زبیراحمد قادری
لفظ ،قلم اور کاغذ یہ انسان کے بہترین دوستوں میں سے ہیں ان کا مہیا ہونا وقت پیسہ یا جگہ کا محتاج نہیں، فنون لطیفہ میں ادب ایک ایسی صنف ہے جس میں ہزارہا انسان بلاتفریق ذات، جنس اور پیسے کے قلم آزمائی کرتے ہیں ۔ کائنات میں جتنے رنگ ہیں،ان رنگوں کے جتنے پھول ہیں، پھولوںکی جتنی خوشبو ہے چار سو بکھیرتے چلے جاتے ہیں۔ جس طرح سرمحبت ہے سُر اُجالگی ہے، سُر تابندگی ہے، سُر سے ہر موسم سہانا ہوجاتاہے۔ اسی طرح شاعری کی صنف سے رتجگے منور ہوتے ہیں، روٹھے ہوئے مان جاتے ہیں، ماضی کا آئینہ روشن رہتاہے، جلترنگ بجتی ہے توسُروں پہ شاعری رقص کرنے لگتی ہے، ذاتِ نہاں کا خوبصورت اظہار شاعری ہے اس کو مہاراشٹر انڈیا کی خوبصورت شاعرہ حاجرہ نور زریاب نے سمنِ سخن میں یوں پرویا ہے جیسے مالا میں موتی پروئے جاتے ہیں۔
آج مجھ کو بھلادیا اس نے
آنسوئوں میں بہادیا اس نے
ایک خوبصورت غزل ہے۔ اظہار ذات ایک مشکل کام ہے ان کی شاعری میں دکھوں اور محبتوں کے سمندر میں غوطہ زن قاری جب سر اٹھاتا ہے تو مکمل طور پر بھیگ چکاہوتاہے ان کی کیفیات قاری میںمنتقل ہوجانا ہی ان کی کامیابی ہے، عہد حاضر کی حساس شاعرہ جب لکھتی ہیں تو اس میںان کی مایوسی کا عکس بھی لہراتا ہوا نظر آتاہے جیسے
ؔکچھ بھی نہیں ہے کیا پس دیوار دیکھنا
سائے کو ڈوبتے ہوئے ہربار دیکھنا
دوسروں کی خوشی میں جینے والی زریاب بڑی فراخدلی سے دعائوں کو پھیلاتے ہوئے کہتی ہیں۔
میں تو چراغِ شب تھی چلو بجھ گئی مگر
تم تو سحر کے خیر سے آثار دیکھنا
زندگی دھوپ اور سائے کے تمام فاصلے طے کرتی ہوئی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کہیں کوئے یار میں پناہ ملتی ہے توپتھروں سے لگے زخم بلبلانے لگتے ہیں اور کبھی تھل میں پڑائو کرنا پڑے تو ریت کے بگولے آنکھوں اور سانسوں میں ریت انڈیلنے لگتے ہیں اور نایاب کی شاعری بھی کہیں کہیں انہی قیامتوں کا سامنا کرتی نظرآتی ہے۔
حال کیا ہوگا اب دل کے بیمار کا
ہوگئے سب کے سب چارہ گر دربدر
لب پہ زریاب رکھی ہوئی اک دعا
دیکھنا ہے اب اس کا اثر دربدر

خوبصورت استعارے اور کنایئے کا استعمال اور کڑکتی ہوئی بجلی کے سہم سے لپٹ کر گزرنے والی زندگی سب کا احوال حاجرہ نور زریاب کے کلام میں جا بجا ملتاہے، ان کے عورت ہوکر سہنے والے دکھ درد، غم،خوشی، ہجروصال اور رسوائیاں ان کے تن پہ پیوند کی طرح سلے ہوئے نظرآتے ہیں اس پر طُرہ یہ کہ وہ درد وانم کی عمیق وادیوں میں خود کو یوں چھپا لیتی ہیں کہ اپنی تلاش بھی نہیں کرپاتی۔
ہجر کی رات یوں جشن منالیتے ہیں
شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتے ہیں
گویا حاجرہ نور زریاب عہدِ حاضر کی شاعری کی نمائندہ شاعرہ ہیں پروین شاکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی شاعری میں حسن اوردرویشی کی رمق بھی پائی جاتی ہے ان کیلئے اتنا کہوں گا۔
روز ملتاہے غم نیا کوئی
زندگی ہے کہ بدعا کوئی
چھان مارا ہے اک زمانے کو
نیز ثانی نہ مل سکا کوئی
مدیر ترقیم وترسیل،دہلی





