Friday, February 27, 2026
spot_img

غزل

عارفہ مسعود عنبر

چھوڑ جانا تھا اگر ہاتھ تو آئے کیوں تھے
پھول راہوں میں مری تم نے بچھائے کیوں تھے
زندگی جیسے گزرتی ہے گزر ہی جاتی
خواب آنکھوں میں نئے تم نے سجائے کیوں تھے
تیرگی راہ وفا میں تھی مقدر میرا
پھر چراغ اپنی محبت کے جلائے کیوں تھے
قصہءِ رسم وفا لکھنا جو ناممکن تھا
تم نے افسانے محبت کے سنائے کیوں تھے
بے وفا سے رہی امید وفا کیوں عنبر
غیر کو زخمِ جگر اپنے دکھائے کیوں تھے۔۔۔

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular