9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

مصباحی شبیر
حال ہی مےں ” کل ہند مشاعرہ و محفل افسانہ “ مےں شرکت کے لئے ہماری دعوت پر محترم ڈاکٹر رےاض توحےدی صاحب دراس تشرےف لائے تھے تو انہوں از راہ محبت اپنی حال ہی شائع ہوئی اےک کتاب ” معاصر اردو افسانہ “ نامی ےہ کتاب مجھے پےش کی تھی ۔ کتاب کی اہمےت و افادےت کے مدِنظر مےں نے سوچا کہ کچھ لکھنا ضروری ہے ۔ ۔
ڈاکٹر رےاض توحےدی صاحب اس لئے بھی قابل ِ تقلےد ہےں کہ انہوں نے جن افسانہ نگاروں کی تخلےقات کو اپنی اس کتاب مےں پےش کےا ان مےں سے تقرےبًا سبھی حضرات ابھی با حےات ہےں ۔ اور کسی کی کارکردگی کو اس کی حےات مےں اگر اہمےت دی جاتی ہے تو ےہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اُس کے چہلم کے بعد اس کے نام کا گوشہ نکالےں ۔ ۔ بہرحال ” معاصر اُردو افسانہ “نامی اس کتاب مےں دنےا کے مختلف خظوں و ملکوں سے لکھنے والے افسانہ نگاروں کی تخلےقات کا اےک فنی جائزہ لےا گےا ہے ۔ ۔ بہت ہی اہمےت کے حامل اس کتاب کو اےجوکےشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کےا ہے ۔ 264 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قےمت 300روپئے رکھی گئی ہے ۔
اپنے موضوع کومکمل طورسے احاطہ کرتی اس کتاب کی شروعات پروفےسر آل ِ احمد سرور کے اس تارےخی جملے سے کی گئی ہے ۔” تخلےقی جوہر بغےر تنقےد ی شعور کے گمراہ ہوجاتا ہے اور تنقےدی شعور بغےر تخلےقی استعداد کے بے جان رہتا ہے “ مقام فکر مےں اس کتاب کے محرکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے ” افسانہ لکھنا مےرا شوق ہے اور تنقےد مےرا مشغلہ “ ۔ےہ کتاب کلی طور پر تےن حصوں مےں تقسےم ہے ۔ ۱۔مضامےن ۲۔تجزےئے ۳۔ مضامےن کتب
۱۔ مضامےن اس حصے مےں مصنف نے افسانہ اور تکنےک ،علامتی افسانہ ۔۔تخلےقی مضمرات ،مائکرو فکشن ،کشمےر کے معاصر اُردو افسانو ں کے تخلےقی روےے ،فکشن شعرےات ۔۔ تشکےل و تنقےد اور متن ،معنی اور تھےوری کا جائزہ عنوانات کے تحت فن افسانہ نگاری کے جملہ لوازمات کا تذکرہ بہت ہی تشفی بخش انداز سے کےا ہے ۔ ۔
تجزےے اس حصے مےں مصنف نے مجموعی طور سے دنےا بھرسے تےرہ معاصر افسانہ نگاروں کی تخلےقات کا فنی جائزہ لےا ہے ۔ بڑے قرےنے سے پہلے اس تخلےق کار کی تخلےق کو پےش ِ قارئےن رکھتے ہےں پھر بہت ہی نپے تلے انداز مےں اپنا تجزےات کو پےش کرتے ہےں ۔
مضامےن کتب اس حصے مےں بھی سات اعلی ٰ معےار کے مصنفےن کی کہانےوں کو مصنف نے پےش کرکے ان پر اپنا تبصرہ بالکل بے لاگ انداز مےں قارئےن کے سامنے پےش کےا ہے ۔ اور کتاب کے آخر مےں خود مصنف افسانہ نگار کے اےک افسانے ” کالے دےوﺅں کا ساےہ “ پر جناب پروفےسر قدوس جاوےد صاحب کا اےک بہترےن مضمون شامل ِ کتاب ہے ۔
اس کتاب مےں جن افسانہ نگار حضرات کی کہانےوں و افسانوں کو شامل کےا گےا ہے ۔وہ ےوں ہےں ۔ گلزار ممبی ،پروفےسر اسلم جمشےد پوری ،ڈاکٹر بلند اقبال (کےنےڈا)،ڈاکٹر افشاں ملک ( علی گڑھ ) ، سےد تحسےن گےلانی ( جانس برگ ساوتھ افرےقہ )، شموئل احمد (بہار)، نعےم بےگ (پاکستان)، قرب عباس ،زاہد مختار (کشمےر)،وحشی سعےد ( کشمےر ) ،عبدالغنی شےخ (لداخ) ،ڈاکٹر احمد صغےر (بہار) ڈاکٹر رےاض توحےدی (کشمےر )
اور جن مصنفےن کتابوں پر تبصرہ پےش کےا گےا ان مےں نور شاہ ( کشمےر ) مشتاق مہدی ( کشمےر ) احمد خورشےد ( علی گڑھ ) فےصل نواز چودھری ( ناروے ) شےخ بشےر احمد ( کشمےر ) دےپک کنول ( ممبی) پروفےسر اقبال حسن خان (بہار ) ڈاکٹر رےاض توحےدی شامل ہےں ۔
مذکورہ افسانہ نگاروں کے ان افسانوں کا تجزےہ کےا گےا ہے ۔ ادھا ،لےنڈرا ، ستےہ کے بکھرے ہوئے بال،سمندر جہاز اور مےں ، کےمےکل،مرگھٹ ، شمال کی جنگ ، پھانسی، پہلا چہرہ ، سامری،ہوا،منڈےر پر بےٹھا پرندہ اور جنت کی چابی ۔ اور جن کتابوں کے مصنفےن کا اُوپر ذکر ہوا ان کی کتابوں کے نام ےوں ہےں ۔ ۱۔ نور شاہ کشمےر کہانی کے آئےنے مےں ۲۔ آنگن مےں وہ ۳۔ بائےں پہلو کی پسلی ۴۔ آزاد قےدی ۵۔ کلی کی بے کلی
۶۔ پمپوش ۷۔ پورٹرےٹ ۸۔ کالے دےوﺅں کا ساےہ
مجموعی طور سے مجھے ےہ کتاب بہت پسند آئی اور اس کے لئے مےں محترم ڈاکٹر رےاض توحےدی صاحب کو مبارک باد پےش کرتا ہوں اور ساتھ ہی ان کی اس رواےت کو کہ معاصر ادےبوں کی تخلےقات کو موضوع سخن بنا نے کی سراہنا بھی ہونی چاہےے ۔ اور مےں آج کے معاصر افسانہ نگاروں باالخصوص نوآموز افسانہ نگاروں سے عرض بھی کروں گا کہ آپ اس کتاب کا اےک بار مطالعہ ضرور کرےں کےونکہ ےہ کتاب آپ کے فن کو نکھارنے مےں آپ کی مدد ضرور کرے گی ۔
دراس کرگل جموں و کشمےر 8082713692





