Sunday, March 15, 2026
spot_img

غزل

دلشاد دل سکندر پوری

حسرتیں دم توڑ تی ہیں اب دلِ بے تاب میں
بھ گیا ہے ان دنوں میرا مکاں سیلاب میں
میری خاموشی میرے اپنوں نے ٹوڈی اس قدر
پھینک دے پتّھر کوئی جیسے بھرے تالاب میں
جن سے اک شمع جلائی جا سکی نہ آج تک
ڈھونڈتے ہیں غلطیاں وہ لوگ بھی مہتاب میں
ہم غریبوں کے مقدر کی لکیریں ایک ہیں
دیکھتے ہیں خواب بھی ہم ایک جیسے خواب میں
جا کے یہ طوفاں سے کہہ دے چوم لے میرے قدم
مسکراتے ہیں سمندر ہم تیرے گرداب میں
گر یقیں نہ ہو تو خنجر سے یہ سینا چاک کر
دل ہی دل لکھا ملے گا دل کے سارے باب میں

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular