Sunday, March 1, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldسر سید احمد خاں اور اسبابِ بغاوت ِہند

سر سید احمد خاں اور اسبابِ بغاوت ِہند

mravadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 عزہ معین سنبھلی
   سر سید احمد خاں کا نام آتے ہی تعلیم کا تصور آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔علی گڑھ جیسا عظیم الشان تعلیمی ادارے کے قیام سے سر سید کی تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے بے پناہ محبت ظاہر ہوتی ہے۔ اس ادارے کے قیام میں جتنی مشقتیں انہوں نے برداشت کیں وہ بس وہی کرسکتے تھے۔کیونکہ ان کے پاس تعلیم کا ایک بڑا ویژن تھا۔ سر سید احمد خاں کی ساری زندگی قوم کی بھلائی اور ملک کو جمہوری طور پر مضبوط کرنے میں صرف ہوئی۔ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان کی بے لاگ خد مات کے ساتھ جس طرح ہندو و مسلم دونوں طبقوں کے بعض کم فہم لوگوں نے جس طرح ان کی مخالفت کی اور جس طرح ان پر فتوے صادر کئے گئے اس پورے واقعے کو اگر ایک مضبوط اعصاب والے شخص کے سامنے بیان کیا جائے تو وہ بھی آبدیدہ ہو جائے گا ۔ سر سید نے مفکر اور مصلح کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ہادی اور رہنما کا کردار بھی بخوبی نبھایا ہے ۔وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں جس نے قومی زندگی کو سنوارنے کے لئے اپنی تمام تر آسائش اور سکون کو بے دریغ قربان کر دیا  ۔اپنی قوم اور ہم وطنوں کی حالت زار کو دیکھنے کے بعد اس عظیم اور اخلاص کے پیکر انسان نے نہ تو آرام کیا اور نہ ہی اپنی دگرگوں حالت کی فکر کی۔ملک و قوم کی بہتری کے جذبے میں یہاں تک کہ اپنے اطراف و جوانب ہونے والی مخالفت کے نقصانات کی بھی کوئی پروا نہیں کی ۔
       سر سیداحمد خان کی پوری کی پوری شخصیت ہی قومی ہمدردی اور حب الوطنی سے عبارت ہے۔ان کی حب الوطنی اور قومی ہمدردی کی ایک مثال ان کی کتاب’’ اسبابِ بغاوتِ ہندــ‘‘ہے جو ۱۸۵۸ میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں ۱۸۵۷ کی پہلی جنگ آزادی کے اسباب و علل کو زمینی سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ یا بغاوت کی اصل وجوہات کیا تھیں اس کو انہوں نے انگریز حکمرانوں کے سامنے مدلل انداز میں پیش کرنے کی جرات مندانہ کوشش کی۔انہوں نے ہندوستانی عوام کو بے قصور بتاتے ہوئے بغاوت کی آڑ میںہندوستانی عوام پر بالعموم اور مسلمانوں پر با لخصوص کئے جانے والے مظالم کی روک تھام کی کامیاب کوشش کی۔
      مقالاتِ سرسید سے ان کے خیالات پر خاطر خواہ روشنی پڑتی ہے۔حصہ پنجم میں شامل اخلاقی مضامین عمر کی ہر منزل پر فرد کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ان مضامین میں سر سید احمد خاں نے نہایت آسان زبان میں مختلف موضوعات سے متعلق اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔اپنی بات کو موثر بنانے کی غرض سے مضامین میں کہیں مثالیں دی ہیں کہیں روایتوں اور کہانیوں کا سہارا لیا ہے ،کبھی سخت الفاظ اور کبھی کھبی نہایت نرم الفاظ میں اپنی بات کہہ لے جاتے ہیں ۔
     آیئے سب سے پہلے ہم اس کتاب کے نام’’ اسباب ِبغاوتِ ہند‘‘ پر غور کرتے ہیں۔ کتاب کے نام سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سر سید۱۸۵۷ء کی جنگ کو بغاوت تسلیم کرتے تھے جبکہ اکثر ہندوستانیوں نے اسے آزادی کی پہلی لڑائی قرار دیا ۔وی ڈی ساورکرؔ نے اسے اپنی کتاب ’’دی انڈین وار آف انٖڈیپنڈنس‘‘ میں جنگِ آزادی کا نام دیاہے۔کارل مارکس نے بھی اپنی کتاب ’’دی فرسٹ انڈین وار آف انڈیپینڈینس ‘‘میں ۱۸۵۷ ء کی لڑائی کو جنگِ آزادی کا نام دیا۔ ہم اس پہلو کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔کتاب کے متن کا مطالعہ اور اس وقت کی سیاسی صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بعد مجھے ایسا لگتا ہے کہ سرسید نے شعوری طور پر اس کا نام بغاوت ِ ہندرکھا ہوگا۔ کیونکہ جنگِ آزادی کا نام دینے سے ممکن تھا انگریز پہلی فرصت میں اس کتاب میں لکھی گئی باتوں کو نظر انداز کردیتے اور بہت ممکن تھا اس کتاب میں حکومت کے خلاف لکھی گئی باتوںکا اتنا اثر نہ ہو جتنا کہ سر سید کو توقع تھی ۔
۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتاتی چلوں کہ۷ ۱۸۵ ء کی لڑائی کو بغاوت اور جنگ آزادی کا نام دینے میں بہت فرق ہے۔بغاوت کہنے کی صورت میں ہم اس لڑائی کو صحیح تسلیم نہیں کرتے جب کہ جنگ ِآزادی کا نام دینے سے ہم اس کے حمایتی بن جاتے ہیں۔ سر سید نے واضح طور پر لکھا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسی ہی اس بغاوت کا سب سے بڑاسبب تھی ۔انگریزوں کی بے راہ روی سے ہی ۱۸۵۷ء کاواقعہ رونماہوا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ پرندے بھی اپنے پروں کو سمیٹے ہوئے اڑ رہے تھے ہوائیں سہمی ہوئی سی چل رہی تھیں ایسے میں سر سید نے انگریزوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ہمت کہاں سے جٹائی ؟ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ۱۸۵۷ ء کی جنگ ،آزدی کی پہلی جنگ تھی اور مورخوں نے اس کو ہی سنگِ بنیاد قرار دیا ہے ۔اس لڑائی کے بعد ہندوستانی پورے طور پر انگریزوں کے زیرِ اثر آگئے تھے ۔انگریز اس جنگ سے اس قدر نالاں تھے کہ انھوں نے ہندوستانی باشندوں کو طرح طرح سے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ ظلم کے نئے انداز ایجاد کئے گئے ۔اس بغاوت کے بعد خاص طور سے مسلمان انگریزوں کے نشانے پر تھے۔ انگریز حکومت کا یہ خیال تھا کہ اس بغاوت کے پیچھے مسلمانوں کی سازش تھی کیوں کہ اس وقت تک بہادر شاہ ظفر کو ہی ہندوستانی اپنا لیڈر تسلیم کرتے تھے ۔ ۱۸۵۷ ء کی بغاوت کی شروعات  کے لئے بھی مسلمانوں کے ہی سر الزام رکھا جا رہا تھا ۔انگریز مسلمانوں سے اس قدر بدظن اور خفا تھے کہ بنا کسی ثبوت کے صرف شک کی بنیاد پر پھانسی کا فرمان جاری کردیتے تھے ۔ عام لوگوں کی بات چھوڑ دیں خود شاہ ظفر کے بیٹوں کا سر قلم کر کے تھا لی میں سجا کر ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔ اس بغاوت کے بعد انگریزوں نے اس قدر مظالم ڈھائے کہ ہندوستانی بری طرح سہم گئے تھے ۔ کوئی آواز اٹھتی اس کو لمحوں میںخاموش کردیا جاتا تھا ۔ ہر طرف سکوت کی کیفیت طاری تھی ایسے میں سر سید احمد خاں کا ’’اسبابِ بغاوت ِہند‘‘ لکھ کر انگریز حکومت کی خامیوں کو اجاگر کرنا کو ئی معمولی عمل نہیں تھا ۔
یہاں ہمیں رک کر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہو تی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کتاب کو تحریر کرنے کے اسباب و علل کیا تھے ۔ کتاب لکھنے کا مقصد صرف انگریزوں کو غلط ثابت کرنا مقصود تھا یا سر سید ان کی اصلاح چاہتے تھے۔ کیا سر سید احمد خاں اس وقت اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ جو ترقی انگریز حکومت کے زیر اثر ہندوستان میں ہو رہی تھی وہ بعد میں سو سال تک ممکن نہیں اور واقعی کتنے ہی حکمراں آئے لیکن کیا ترقی کا ویسا نظام قائم ہو پایا؟؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ۔اور شاید اسی لئے سر سید چاہتے تھے کہ ہندوستانی انگریز حکومت کے وفا دار رہیں ۔
  آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ ذکر کرتی چلوں کہ سرسید نے ہمیشہ مسلمانوں کو عملی سیاست میں آنے سے منع کیا ان کا مرکزِ نگاہ میدان ِتعلیم تھا ۔وہ چاہتے تھے کہ مسلمان پہلے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو جائیں پھر سیاست کی طرف دھیان دیں ۔اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس سے دور رہنے کا مشورہ دینے والے تنہا سرسید احمد نے ہزاروں الزام اور مخالفوں کے طعنہ سنے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے ۔جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں سرسید کے اس موقف کو سراہا ہے ۔لیکن میں اس بات سے ذاتی طور پر متفق نہیں ہوں۔کیوں کہ سر سید جس وقت تعلیم کی بات کررہے تھے اس وقت ہمارا ملک غلام تھا ۔میں ذاتی طور پر آزادی کو تعلیم پر فوقیت دیتی ہوں ۔یہ بات سمجھنے کے لئے اقبال کا شعر ہے :
  غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
  جو ہو ذوق ِیقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
 یہ بات یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر آگئی ہے ۔بہر کیف میں نے سوال کیا ہے کہ آخر سر سید نے اتنی ہمت اور جسارت کہاں سے جمع کرلی کہ حکومت کے خلاف کتاب تحریر کرنے کا جوکھم اٹھالیا۔ میں نے پورے واقعہ سے اور سر سید کی زندگی سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ممکن ہے کہ آپ میری باتوں سے متفق نہ ہوں ۔ہم جانتے ہیں کہ انگریز سرسید احمد خاں کو بہت عزیز رکھتے تھے سر سید کا دل بھی ان کے تئیں بہت نرم تھا ۔انگریزوں نے سر سید احمد خاں کو سر کا خطاب دیا تھا اور سر سید نے بھی کئی موقعوں پران سے اپنی محبت اور وفاداری کا ثبوت دیا تھا ۔لیکن ظاہر ہے ہم اس پورے معاملے کو غلط نام نہیں دے سکتے ۔مثلاً یہ الزام لگانا کہ وہ انگریزوں کے ہمیشہ ہمدرد رہے ۔ ان کے نزدیک اپنی قوم کی حیثیت ثانوی تھی وغیرہ وغیرہ۔ بعض لوگوں نے نذیر احمد کے ناول’’ابن الوقت‘‘ کے کردار کو سر سید سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اسبابِ بغاوت ِہند تحریر کرتے وقت سر سید کے ذہن میں یہ بات ضرور گردش کرتی رہی ہوگی کہ انگریز بھلا ان کی باتوں کا برا کیوں مانیں گے انھوں نے ماضی میں تو ان کے خلاف ایسا کچھ کیا نہیں ہے۔ کیا سر سید کے دل میں یہ بات تھی کہ
  اگر تو دوست ہے تو بتا سب خامیاں میری
سنی ہیں بارہا غیروں سے اپنی خوبیاں میں نے ۔
  وہ اس کتاب کے ذریعہ کسی بھی طور پر انگریزوں سے تنازعہ نہیں چاہتے تھے ۔وہ اپنی تحریر و تقریر میں اس بات کو بار بار کہتے تھے کہ مسلمان سیاست اور خاص طور سے کانگریس سے الگ رہیں ۔
، ریسرچ اسکالر ، دہلی یونیورسٹی
(جاری)
اس وجہ سے جو اس وقت کے قومی رہنما تھے انھوں نے سر سید پر ایک لیبل لگا دیا کہ وہ انگریزوں کے ہمدرد ہیں اور ان کے مفاد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔کیا سر سید نے اس کتاب اسباب ِبغاوت ِہند کو ملک و قوم کی ہمدردی کے لئے تحریر کیا تھا ۔یا پھر اس میں بھی انگریزوں کی خیر خواہی کا راز پنہاں تھا ۔کیا سر سید احمد خاں کو اس بات کا احساس تھا کہ اس وقت جب کہ انگریز حکومت کے خلاف زبان کھولنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں تو ایک مکمل کتاب شائع ہونے پر کیا رد عمل ہو سکتا ہے ۔
کیا سر سید نے غور نہیں کیا ہوگا کہ اس ایک چھوٹی سی کتاب جس میں سراسر حکومت کو ہی مورد ِالزام ٹھہرایا گیا ہے کا انگریز حکومت پر مثبت اثر پڑے گا یا منفی ۔ ثانی الذکر کی صورت میں سر سید کے خلاف سخت کاراوئی بھی جا سکتی تھی ۔لیکن سر سید کے دل میں بات تھی کہ انگریز ان کی باتوں کا برا نہیں مانیں گے۔کیونکہ وہ خود بھی یہ سوچتے تھے کہ اس کتاب سے انگریزوں کا ہی بھلا ہے۔اس کا اظہار انہوں نے اپنے دوست اورماسٹر رام چندر کے چھوٹے بھائی رائے شنکر داس سے بھی کیاتھا جب وہ اس کتاب کے شائع ہونے پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہے تھے۔
’’میں ان باتوں کو گورمنٹ پر ظاہر کرنا ملک اور قوم اور خود گورمنٹ کی خیرخواہی سمجھتا ہوں
۔ اگر ایک ایسے کام پر جو سلطنت اور رعایادونوں کے لئے مفید ہو مجھ کو کچھ گزند بھی پہنچ جائے تو گوارا ہے۔‘‘
(حیات جاوید، ص۹۵)
سرسید نے کتاب لکھی ضرور تھی لیکن انہوں نے اس کو عام نہیں کیا تھا۔ سر سید کو یقین تھا کہ دانش مند انگریز ان کی باتوں کو سنجیدگی سے ضرور لیں گے لیکن کا برا نہیں مانیں گے ۔ میری اس بات کو تقویت وہاں سے بھی ملتی ہے کہ سر سید نے فارین سیکریٹری سسل بیڈن جو سر سید کی اس کتاب کے متن سے بہت نالاں تھا کہا کہ اس’’ اسباب ِبغاوتِ ہند‘‘ کی ۵۰۰ کاپیاں شائع ہوئی ہیں لیکن ہندوستانیوں کو اس کا ایک بھی نسخہ نہیں دیا بلکہ گورنمنٹ کو ایک کاپی پیش کی اور باقی سب ولایت روانہ کردی گئیں کچھ کاپیا ںضرور سرسید نے اپنے پاس محفوظ رکھیں لیکن ہندوستان یا کسی بھی عہدے دار تک ان کی رسائی نہیں ہو پائی ۔
سر سیدنے اپنی کتاب میں کن کن اسباب کا ذکر کیا ہے یا ان کے موقف سے وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے ہندوستان میں سر کشی کی ابتداء ہوئی ؟اس پر بھی نظرڈالتے ہیں۔
سر سید نے لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ ء کی سر کشی کسی ایک بات سے نہیں ہوئی بلکہ بہت سی باتوں کا ایک مجموعہ تھا ۔(۷۲ ص َ۔ اسباب بغاوت ہند ) انہوں نے بغاوت کے پانچ اسباب کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے جو اس طرح ہیں:
اول: غلط فہمی رعایا۔
دوم: جاری ہونا ایسے آئین و ضوابط اور طریقۂ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات کے مناسب نہ تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے۔
سوم: نا واقف رہنا گورمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات و اطوار اور عادات سے اور ان مصائب سے جو ان پر گزرتے تھے اور جن سے رعایا کا دل گورمنٹ سے پھٹا جاتا تھا۔
چہارم: ترک ہونا ان امور کا ہماری گورمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب و لازم تھا۔
پنجم: بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی ۔
         سر سید احمد خاں نے نہایت جانفشانی سے تحقیق کی اور بغاوت ِہند کے لئے تصنیف کی جانے والی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ۔ اس سلسلے میںانہوں نے مطالعہ کیا مشرق و مغرب کے مصنفین کی تحریریں بھی ان کی نگاہ سے گزریں۔ سر سید نے حکومت پر واضح کیا کہ ہندوستان میں بغاوت کے اسباب سراسر انگریز عہدے داروں کی کی پیدا کردہ تھے ۔ ان کی بے توجہی کی وجہ سے پس ِمنظر میں بغاوت کے طوفان کے لئے ذخیرہ جمع ہوگیا تھا جس میں صرف ایک چنگاری ڈالنے کی ضرورت تھی شعلہ بھڑکنا کوئی دور کی بات نہ تھی ۔
    سر سید نے انگریز حکومت اور انگریز حکام کے یقین کردہ نظریہ میں کامیابی سے شگاف ڈالا کیوں کہ انگریز حکمران یہ بات اپنے دل میں بسائے ہوئے تھے کہ بیرون ممالک مثلاً ایران اور روس کی سازش ،شہزادہ ٔ ایران کے خیمہ سے نکلنے والے اشتہار سے لوگوں کے اذہان میں شر انگیز واقعات پیدا ہورہے ہیں۔ان کا ماننا تھا کہ اس بغاوت کے برپا ہونے کے پیچھے کوئی بڑی سازش کام کررہی ہے ۔ بہادر شاہ ظفر کے ذریعہ ایران کے حکمرانوں کو فرمان لکھنے جیسی باتوں کو سر کشی کی بنیاد سمجھنا ان سب باتوں کو سر سید نے بے بنیاد قررار دیا ور ان سب کی اہمیت کو سرے سے نکار دیا ۔دلائل اور ثبوت لکھتے ہوئے انگریز قوم پر انھوں نے یہ بات واضح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ یہ ساری عام باتیں ہیں سر کار ان کی طرف دھیان نہ دے ۔ان سب کا بغاوت سے کوئی سروکار نہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ انگریز حکمراں اودھ سلطنت کی ضبطی سے اس کا کوئی تعلق نہ سمجھیں ۔بلاشبہ یہ سب باتیں پس ِمنظر میں اپنا اثر رکھتی ہیں اور باقائدہ کسی تحریک کا کام کر رہی تھیں۔ لیکن بغاوت میںاصل بنیاد یہ نہیں تھی ۔اپنی قوم کا دفاع کرنے کے لئے سر سید نے حقیقت پسندی سے کام لیا نہ کہ بے جا حمایت کا طریقہ اپنایا انھوں نے کسی بھی طرح سے دروغ گوئی کا طریقہ اپنانے سے پر ہیز کیا ۔مسلمانوں کا مکمل دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی جہاد کی غرض سے کوئی سازش سر انجام نہیں دے سکتے ۔ کیوں کہ مسلم جس بادشاہ کی رعیت میں رہے اس کے خلاف جہاد کو اسلام کی رو سے جائز نہیں سمجھا ۔اس لئے انہوں نے لکھا کہ انگریز حکومت اس بغاوت کو جہاد کی غرض سے کی گئی جنگ نہ تصور کرے ۔سر سید نے واضح کیا کہ انگریز حکمراں  فتووں اور جہاد کرنے کا دعوی کرنے والوں پر بھی نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ وہ سب شرابی ،بے نمازی اور خدا رسول سے حد درجہ دور رہنے والے لوگ ہیں ۔ سر سید نے ان مہروں کی بھی وجہ بتائی جو ان خطوط اور نوشتوں پر لگائی گئیں تھیں کہ وہ مہریں جن لوگوں کی تھیں ان میں سے بیشتر انگریز حکمرانوں کے عزیز رہنے والے تھے اور وہ کبھی بھی انگریز قوم کے خلاف نہیں جا سکتے تھے ،نہ ہی وہ لڑائی میں کبھی بھی مقابلہ پر آسکتے تھے ۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ وہ سب باہم متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف جہاد کریں ۔سر سید نے ہندوستانی فوج کی طرفداری میں تحقیق کرکے لکھا کہ فوج میں بغاوت کے لئے پہلے سے کوئی فوج کاآپس میں کوئی صلاح و مشورہ نہیں تھا اورنہ ہی اس سرکشی کا کوئی Blue  Print تیار کیا تھا ۔بلکہ صرف جدید کارتوس کے استعمال نہ کرنے کے لئے ایک اتحاد قائم ہوا تھا جس میں بغاوت کا ذرہ برابر بھی عنصر موجود نہیں تھا ۔
  در اصل سر سید انگریز سر کار کو باور کرانا چاہتے تھے کہ ہندوستانی باشندوں کے ساتھ جو سوتیلا رویہ انگریز حکمران روا رکھے ہوئے ہیں یہ بغاوت یقیناً اسی رویہ کی وجہ سے عمل میں آئی ہے ۔۔انگریز حکمرانوں نے لجسلیٹیو کونسل میں ہندوستانیوں کو شریک کرنا کبھی ضروری نہیں سمجھا ۔جس کی جہ سے یہاں کے لوگ گورمنٹ کی افادی اسکیموں کو بھی سمجھنے سے قاصر رہے ۔ اور رعایا گورمنٹ کے نیک ارادوں کو بھی اس کے برعکس سمجھی ۔سر سید نے  اس کتاب میں بغاوتِ ہند کے مذکورہ بالا پانچ اسباب بتاتے ہوئے اس کے تدارک کی تجاویز بھی پیش کی ہیں
اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں بہت سارے سوالات کے جواب مل جاتے ہیں وہیں ایک طرف اس کتاب کو پڑھتے ہوئے کیا ایک اور سر سید کی ضرورت ہمیں آج محسوس نہیں ہورہی ہے ؟ کیا پھر وہی دور واپس پلٹ آیا ہے کہ مسلم معاشرہ اور شریعت کے قوانین میں انگریز حکمرانواں کی طرح دخل اندازی کی جارہی ہے سر سید نے اسباب ِبغاوتِ ہند میں یہ ذکر بھی کیا ہے کہ مسلم معاشرہ سب سے زیادہ مذہبی امور میں غیر مسلم عہدیداروں کی مداخلت سے سب سے زیادہ خفا تھا اور نہ صرف مسلم اس امر سے نالاں تھے بلکہ ہندو بھی اپنے دھارمک قوانین میں کسی طرح کی کوئی ردو بدل قابل قبول نہیں سمجھتے تھے ۔اس لئے چربی لگے کارتوس بغاوت کی وجہ بننے میں کارآمد ثابت ہوئے ۔بہر حال مجھے کسی اور طرف ذہن کو متوجہ کرنا ہے ۔
       ۱۹ ویں صدی میں جن حالات سے مسلم معاشرہ دوچار تھا ،جس طرح حکومت مسلم معاشرہ کو مجرم سمجھ کر ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی اور ایک مخصوص فرقہ کو مجرم مان رہی تھی اگر عہد ِحاضر پر نظر کریں تو وہی حالات آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر مسلمان اپنی ذات کو چھپانے کے لئے مجبور کر دئے گئے ہیں ۔آج اس سے زیادہ بدتر گناہ کوئی نہیں ہے کہ کوئی اپنا مذہب اسلام بتائے ۔ ہم ۱۸۵۷ کے وقت کا سیاسی منظر نامہ دیکھیں اور آج کے دور سے اس کا معائنہ کریں تو بہت حد تک مماثلت پائیں گے۔ اس وقت بھی مسلمان ہراساں تھے اور آج بھی وہ سہمے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی مسلمانوں کو سرکاری ملازمت سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور یہ آج بھی ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ اعلانیہ طور پر ایسے اعلان نامے شائع کر رہی ہے جن سے ایک مخصوص طبقہ اس کی زد میں آنے پر ہراساں اور پریشان ہے ۔گورنمنٹ کے جیسے جیسے اختیار زیادہ ہورہے ہیں ویسے ویسے ایک خوف مسلم معاشرہ میں سرایت کرتا جارہا ہے آج حکومت اور مسلم طبقہ کے درمیان بے اعتباری کی دیوار اٹھتی جارہی ہے ۔یہاں ایک سوال اور قائم ہوتا ہے کہ کیا آج بھی ہمیں ایک اور سر سید کی ضرورت نہیں ہے جو اتنا بہتر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ ایک ایسا منصوبہ تیار کر سکے جس سے گورنمنٹ کی خامیاں اجاگر ہو جائیں اور وہ ناراض بھی نہ ہو۔ اس طرح دونوں کے درمیان اٹھ رہی بے اعتباری کی دیوار کو منہدم ہو جائے اور نسلوں میں تعلیم کا سلسلہ چل نکلے۔
izzamoin@gmail.com
      phone.9012953333
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular