Tuesday, March 3, 2026
spot_img

شرارت

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

زبید خان

آج پھر سے عادل نے اپنے ابا سے ضد کر کے کچھ روپے لے ہی لیے۔ وہ اور اس کے دوست بھاگ کرگلی کی اس چھوٹی سی دکان پر گیے جہاں وہ روز جایا کرتا تھا اور اپنے لیے کچھ نئے پٹاخے خریدے۔وہ لوٹ ہی رہے تھے کہ گلی میں انہیں ایک کتا نظر آیا ۔اس نے ایک پٹاخے میں چپکے سے ماچس کی ایک تلی لگائی اور”پٹاخ”کی زور دار آواز کے ساتھ ہی وہ پٹاخہ گلی سے گزرنے والے کتے کے پاؤں کے پاس پھٹا اور اس نے “واؤ واؤ”کی درد ناک آواز نکالی بے چارہ کتا لنگڑاتا ہوا ایک طرف کو بھاگ گیا۔ عادل اور اس کے شرارتی دوستوں نے اس منظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زور کے قہقہے لگانے شروع کردیے۔
عادل اور اس کے شرارتی دوستوں کا اب یہ روز کا معمول بن گیا تھا کہ اپنے والدین سے ضد کر کے کچھ رقم نکلواتے اور دکاندار کے پاس جاکر اس سے کہہ کر خاص طور پر پٹاخے لیتے اور لوگوں کے قریب چلا کر اور انہیں پریشان کر خوشی سے قہقہے لگاتے۔ ان کی اس طرح کی حرکت سے سارا محلہ پریشان تھا، مگر ان بدتمیز اور بد تہذیب لڑکوں کے گروپ کو منع کرنے کی ہمت کسی میں بھی نہ تھی۔ آخر وہ بڑے باپ کی اولاد جو تھے۔
صابر جو اپنے گھر کا سودا سلف لینے کے لیے اس گلی سے گزرے تو اسے بھی دھماکے کی آواز اور پھر زور دار قہقہوں کی آواز نے پلٹنے پر مجبور کردیا۔ دیکھا تو عادل اور اس کے دوست اسکول سے واپس آتے ایک چھوٹے بچے کے پاؤں میں پٹاخہ پھوڑ کر ہنس رہے تھے۔ بچہ اچانک سے نازل ہونے والی اس افتاد سے خوفزدہ ہو کر ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔ صابر بچے کے پاس گیے اور اس کو پچکارا، خاموش کروایا اور گھر روانہ کردیا۔ اگلے لمحے وہ عادل اور اس کے شرارتی دوستوں کے سامنے کھڑے تھے۔ ’’پٹاخہ اس بچے کے قریب کس نے چلایا؟‘‘ صابر نے عادل اور اس کے دوسوں سے باری باری پوچھا۔
’’بزرگو! آپ کو ہمارے پٹاخہ چلانے پر اعتراض ہے یا بچے کے قریب چلانے پر؟‘‘عادل نے آگے بڑھ کر بد تمیزی سے کہا۔اس کےاس طرح سے کہنے پر دوست نےایک زوردار قہقہہ لگایا۔ ’’مجھے دونوں باتوں پر اعتراض ہے، پٹاخہ چلانے پر بھی اور بچے کے قریب چلانے پر بھی‘‘۔ صابرنے ان کی بدتمیزی برداشت کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔
’’دیکھو بیٹا! تم میرے بچوں کی طرح ہو اگر تم کوئی غلط کام کرو گے تو میں ضرور منع کروں گا۔ تم اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کر کے لوگوں کو اذیت، اور تکلیف دے رہے ہو۔ تمہیں اپنے والدین کا پیسہ اس طرح کے کاموں میں برباد نہیں کرنا چاہیے جن سے لوگوں کو کوئی پریشانی ہو۔ بیٹا! ان پٹاخوں سے شور وغل کی آلودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کی سماعتیں شدید متاثرہوتی ہیں کیونکہ نوزائیدہ بچے بہت ہی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں جوپٹاخوں کی خوفناک آوازوں سے شدید متاثر ہوتے ہیں، بچے سہم بھی جاتے ہیں اورکم عمری میں ڈر و خوف کاشکار رہنے لگتے ہیں۔ کم عمری میں ہی بچوں کے ذہن میں ڈروخوف بیٹھ جاتا ہے جس سے بچے احساس محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں اورمعمولی سی آواز کے ساتھ ہی وہ بچے اچھل جاتے ہیں، پٹاخوں سے نکلنے والی آوازیں ان بچوں کی نہ صرف سماعت متاثر کرتی ہیں بلکہ ڈروخوف کا شکار بھی کرتی ہیں۔بیٹا !ان پٹاخوں سے نکلنے والے دھویں انسانی صحت کےلیے انتہائی مضر ہوتے ہیں دھویں کے ساتھ ساتھ مختلف کیمیکلز دھواں بن کر فضامیں شامل ہوتا ہے اور یہ آلودہ ہوائیں انسانی جسم میں داخل ہوکر سانس، امراض سینہ اور پھیپھٹروں کےلیے نقصان دہ ہوتے ہیں جبکہ دھواں سے دمے کے مریضوں کوتکالیف کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ پٹاخے جلانا کسی طورپر درست نہیں جبکہ سائنسی اعتبار سے انتہائی مضر صحت ہوتے ہیں۔ پٹاخوں سے بچوں کے جھلس جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس سے بچوں کی زندگیاں بھی خطرات میں پڑجاتی ہیں جبکہ پٹاخے آنکھ میں لگ جانے کی صورت میں تو بچوں کی بینائی تک بھی جا سکتی ہے۔
بیٹا!ہمارے آقا محمدﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’وہ شخص مسلمان نہیں جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں‘‘۔ بیٹا جانتے ہو ہم مسلمان ہیں، اسلام کا مطلب ہوتا ہے امن اور سلامتی۔ یعنی ہمارے مسلمان ہونے سے دوسروں کو ہم سے کوئی پریشانی نہ ہو اور وہ ہمیشہ سلامت اور امن میں رہیں۔ اگر کوئی شخص دوسروں کو تکلیف دے گا تو وہ کیسے مسلمان رہے گا؟ اب تم سب مجھے خود بتاؤ کہ کیا یہ کام مسلمانوں والے ہیں؟
’’دیکھو بزرگو! آپ نے ہمیں گھنٹے بھر نصیحت کی ہم نے سن لی، چلو اب چلتے پھرتے نظر آؤ ہمیں اور بھی بہت کام ہیں‘‘۔ دوست نے بدتمیزی سے کہا اور عادل کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگا۔ وہ ان کا مذاق اڑاتے قہقہے لگاتے جاچکے تھے اور صابر تاسف میں وہیں کھڑے ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنے لگے۔ پھر گہری آہ بھری اور اپنے گھر کی طرف چل دیے۔
اگلے ہی دن عادل کے گھر ایک کہرام مچ گیا۔گھر میں محلّے بھر کے مرد و زن موجود تھے، سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیا ہُوا ؟صابرنے پاس جا کر پوچھا: کیا ہُوا؟کسی نے کہا کہ عادل کی آنکھ میں پٹاخہ لگ گیا ہے۔ صابر نے عادل کی ماں کو تسلی دی کہ انشاء اللہ سب ٹھیک ہوگا ،آپ فکر نہ کریں۔ پھر عادل کی ماں سے سارا ماجرا پوچھا۔عادل کی ماں نےتفصیل سے سارا ماجرا سنایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پٹاخے خریدنے گیاتھا مگراُس نے گھر میں کہا کہ مسجد جارہا ہوں۔ میں نے بھی جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ اپنےدوستوں کے ساتھ مل کر اگلے محلّے میں چلاگیا۔ وہاں اس نے خوب سارے پٹاخے خریدے اور سب دوست باری باری پٹاخے، بم جلاتے اور پھر گذرنے والوں پر پھینک دیتے۔ اس شرارت سے تنگ آکرکچھ لوگ انہیں بُرابھلا کہتے گزر جاتے اور کچھ ٹوکتے تھے کہ بیٹا آپ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں لیکن سب دوست نصیحتیں سُن کر ہنسنے لگتے اور کہنے والے کا مذاق اڑاتے۔ اسی اثناء میں عادل کے دوست نے ایک بم جلا کر پھینکا جو ٹھیک سے جلا نہیں۔ عادل نے بڑھ کر اسے جُھک کر دیکھا کہ پھٹ کیوں نہیں رہا۔ ابھی وہ بم کے بالکل نزدیک پہنچا بھی نہیں تھا کہ وہ پھٹ گیا۔ بم سے نکلنے والے ذرّات عادل کی آنکھ میں لگے۔ وہ تکلیف سے چیخنے چلّانے لگا۔ اس کے تمام دوست گھبرا گئے اور اسے اٹھا کر گھر کی طرف دوڑے۔وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ ایمبولینس آگئی ۔عادل کے والدین فوراً اسے ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال لے گئے۔ وہاں انہوں نےآئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کو عادل کے بارے میں بتایا اس نے دیکھتے ہی کہا کہ ہم معذرت چاہتےہیں اگر آنکھ میں دو فی صد روشنی بھی ہوتی تو ہم کوشش کرتے لیکن بم میں موجود بارود کے ذرّات نے اس کی ایک آنکھ کوبالکل ختم کر دیا ہے۔
اگلے روز صابر اسپتال عادل کی عیادت کرنے کے لیےگئے تو اس کے تمام دوست بھی وہاں جمع تھے۔عادل کی طبیعت اب کچھ بہتر تھی۔ صابر کو دیکھتے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر نے لیٹے رہنے کی ہدایت کی۔ عادل نے آہستگی سے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر جوڑے اور صابر سے اپنی بدتمیزی پر معافی مانگی۔ اس کے دوستوں نے بھی معافی مانگی اور پھر آئندہ کسی کو تنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یقینا اب وہ سب سمجھ چکے تھے کہ کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔ ان کے ڈر میں ہی ان کی اصلاح تھی۔ صابر انہیں دعا دیتے ہوئے اپنے گھر لوٹ آئے۔
+918875350095(انشا اردو گائڈ )

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular