ضیا فاروقی

برسوںپہلے
گھر سے جب میں نکلا تھا
ماں نے کہا تھا
دیکھو بیٹا؛دور نہ جانا
شام سے پہلے گھر آ جانا
باپ نے بھی سمجھایا تھا
دیکھو بیٹا
بھیڑ میں جا کر کهو مت جانا
اپنی اک پہچان بھی رکھنا
اپنے لہجے اپنی زباں سے
دنیا میں جانے جاوگے
میرے بیٹے کہلاوگے
برسوں پہلے گھر سے جب میں نکلا تھا
ماں کی ممتا،باپ کی شفقت
دونوں کا مجھ پر سایہ تھا
گھر سے نکل کے راہ طلب میں
دشت جنوں سے شہر خرد تک
چلتے چلتے آک یگ بیتا
شام کا سورج دور افق میں ڈوب رہا ہے
اور ابھی میں محو سفر ہوں
ماں کی ممتا، باپ کی شفقت
دونوں سے شرمندہ ہوں





