Friday, February 27, 2026
spot_img

محبت

شاہد رضی فیضی

محبت
میں اکثر سوچتا ہوں!
محبت نام ہے کس کا؟
محبت کس کو کہتے ہیں؟
محبت کیسی دکھتی ہے؟
محبت خشبو جیسی ہے
میں اِس کا معتقد نہ تھا!
محبت ریت جیسی ہے
میرا اپنا عقیدہ تھا!
اسے مٹھی میں بھر لوں گا
زمانے سے چھپا لوں گا
کبھی کھونے نہیں دوں گا
اسے اپنا بنا لوں گا
اسے محفوظ رکھوں گا
ہَوا کے تیز جھونکو سے
سمندر کے تھپیڑوں سے
اسے تکلیف نہ پہنچے
کبھی ذرّہ برابر بھی
اسی ڈر سے ہمیشہ مٹھی
میں نے بند رکھی تھی
مگر جب مٹھیاںکھولیں
تو میرے ہاتھ خالی تھے
میرے اعضا سوالی تھے

رسرچ اسکالر،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular