ڈاکٹر ہارون رشید

زندگی شکست و ریخت، ناکامیوں ، محرومیوں اور جبر معاشرہ کا عجیب وغریب امتزاج ہے جو انسان کی طاقتور ترین قوت ارادی کی بھی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔عام انسانوں سے قطع نظر جب شاعر جذبۂ حریت کی کشمکش کا شکار ہوتا ہے تو یہ آویزش اس کے حق میں کسوٹی بن جاتی ہے،اس کے حوصلے اور اس کی آگہی کی۔شاعر جب اس کسوٹی پر اترتا ہے تو اس کے لہجے سے فکر و آگہی کا نور جھلکتا ہے۔یہی نور اس کے وسیلۂ اظہار یعنی صنف سخن میں اتر جاتا ہے۔پھر وہ حمد ہو یا نعت،منقبت ہویا قصیدہ ہر صنف سخن میں اس کے فکر وآگہی کا نور جلوہ افروز نظرآتا ہے۔
عرفان لکھنوی کا شمار بھی ایسے ہی شعراء میں ہوتا ہے جن کے وسیلۂ اظہار میں ان کی فکر و آگہی کا نور جھلکتا ہے۔گذشتہ دو دہائیوں سے زیادہ ان کے تخلیقی سفر کا دورانیہ ہے اسی درمیان ان کے دو شعری مجموعے ’’احساسات‘‘ اور’’سرد ہوا‘‘ منظر عام پر آئے اور ایک ٹھنڈی ہواکے جھونکے کا احساس اس لکھنوی شاعری کے حوالے کرا گئے جس کے بارے میں استاذ محترم پروفیسر انیس اشفاق (سابق صدر شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی،لکھنؤ)نے ایک مذاکرے میں کہا تھاکہ اب لکھنؤ میں شعری روایت کہاں ہے وہ تو عرفان صدیقی پر ختم ہو گئی۔بلا شبہ عرفان صدیقی کا شمار اردوکے بڑے شعرا میں ہوتا ہے۔لیکن اگر جسارت کروں تو یہ غلط نہ ہوگا کہ عرفان صدیقی کو شمس الرحمن فاروقی،پروفیسر نیر مسعود،عابد سہیل اورپروفیسر انیس اشفاق جیسےناقد دوست نہ ملے ہوتے تو شائد ابھی اردو شاعری کو عرفان صدیقی کا عرفان نہ ہوا ہوتا۔اور میرے استاد بھائی اوردوست ڈاکٹر مرزاشفیق حسین ’’شفق ‘‘نے ان پر ان کی حیات ہی میںاتنا تحقیقی کام نہ کیا ہوتا جس نے عرفان صدیقی کی شناخت کو نہ صرف تسلیم کروانے میں اہم رول ادا کیا ۔ یہاں عرفان صدیقی اور عرفان لکھنوی کا تقابلی مطالعہ قطعی مقصود نہیں ہے اور نہ کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بتانا ضرور مقصود ہے کہ عرفان لکھنوی کی کم نصیبی ہے کہ وہ نہایت شریف،با اخلاق،منکسرالمزاج اور لکھنوی شعراء کے اس مزاج سے کوسوں دور ہیں جسے عابد سہیل نے ایک مضمون میں ’’چگی بازی ‘‘کہا تھا۔اور جس میں اس زمانے کے بڑے بڑے ادیب اور شعراء سب شامل تھے۔وہ’’ چگی بازی‘‘ لکھنؤ میں اب بھی موجود ہے اور اس کے مختلف اڈے شہر نگاراں میں قائم ہیںجن سے اہالیان لکھنؤ اچھی طرح واقف ہیں۔ بلاشبہ اگر عرفان لکھنوی کی نشست برخاست ان لوگوں میں ہوتی جو ادب میں کسی فنکار کی درجہ بندی کے با قاعدہ ٹھیکیدار سمجھے جاتے ہیں تو آج عرفان لکھنوی پر بھی قابل قدر کام ہو چکا ہوتا۔کیو نکہ ان سے بہت زیادہ کمتر درجہ کی شاعری کرنے والوں پر ایم اے کے ڈزرٹیشن لکھے گئے اور لکھے جا رہے ہیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران غزل کی جو نئی آوزیں ابھری ہیں ان میں عرفان لکھنوی کی شاعری خواہ وہ بہاریہ شاعری ہو یا نعتیہ شاعری انھوں نے اپنی تازہ کاری سے ارباب ذوق کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔
عرفان لکھنوی سے میری ملاقات باقاعدہ بزم احساس ادب(سیتا پور روڈکھدرا) کی ماہانہ نعتیہ نشست میں ہوئی تھی اور اسی طرحی نشست میںعرفان لکھنوی کے ذریعے پڑھا گیا ایک شعر آج بھی ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ہے۔
زائر طیبہ کا چہرہ دیکھ کر
میری آنکھوں کی طہارت ہو گئی
یہ شعر سنتے ہی میں چونکا تھا کیونکہ عرفان لکھنوی کی عمر بھی ایسی کوئی خاص نہیں ہے ابھی۔ اور یہ شعر تقریباً ۹؍ برس پہلے انھوںنے ایک نشست میںپڑھا تھا تو چونکنا اور بھی لازم تھا۔شعر میںشاعر نے اپنی آنکھوں کی طہارت کو طیبہ کے تقدس سے جوڑ کر جس فنکاری سے پیش کر دیا ہے وہ کسی غیر معمولی شاعر کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے ۔اس کے بعد تو ان کی دوکان پرجو اصلاً دوکان کم شعراء کا ملاقاتی اڈہ زیادہ ہے ،ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور اور متعدد نشستیں اور مشاعرے ان کے ساتھ پڑھنے کا شرف حاصل ہوتا رہا۔اور ہر مشاعرے اور ہر نشست میں عرفان اپنی شاعری سے چونکاتے رہے ہیں۔ ابھی تازہ مطلع جس میں حمد اور نعت دونو ں کی آمیزش ہے اس نے بھی کئی لوگوں کو نہ صرف چونکایا ہے بلکہ لکھنوی شاعری کی دھمک کو بھی محسوس کرایا ہے۔ اسلام کی ہجرت ثانیہ کی تاریخ اور کرب، پھر اس کے نتائج کو دو مصرعوں میں کسقدر خوبصورتی اور فنکاری سے سمویا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:.
لئے دردو غم کی وراثتیں جو حرم سے اہل وفا گئے
تو کرم کی ایسی ہوا چلی کہ فضائے دہر پہ چھا گئے
یا کہ ان کی منقبت کا ایک شعر جس میں انھوں نے حضرت ابو بکر صدیق کا نام لئے بغیر ان کی شان میں منقبت کہی ہے لیکن نعت کا پہلو یہاں بھی نمایاں ہے صرف الفاظ ہیں جو اپنے آپ میں پوری تاریخ بیان کر دیتے ہیں:
زہر بھی اپنا کام بھول گیا
پا کر ان کے لعاب کی خوشبو
اس طرح کی نعتیہ شاعری عصری نعتیہ شاعری میں ایک قیمتی سرمایہ ہے جو اپنی معنوی وسعتوں اور فنی تہ داریوں کی بنا پر کئی نعتوں پر بھاری ہے۔عرفان کی نعتیہ شاعری پرتفصیلی گفتگو پھر کبھی انشاء اللہ۔
یہ نزاکت یہ ناز یہ انداز
ایسا لگتا ہے لکھنوی ہیں آپ
عرفان چونکہ خود لکھنوی ہیں اس لئے اپنے محبوب کی زلفوں کی تعریف بھی لکھنوی انداز میں کرتے ہیں میراغالب گمان ہے کہ اب تک کسی شاعر نے محبوب کی زلفوں کو کسی شہر سے تشبیہ نہ دی ہو گی لیکن عرفان لکھنوی کی ندرت ادا دیکھیے جس کی خوبی یہ ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کی تعریف کی جا رہی ہے۔
س کی زلفیں ہیں کہ شام لکھنؤ
گفتگو جیسے کلام لکھنؤ
یہ پہلے بھی تھا کہ بعض علاقائی متعصبین نے لکھنؤکی مرکزیت اور اس کی ادبی اہمیت سے انحراف کیا تھا اور آج بھی یہ روش جاری ہے۔جبکہ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو آج بھی لکھنؤ کو ادبی مرکزیت حاصل ہے ۔ بالخصوص شاعری کا فنی اور تکنیکی پہلو جو لکھنؤ کے باہر کافی کمزور ہو چکا ہے اس کی پاسداری لکھنؤ میں آج بھی ہے اور عرفان لکھنوی جیسے شاعر جدید لکھنوی شعری روایت کے امین بن کر ابھرے ہیں بشرطیکہ کوئی دیکھنا چاہے ۔پروفیسر علی احمد فاطمی نے نجمہ عثمان کی کتاب پر مقدمہ لکھتے ہوئے لکھا کہ موجودہ وقت میںاردو کے تین مرکز ہیں۔لندن کراچی اور دہلی ۔عرفان لکھنوی ایسے تمامی حضرات سے کہتے ہیں:۔
اے علاقائی تعصب کے مریض
تو نہ سمجھے گا مقام لکھنؤ
وہ جب یہ شعر کہتے ہیں
ہم نے جب رکھ دئے جلا کے چراغ
بجھ گئے سر پھری ہوا کے چراغ
اس نے اک چاند کر لیا تخلیق
میرے طاقوں سے سب اٹھا کے چراغ
تو بھی کہیں نہ کہیں پس منظر میں یا اپنے تحت الشعور میں بسی لکھنؤ کی ہی عظمت رفتہ رقم کرتے ہیں۔یہ ان کی شاعری کی خوبی ہے کہ آپ ان شعروںکو اسلامی عظمت رفتہ پر یا ہندوستانی عظمت رفتہ پر بھی منطبق کر سکتے ہیں۔اس میں کہیںنہ کہیں وہ المیہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے چراغوں کی روشنی کو کمتر سمجھا اور مغرب کی ہر چیز کو بالا تر۔لیکن اسی مغرب نے ہمارے چراغوں سے چاند تخلیق کر لئے ہیں۔آزادی کے بعد سے لگاتار انسان بالخصوص مسلمان جس انتشار کا شکار ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لیکن انتشار اور بکھراؤ کا رونا رونے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔عرفان کے مشورے پر عمل کیجئے۔
بکھرا بکھرا ہے نظام زندگی
آؤ کر لیں اہتمام زندگی
لیکن ان کی آنکھیں بند نہیں ہیں وہ ایک با شعور اور حساس شاعر ہیں اس لئے ان کی نگاہ پورے عالمی منظر نامے پر رہتی ہے تبھی تو وہ کہتے ہیں کہ
موت کا اک رقص ہے چاروں طرف
اب کہاں ہے احترام زندگی
اور یہ بھی ایک تصویر جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے
کیوں ڈرے سہمے ہیں کچھ معلوم کر
بچے گھر لوٹے ہیں میلہ گھوم کر

غزل کی یہ خاصیت کہ ابھی فرش کی باتیں ہیں اور ابھی عرش کی باتیں ہیں عرفان کے یہاںبھی یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے۔موضوع بدلتا ہے ۔غم کے بدلے اپنی ہر خوشی قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ عرفان کے یہاں غم ایک وقتی جذبہ نہ ہو کر ایک فسلسفہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جبھی تو وہ غم کی لذت سے آشنا ہیں اور کسی قیمت پر اس لذت غم سے محروم ہونا نہیں چاہتے۔اس کے بدلے وہ اپنی خوشیاں اور شادمانیاں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان کی شدت احساس کا یہ عالم یہ ہے کہ وہ شادمانی کو دنیائے فانی اور غم کو حیاتِ جاودانی تصور کرتے ہیں۔ایک دوسری جگہ کہتے ہیں کہ ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے خوفی سے بات کرنا ہوگی ان کے سامنے آنسو کی کوئی قیمت نہیں ہے۔لیکن اگر کچھ مانگنا ہو تو سلطانی لہجہ اختیار نہیں کرنا چاہئے یہ نادانی ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس دور میںآدمی غم کی تھکن سے چور ہے لیکن اس کے باوجود اس دور میںمعیار زندگی بہت بلند ہے۔انسان نے اپنی زندگی کے معیار کو بلند تر کرنے کے لئے ہی ددوڑ بھاگ کی زندگی کو اپنایا ہے۔پھر شکوہ کیوں ہے۔زندگی کے اسی معیار نے انقلابات تو بہت برپا کئے ہیں لیکن پھر بھی انسان کے اندر سے انسانیت اور اخوت کا جذبہ کہیں گم ہو گیا ہے۔دور ترقی تو آیا لیکن بے حسی بڑھ گئی۔ہر انسان اپنی مادی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی فکر میں کیا کچھ کھوتا جا رہا ہے اس کی اسے فکر نہیں ہے۔ہم ہر میدان میں اپنے حریفوں سے آگے نکلنے کی ہوڑ میں اکیلے ہوتے جا رہے ہیں۔رشتوں کی شکست و ریخت سے ہرانسان دوچار ہے۔ دوسری طرف ان رشتوں کو توڑ بھی چکے ہیں جن سے تکلیف زیادہ ہے اور راحت کم ہے۔اور اپنی بھیگی پلکیں نچوڑ آنے کا مطلب یہ ہے کہ سارے آنسو بہا آئے ہیں اب ادھر کا رخ نہیں کرنا ہے ۔ بھیگی پلکوں کا نچوڑ آنااظہار کا نیا حوالہ ہے جو عرفان لکھنوی کی شناخت کو منفرد بناتا ہے۔
چھین لے چاہے تو میری ہر خوشی
لذت غم سے نہ اب محروم کر
اپنے غم دے شادمانی کیا کریں گے
لے کے ہم دنیائے فانی کیا کریں گے
ظالموں سے بات کر بے خوف ہو کر
وہ تری آنکھوں کا پانی کیا کریں گے
اپنے لہجے کو سلطانی کرتے ہیں
سائل بھی کیسی نادانی کرتے ہیں
بھیگ گئی اے دھوپ تری ساری پوشاک
مو سم بھی کتنی من مانی کرتے ہیں
چور ہے غم کی تھکن سے آدمی اس دور میں
پھر بھی معیاری بہت ہے زندگی اس دور میں
آپ نے برپا کئے ہیںجانے کیسے انقلاب
اور بڑھتی جا رہی ہے بے حسی اس دور میں
حریفوں سے ہم آگے ہو گئے ہیں
مگر کتنے اکیلے ہو گئے ہیں
سارے رشتوں کو توڑ آیا ہوں
بھیگی پلکیں نچوڑ آیا ہوں
آپ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائیں گے
سنگ مت پھینکئے آئینوں کی طرف
ان اشعار کی ساخت اور ہیئت پر ہی اگر گفتگو کی جائے تو دفتر کا دفتر سیاہ کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔اگر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیںکہ شہر،فصیل،کمرہ ،رات،تصویر،تنہائی ،تاریکی،شور،نشتر،سنگ،آئینہ،شیشہ،پتھر،پھول،گلاب،خوشبو،کتاب ،پرندہ،اور دھوپ وغیرہ عرفان لکھنوی کی پسندیدہ علامتیں اور استعارے ہیں جن کے پردے میں وہ شعر کی ساخت اور ہیئت کی تشکیل کرتےہیں۔یہی وہ علامتیں بھی ہیں جن پر جدیدیت کا انحصار تھا لیکن وہاں تخلیقیت سے زیادہ فیشن کے طور پر ا ن علامتوں کا استعمال ہوا اور نتیجتاً ان شاعروں کے یہاں یہ علامتیں فرسودگی کا شکار ہو گئیں۔عرفان لکھنوی حالانکہ اس دور کے شاعر نہیں ہیں کہ جب جدیدیت ایک فیشن کی طرح غالب ادبی رجحان تھا ۔بلکہ وہ جس دور کے شاعر ہیں وہ ما بعد جدید دور کہلاتا ہے ۔پھر بھی انھوںنے ان الفاظ کو علامت کے طور پر نہ صرف برتا بلکہ یہ احساس بھی کرایا کہ لفظ یا علامت فی نفسہ فرسودہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا فنکارانہ اور خلاقانہ استعمال انھیںلائق ِ افتخار بناتا ہے۔جب وہ یہ شعر کہتے ہیں تو جدیدیت کی اس فرسودہ ہوتی روایات کو ایک تازگی دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور شائد وہ یہ بھی کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ادب کا سماج سے اگر رشتہ ٹوٹ گیا تو وہ ادب نہیں رہ جائے گا اس لئے وہ تنہائیوں سے نکل کر بزم آرائیوں کی طرف چلنے کا پیغام دیتے ہیں۔اس پیغام سے ایک خاص مکتبہ فکر کے ناقدین اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ادب کا تعین قدر کسی کے ذاتی نظریوں کی بنیادوں پر نہیں کیا جاتا بلکہ ادب کی سماجی جمالیاتی قدروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔دوسرے مصرعے میں تنہایئوں کی طر ف شور کی بات ایک شعری حسن ہے۔
اب چلو بزم آرائیوں کی طرف
ہے بہت شور تنہائیوں کی طرف
اس مختصر مضمون میں عرفان لکھنوی کی تمام شعری جہات پر مکمل گفتگو کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ضرورت ہے کہ اہل نظر اور اہل ذوق نئے زمانے کی شعری اساس کی طرف بھی توجہ فرمائیں ۔اس زمانے میں میر ،غالب ،مومن اور ذوق جیسے اساتذہ نہ سہی لیکن عرفان لکھنوی جیسے شاعر ضرور ہیں جنھوں نے اپنے خلاقانہ وسیلہ ٔاظہار سے اپنا شناخت نامہ خود تشکیل کیا ہے۔ان کی شاعری اکیسویں صدی کے اوائل کے دوران سرعت کے ساتھ بدلتی سماجی اور سیاسی قدروں اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی انسانی نفسیات کا ایسا شعری منظر نامہ ہے جس میں کرب ذات و کائنات کا اظہارنہایت خلوص اور سادگی کے ساتھ کیا گیا ہے۔کبھی کبھی ان کے یہاں رومانی جذبات بھی موجیں مارتے ہیںتاہم ان کے شعری اثاثے کو دیکھ کر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انھوں نے انسانی زندگی اور اس زندگی کی کوکھ سے پھوٹنے والے متنوع مظاہر،رشتوں اور ان سے وابستہ سچائیوں کو جدید شعری پیکر عطا کرنے میں بڑی ہنر مندی اور سلیقہ مندی سے کام لیا ہے ۔ موضوعاتی اعتبار سے انھوں نے صرف اپنے عہد کا منظر نامہ ہی نہیں پیش کیا ہے بلکہ ان کی شاعری ان کے پختہ شعور،صلابت فکری،فنی رچاؤ اور تخلیقیت افروزی کا مظہر بھی ہے جس میں سلاست زبان و بیان کے ساتھ ساتھ معنوی تہ داری بھی ہے اور جدید رنگ و آہنگ بھی۔ان کے پاس فکر بھی ہے ،صالح قدروں کی پاسداری بھی ہے اور مہملیت آمیز جدیدیت سے شعوری گریزبھی۔حقیقت بیانی بھی ہے اور جرات اظہار بھی۔ان کی شاعری میں حوصلہ بھی ہے اور تہذیب بھی ۔متانت بھی ہے اور فہم و فراست بھی۔ عالم شباب میں انھیں فکر و شعور کی ایسی پختگی حاصل ہے جو مدتوں کی ریاضت کے بعد بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔





