھیں ،بات بات پر گفتگو کے دوران کھلی فضا میں سانس لینے کا بھی اہتمام تھا۔صرف میں ہی نہیں میں نے محسوس کیا کہ پوری کلاس کی فضا تر و تازہ معلوم ہوتی تھی لگتا تھا کہ ادب کے صحنِ چمن میں طلباء بیٹھے ہوئے باغباں سے بہاروں کا تذکرہ سن رہے تھے ۔مجھے پتہ چلا کہ سامنے جو شخصیت تشریف فرماء ہیں وہ پروفیسر صغیر افرہیم ہیں۔میرے لئے ان کا نام اجنبی نہ تھا میرے والد صاحب اکثر ان کانام لیتے رہتے تھے کیونکہ وہ شعبۂ اردو میں ان کے ہم جماعت رہے تھے۔مجھے بڑی خوشی تھی کہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کا شاگرد بن گیا تھا۔
رفتہ رفتہ پروفیسر صغیر افراہیم صاحب کی شخصیت دل میں گھر کرتی گئی انھیں بھی جب یہ علم ہوا کہ میں ان کے دوست کا بیٹا ہوں تو انھوں نے مزید محبتوں سے نوازا۔سب سے بڑی بات یہ کہ مجھے شاعری کا شوق تھا اور انھوں نے اس سلسلے سے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔جو ایک مبتدی یا ایک طالبِ علم کے لئے بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ اس سلسلے سے مجھے وہ شعری نشستیں یاد آتی ہیں جو ہمارے شعبے میں ہوتی تھیں جن میں مقامی و بیرونی شعراء اپنا کلام پیش کرتے تھے میں بھی طالبِ علم کی حیثیت سے وہاں سہمے سہمے انداز میں اپنی شاعری پیش کرنے کی کوشش کرتاتھا بعض مرتبہ اساتذہ کے علم کا خوف ذہن پر طاری ہوجاتا اور زبان لڑکھڑانے لگتی لیکن جب نشست اختتام کو پہنچتی تو پروفیسر صغیر افراہیم بڑی محبت کے ساتھ حوصلہ افزائی کرتے جو میرے تخلیقی فن کوفروغ دینے کے لئے انتہائی معاون ہوتا میں سمجھتا ہوںکہ پروفیسر صغیر افراہیم کایہ میری ذات پر ایک بڑا احسان ہے اگر وہ میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو شاید شاعری تو کیا مجھے نثر لکھنے کا سلیقہ بھی نہ آتا۔
۲۰۰۸ ء میں سرکاری نوکری کی ملنے کی وجہ سے مجھے نامکمل تعلیم چھوڑ کر شعبۂ اردو اے ایم یو علی گڑھ سے جانا پڑا کیوں کہ سب کا مشورہ تھا کہ پہلے نوکری حاصل کر لی جائے تعلیم کا سلسلہ بعد میں بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔کچھ کھٹی میٹھی یادیں اور پروفیسر صغیر افراہیم کی محبتوں کا خزانہ لیکر مجھے دنیا کے ساتھ ساتھ چلنا پڑا جہاں کا معاشرہ جہاں کی فضامیرے لئے اجنبی تھی لیکن جو کچھ میں نے اپنے بزرگوں ،اساتذہ اور خصوصاً ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری اور پروفسیر صغیر افراہیم سے حاصل کیا تھا وہ میرے لئے مشعلِ راہ تھا۔وقت کادریا بہتا رہامختلف کناروں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے میری زندگی کی کشتی بھی رواں دواں رہی لیکن ایک بات ہمیشہ دل میں جاگزیں رہی کہ میں تعلیم مکمل کر سکوں یعنی اردو ادب سے پی ایچ ڈی کر سکوں۔میرے والدین نے میرا حوصلہ بڑھایا اور ۲۰۱۵ ء میں نوکری سے چھٹی لیکر میں دوبارہ شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالبِ علم بن گیا یعنی میرا پی ایچ ڈی میں داخلہ ہوگیا جہاں مجھے بحمداﷲپروفیسر سید محمد امین جیسی عظیم شخصیت بحیثیت نگراں ملے ۔شعبہ کا ماحول میرے لئے اب کچھ نیا نیا سا تھا کیونکہ میرے ساتھی میرے دوست اور میرے ساتھ ایم اے میں پڑھنے والے تمام طلبہ میری نگاہوں سے زیادہ تر دور تھے وہ سب اپنی اپنی منزلوں پرفائز تھے۔ ایسے ماحول میں پھر میری رہنمائی اور سرپرستی کرنے والی شخصیت پروفیسر صغیر افراہیم تھے۔
پروفیسر صغیر صاحب سے پھر ملاقاتوں کا سلسلہ رواں ہو گیا۔انھوں نے جس خلوص اور جس محبت سے نوازا وہ پھر میرے لئے نعمتِ مترقبہ سے کم نہ تھا۔ابھی تک میرا رجحان شاعری کی طرف زیادہ تھا اور نثر تھوڑا ماحول تبدیل کرنے کے لئے لکھ لیتا تھا چند مضامین اخبارات میں شائع ہو چکے تھے لیکن باقاعدہ نثر لکھنے کا جذبہ پروفیسر صغیر افراہیم نے جگایا ۔ہوا یہ کہ ان سے مجھے ان کی ایک کتاب ملی جو انھوں نے شاعری کی تنقیید کے حوالے سے لکھی تھی۔میں نے اس پر ایک مضمون لکھ دیااور ان کی خدمت میں لیکر پہنچا حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں کوئی نقاد نہیں اور ایک استاد کے فن پر لکھنا ایسے شاگرد کا کیا معنی رکھتا ہے جو اس راہ کا مبتدی ہو اور وہ بھی ایسا استاد جو ساری ادبی دنیا میں اپنی تنقیدی صلاحیتوں کی وجہ سے ’’ماہرِ پریم چند ‘‘ کہلاتا ہو اورجس پر بڑے بڑے تنقید نگاروں نے لکھا ہو۔لیکن استادِ محترم کے خلوص کا قائل ہونا پڑتا ہے انھوں نے میری تحریر کی تعریف کی اور نہ صرف تعریف کی بلکہ اس کو ایک عالمی ادبی جریدے میں چھپنے کے لئے بھی بھیج دیا جب وہ مضمون چھپ کر آیا تو میری خوشی کی انہتاء نہ رہی ،یہی نہیں جب کشمیر یونیورسٹی سے صغیر صا حب پر پی ایچ ڈی کی گئی اور کتابی صورت میں اس کو لانے کا ارادہ ہوا تو میں نے ایک اور مضمون لکھا جو تقریظ کی صورت میں اس کتاب کا حصہ بن گیا۔یہ حوصلہ افزائی بھی میرے لئے کم نہ تھی میں نثر میں باقاعدہ دلچسپی لینے لگا اور مختلف مضامین لکھنے کا جذبہ میرے اندر جاگنے لگا۔با الفاظِ دیگر میں یہ کہہ سکتا ہوں اگر پروفیسر صغیر افراہیم میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو شاید میں اردو ادب کا طالبِ علم بھی نہ رہ پاتا۔
استادِ محترم کے اگر مزاج اور اخلاق پر گفتگو کی جائے تو وہاں بھی وہ ممتاز نظر آتے ہیں۔وہ جس سے ملتے ہیں خنداں پیشانی سے ملتے ہیں۔میں نے کبھی ان کی زبان سے کسی کی برائی نہیں سنی۔ہر چھوٹے بڑے آدمی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگرکبھی کسی پہ غصہ بھی انھیں آتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ وہ غصہ نہیں کرتے بلکہ غصے کی ایکٹنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کبھی کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتے۔بقول شخصے اگر کسی کی شخصیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے ساتھ سفر اختیار کیا جائے ۔یہ تجربہ بھی مجھے ہوا ابھی حال ہی میں پنجاب اردو اکیڈمی کی جانب سے مالیرکوٹلہ میںایک قومی سیمینارمنعقد کی گئی جس میںاستادِمحترم نے مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور کئی سیشنس کی نظامت کی ذمے داری بھی دے کر میری ایک بار پھر حوصلہ افزائی کی۔وہ وہاں جہاں جہاں گئے مجھے اپنے ساتھ رکھا ۔میں نے سیمینار کے درمیان یہ بھی دیکھا کہ جب کچھ نوجوان اسکالرس نے اپنے اپنے مقالے پیش کئے تو ایک صاحب نے ان پر سخت تنقید کی لیکن جب پروفیسر صغیر صاحب نے اپنا صدارتی خطبہ پیش کیا تو ان نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے سامعین اور مندوبین کی اس طرف طبیعت مبزول کرائی کہ بے جا تنقید سے نئے لکھنے والوں کا حوصلہ کم ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ نئے لکھنے والوں کی خاطر خواہ پزیرائی کی جائے۔اس واقعہ سے میرے دل میں استاد کے لئے اور مقام پیدا ہوگیا کیونکہ یہ بات سو فیصدی حق ہے کہ کسی کامیاب شخص کے پیچھے سینکڑوں ایسے افراد کی پشت پناہی ہوتی ہے جو اس کی صلاحیتوں کو سمجھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں نام پیدا کر سکے۔
پروفیسر صغیر افراہیم کی شخصیت کہ بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر کافی دیر گفتگو کی جا سکتی ہے۔لیکن وقت کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں ۔میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو قوم کے سچے خادم ،اپنی زبان کی بقا کا بیڑہ اُٹھانے والے اور اس کو زندگی کے ہر گوشے میں فروغ دینے والے ہوتے ہیں۔پروفیسر صغیر افراہیم نے ’تہذیب الاخلاق ‘کی ادارت بھی کی وہ شعبۂ اردوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر بھی رہے اور ابھی ۱۱ جولائی۲۰۱۸ء کوشعبے سے سبک دوش ہوئے ہیں لیکن میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پروفیسر صغیر افراہیم صاحب کا قلم رواں دواں رہے گا اور وہ اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دیتے رہیں گے ۔
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہئے اس بحرِ بے کراں کے لئے
سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی
ہلالؔ ہائوس
4/114نگلہ ملاح
سول لائن علی گڑھ یوپی
موبائل:9219782014
Syed Baseerul Hasan Wafa Naqvi
Hilal House
4/114 Nagla Mallah Civil line Aligarh
UP
Mob:9219782014

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular