Sunday, March 1, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldسیدہ جعفر کے تنقیدی افکار

سیدہ جعفر کے تنقیدی افکار

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

پرویز شکوہ

سیدہ جعفر 1934ء؁ میں حیدر آباد کے ضلع کریم نگر میں پیدا ہوئیں۔ جس گھرانے میں ان کی پیدائش ہوئی وہ ایک تعلیم یافتہ مہذب گھرانہ تھا اور علم و ادب سے بخوبی آشنائی رکھتا تھا۔ سیدہ جعفر کے والد کانام سید جعفر علی تھااور شوہر احمد مہدی صاحب ایڈوکیٹ تھے۔ سیدہ جعفر کا انتقال 24جون 2016ء؁ کو لنگر ہائوس حیدرآباد میں ہوا۔
پروفیسر سیدہ جعفر کا نام ادبی دنیا کے لئے محتاج تعارف نہیں۔ اردو کے دکنی ادب کو مکمل طور پر متعارف کرانے والوں میں ڈاکٹر سیدہ جعفر کا نام بڑا اہم ہے۔ دکن کی باشندہ ہونے کی وجہ سے سیدہ جعفر نے اپنی تحقیق کے لئے دکنیات کو منتخب کیا یہ مناسب بھی تھا۔ اس لئے کہ دکنی ادب کے ساتھ اس سرزمین سے تعلق رکھنے والااور سیدہ جعفرکا سا ذی علم ادیب ہی انصاف کر سکتاتھا۔ سو انہوں نے کیا۔
’’ماسٹر رام چندر اور اردو نثر کا ارتقاء میں ان کا حصہ ‘‘ڈاکٹر سیدہ جعفر کی اولین تصنیف ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے ماسٹر رام چندر اور ان کے معاصرین کی نثری کوششوںپر تحقیق کرنے والوں کے لئے ایک نیا راستہ کھل گیا۔ماسٹر رام چندر دلّی کے ایک ایسے عالم تھے جنہیں بیک وقت ریاضی، سائنس اور فلسفہ سے بے پناہ دلچسپی تھی۔ ان کے ریاضی کے کئی معرکتہ آرا تصانیف نے یورپ، انگلستان کے علاوہ ماہرین سے خراج تحسین حاصل کیا تھا۔ اس تصنیف سے ماسٹر رام چندر کی اردو نثر میں اہمیت اور ان کا مقام واضح ہوا ہے۔ اس کتاب کی تصنیف سے قبل سر سید احمد خاں کو اردو کا پہلا مضمون نگار سمجھا جاتاتھا۔ لیکن ڈاکٹر سیدہ جعفر کی تحقیق نے یہ ثابت کر دیاکہ مضمون نگاری کے ارتقاء میں سرسید کے مضامین ایک توسیع ہیں آغاز نہیں۔ ماسٹر رام چندر اردو کے پہلے مضمون نگار ہیں جنہوں نے شعوری طور پر اردو ادب میں اس صنف کی ابتدا کی اور اپنے گرد و پیش کے سیاسی ،معاشی اور تمدنی حالات اور واقعات کو اپنے مضامین میں سمودیا۔
دکن میں شاہ ترابؒ چشتیہ سلسلے کی ایک اہم کڑی تھے۔ پروفیسر سیدہ جعفر نے جنوب کے اس مشہور و معروف صوفی شاعر کی مثنوی’’من سمجھاون‘‘ کو دنیائے ادب سے متعارف کرایا تھا۔ ان کی اس مرتب شدہ کتاب ’’من سمجھاون ‘‘کا پیش لفظ مشہور محقق اورماہر لِسانیات ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے لکھا ہے اور سیدہ جعفر کی تحقیقی کارکردگی کو اس طرح سراہاہے:-
’’ڈاکٹر سیدہ جعفر نے جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ اردو میں مرحومین پروفیسر وحید الدین سلیم، مولوی عبد الحق اور ڈاکٹر محی الدین قادری زورؔ کی قائم کردہ روایات تحقیق کا پوری طرح بھرم رکھا۔‘‘
اپنی اس تالیف میں انہوں نے چھ قلمی نسخوںکا مطالعہ کرکے اس کا متن تیار کیاتھا۔ جس تلاش و جستجو اور جامعیت کے ساتھ انہوں نے شاہ ترابؒ کی سیرت و سوانح کے نقوش کو اُبھارا ہے اور ’’من سمجھاون‘‘ کے ماخذوں کا پتہ چلاتے ہوئے مراٹھی سنت کوی رام داس کی تصنیف ’’مناچے شلوک‘‘ سے اس کا مقابلہ کیاہے۔ ا س سے ان کی تحقیقی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتاہے۔
تحقیق اور تنقید تو ان کے مستقل اور پسندیدہ میدان تھے۔ڈاکٹر سیدہ جعفر کی تنقیدنگاری کا انداز تجزیاتی ہے۔ وہ تہذیبی تناظر کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں اور فنی نزاکتوں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری سمجھتی ہیں۔ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس لئے موضوع کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ ان کی تنقیدوں میں فقرہ بازی یا سطحیت سے کام نہیں لیا گیاہے۔
ڈاکٹر سیدہ جعفرکی تنقیدیں ان کے وسیع مطالعے کی ترجمان ہیں۔’’تنقید اور انداز نظر‘‘اور ’’مہک اور محک‘‘ کے مضامین میں مغربی مصنفین کے متعدد حوالے ہماری نظر سے گزرے ہیں۔ جن کا مقصد محض قاری کو مرعوب کرنا نہیں ہیں۔ ان مقصد موضوع کے کسی مخصوص گوشے کی وضاحت ہے۔
ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی محاکمے متوازن اور سنجیدہ ہوتے ہیں وہ تنقید میں جذباتیت کو راہ نہیں دینا چاہتیں اور افراط و تفریط سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے فیصلے جذباتی نہیں ہوتے، وہ اپنے موضوع کا غائر مطالعہ کرتی ہیں، اس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیتی اور اس کے تہذیبی تناظرمیں اسے پرکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان کی نظرصرف محاسن یا صرف معائب پر نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر سیدہ جعفر تنقید کو قصیدہ خوانی یا ہجوگوئی تصور نہیں کرتیں بلکہ بے لاگ تبصرہ فرماتی تھیں۔ چنانچہ اپنے مضمون ’’تنقید اور انداز نظر ‘‘ میں تنقید کے بارے میں تحریر کرتی ہیں:۔کہ
’’تنقید جانچ پڑتال ، افہام و تفہیم ، تشکیل ذوق اور ادبی صداقت کے شعور کا نام ہے۔ تنقیدذہن کو وہ روشنی عطا کرتی ہے جو ادبی جواہر پاروں کو پرکھنے کی صلاحیت بخشتی ہے۔ تنقید پست و بلند کے معیار مقرر کرتی اور ادب کو فنی پیمانے عطا کرتی ہے۔ تنقید مضامین و محک کے سہارے ادب کو بے راہ روی سے بچاتی ہے۔ تنقید ادب کے ہاتھوں میں میزان دے دیتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر سیدہ جعفر نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تنقید میں انداز نظر بنیادی اہمیت کا حامل ہوتاہے اور اسی سے تنقید کے مختلف دبستان وجود میں آئے ہیں ۔ تاثراتی ، تقابلی اور نفسیاتی تنقید اور بیشتر تنقید نقاد کے تصوّر ادب اور اس کے افکار و تصورات کی پروردہ ہوتی ہے۔ وہ لکھتی ہیں:-
’’شخصی انداز فکر اور ذاتی پسند و ناپسند سے پیدا ہونے والی انفرادیت کے باوجود تنقید کے ایک دبستان سے وابستہ تمام نقادوں کا طریقۂ فکر چھوٹے چھوٹے اختلافات سے قطع نظر تقریباً یکساں ہوتاہے۔ کیونکہ ان کے پیش نظر چند مخصوص اصول و قواعد اور ادبی معیارات ہوتے ہیں۔ علم شعور ذوق اور تصور فن کے اعتبار سے قاری کسی ادب پارے کی معنونیت کا نقش ابھارتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنقیدی نقطۂ نظر کا تعلق دراصل اس نظریۂ ادب و فن سے ہوتاہے۔جس پر نقاد ایمان رکھتاہو۔‘‘
ڈاکٹر سیدہ جعفر کا خیال ہے کہ نقاد کا تعلق خواہ کسی دبستان سے ہو اس کی تحریر میں ’’ادبیت‘‘شرط اولین ہے۔ خود ڈاکٹر سیدہ جعفر نے اپنی تنقید میں ایسا طرز اظہار اختیار کیاہے۔ جو دلفریب بھی ہے اور معنی آفرین بھی۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر کا مطالعہ وسیع ہے وہ تخلیقی اسلوب کی قائل ہیں اور انہوں نے اردو تحقیق میں بھی اپنا مقام پیدا کیا اور بہت سی اہم تحقیقی کتابوں کی مولّفِہ ہیں۔ ان میں ’’من سمجھاون‘‘، ’’یوسف زلیخا‘‘،’’ماہ پیکر‘‘،’’سکھ انحن‘‘اور ’’جنت سنگار‘‘ وغیرہ پیش کئے جاسکتے ہیں۔
وہ اردو ادب میں ماہر دکنیات کی حیثیت سے بھی معروف ہیں۔ مطالعے کی اس وسعت اور ادبی ذوق کی اس ہمہ گیری نے ان کی تنقید پر خوشگوار اثر مرتب کیاہے۔’’فن کی جانچ‘‘،’’تنقید اور انداز نظر‘‘،’’مہک اور محک‘‘ میں نہ صرف جدید ادبی موضوعات پر اظہار خیال کیا گیاہے بلکہ قدیم ادب پر بھی تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔’’فن کی جانچ‘‘ ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں کل بارہ مضامین شامل ہیں۔ لیکن کچھ مضامین تحقیقی نوعت کے بھی ہیں۔ ان میں تذکروں کی تنقیدی اہمیت اور کچھ مضمون نگاری کے بارے میں کوپیش کیا جا سکتاہے۔ اردو ادب کے دور قدیم یعنی دکنی اور دور متوسط اور جدید عہد کے شعراء اور ادیبوں کی کاوشوں پر ڈاکٹر سیدہ جعفر نے جو تنقیدی مضامین لکھے ہیںان سے انداز ہ ہوتاہے کہ ان کامطالعہ وسیع اور ان کی نظر گہری ہے۔
اردو افسانے کی نئی جہت ، حقیقت ورومان کا شاعر-فیض،نظم وطنزو مزاح کے جدید رجحانات، آل احمد سرورؔ کی تنقید نگاری ، مخدومؔ -عصری ،حسّیت اور شعری صناّعی کا شاعر اور اردو نظم کا سفر، اردو نظم میں ہیت کے نئے تجربے عہد حاضر کے ادبی میلانات اور جدید رجحانات کے تجزیے پر مبنی ہیں۔
وہیں مومنؔ کا تعزل، انیس ؔ کے استعارے، داستانوں کے ثقافتی عناصر اور ظفر کی غزل گوئی وغیرہ ہیں۔ ایسے فنکاروں کی تخلیقات پر نظر ڈالی گئی ہے جن کا تعلق عہد حاضر سے نہیں وہ کلاسیکی راگ میں ڈوبے ہوئے ہیں، اسی طرح قدیم ادب پر ڈاکٹر سیدہ جعفر کے مضامین ’’دکنی غزل گوئی‘‘،’’سراج -غزل گو ‘‘اور ’’دکنی شاعری میں ہندوستانی عناصر‘‘وغیرہ اردو کے دور اولین کے نقوش ہیں۔
(جاری)
سیدہ جعفر نے اپنے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’’فن کی جانچ‘‘ میں مرثیہ کا بحیثیت صنف سخن جائزہ لیا اور اس صنف کے ادبی امکانات اور اس کے مخصوص موضوع کی ہمہ گیر ی پر تبصرہ کیا ہے۔ صنف سخن کی حیثیت سے سیدہ جعفر نے مرثیے کے خدوخال پر روشنی ڈالی ہے وہ لکھتی ہیں:-
’’مرثیہ بحیثیت صنف ادب میں اپنا ایک خاص مزاج رکھتا ہے اور اس کی کچھ اپنی سماجی ،اخلاقی اور تاریخی قدریں بھی ہیں۔ مرثیے نے اردو شاعری کو بعض نئے امکانات نئے تیور اور نئے انداز بخشے ہیں۔‘‘
مرثیے کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ لکھنؤ میں مرثیے کا عروج اس وقت ہوا جب سوقیت اور خارجیت حد سے متجاوز ہو چکی تھی۔ اگر اس کے مقابلہ میں مرثیہ نگاروں نے اپنی اخلاقی شاعری نہ پیش کی ہوتی تو اردو ادب کو اس سے نقصان پہنچتا۔ سیدہ جعفر لکھتی ہیں:-
’’مرثیہ نگاروں نے داسوخت اور ریختی کے محدود کشف اور گھٹے ہوئے میلان کے مقابلے میں اپنی وہ شاعری پیش کی جس میں خلوص تھا، زندگی کی ابدی قدروں کا احساس تھا، اخلاق کی عالمگیر وسعتیں تھیں، کائناتی بصیرت تھی اور روح کی بالیدگی کے سامان تھے۔ اس طرح اردو شاعری میں مرثیے کی بدولت متانت سنجیدگی ، رفعت اور وقار دوبارہ پیدا ہو سکا۔‘‘
سیدہ جعفر لکھتی ہیں:-
’’ادب میں عزائیہ کلام کے ترسیلی مطالبات‘‘عام شہری سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس میں ابہام دور ازکار تشبیہات اور نامانوس استعارے جگہ نہیں پا سکتے ۔‘‘
مختصر یہ کہ سیدہ جعفر نے ادب کے مختلف اصناف کی اہمیت ،ان کے فنیّ خدو خال اور ان کے ادبی مطالبات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے تنقیدی تصورات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ سیدہ جعفر کے تنقیدی افکار سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے نظریۂ ادب کا تجزیہ کیا جائے۔ ادب کے بارے میں ان کے نقطٔ نظر کو ان کے تنقیدی مضامین میں تلاش کیا جا سکتاہے۔ ’’مہک اور محک‘‘ کے پیش لفظ میں سیدہ جعفر نے ادبی تصوری اور ادب کے بدلتے ہوئے رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :-
’’گذشتہ تین چار دہائیوں سے اردو تنقید افکار واظہار کے گوناگوں پیکروں اور نئے ادبی رویوں کے زیر اثر مسلسل تغیرّات کی زد میں ہے ۔ علم و دانش کی جدید آگہی نے تنقید کے فن کو نئے زاویوں سے متاثر کیاہے۔ تنقید کی اس نمونہ پذیری اور نئی سمتوں کی طرف پیش قدمی نے نقادوں کو ادبی تصورات اور انداز نظر کے اعتبار سے دو بڑے زُمروں میں تقسیم کر دیاہے۔ کچھ وہ جو جدیدت اور اس کی جمالیات سے سروکار رکھتے ہیں اور کچھ نقاّد بدلے ہوئے تہذیبی و ادبی تناظر میں ادب کی تفہیم و تحسین کا شعور رکھتے ہوئے جاندار و توانا ادبی روایات کی پائداری سے دامن کشاں نہیں ہوئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیںکہ ادب سے ان کا ماضی چھین لیا جائے تو وہ اس پر کٹے ہوئے پرندے کی طرح بے بس ہو جائے گا جو فضا ئے بسیط میں آزادانہ اُڑانیں نہیں بھر سکتا۔‘‘
سیدہ جعفر کے اس بیان سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ ان جدید نقادوں سے زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ جو قدیم روایات اور ادبی تصوّرات کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے اور جدید ہی میں انہیں ساری خوبیاں نظر آتی ہیں۔ وہ’’بدلتے ہوئے تہذیبی تناظر میں ادب کی تفہیم و تحسین کا شعور‘‘ رکھتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ ادب کے روایتی کردارکی اثر پذیری کی بھی قائل ہیں۔ انہوں نے اپنے نقطہء نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں قضیہ جدید و قدیم کو دلیل کم نگہی تصوّر کرتی ہوں اور ادب کے اس حر کی کردار کی قائل ہوں جو بدلتا اور نت نئے سانچوں میں ڈھلتا رہتاہے اور زندگی کے جلوۂ صد رنگ کا مظہر ہوتاہے۔‘‘
سیدہ جعفر کے اسی متوازن تنقیدی نقطۂ نظر نے انہیں افراط و تفریط سے بچالیاہے۔ان کی تحریروں میں ہمیں ادب کے تسلسل کا ایک ایسا ادراک ملتاہے جس نے ان کی تنقید کو ایک محدود دائرے میں مقید نہیں رکھا ہے بلکہ اسے افکار و نظریات کی وسعتوں اور ان کی معنونیت سے ہمکنار کیا ہے۔ ادب کے بارے میں سیدہ جعفر نے ’’تنقید اور انداز نظر ‘‘ کے ایک مضمون ’’داغ ؔکی غزل گوئی‘‘ میں لکھا ہے:-
ادب کے ایوان میں وہی آوازیں دیر تک گونجتی رہتی ہیں جن میں اپنے ماحول کی دھڑکنوں کا ارتعاش بھی شامل ہوتاہے۔‘‘
پروفیسر احتشام حسین نے سیدہ جعفر کی تنقید نگاری کے بارے میں لکھا ہے:-
’’گزشتہ چند برسوں میں اردو کے تنقیدی اُفق پر جو چند نام ابھرے ہیں ان میں سیدہ جعفر کو دو حیثیتوں سے امتیاز حاصل ہے۔ ان کی ذہنی صلاحیتیں تحقیق اور تنقید دونوں میدانوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔دوسرے ان کے طرز نگارش میں وہ خوبی موجود ہے جس سے آہستہ آہستہ لیکن ایک باوقار انداز میں لکھنے والے کی جگہ اس کے پڑھنے والوں کے دلوں میں بنتی ہے۔‘‘
سیدہ جعفر کے تنقیدی نظریے کو زندگی کے نت نئے روپ دھارتی ہوئی حر کی نوعیت سے حرارت و توانائی ملی ہے ۔ ان کے مضامین میں اس حقیقت کا بار بار احساس ہوتاہے کہ انہیں نئی ادبی حسیّت کا عرفان حاصل ہے اور اسی کے تناظر میں وہ ادب کا تجزیہ کرتی اور اس کی روشنی میں وہ تجزیے اور تنقید کی منزلوں سے گزریں اور بحیثیت محقق اور نقاد اردو تحقیق اور تنقید میں گرانقدر اضافہ کیا جس کی روشنی سے آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں گی۔ لیکن پروفیسر سیدہ جعفر کی کمی ہر زمانے میں محسوس کی جاتی رہے گی۔
پرویز شکوہ
44،مقبرۂ جناب عالیہ ، گولہ گنج ،لکھنؤ
رابطہ :7505299219
pshikoh@yahoo.com

 

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular