آیت الله سید حمید الحسن

مدارس کیلئے وسیم رضوی کا بیان افسوسناک ہے خاص طور سے اس لئے کہ ایک مزہبی ادارے وقف بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر رہتے ہوئے یہ بیان دیا گیا ہے۔
یہ مدارس ہماری دینی، فقہی، قرآنی، ثقافتی، تاریخی اور سماجی زندگی کے ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کے مرکز ہیں۔ ان کی مثال پڑوسی دہشت گردی کے تربیتی مرکزوں سے دینا غلط ہے ان کی مثال نجف اشرف (عراق) قم مقدس (ایران) الازہر یونیورسٹی (مصر) ریاض یونیورسٹی (سعودیہ) سے دنیا معیار فکر کو ظہار کرے گا۔
شیعہ پی جی کالج لکھنؤ، شیعہ کالج جون پور، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، طبیہ کالج دہلی، سب ہی مولوی حضرات کے کارنامے ہیں۔ البتہ ملک کو ٹکڑے کردینے والے ضرور جدید تعلیمات کے بگڑے ہوئے کردار تھے جو کہ مولوی یا ملا حضرات نہیں تھے۔
میں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹرس کی امریکہ میں گرائے جانے والوں کیلئے بہت پہلے ای ٹی وی کی مجلس میں کہا تھا وہ ماہر پائلٹ و انجینئر تھے جو کہ مدارس میں نہیں بنائے جاتے۔ وسیم رضوی کیلئے بہتر ہوگا وہ اپنے خیالات پر شرمندگی کا اظہار کریں۔
کانونٹ کی علیم اور مدارس کی تعلیم میں کوئی تضاد نہیں ہے مگر جو مولوی حضرات انجینئر یا ڈاکٹر یا سائنٹسٹ بھی بن جائیں گے پھر ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہوگا کہ وہ ہمارے بچوں کیلئے اسلامی تعلیمات بہم پہونچانے کا وقت نکالیں۔ مندر، چرچ، گرودواروں اور مساجد کا ایک نظام ہے جسے سب نہیں پورا کرسکتے اس کے لئے جو اس سے متعلق باخبر حضرات ہوتے ہیں وہی ان کی دائیگی کی ذمہ داری جپوری کرسکتے ہیں۔
ان مدارس کے معیار تعلیم کو بلند کرنے کی بات اور انہیں بند کردینے یا انہیں اسکولوں میں تبدیل کردینے میں بڑا فرق ہے۔ ڈر ہے کل ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جو کہیں گے اذانیں انگلش میں دینا چاہئیں نمازیں یہودیوں سے سیکھنا چاہئیں۔ اور مسلمانوں کے نکاح پریسٹ حضرات سے پڑھوانا بہت اچھا لے گا۔ ہمارا ملک ہم سب کے مل جل کر رہنے کا ایک چمن تھا اور چمن ہے۔ اسے گلدستہ مذاہب رہنے دیجئے۔
یاد رکھئے مزہب، دھرم ہمارے ملک ہمارے دیش کی شان ہیں۔ ہمارے دیش کو اپنے ملک کے مذہبی لوگوں سے خطرہ نہیں ہے اسے لامذہب اور ناستک لوگوں سے خطرہ تھا خطرہ رہے گا۔ یہ مدارس ہمارے دیش ہمارے ملک کی ایک تعلیمی و اخلاقی زندگی کا حصہ ہیں۔





