Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمضطرؔ جونپوری کے قصائد اور مراثی کا مختصر جائزہ

مضطرؔ جونپوری کے قصائد اور مراثی کا مختصر جائزہ

ڈاکٹر سید محمد عباس رضوی
سید عباس حیدر زیدی تخلص مضطر ؔجونپوری جنکا آبائی وطن جونپور ہے، کسی تعرف کے محتاج نہیں ۔انہونے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ درس و تدریس اور سماج میں علم کی روشنی بکھیرنے میں صرف کیا ہے۔ اور آج بھی اپنی کبرسنی میں پورے جوش و خروش کے ساتھ اس میدان میں سرگرم عمل ہیں، آپ شیراز ہند جونپور کے موضع گوڈیلہ کے زمیندار خاندان میں ۱۹۴۴؁ میں پیدا ہوئے۔ ابتداعی تعلیم اپنے والد سید علی کوثر مرحوم کے زیرِ نگرانی حاصل کی۔ ہائی اسکول و انٹرمیڈیٹ سنٹ تھامس شاہگنج سے پاس کیا۔ اسکے بعد اعلیٰ تعلیم کی غرض سے شیعہ کالج سے بی۔ایس۔سی۔ اور لکھنو یونیورسیٹی سے علم ریاضی میں ام۔ایس۔سی۔ کی ڈگری حاصل کی، سانئس کے اسکالر ہونے کے باوجود عربی اور فارسی پر آپکا دسترس ہے۔ شیعہ کالج میں ایک اچھّے اسکالر کی حثیت سے ریاضی کے لکچرر کے منصب پر آپ کی تقرری ہوئی ، ۱۹۶۷ سے ۲۰۰۰  تک ریاضی کے استاد رہے اسکے بعد ۲۰۰۱؁ سے ۲۰۰۶؁ تک پرینسپل کے منصب پر فائز رہکر باعزت تریقے سے سبکدوش ہویئے۔
خانوادۂ علم و ادب سے تعلق رکھنے کے باعث آپ طالب علمی کے زمانے سے شعر و شاعری میں دلچسپی لینے لگے ابتدا میں غزل گوئی کی طرف رجحان رہا لیکن بعد میں قصیدہ گوئی اور مرثیہ گوئی کی طرف مائل ہوئے۔ محمد و آل محمدؑ کی ثنا خوانی کو اپنی نجات کا وسیلہ بنایا، اللہ اگر کسی کو ذکر محمدؐ و آل محمدؑ میں شعر کہنے کی توفیق عطا کردے تو صرف اسے ہی نہی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اسپر فخر کرنا چاہیے۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ شیعوں کو تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم اپنی اولاد کو عبدی کے اشعار کی تعلیم دو کیوں کہ وہ خدا کے دین پر تھا۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے حق میں اشعار کہنے والے شعرا ء  کی  یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ ذکر ِ کثیر کے حامل ہیں یعنی اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں اور ذکر کثیر سے مراد حضر ت فاطمہ زہرؐا کی تسبیح ہے جو تکبیر حمد اور تسبیح پر مشتمل ہے، چنانچہ مضطر جونپوری نے اپنے تمام قصائد اور مراثی میں معصومینؑ کے اقوال و ارشادات کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ ابتک آپکے قصائد اور مراثی کے کئی مجموعے زیورِ طبع سے آراستہ ہوکرمقبول خاص و عام ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ ادب شناس حضرات بھی اپکے کلام کی علمی و فکری سربلندی کے قائل ہیں جو آپکی ایمانی اور آفاقی شاعری
 ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ جناب معصومہؐ کی منقبت میں مضطر جونپوری کہتے ہیں۔
آمد زہرؐا سے کل عالم معطر ہو گئے
مسکرائیں کھل کے کلیاں اور گلِ تر ہو گئیں
عصمتوں کا ہے تعارف انکی ذات پاک سے
سیدہ ائینہ عصمت کا جوہر ہو گیں
زیب دیتا کیوں نہ پھر ام  ا بیہہہ کا لقب
سیرت و کردار میں تفسرِ کوثر ہو گئیں
نقش سجدہ بن گئیں تزیئن چادر ہو گئیں
آیتیں قران کی زہرؐا کا زیور ہو گئیں
روایت ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام کی ولادت ہوئی تو معبد کفر و شرک کے کنگورے منہدم ہو گئے تھے اور تمام عالم میں نور پھیل گیا تھا جس کی آمد کی تمام انبیائے ما سبق نے خبر دی تھی جو آمد رسولؐ کا بیئن معجزہ تھا۔
گود میں آمنہ کی آج نور خدا ہے جلوہ گر
خانہ ٔ عبد مطّلب رشک جناں ہے سر بسر
قلعۂ کفر و شرک کا نام جہاں سے مٹ گیا
ظلمت شب فنا ہوئی پھیلی تجلئی سحر
جسکی ہوئی ہے پرورش بنت اسد کی گود میں
کھیلنے کے لیئے ملا وارث  مطّلب کا گھر
پیکر حق صفات ہے صاحبِ معجزات ہے
خالقِ کائنات ہے جس کا ہے وہ پیامبر
تیرے وجود سے ملی حق کے وجود کی خبر
تیری زبان پاک کا حرف ہے حرف معتبر
تیرا ہی ایک نور تھا نورِ خدا کے ما سوا
مہر و مہہ و نجوم تھے اور نہ تھے یہ بحرو بر
عالمِ غیب میں رہا تو بھی مثالِ منتظر
دی ہے ہر ایک رسول نے تیرے ظہور کی خبر
یہ حقیت ہے کہ قصیدہ نگاری کی بنیاد مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے جب تک معشوق کی تعریف اسکے موجودہ صفات سے بڑھا چڑھا کر نیہں کی جاتی ہے قصیدہ میں کوئی جان نہی پیدا ہوتی ہے لیکن شاعر نے ایسے عظیم کردار کو منتخب کیا ہے جس کی تعریف میں تمام شجرقلم بنا دیے جائیں سمندر کو روشنائی کے طور پر استعمال کیا جائے تو بھی انکی تعریف نا مکمل رہیگی۔خلاصہ یہ ہے کہ جس کی تعریف خود خدا کرے اُس کی تعریف انسان کے امکان میں کہاں کہ اُسکی مدح کا حق ادا کر سکے، مضطر جونپوری نے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں جو اشعار کہے ہیں وہ عقیدت سے لبریز حقیقت پر مُبنی ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔
خطبوں سے علی ؑ کے خالق کے فرمان کی خوشبو آتی ہے
جب نہج بلاغہ پڑھتا ہوں قران کی خوشبو آتی ہے
قران کا ہر ایک پارہ ہے معمور علیؑ کی مدحت سے
ہر سورے سے ہر آیت سے عرفان کی خوشبو آتی ہے
یہ سچ ہے علی کا چہرا ہی اللہ کا چہرا ہے لیکن
چہرے کے پسینے سے خونِ عمران کی خوشبو آتی ہے
حیدر کی ولادت سے پہلے قبضہ تھا بتوں کا کعبے پر
اب کعبے کی دیوارں سے ایمان کی خوشبو آتی ہے
ہاں اوڑھ کے مرسل کی چادر جو ہجرت کی شب سویا تھا
بستر کے محمد کے اب اُس ذیشان کی خوشبو آتی ہے
جناب مضطر جونپوری نے اپنے قصائد میں آئمۂ اہلبیتؑ کی مدح سرائی کے ساتھ بنی امیۂ کی اسلام دشمنی مکّاری اور منافقت کو بھی بڑے سلیقے سے طشت  از بام کیا ہے، وہ کہتے ہیں ۔
صلح فرمائی حسن ؑ نے اک نئے انداز کی
توڑ دی قوّت سیاست کے پرے پرواز کی
ہو گئی واضح حقیقت سلطنت کے راز کی دھجّیاں کیا کیا اُڑیں  دامانِ بدعت ساز کی
 فکر خاطی شاملِ اسلام ہو سکتی نہیں
ایک ہے صلح حدیبۂ ہو یا صلح حسنؑ
ہے امات سے عیاں صاف رسالت کا چلن
ہو گئی شرطوں میں ضم شام کی تاریخ کہن
جس نے تیار کیا ہر اموی کا مدفن
اب حریفوں  نے  تیری صلح کے تیور سمجھے
یوں تو آپ کے اشعار سے تمام معصومین ؑ سے گہری عقیدت کا اظہار ہوتا ہے لیکن سید الشہدؑا حضرت امام حسینؑ اور وقت کے امام عجل اللہ فرجہ سے بے حد والیہانہ الفت کا انکشاف ہوتا ہے۔ اگر حسینؑ کی کسی کے دل میں محبت نہیں پائی جاتی تو اسے انسانیت سے خارج سمجھا جائے۔
بس وہی انسان با توقیر ہے
جسکے دل میں الفت شبّیر ہے
مدح سرور ؑ میں ہماری شاعری
عشق کے قران کی تفسیر ہے
چشمِ ابراہیم اور روئے حسینؑ
خواب ہے اور خواب کی تعبیر ہے
آپکی الفت اگر دل میں نہ ہو
یہ جہاں غم خانۂ تعزیر ہے
مٹ نہیں سکتا مٹانے سے کبھی
یہ غمِ شبّیر عالمگیر ہے
آخر میں مضطر صاحب کے ولئی عصر کے قصائد سے چند اشعار پیش کرکے قصیدے پر اپنے تبصرے کا سلسلہ تمام کر رہا ہوں۔ شاعرکی تمنّا ہے کہ زمانے کا امام اور رہبر جلد ظہور کرے تاکہ دنیا میں پھیلی ہوئی دہشت گردی اور انتشار ختم ہو ظلمت مٹے اور حق و انصاف کا دنیا میں پرچم لہرائے۔ ملاحضہ ہو۔
ظلمتِ کفر مٹے صبح کا جلوہ دیکھیں
حق و انصاف کا دنیا میں اجالا دیکھیں
ابھرے دیوار حرم سے جو وہ خورشید مبیں
ہم بھی اک بار زمانے میں سویرا دیکھیں
اب تو اس دل کو بھی موجوں کی طرح چین نہیں
راستہ آپکا کب تک میرے مولا دیکھیں
ابن مریم کی جبیں ہے قدم مولا پر
ہیں جو عسائی وہ عیسیٰ کا عقیدہ دیکھیں
آج تو چارمصلّے ہیں حرم میں لیکن
آپ آجائیں تو ہم ایک مصلہ دیکھیں
مضطر جونپوری نے جس طرح قصیدہ گوئی میں اپنی فنّی مہارت اور علمی صلاحیت کا اظہار کیا ہے اسی طرح  ُانکے مرا  ثی میں تمامتر خوبیاں موجود ہیں انھوں نے متّعدد عنوان سے مرثیے کہے ہیں جو شائع بھی ہو چکے ہیں۔ آپ کا معرکہ آرا مرثیہ “سر چشمۂ تجلّیٔ کون و مکاں ہے علم” سرکارِ وفا حضرت ابو الفضل العباّسؑ کے حال کا بہترین مرثیہ ہے جسمیں عظمتِ علم پر اپنے قلم کو جولاں کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں علم کی جلوہ نمائی ہے جو ازل سے بحرِ بے کراں کی طرح جاری و ساری ہے، ملاحظہ ہوں چند بند:
سر چشمۂ تجلی ٔ  کون و مکاں ہے علم
جاری ہے جو ازل سے وہ موجِ رواں ہے علم
دریائے بے کنار ہے اور بے کراں ہے علم
طوفاں ہے وقت ساحل ِ امن و اماں ہے علم
ساحل سے اسکے ابر جو اُٹھ کر برستے ہیں
ہر دامنِ حیات پہ گوہر برستے ہیں
انسانیت کا باغ اسی سے ہے پر بہار اثمارِ فیض بخش کا اسکے نہیں شمار
جناب مضطر جونپوری نے علم کی اہمیت کو قران حدیث اور آلِ محمدؑ کے اقوال کے پس منظر میں پیش کرکے مرثیے کو وقار بخشا ہے۔ کہتے ہیں
ہے علم ہی خدا کی قسم عزّت عظیم
ہے علم ہی سے معرفتِ خالق قدیم
ہے علم ہی چراغ ِ سرِ راہِ مستقیم
اسکے شرف کا کوئی نہی دہر میں سہیم
جلوہ طرازِ عالمِ ایجاد بن گیا
آدم کے انتخاب کی بنیاد بن گیا
عالم میں اہلِ علم کا کوئی نہی جواب
ہوتے رہے یہ حق کی نیابت سے فیضیاب
ممکن نہیں کہ انکے فضائل کا ہو حساب
خالق سے راسیخون کا انکو ملا خطاب
بیٹھے ہوئیے ہیں سائے میں اُمّ الکتاب
کےہیں یہ سفیر شاہِ ولائت مأب کے
وہ کہتے ہیں کہ علم ہی کی بدولت ایک عالم بلند مقام پر پہیچتا ہے اور نبی و امام کے بعد اسکا درجہ ہوتا ہے، جس کی تصدیق معصوم کی حدیث کرتی ہے کہ ہمارے علماء بنی اسرایل کے بنیوں سے بہتر ہیں۔
تقویٰ زرہ ہے انکی کرم انکی ہے سپر مرکب ہے زہد حسن عمل انکی رہ گزر
قبضہ میں انکے حلم کی ہے تیغِ شعلہ ور
نیزہ ہے انکا خوفِ خدا ہے ورع تبر
شارع یہی ہیں مفتی اعلیٰ مقام ہیں
انسے جو ہیں بلند نبی یا امام ہیں
گو باب ِ شہر علم کے ذرّوں میں ہے شمار
م نامِ مرتضیٰؔ ہے کوئی انمیں حق شعار
سب ہیں مفیدؔ خلق رضیؔ نفس و با وقار آداب مجلسی ؔکے درخشندہ شاہکار
تابندہ اجتہاد سے انکے ضمیر ہیں
دنیا میں یہ ولئی خدا کے سفیر ہیں
مرثیہ نگار اساتذہ نے مرثیہ کے جو اجزئے ترکیبی معین کئے ہیں اس کا بھی مضطر صاحب نے پورا خیال رکھا ہے، چنانچہ ساقی نامہ منظر نگاری، جذبات نگاری، حرب و ضرب کے سبھی لوازم کو اپنے مرثیہ میں جگہ دی ہے، ساقی نامۂ کے بند میں فرماتے ہیں
وہ مئے پلا جو نازشِ آبِ زُلال ہے
کعبہ میں جسکا بیٹھ کے پینا حلال ہے
جو رنگ و بو میں آپ ہی اپنی مثال ہے
وابستہ جس سے اہل سخن کا کمال ہے
قطروں میں جسکے جوشِ ولائے امیر ہے
قربان جس پر ساقیٔ بزمِ غدیر ہے
ساغر میں کائنات کے وحدت کی ہے شراب
مینا میں اہل بیتِ نبوتؑ کی ہے شراب
مخمور جس سے قلب ہے الفت کی شراب
بھائے نہ کیوں یہ اجر رسالت کی ہے شراب
ہم کیا ہیں جبرئیل سے میخوار پیتے ہیں
عیسیٰ نفس بھی پی کے اسی مئے کو جیتے ہیں
آدم سے قبل نور کے دامن میں یہ چھنی
ہر موج اسکی جلوہ خیر البشر بنی
ملتی ہے بس اُسی کو جو قسمت کا ہے دھنی
مفلس کو یہ بناتی ہے اک گھونٹ میں غنی
کم ظرف تھا جو دیکھ کے مئے کو بہک گیا
سلماں نے پی تو انکا مقدر چمک گیا
یہ ذہن نشیں رہے کہ جنگ کربلا جنگ فرقان تھی جس نے حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط کھینچ دیا ہے ، خلافت کے نام پر حکومت سازی نے دینِ محمد کو اس سرحد پر لاکر کھڑا کر دیا تھا کہ رسولِ اسلامؐ کے حقیقی وارث سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا جانے لگا، پابند مشیعت حسین ابن علیؑ گزشتہ ۴۰ برسوں سے نانا محمد عربیؐ کی طرح جہاد اکبر کر رہے تھے جس میں ناناﷺ کی شہادت کے فوراََ بعد کبھی ماں کی پسلیاں ٹوٹتی دیکھیں کبھی باپؑ کے گلے میں شرپسندوں کا پھندا دیکھا مسجد کوفہ میں نماز صبح کے وقت تلوار کی ضربت سے باپ کی شہادت دیکھی مدینہ میں بھائی حسنؑ کی زہر سے شہادت اور جنازے پر ظالموں کی تیر بارانی دیکھی۔ غرض کہ ظلم و ستم اور دہشت گردی کا یہ طویل سلسلہ خلافت کے نام پر برابر جاری رہا ، حضر ت امام حسینؑ یہ تمام اذیتیں برداشت کرتے رہے لیکن مظہر صفات الہیٰ کے حامل محمد ؐ و علیؑ کے حقیقی وارث نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا جبکہ آپکے پاس بنی ہاشم کے بہادر جوان محمدِحنیفہ بن علیؑ عبد اللہ ابن جعفر عباس ابن حیدر جیسے سپہ سالار موجود تھے جنہیں امام حسینؑ صبر کی برابر تلقین کرتے رہے اور وقت آنے پر اسکا جواب دینے کے لیے سمجھاتے رہے اور عباس ؑ کو بھی پاب کی وصیت کے مطابق کربلا کی جنگ کے لئے تیار رہنے کی طرف متوجہ کرتے رہے، عبّاس ؑ نے بھی اپنے باپ کی وصیت کو فرمان ِ الہیٰ کی طرح دل و دماغ میں موجزن رکھا، چنانچہ جناب عبّاسؑ نے اس کے بعد امام حسینؑ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا اور آخری لمحہ تک جسم کے سایہ کی طرح انکے ہمراہ رہے شاعر نے جنابِ عبّاسؑ کی اس والیہانہ محبّت کو اپنے مرثیہ کا خاص موضوع سخن بنایا ہے، مضطر جونپوری کہتے ہیں۔
عبّاسؑ صبر و شکر و شرافت کا نام ہے عصمت سے اتّصا لیِ سیرت کا نام ہے
عبّاسؑ شیر حق کی جلالت کا نام ہے
عبّاس ؑ مرتضیٰ کی شجاعت کا نام ہے
عبّا س نام آرزوئے مرتضیٰ کا ہے
عبّاس ؑ نام نصرت دینِ خدا کا ہے
یہ نام نازشِ بشریت کا نام ہےاک نقطہء کمالِ محبت کا نام ہے
مقصود زندگی کی نہایت کا نام ہےپروانہ ٔ جمالِ امامت کا نام ہے
عبّاسؑ نام ہے شہ دیں کے ثبات کادل اس کا آینہ ہے حسینی صفات کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھے گا کون عاشقِ سرور کا مرتبہاعلیٰ ہے ابن فاتح خیبر کا مرتبہ
پہلے سمجھ حسینؑ کے لشکر کا مرتبہپھردیکھ اس کے قائد اکبر کا مرتبہ
جرأت میں نازِ فاتح بدرو حنین ہےاس کے علم کے سایہ میں فوج حسین ؑ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حقیت ہے کہ کربلا کی جنگ میں جناب ابولفضل العباس کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے ایک طرف امام حسینؑ کا ایک چھوٹا سا لشکر جس میں کل ۷۲ سپاہی علی اصغر ؑ جیسا چھ ماہ کا ننّھا سپاہی۸۰ سال کا بوڑھا مجاہد مسلم ابن عوسجہ جو حق و صداقت کو زندہ رکھنے کے لئے عازم پیکار تھے اور دوسری طرف عرب کے خونخوار اور تجربہ کار دہشت گرد فوجی جو متعدد جنگ میں علیؑ کے ہاتھوں سے شکست کھائے اپنے بزرگوں کا بدلہ لینے کے لیے اکٹھّا کئے گے تھے لیکن انکی تمام سازشوں کو علم دارِ حسینی عباسؑ ابن حیدر ؑ نے ناکام بنا دیا تھا، حقیقت بھی ہے کہ آپکی شجاعت سے لشکر یزیدی بیحد خوف زدہ تھا چنانچہ امام حسینؑ کی اجازت سے آپ بچّوں کی پیاس بجھانے کی غرض سے اپنی چہیتی بھتیجی سکینہ ؑ کی خواہش کے مطابق سوکھی مشک لیکر فرات کی جانب صرف بڑھے ہی تھے کہ یزیدی فوج جو فرات پر پرا باندھے مسلح کھڑی تھی بھاگ کھڑی ہوئی مضطر صاحب کہتے ہیں
عباّس کا جہاد تھا کیا منفرد جہادروحِ رسولؐ دیکھ کے ہوتی تھی جس کو شاد
لرزاں تھا اسکے سامنے ہر بانیٔ فساددیتی تھی ضرب تیغ پر خندق کی ضرب داد
بپھرا ہوا جو فاتح خیبر کا شیر تھاہر اک قدم پر دشت میں لاشوں کا ڈھیر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹکڑے کیا ستم کے نشانِ بلند کودے دی شکت لشکر ایذا پسند کو
روکا فرات پر فرسِ درد مند کوپینے اک اذن دے دیا پیاسے سمند کو
تھا باوفا کو عشق جو راکب کی ذات سےاسنے بھی منھ پھرا لیا آبِ فرات سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقتل بیان کرتا ہے کہ فرض شناس راکب و مرکب دونوں نے فرات پر قبضہ کرنے کے بعد بھی پانی نہیں پیا شاعر نے راکب و مرکب کے جزبات کی منظر کشی بڑے ہی دل دوزانداز میں کی ہے۔
تھا قلب میں خیال جو بچّوں کی پیاس کاجاری تھا اسکی آنکھوں سے اشکوں کا سلسلہ
راکب نے جھک کے نہر سے مشکیزہ بھر لیامرکب نے سوئے خیمہ شبّیر رخ کیا
اے باوفا کے اسپِ وفادار مرحبااے کربلا کے پیاسوں کے غمخوار مرحبا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشکیزہ اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے شیرسر چشمۂ حیات لیے جا رہا ہے شیر
غل تھا کہ کائنات لئے جا رہا ہے شیرمیدان سے فرات لئے جا رہاہے شیر
پہونچا قریب نخل تو تازہ ستم ہواتیغِ جفا سے داہنا شانہ قلم ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرثیہ میں بین مجلس کا مآلِ مقصد ہوتا ہے ایک بھائی کی ایک بھائی سے جو دلی محبت ہونی چاہئے اسکی منظر کشی شاعر نے بڑے دلگداز اندازمیں کی ہے۔
عبّاس ِ نامور کے سرہانے جو پہنچے شاہفرطِ علم سے اور بھی حالت ہوئی تباہ
زخموں سے چور چور تھا ام البنیں کا ماہزانو پہ سر جو بھائی کا رکھا تو کی اک آہ
قطرے لہو کے روئے علم دار پر گرےبھائی کے اشک بھائی کے رخسار پر گرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیا جو غش سے ہوش میں غازیٔ ذی وقارزانوئے شہہ سے سر کو ہٹایا بہ اضطرار
جلتی زمیں پر رکھ دیا سر ہوکے بے قرارشہہ بولے حال کیا ہے کہو میرے غم گسار
زانو سے سر ہٹانے کا بھائی سبب ہے کیاکڑھتا ہے دل سناؤ تو رنج تعب ہے کیا
عبّا س ؑنے تڑپ کے کہا ائے شہہ انامآقا پہ جان دے کے ہوا سرخرو غلام
میں جیتے جی نہ کر سکا پانی کا انتظامشرمندہ ہوں میں بالی سکینہ سے یا امام
گرمیری لاش خیمہ اقدس میں جائییگیپیاسوں کے بین سن کے مجھے شرم آئے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضطر جونپوری نے ایک باوفا بھائی کی محبت اور اسکی بیکسی کی جو منظر کشی کی ہے وہ سامع کے دل کو تڑپا دیتی ہے
بخشی ہمیشہ آپ نے نظروں کو آبروسینہ میں ہے زیارت ِ مولا کی آرزو
محرومِ دید پھر بھی ہوں ہوں گرچہ روبروہے تیر ایک آنکھ میں اک آنکھ میں لہو
دست کرم نہ ہو جو مددگار آپکامر جائیگا یہ تشنۂ دیدار اپ کا
پوچھا لہو جو شاہ نے بھائی کی آنکھ کادشوار مرحلہ جو تھا آسان ہو گیا
تھا سامنے نظر کے رخِ سبطِ مصطفیٰخوش ہوکے مسکرا دیے عبّاس ِ با وفا
دل کو ملا سکون علم دور ہو گئے
     مقتل کی گرم ریت پہ عباس سو گئے
پیاسوں کی تھی جو آس وہ سقّا گزر گیاجو فاتح فرات تھا پیاسا گزر گیا
بہنوں کے دل کا تھا جو سہارا گزر گیاایسا دل حسینؑ پر صدمہ گزر گیا
     فرطِ علم سے سانس بھی رک رک کے رہ گئی
    غم  کا  گرا  پہاڑ  کمر  جھک کے  رہ گئی
مضطر ؔ اُٹھایا شہہ نے جو عبّاس کا علمتھرّائے ہاتھ زور ہوا بازؤں کا کم
جنبش میں تھی زمین کہ اُٹھتے نہ تھے قدمتھے مضطرب حسینؑ سرِ وادئی الم
چاروں طرف جو درد غم و یاس چھا گیا
بے ساختہ  زبان پہ عبّاس  ؑ آگیا
(ڈاکٹر) سید محمد عباس رضوی
سابق ڈپٹی دائرکٹر انفارمیشن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular