Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمولانا شرافت حسین:دوستی اور انسانیت کی ایک جیتی جاگتی تصویر

مولانا شرافت حسین:دوستی اور انسانیت کی ایک جیتی جاگتی تصویر

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

ڈاکٹر عمار رضوی

۱۔ کسی نے ٹیلیفون کیا، مولانا شرافت حسین صاحب نہیں رہے۔ کانوں کو یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ لاکھوں بار سنا ہے، دیکھا ہے، تجربہ کیا ہے کہ اس عالم کی ہر چیز فانی ہے مگر کچھ لوگوں کے بارے میں ایسا یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔
۲۔ شرافت بھائی چلے گئے، بغیر بتائے، متعدد بار فون سے بات ہوئی مگر کبھی اپنی بیماری، پریشانی کا ذکر نہیں کیا۔ وہ دوسروں کی پریشانیاں اپنے میں جذب کرلیتے تھے، بلاٹنگ پیپر کی طرح اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتے۔
۳۔ میری ملاقات ان سے قریب نصف صدی پرانی تھی۔ وہ بھی جوان تھے اور میں بھی شیعہ ڈگری کالج میں انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتا تھا۔ ایک بار وکٹوریہ اسٹریٹ جہاں بی اے کے درجات شام کو ہوا کرتے تھے تشریف لائے، یہ عمارت نہایت ہی خستہ ہال تھی اس میں حکیم صاحب عالم صاحب رہا کرتے تھے، وہ پاکستان چلے گئے۔ سرکار سعید الملت مرحوم اور علی ظہیر صاحب مرحوم کی کاوشوں سے یہ عمارت خریدی گئی۔ یہاں 25 جولائی 1960 ء سے بی اے درجات شروع ہوئے۔ مولانا نے عمارت کی عبرت انگیز حالت دیکھ کر فرمایا ’’اس پر شیعہ کالج نہ لکھیں تو بہتر ہے، اس کو دیکھنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کس ملت کی ملکیت ہے۔‘‘
۴۔ مولانا شرافت حسین صاحب بیحد اچھے مقرر تھے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ سیاسی تقریر اچھی کرتے ہیں یا مذہبی۔ ہر موقع کی نزاکت کو سمجھاتے ہوئے بولتے تھے، ان کی تقریر اتنی دلچسپ ہوتی تھی کہ سامعین جانے کا نام نہیں لیتے تھے۔ الیکشن کے دوران عموماً لوگ ایسے جلسوں میں بہت کم شرکت کرتے مگر مولانا کی تقریر لوگ خاص طور سے سنتے۔
۵۔ مہمان نوازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ گھر پر کوئی بھی آجاتا اس کی پوری خاطرداری ہوتی۔ میں جب بھی ان کے یہاں گیا مجھے یہ دلکش نظارہ دیکھنے کو ملا۔ وہی نہیں بلکہ پورا خاندان، ان کے بڑے بیٹے معصوم حسین، بیٹے، بیٹیاں اور ان کی شریک حیات (پردے میں رہ کر بھی) سب نہایتی خلوص سے مہمانوں کا استقبال اور خاطرداری کرتے۔
ایں خانہ ہمہ تمام آفتاب است
۶۔ مذہبی رہنمائوں اور سیاسی رہنمائوں دونوں سے برابر کی دوستی اور بے تکلفی تھی۔ وہ کسی کے عہدے اور منصب سے مرعوب نہیں ہوتے۔ اپنی بات کبھی کہنے میں ہچکتے نہیں تھے۔ زیادہ تر وہ کانگریس مخالف پارٹی میں رہے مگر مجھ سے بہت ہی عزت و احترام اور محبت سے پیش آتے۔ میری کسی سے برائی بھی سننا پسند نہیں کرتے۔ ہمیشہ عمار بھائی کہا۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی صحیح تفسیر تھے:
آئینہ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
۷۔ دہلی میں ایک بار میں ان سے کہا کہ چلئے آپ کو اندراجی سے ملا لائیں۔ کہنے لگے ’’ارے نہیں‘‘… میں تو چودھری چرن سنگھ جی کی طرف سے ان کے خلاف بولتا رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اکبر روڈ پر اندراجی سے ملاقات ہوئی، میں نے تعارف میں کہا کہ مولانا شرافت صاحب چودھری چرن سنگھ جی کی پارٹی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ کانگریس کے خلاف ہمیشہ بہت شدت سے بولتے ہیں، مولانا گھبرا کے میری طرف دیکھنے لگے۔ پھر میں نے کہا لیکن آپ کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہتے بلکہ تعریف ہی کرتے ہیں۔ اندراجی مسکرائیں اور کہا کہ کانگریس سے اگر ان کو کوئی شکایت ہو تو اس کو دور کیا جاسکتا ہے۔
۸۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مولانا میں جو صفات اور کمالات تھے اس کا صحیح فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ ملت نے اسے نہیں سمجھا۔ ان کا جانا ملت اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے بھی بہت بڑا نقصان ہے۔ وہ انتہائی روشن خیال تھے، تعصب کا دور دور پتہ نہٰں تھا۔ ان کے ملنے والوں اور دوستوں کی تعداد میں غیرمسلم حضرات کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ کسی کا کوئی بھی کام ہو مولانا شیروانی ٹوپی پہن فوراً ساتھ چل دیتے تھے۔
بقول شاعر:-
جو بھی پیار سے ملا ہم اسی کے ہولئے
۹۔ سنہ 1993 ء میں مولانا کو میں نے فون کیا کہ میرے چھوٹے بیٹے میثم کا نکاح ان کو پڑھان ہے تو وہ فوراً تیار ہوگئے اور ایک مولانا صاحب کو اور ایک عدد سہرا فریم بنواکر اپنے ساتھ لائے۔
۱۰۔ میرے والد کا انتقال ہوا مولانا محمود آباد آئے۔ میری والدہ کا انتقال ہوا تو مولانا تعزیت کے لئے لکھنؤ آئے۔ ہر ایک کے دُکھ درد میں شریک۔ ہر مصیبت میں مدد کرنے والے تھے۔
۱۱۔ اپنی پریشانیوں کو کسی سے نہ بتانے والے، سب کی مدد کرنے والے، ملت کی موجودہ حالت پر افسردہ مگر اُمید افزوں۔ سوئی ہوئی محفل کو جگانے والے، حاضر جوابی سے بڑوں بڑوں کے منھ پر تالا ڈال دینے والا شخص بڑی خاموشی سے چلا گیا:-
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،
ہمیں سو گئے، داستاں کہتے کہتے
کچھ دن پہلے لندن میں میں ایک دوست کی تعزیت کیلئے گیا تھا وہاں ایک فارسی کا قطعہ دیوار پر آویزاں تھا۔
اگر دانی کہ عالی خاندانم
نظر برخاندانِ مصطفیٰ کن
اگر گوئم کہ گشتم در بلائے
نظر برکشتگانِ کربلا کن
اگر دنیا کے پائندہ بودے
ابوالقاسم ؑ محمدؐ زندہ بودے
’’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم بہت بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہو تو تم حضرت مصطفیٰؐ کے خاندان کی طرف نظر ڈالو تو تمہیں اپنی کمتری کا احساس ہوجائے گا۔
اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم پر بہت مصیبتیں پڑی ہیں اور بہت ہی پریشانیوں میں گھرے ہو تو کربلا اور ان کے شہیدوں کی طرف نظر ڈالو تو تم کو اندازہ ہوجائے گا کہ تمہاری مصیبتیں ان کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔
اگر دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص ہوتا جس پر موت غالب نہ آتی تو یقین جانو کہ آج بھی حضرت محمد رسول خداؐ زندہ ہوتے۔‘‘
یہی سوچ کر صبر آجاتا ہے کہ ہر ابتدا کی انتہا فنا ہے۔ موت کسی کو نہیں بخشتی۔
زمانے نے مارے جواں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
نارائن دت تیاوری کی اہلیہ ڈاکٹر سوشیلا تیواری کا انتقال امریکہ میں ہوگیا۔ محترمہ سوشیلا تیواری فرشتہ صفت اور نیک خاتون تھیں، ہر ایک کو ان کی وفات پر تکلیف تھی، مولانا میرٹھ سے تعزیت ادا کرنے کیلئے لکھنؤ آئے اور کہنے لگے کہ تیواری جی کے وہاں چلئے، وہاں پہونچ کر انہوں نے جو تعزیت ادا کی وہ سمجھئے کہ مجسل پڑھ دی۔ وہاں جتنے لوگ تھے سب کی آنکھوں سے آنکھوں جاری ہوگئے۔ تیواری جی کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ اسی دوران ایک شعر پڑھا ؎
ان ہی راستوں نے جن پر میرے ساتھ تم چلے تھے،
روک روک کر پوچھا تیرا ہم سفر کہاں ہے؟
میں جب پچھلے ہفتے مولانا کی تعزیت کیلئے ان کے وطن دھولڑی جارہا تھا تو راستے بھر مجھے یہی شعر یاد آتا رہا۔
مولانا شرافت صاحب بھی موت کی نذر ہوگئے مگر ہمیشہ ان کی یاد تازہ رہے گی، ان کے کارنامے ہمیشہ ان کی کمی کو پورا کرتے رہیں گے، ان کی نیکیاں ان کو زندہ رکھیں گی۔ موت کا، انسان کی قربانی اور نیکیوں کے سامنے، بس نہیں چلتا۔
تمہیں کہتا ہے مردہ کون، تم زندوں میں زندہ ہو،
تمہاری خوبیاں باقی، تمہاری نیکیاں باقی
٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular