غلام نبی کمار

خطۂ کشمیر کے مایہ ناز شاعروں میں ایک اہم نام پرویز مانوس کا ہے۔جوگزشتہ کئی برسوں سے جنتِ کشمیر کی ادبی و تخلیقی زمین کو زرخیز کرنے میں محو ِعمل نظر آتے ہیں۔انھوں نے جموں وکشمیر کا ہر خطہ اور ہر ایک علاقہ دیکھا،ان تمام خِطوں اور علاقوںکا تہذیب و تمدن اور رہن سہن دیکھا،یہاں کے لوگوں کا مزاج اور کردار دیکھا نیز ان کی زبان کو سمجھا۔پرویز مانوس ایک حسّاس اور دردمند فن کار ہیں ۔اسی حسّاسیت اور دردمندی نے انہیں یہاں کے لوگوں کے حال و احوال،جذبات و محسوسات ، افکار و خیالات اور دکھ درد سے آشنا ہونے کا موقع فراہم کیا۔پرویز مانوس کی سوچ اور ان کا ذہن کشمیر کی مظلوم قوم کے مزاج اور کردار و افعال سے مانوس اور میل کھاتا نظر آتا ہے ،شاید اسی وجہ سے انھوں نے اپنا تخلص مانوس اختیار کیا ہو۔پرویز مانوس ایک پیدائشی تخلیق کار ہیں۔اس لیے ان میں تخلیقی صلاحیت فطری طور پر موجود ہے۔وہ فطرت و قدرت اور عصری تقاضوں کے مطابق شاعری کرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتران کے شعوری وجدان پر عصری حالات غالب ہوجاتے ہیں جنہیں وہ اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں اور شعری قالب میں ڈھالتے رہتے ہیں۔وہ غیر فطری اور غیر شعوری طور پر شاعری کرنے والوں کی فہرست میں شمار نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی تُک بندی موصوف کی فطرت میں ہے۔چنانچہ پرویز مانوس کی شاعری میں وہ درد،وہ جذبہ اور وہ احساس سمٹ آیا ہے جواسے قاری کے قریب تر کر دیتا ہے۔دراصل یہی چیز کامیاب شاعر کی ضمانت دیتی ہے۔پرویز مانوس راست بیانیہ کے شاعر ہیں۔وہ بے بیکانہ لہجے میں شعر کہتے ہیں جس میں سچے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔
پرویز مانوس ہمہ جہت و ہمہ رنگ شاعر ہیں۔وہ بیک وقت کئی اصناف پر دسترس رکھتے ہیں۔کشمیرکے اردو شعرا میں وہ ایک معتبر نام ہے۔انھوں نے افسانے بھی لکھے ہیں اورترجمہ نگاری میں بھی موصوف کمال کا عبور رکھتے ہیں۔پرویز مانوس نے ڈراما نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔وہ میدانِ ادب اطفال کے بھی ماہر ہیں۔جس میں ان کی بچوںپر نظموں اور کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ اگر پرویز مانوس کی لِسانی جہت کے تعلق سے گفتگو کی جائے تو وہ اس معاملے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔وہ اردو،انگریزی،پہاڑی ،کشمیری اور پنجابی زبانیں جانتے ہیں اور ان میں خامہ فرسائی بھی کرتے ہیں۔پرویز مانوس کے اب تک چار شعری مجموعے منظر ِ عام پر آچکے ہیں جس میں ’’بیتے لمحوں کی سوغات‘‘،’’موسم اڑان کا‘‘،’’چاند‘لمس‘گلاب‘‘اور زیر نظر مجموعہ’’فصیلِ شہر سے‘‘قابل ذکر ہے۔بچوں کے لیے لکھی گئی ان کی شعری تصانیف میں’’چندا ماما دُور کے‘‘ اہم ہے۔اس کے علاوہ اردو میں پرویز مانوس کے کئی افسانوی مجموعے اور اردو میں ہی کئی زبانوں کے تراجم پر مبنی کتابیں بھی شامل ہیںجو اس کثیر الجہت شخصیت کی ادبی خدمات کی غماز ہیں۔
پرویز مانوس ایک زود گو شاعر ہیں اورزود گوئی میں کشمیر کے موجودہ اردو شاعروں میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔اردو کے شعری میدان میں ایسے شاعروں کی بھی کمی نہیں ہے جو اپنی دنیاوی مصروفیت یا کاہلی کے سبب بہت کم لکھ پاتے ہیں اس لیے وہ عمر بھر نہایت قلیل شعری سرمایے کولے کر جیتے ہیں اور اسی کو سند کا درجہ دلانے میں ہمیشہ تگ و دو میں رہتے ہیں ۔ایسے شاعر خداداد صلاحیت کے مالک ،غور و فکر اور تدبر کے حامل نیز دن رات محنت و ریاضت میں صرف کرنے والے زود گو شعرا کی شاعری پر انگلی اُٹھاتے ہیں کیونکہ وہ ان سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہوتے ہیں۔اس خیال اور وہم میں جینے والے شاعر کبھی کامیاب کی سیڑھی نہیں چڑھتے سکتے۔جموں وکشمیرکے کثیر اللسانی،کثیر التصانیف اور متنوع جہت کے بزرگ اور نوجوان اردو شعرا میں پرویز مانوس بھی شمار ہوتے ہیں ۔جو یہاں کے ادّبی حلقے میں بے حد مقبول بھی ہیں۔پرویز مانوس تواتر کے ساتھ شعر کہتے ہیں ۔ان کا لہجہ معتدلانہ اور متوازن انداز کا ہے جس میں وہ یکساں انداز تخاطب کو برتتے ہیں۔پرویز مانوس ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر ہیں وہ عصری حالات و واقعات کو بیشتر اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔
پرویز مانوس’’فصیلِ شہر سے‘‘کے ورقِ گمشدہ کا شاعر ہے۔کیونکہ وہ ’’فصیلِ شہر سے‘‘صدا دیتے ہیں جہاں کے مظلوم اور بے بس لوگ دردوکرب کی زندگی گزارتے ہیں۔جن کے سروں پر آئے دن مصیبتوں کے پہاڑ اورخطرات کے کالے بادل منڈھلاتے رہتے ہیں۔اس معنوں میں پرویز مانوس کی شاعری یہاں کی مصیبت زدہ عوام کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے جو ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہورہے استحصال کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔’’فصیل شہر سے‘‘کا شاعر بہت جرأت مندانہ طریقے سے حق کی آواز بلند کرتا ہے۔راقم الحروف انہیں اس لیے ورقِ گمشدہ کا شاعر قرار دیتا ہے کیونکہ وہ کشمیر کے حسین و قدرتی مناظر کی تعریفات سے ہٹ کر ایک اہم عصری موضوع کو اُبھارتا ہے۔جس کے پیچھے یقینا ایک جرأت مند اور نڈر انسان کی شخصیت پنہاں ہے۔پرویز مانوس سماجی ،معاشرتی،اخلاقی اورسیاسی اقدار کی گراوٹ سے متعلق بیباکی اور ہنر مندی سے لکھتے ہیں ۔ظاہر ہے اس کے پسِ پشت بھی ایک تخلیق کار کی تخلیقی فن کاری ہی کام آتی ہے۔جس میں اسے مختلف فنّی امور کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔وہ اپنی شاعری کو استعاروں ،علامتوں اور تشبہیوں کے ذریعے بھی قاری تک پہنچاتے ہیں لیکن موجودہ عہد کا ہر انسان چونکہ ان مسائل سے خود بھی جوجھ رہا ہے اس لیے شاعری میں اشاروں کنایوں کے ذریعے کی گئی باتیں بھی اس کے دل و دماغ پر بھار معلوم نہیں ہوتیں۔اس طرح شاعری کے صحیح مفہوم کی ترسیل قاری تک بہ آسانی ہوجاتی ہے۔ ’’فصیلِ شہر سے‘‘پرویز مانوس کا غزلوں پر مبنی مجموعہ ہے۔جس کی تمام غزلیں قاری کو اپنی توجہ کا مرکز بناتی ہیں۔مانوسؔ کی شاعری سے چند شعر قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔ان اشعار سے ان کے شعری اختصاص اور موضوع سے بخوبی آگہی حاصل ہوتی ہے ملاحظہ فرمائیں ؎
کچھ صدائیں اُٹھتی ہیں اکثر ‘ فصیلِ شہر سے
دیکھتے ہیں روز اجڑے گھر فصیلِ شہر سے
ہوگئی ہے سُرخ ہر چھت بستیوں کی آج پھر
کس نے پھینکا موت کا خنجر فصیلِ شہر سے
امیر شہر کرنے آگیا زخموں کا سودا
میں اپنے جسم کو کشمیر کرنے جا رہا ہوں
پھر سے مقتل بنی ہے وادیِ گلپوش آج
جابجا ہوتی ہیں سُونی ماؤں کی آغوش آج
پرویز مانوس کی شاعری میں درج بالاقسم کے متعدد اشعار ہیں جوان کی فکری ،فنّی اور موضوعی رنگ و آہنگ کا پتہ دیتے ہیں۔اس طرح کے یا ان جیسے دیگر اشعار کی روشنی میں یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگاکہ مانوسؔ کی شاعری میں حقیقی معنوں میں کشمیریت رچی بسی ہے۔ان کی شاعری کشمیری قوم کی کرب انگیزی کو بیان کرتی ہے۔پچھلی ساٹھ ستّر دہائیوں سے کشمیری عوام کو جس اذیت ناک زندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ سب مانوسؔ کی شاعری میں جلوہ گر ہواہے۔مانوسؔکی شاعری میں براہِ راست کشمیری حالات منعکس ہوئے ہیں۔ان کا شاعرانہ روّیہ انہیں اپنے معاصر شعرا سے الگ کرتا ہے اور جس احساس اور جذبہ و خیال کا اظہار ان کی شاعری میں ہوا ہے،شاید ہی آج تک اس نوعیت کے جذبات کا اظہار ریاست یا ریاست سے باہر کسی شاعر کے یہاںکشمیر کے تعلق سے بیان ہوئے ہوں۔اس وصفِ شاعری کی بدولت بھی وہ اپنے ہم عصر شعرا سے سبقت لے جاتے ہیں۔مانوسؔ نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے وہ انہیں بھیانک حالات کا چہرہ دیکھتے آئے ہیں۔ انھوں نے لوگوں کوجس طرح درد سہتے اورزخم جھیلتے دیکھا ہے اسی کی ہوبہو ،مکمل اوربھرپو تصویر اپنی شاعری کے ذریعے ابھاری ہے۔یہ مانوسؔ کی زندگی کا عبوری دور کہلاتاہے جس کی جھلک عصرِ حاضر میں بھی مسلسل دیکھنے کو مل رہی ہے اور یہ زمانہ واقعی میں مانوس ؔ کی زندگی میں ناقابل برداشت تھا۔
ان بھیانک یادوں اور لرزہ خیز واقعات کے چونکہ مانوسؔ خود بھی مشاہدہ کار ہیںاس لیے ان کے ذہن و دل پران بھیانک اور خوف ناک حادثوں کی جو تصویریں ثبت ہوئی ہیں ،اُن کا عکس مانوسؔ کی شاعری میں بخوبی نظر آجاتا ہے۔اردو میں بعض شعرائے کرام نے عشقیہ شاعری کی ہے اور بعض نے دورد و غم کی شاعری کی،بعض شعرا نے اپنی شاعری میں زندگی کے نشیب و فراز کو رقم کیا اور بعض کی شاعری محض احساس اور خیال تک محدود رہی۔اسی طرح بعض شعرا کے یہاں حقیقی اور مجازی دونوں رنگ ملتے ہیں۔پرویز مانوس ؔ کا وصف یہ ہے کہ ان کا خیال معاشرے سے پنپتا ہے اور جس معاشرے میں وہ سانس لے رہے ہیں وہ زخم خوردہ ہیں اور اذیت بھری زندگی سے دوچار ہے۔اس لیے ان کے یہاں احساس اور جذبہ درد سے معمور نظر آتا ہے۔جس کو وہ شعری سانچے میں ڈھال کر اجاگر کرتے ہیں۔مانوسؔ کی ایک غزل کے دو شعر ملاحظہ فرمائیے:
وہ میرے نام اشکوں کے سمندر بھیج دیتا ہے
گلابوں میں چُھپا کر درد اکثر بھیج دیتا ہے
جو قطرے کے لیے ترسا رہا تھا عمر بھر ہم کو
وہی اب قبر پرزم زم کی گاگر بھیج دیتا ہے
نہیں مانوسؔ انداز ہمارے عزم کا اس کو
سجا کے وردیوں میں جو ہمیں ڈر بھیج دیتا ہے
اس غزل کے باقی اشعار بھی معنی آفرینی سے پُر ہیں۔اس غزل میں کچھ شعر ایسے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کے کسی ایسے شخص کے ساتھ مراسم ہیں جس کے وہ بہت قریب ہے،جواس کا آشنا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی بھی ظاہر کرتا ہے ۔جو ایک طرف اپنے آپ کو امن و پیام کا پیمبرظاہر کرتا ہے تو وہیں دوسری طرف وہ ترقی و کامرانی اور شادمانی کا پیکر معلوم ہوتاہے۔لیکن حقیقت یا اصلیت زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رہتی۔ایک دن اس کا فاش ہوہی جاتا ہے کہ شاعر کی سلامتی اور ترقی کا خواہاں شخص دراصل اس کے پیٹھ پیچھے اس کی تباہی و بربادی کی منصوبہ بندی کررہا ہوتا ہے۔درحقیقت یہاں شاعر کسی انفرادی شخص کی اچھی بری شخصیت کو ظاہر کرنا نہیں چاہتابلکہ وہ علامت کے درپردہ آج کی انسانی فطرت کو طنز کا نشانہ بنا رہا ہے۔جو دورِ حاضر کی انسانی فطرت کا شیوہ بن گیا ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی میں اہمیت اور قدر نہ جان ا س کو مختلف قسم کی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچاتا رہتا ہے ۔ جبکہ دنیا میں اذیتیں پہنچا کر اس کی موت کے بعد وہ اپنے گناہوں کامداوا اورتوبہ کرنا چاہتا ہے۔اس کے برعکس اگر جیتے جی وہ اس حقیقت کو سمجھ پاتا تو وہ خوشی اور چین وسکون کی زندگی بسر کر سکتا تھا۔آخر الذکر شعر جو اس غزل کامقطع بھی ہے،میں شاعر نے وردیوںکے لفظ کو علامت کے طور پر بے حد خوبصورت انداز میں برتا ہے ۔کشمیر میںوردیوں سے متعلق مفہوم کو سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔مانوسؔ کی قوتِ فکر تخیل کی بلندی کو چھوتی ہے۔انھوں نے شاعری میں استعاروں اور علامتوں کی خوب دنیا آباد کی ہے۔ان بعض خصائص کی بنیاد پر وہ شاعری کو حسن اور چاشنی کی آمیزش سے خوبصورت استعارہ بنا دیتے ہیں۔پرویز مانوس ’’فصیلِ شہر سے‘‘کے تعلق سے اپنے اشعار میں قارئین سے یوں مخاطب ہیں:
یہ بستی خونچکاں ہونے لگی گر روز یونہی
ہنسیں گے بیٹھ کر آدم کی لاشوں پر ‘ پرندے
رونق بھرا جو شہر تھا ویران ہے کل سے
نرغے میں درندوں کے یہ زنداں ہے کل سے
کس کے خوں میں گہری ہے سرخی کس کا لہو ہے پانی سا
شہر کا شہر ہے ڈوبا جس میں ایسا مقتل دیکھ لیا
لہو سے ہر گلی رنگین ہے گلپوش وادی کی
اسے اب دیکھنے والے نگر کہنے سے ڈرتے ہیں
گجرات کی گلیوں کے منظر تھے بھیانک جب
شعلوں کے بھنور سے ہم گھر بار بچا لائے
پرویز مانوس کی شاعری کو احتجاجی شاعری کا نام دیں یا اسے مزاحمتی شاعری سے تعبیر کریں ،بات ایک ہی ہے کہ مانوسؔ ایک حقیقت پسند غزل گوشاعر ہیں ۔جو سچائی کو ابھارتے ہیں اور بڑی جرأت مندی سے اس کو مشتہر کرتے ہیں۔مانوسؔ حالات کا بغور اور فکر مندی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔موصوف شاعر نے وادی کے خون چکاں اور خوں بہا حالات کی مؤثر انداز میں عکاسی کی ہے۔مانوسؔ کی شاعری وادی کی ابتری اور بدحالی کی بہترین مثال ہے۔وہ قلم کو جنبش دیتے وقت زیادہ سوچتے نہیں اورایمانداری کے ساتھ سامنے کے حالات کو رقم کردیتے ہیں۔ان کی غزل گوئی میں خارجی اور باطنی کیفیات دونوں در آئی ہیں۔اس وجہ سے بھی ان کا قلم توانا ہوگیا ہے۔مانوسؔ کا ایک ایک شعر درد والم اور آہ بکا کی نم ناک داستان بیان کر تاہے۔وہ روز کی قتل و غارت گری اور ظلم و جبر دل سے برداشتہ ہوگئے ہیں ۔بے گناہ لوگوں کے قتلِ عام،شہروں کی ویرانی،انسانی جان و مال کے سوداگروں،سیاسی مکاروں،انسان کے روپ میں بہروپیوں،امیر ِ شہر کی بے حِسی اور تنگ دلی،بے شمار خاندانوں کے بجھتے چراغوں وغیرہ کو دیکھ کر شاعر کا دل اُکتا گیا ہے۔مذکورہ بالا کے علاوہ مانوس کی درجنوں غزلیں وادی کے دہشت خیز حالات کی عکاس ہیں۔مانوسؔ کی نظر صرف وادی تک ہی محدود نہیں ہے وہ دور اندیش شاعر ہیں ۔اس لیے وہ بین الاقوامی سطح کے حالات کو بھی وہ وقتاً فوقتاً زیر قلم لاتے رہتے ہیں۔گجرات کے سانحہ تک کو انھوںنے اپنے شاعری کا موضوع بنایا ہے۔جو تاریخ کے سیاہ ترین صفحات کا حصہ بن گیا ہے۔اس طرح کے کئی سیاہ صفحات کو مانوس نے پلٹا ہے اور قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے۔یہ مانوس ؔ کا انفرادی رنگ ہے اسی انفرادیت نے انہیں ورقِ گمشدہ کا شاعر بنا دیا۔چنانچہ وہ ان جیسے کئی اوراق کو پلٹنے کی بیباکانہ سعی کرتے ہیں۔مانوسؔ کی شاعری انسان کی عیاری اور مکاری سے بھی پردہ اٹھاتی ہے ۔وہ اپنے اشعار کے ذریعے یوں اس احساس کا اظہار کرتے ہیں:
رُسوا تجھے جو کرتا ہے مانوس
لانا نہ اس کا نام بھی اپنی زبان پر
نہ میں غربت سے ڈرتا ہوں نہ لاچاری سے ڈرتا ہوں
فقط اس دور کے آدم کی عیاری سے ڈرتا ہوں
عمر بھر کرتا رہا غصب جو حق لوگوں کا
وہ بھلا کیا کسی مفلس کو نوالے دے گا
پرویز مانوس نے دنیا اور یہاں کے لوگوں کو بہت خوبی سے پرکھا ہے۔انھوںنے لوگوں کے حرکات و سکنات،ان کی سوچ و فکراور افعال و کردارکا بڑی گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔وہ سب پر بے جاالزام عائد نہیں کرتے لیکن ان کی نظر میں ایسے مکار،جعلساز اور فریبی لوگوں کی دنیا میں کمی بھی نہیں ہے جو ہمیشہ سے سیدھے سادے لوگوں کو اپنی حرص و ہوس کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ اس سماج میں ایسے لوگ بھی ہیں جو معصوم اور بھلے لوگوں کو رسوا کرتے ہیں اور ان کا حق چھینتے رہتے ہیں۔یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی بھر لوگوں کو جھانسہ دے دے کر اپنا کام نکالتے رہتے ہیں۔دراصل مکاری اور فریب کاری کوان جھانسے باز لوگوں نے اپنی زندگی کا شیوہ بنایا ہوتا ہے۔مانوسؔ کا ان سب لوگوں سے واسطہ پڑا ہے۔اسی لیے وہ بے حد دیانت داری سے ان سب کو اپنی غزل کا موضوع بناتے ہیں۔مانوس نے انسانی زندگی کے بے شمار مسائل کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا ہے۔جس میں غربت و افلاس بھی ایک اہم موضوع ہے۔موصوف شاعر نے غریبوں اور مفلسوں کی درد انگیز ترجمانی کی ہے۔چند شعر دیکھئے:
مفلسوں کے گھر میں خوشیوں کا عجب انداز تھا
عید کے دن ان کی آنکھوں کو ہی نم دیکھا گیا
مُفلسی اس کو بہا کر لے گئی لہروں کے ساتھ
پھر بھی وہ ہمت سے دریا پار کرنا چاہتا ہے
گِر جاتے ہیں زرداروں کے جو خوانِ کرم سے
مُفلس کے یہاں اتنے بھی دانے نہیں ہوتے
وہ جب غریب کو محلوں کے خواب دیتا ہے
قدم قدم پہ نیا اضطراب دیتا ہے
امیر شہر کے بچے کھلونے توڑ دیتے ہیں
اگر مفلس کی قسمت میں بھی زر ہوتا ‘ تو کیا ہوتا
درج بالااشعار سے مانوس کی تخلیقی حِسیّت ،ذہنی اپج اور شعوری پختگی و دانستگی ظاہر ہوتی ہے۔انھوں نے شاعری کو محض ایک موضوع تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ وہ اسے جاویدانی بخشنے میں لگے ہوئے ہیں ۔شاعری کو جاویدانی تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب اس میں سماج کے ہر طبقۂ فکرکو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔یہ عنصر مانوسؔکی غزلوں میں ہمیں صاف نظر آسکتا ہے۔ہمارے یہاں ایسے شاعروں کی بھی کمی نہیں جواپنے آپ کو قد آور شاعر گردانتے ہیں علاوہ ازیںایسے شاعروں کی بھی ہمارے یہاں کثرت ہے جن کے اشعار قارئین کے ذہنوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔بالا تر اس معاملے میں کہ ان کے اشعار کا مفہوم سمجھنے سے قاری معذور ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے اشعار صحیح خیال کی تفہیم سے قاصر ہوتے ہیں۔جبکہ ان کے خیال میں ’’قاری کو تذبذب میں ڈالنے کا یہ خیال بھی اچھا ہے‘‘۔جب عام قاری جستجو کے بعد بھی ان کے اشعار کی تفہیم کرتے کرتے کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا تو وہ ایسی شاعری کو الہامی شاعری قرار دیتا ہے ۔اس وجہ سے کم تر شاعرکو برتر شاعر بنا دیا جاتا ہے۔پرویز مانوس نے سماج کے سب سے عام طبقے کو بھی اپنی غزلوں کا حصہ بنایا ہے۔انھوں نے مفلس و نادار ،مزدور و لاچار اور سماج کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کے دکھ دردتک کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔مانوسؔ کی غزلیں سچائی کا آئینہ ہیں جو ہمیں صحیح معاشرے کی تصویر دکھاتی ہیں۔مانوسؔ بزرگوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ۔وہ ان کے قد ،دعاؤں اور گھر میں ان کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں۔شاعر کی نظر میں بزرگوں کا اونچا مقام ہے۔مانوسؔ ایک گھر میں بزرگوں کی موجودگی کو باعث رحمت و فضیلت تصور کرتے ہیں۔اس ضمن میں بعض شعر دیکھئے:
جس گھر میں بزرگوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے
اُس گھر میں تو رحمت کے خزانے نہیں ہوتے
شہرت نہ قدم چُومتی ہرگز میرے یارو
ماں باپ کے فرمان جو مانے نہیں ہوتے
پرویز مانوس ایک دیدہ ور اور جہاں دیدہ شاعر ہیں۔وہ ایک گھر میں بزرگوں کی غیرموجودگی کے تعلق سے بڑی صاف گوئی سے لکھتے ہیں کہ وہ گھر رحمت کے خزانے سے محروم ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ اسی گھر کو اپنی رحمتوں اور فضیلتوں سے محروم رکھتا ہے جو گھر بزرگوں سے خالی ہو اور جس میں بزرگوں کی توہین کی جاتی ہو۔مانوسؔ بھی یہی کہتے ہیں اور واجب لفظوں میں حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی بھی شخص کی کامیابی کا راز اس کے والدین کی رضامندی اور فرمانبرداری میں مضمر ہے۔مطلب دھندلکا نہیں بلکہ صاف ہے کہ کامیابی اور شہرت اسی کے قدم چومتی ہے جو اپنے والدین کے رتبے اور مرتبے کو سمجھتانیز ان کا خدمت گزار بھی ہو۔مانوسؔ نے ایک عورت ،ایک ماں،ایک بیٹی،ایک بہن کے جذبات ،دردمندی اور شائستگی کو نہایت سلیقہ شعاری سے بیان کیا ہے۔مانوسؔ کے یہ شعر اس کی عمدہ مثال ہے:
باپ کے مرنے پہ بیٹے خوش ہوئے اس دور میں
ڈوب کر غم میں مگر کچھ بیٹیاں رونے لگیں
پھر سے اک ناداں ماں نے آج روٹی کے عوض
بھوکے بچوں کو تصور میں کھلائی چاندنی
درندے جھانکتے ہیں جب کبھی غربت کی وادی میں
وہ چھپر میں جواں بیٹی چھپانا بھول جاتا ہے
جان سکتا ہے کنواری بیٹیوں کا باپ ہی
کس قدر درد سمٹا ہے اس کی اک مُسکان میں
؎پرویز مانوس نے جہاں امیر شہر کی ہستی کی عیش پرستی اور امیر گھرانوں کی خوش حال زندگی کا ذکر کیا ہے وہیں موصوف نے نچلے طبقے کے جونپڑی میں زندگی گزر بسر کرنے والے کی بے بسی کا بھی احاطہ کیا ہے۔انھوں نے جہاں امیر شہر کے بچوں کی عیش و طرب سے سرشار زندگی کی جھلک دکھائی وہیںایک غریب اور دُکھیاری ماں کی ناچاری اور مجبوری کا پہلو بھی اجاگر کیا ہے۔ مانوسؔ نے یہ بھی دکھایا ہے کہ بیٹیاں بیٹوں کی بہ نسبت کس حد تک اور کس قدر اپنے والدین سے محبت و قربت رکھتی ہیں۔آج کے معاشرے میں عموماً دیکھا جاتا ہے کہ اونچے طبقوں اور معاشی طور پرخوش حال لوگ ناک اونچی کرکے چلتے ہیں ۔ایسے خاندانوں میں بچیوں یا بیٹیوں کی پرورش اور تربیت کیسے اور کس ماحول میں کی جاتی ہے وہ کسی سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کے برعکس غریب گھرانوں کی بیٹیوں پر سیدھے سادے چال و چلن کے باوجود تہمتیں لگائی جاتی ہے اور ان کی کردار کشی جاتی ہے۔چھپر میں رہنے والے والدین اپنی کنواری بیٹیوں کے عصمتوں کی حفاظت اور ان کے تئیں کتنے فکرمند ر ہتے ہیں ۔مانوسؔ کے مذکورہ بالا ایک شعر سے اس کی خوب منظر کشی ہوتی ہے۔مانوسؔ نے بچوں کے حوالے سے درجنوں شعر کہے ہیں۔جو بچوں سے ان کی دلچسپی ، احساسات اور دردوتکلیف میں مبتلا زندگی کا حوالہ ہیں۔کچھ شعر قارئین کی بصارتوں کی نذر:
فسادی تاک میں سب ہیں لگائے کان میں آہٹ پر
میں ایسی رات میں بچے کی کلکاری سے ڈرتا ہوں
جس گھر میں کبھی کھیلتے تھے چاند سے بچے
اُس گھر کا بھرا صحن بھی سُنسان ہے کل سے
غنیم وقت نے جب سے بصارت چھین لی ان کی
یہ بچے تو قمر کو بھی قمر کہنے سے ڈرتے ہیں
اشکوں سے تر دامن کرکے دُھوپ میں جگنو مانگ رہا ہے
بچے کی اس ضد کو سمجھو بات نہیں ہے خواہش کی
مانوسؔ نے متذکرہ بالا اشعار وادی کے پس منظر میں کہے ہیں۔جو بالکل وادی کے بچوں کے جذبہ و احساس کو ہی نمایاں کرتے ہیں۔پرویز مانوس نے عشقیہ اور رومانی شاعری بھی کی ہے اور اس میں بھی موصوف کی فنی اور تخلیقی ہنرمندی ظاہر ہوتی ہے۔مانوسؔ نے اپنی غزلوں میں متنوع موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ان کی غزلیں فنی خوبیوں سے بھی معمور ہیں ۔موصوف شاعر کا شاعرانہ اسلوب قابل داد ہے۔ایک ایک شعر ازبر کرنے کو جی چاہتا ہے۔وہ شاعری میں لفظوں کا جھال نہیں بنتے جس کوبعض نئے شاعروں نے اپنا شیوۂ گفتار اور خصوصی ا ختصاص بنایا ہواہے۔پرویز مانوسؔ ایک معتبر شاعر ہیں ۔جن کی غزلیں ان کی معتبریت کی بہترین مثال ہیں۔





