Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldقومی تناظر میں اہلِ قلم کا کردار

قومی تناظر میں اہلِ قلم کا کردار

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

محمد آصف ظہوری
اس موضوع کا بنیادی تعلق تو انسان اور اس کی ذمے داریوں سے ہے لیکن ذمہ داریوں کا شعور دینے والے اور مثبت انسانی روایات کو زندہ رکھنے والے تمام ادارے اس موضوع سے جڑے ہوئے ہیں۔ اہلِ قلم کا اشارہ کرکے اس بات کو جاننے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اگرلکھنے پڑھنے والے دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں تو ان کے فکروعمل میں انسانی شعوروآگہی کی وہ کون سی صورتیں جو اظہارپاکر قوموں ، نسلوں ، اور معاشروں کو مثبت اقدارسے وابستہ رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے شمیم احمد نے لکھا ہے کہ ’’جب بھی میں نے ادیب کی ذمے داری پر گراں قدر مقالے اور تحریریں پڑھی ہیں تو مجھے یہی احساس ہوا ہے کہ اس مسئلے پر لکھنے والے کی نظر مین ادیب انسان تو انسان آدمی بھی نہیں ہے بلکہ ایک بندر یا گوریلا ہے جس کو اس کی ذمے داری کا احساس دلائے بغیر تہذیب و تمدن کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ کم ا زکم ان تحریروں سے اتنا تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ادیب ایک غیر تربیت یافتہ اور نیم وحشی مخلوق ہے جس کو زندگی معاشرت اور تخلیقی عوام کے اسرار و رموز بتانے ضروری ہیں۔‘‘
اہل قلم کی اہمیت کے بارے میں بھی بہت سی باتیں کہی جا چکی ہیں کہ شعرو ادب کا رِ پیغمبری ہے یا تخلیق کار روحوں اور ذہنوں کی تعمیر کرے والے ہوتے ہیں۔ مذہبی کتابوں اور آسمانی صحیفوں کے بعد انسانیت کی سب سے بڑی اہمیت اور سب سے بڑی قوت اہل قلم ہی کو مانا گیا ہے۔ اس طرح زندگی اور کائنا ت کے ارتقاء میں ہر مہذب عہد اور ہر متمدن دور کے درمیان وہی لوگ تاریخ کا حصہ رہے ہیں جو مذہب کو ، قانون کو، فلسفے کو، ادب کو اور سائنس کو پیش کرنے والے تھے۔ اہل قلم کا وجود پورے معاشرے اور پوری کائنات میں نئے سوال پیدا کرتا ہے ۔ صاحبِ قلم اپنی قوم کا ایک جیتا جاگتا نمائندہ وجود ہوتا ہے۔ اس کی خواہشیں ، اس کے خواب ، اس کی کمزوریاں وہی ہوتی ہیں جو معاشرے کے دوسرے افراد کی ہوسکتی ہیں  البتہ اس میں ایک رنگ زیادہ ہوتاہ ے کہ وہ چیزوں کو ، واقعات کو ، اجتماعی محسوسات کو معاشرتی طرزِ احساس کو اور روح عصر کو اپنے ذاتی جوہر کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ یہی انفرادی جوہر اس کی تخلیقات میں ادبی اقدار کو پیش کرتا ہے۔ صاحبِ قلم کا انفرادی جوہر اس کو ہمیشہ زندہ اور تروتازہ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔تاریخی شعورکو اہل قلم ہی زندہ اور متحرک رکھتے ہیں اور کسی قوم کے آدرش میں یا اس کے آئیڈیل میں اہل قلم کا پیش کردہ تاریخی شعور ہی موجود رہتاہے۔ اہل قلم براہ راست کوئی تحریک نہیں لاتے مگر نئے خواب اور تازہ خواہشیں تخلیق کرتے رہتے ہیںجو زندہ قوموں کی کردار سازی کے حوالے سے اپنی تکمیل تک پہنچتی ہے ۔ اگر پچھلے ڈیڑھ سو برس کی ہندوستانی ادبی، سماجی اور سیاسی تاریخ کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ غالب، حالی اور سرسیدسے اقبال تک اور پھر پاکستان کی تخلیق تک اہلِ قلم نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بیشتر حصے شکست دینے والا وہ ذہن اور وہ روح تعمیر کی جو تحریک آزادی اور تخلیق پاکستان کا سبب بنی۔ اس منظر نامے میں چند ایسے بڑے رہنما شریک رہے جن کی ادبی اور تخلیقی شہرت نے انہیں ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ ان میں مولانا محمد علی جوہر، حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، بہادریار جنگ، سردارعبدالرب نشتر اور کئی اہم نام شامل ہیں۔
بیسویں صدی کے ابتدائی 50 برسوں میںہندوستان کے بیشتر اہل قلم وہی لکھنے کی کوشش کررہے تھے جو ہندوستان کے عوام کی خواہش اور ضرورتوں کے مطابق تھا۔ یہ سبب ہے کہ افسانہ نگار ،ڈرامہ نویس ، شاعر یا نقاد جو کچھ پیش کردیتا لوگ اسے قبول بھی کرتے اور اسے اہمیت بھی دیتے۔ اس طرح اجتماعی جذبے اور اجتماعی افکار، تخلیقی فن پاروں میں اظہار پاتے رہے لیکن پچھلی صدی کے آخری پچاس سال خصوصیت کے ساتھ پاکستان میں کچھ اس انداز سے گزرے کہ عوامی راستے بنارکھے تھے۔۶۰ کی دہائی میں ادب کے مرجانے کی آواز لگائی گئی اور ایسا محسوس ہوا کہ اجلی آنکھوں نے روشنیوں کے جو خواب دیکھے تھے وہ سب پر چھائیوں میں بدل گئے تھے۔ محمد حسن عسکری سے فیض احمد فیض تک سب ہی اپنے لمحہ مجود سے مایوس ہوئے پھر اس یا سیت کو ایک طویل تسلسل ملتا چلا گیاجس کے درمیان ہجرت، بے گھری، اجنبیت، عداوتاور نفرت کے طاغوت زندگی کے راستوں میں ایستادہ ہونے لگے۔ اہل قلم نے جب عوام سے اپنے تعلق کو کم ہوتے ہوئے دیکھا تو نئے تخلیقی تجربوں کی تازگی پر سوچنے لگے جس ک عذاب و ثواب ہماری ادبی اور سماجی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
موجودہ سیاسی و سماجی تناظر میں اہلِ قلم کی وہ آواز اور ان کو وہ اظہارجو کبھی گہرے دریا کی طرح تھا، پایاب ہوگیا اور پاکستان کے رہنے والے اہل قلم کو غیر اہم اور غیر ضوری چیزون کی طرح سمجھنے لگے۔ کتاب کا چھپنا مگر نہ پڑھا جانا، ادبی جریدوں کا دھیرے دھیرے بند ہوجانا اس بات کی بڑی گواہی ہے کہ ادبی و تخلیقی تحریرون سے اور اہل قلم سے عوام کا رشتہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں لیکن اس بڑے آشوب کا سب سے بڑسبب کتاب کلچر کا ختم ہوجانا اور خواندگی میں اضافہ نہ ہونا ہے۔ ہم سب ا س بڑے نقصان کے نوحہ گر ہیں اور جانتے ہیں کہ سرمایہ داروں نے اور وڈیراشاہی نے کتاب کو عوام کے سچے ہاتھوں سے چھین کر اپنے درباروں اورا پنے شیش محلوں میں دفن کردیا ہے تاکہ عوامی آنکھوں میں تازہ خوابوں کے رنگ اور زندہ دھڑکنوں میں نئے خواہشوں کی خوشبوئیں پیدا نہ ہوسکیں۔
ان مشکل حالات میں اس سوال کا اٹھانا کہ قومی تناظرمیں اہل قلم کے کردار کو دیکھا جائے، وقت کی ایسی ضرورت ہے جو اپنی پوری اہمیت کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہے کہ آج سے پہلے بھی اس کی ایسی ضرورت نہیں پڑی ہوگی۔ میں ادب کے مرنے کی خبر کو محمل سمجھتا ہوں جو سچے تخلیق کارون کو مایوس کرنے اور ان کے حوصلوں کو پست کرنے کیلئے سرمایہ دار اور وڈیراشاہی کا پالن ہارہی پھیلا سکتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہمارے درمیان قومی تشخص کا کوئی تصور اور اجتماعی انسانی روح کی کوئی آگہی موجود ہے تو ہر عہد کی طرح ہمارے جدید اہل قلم بھی نئی آنکھیں، تازہ خواہشیں اور باحوصلہ جذبوں کی تخلیق کرتے ہوئے زندگی کے بہتریں معیاراتک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیںگے ۔
asifzahoori786@gmail.com
0333-4937670
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular