Saturday, February 28, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldدہلی سے لکھنؤ کا ایک یاد گار سفر

دہلی سے لکھنؤ کا ایک یاد گار سفر

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

غلام علی اخضر

سفر انسانی زندگی کا بتدریج ترقی و عروج حاصل کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا حصہ ہے۔ دست قدرت نے مناظر کائنات کا ایسا لاجواب کرشمہ دکھایا ہے کہ ہرشیٔ میں اس کے وجود کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ اس نے انسان کے رہنے سہنے کے لیے زمین کی شکل میں فرش بچھا دیا اور پھر شامیانہ کے لیے آسمان کا وجود بخشا ۔ اس میں چاند و سورج کو ہر آن گردش میں مقرر کردیا۔ جو ہمیں روشنی دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ زندگی ایک مقام پر ٹھہرے رہنے نہ دو ! اگر تم اپنی کامیابی چاہتے ہو۔سفروحضر ہماری زندگی میں اولین آفرینش سے ہی ضروری رہے ہیں ۔ بابا آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ،دیگر انبیاے کرام کے ساتھ بھی یہ معاملہ رہا جس کی وجہ سے کہیں کی زندگی کہیں جاکر آباد ہوگئی ۔ ہماری تاریخ میں حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کا واقعہ مکہ کے بے آب و گیا زمیں کو آباد کرنے میں ایک اہم نمونہ ہے اور عظیم تاریخ بھی ۔ سفری رویہ دنیا جب تک قائم ہے جاری رہے گا۔شاید یہ سفر کا معاملہ بعدالموت بھی ہمارے ساتھ رہے۔ یوں تو میں نے اپنی زندگی میں کئی سفر کیے مگر ہمیں دبستان دہلی کی زرخیز زمین سے دبستان لکھنو کی دل موہ لینے والی فضا اور نگین نظاروں کا جب میں نے نظارا کیا تواشہب قلم کو رہانہ گیا اورامرائو جاں ادا کی لچکتی،شیطانی اورہواس باختہ کردینے والی ٹھمکے کی زد میں آ ئی ہوئی ہوائیںآ ج بھی وہاں کے شام کو رنگیں کررہی ہیں۔یہاں کی گنگا جمنی تہذیب آج بھی آب و تاب کے ساتھ شباب پر ہے۔عمارتیں نوابوں کے ذوقِ تعمیری کی آج بھی گواہی دے رہی ہیں،کو صفحۂ ابیض پر اسودِ تحریر سے سپرد کرنے پرلگ گیا۔ بادل ناخواستہ مجھے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا،ا گرچہ میرے اندر لکھنؤ کی گدگدا دینے والی اور خاموش تاریخ کوضبط کرنے کی صلاحیت نہیںمگر’’مرتا کیا نہ کرتا ‘‘جو ہوا سو حاضر ہے:
میں22/5/2018کو مرنجاںمرنج شہر لکھنؤ میں قدم رنجہ ہوا۔ جس جگہ میں ٹھہرا تھا، اس کو نیو حیدآباد کہتے ہیں اودھ کی ریاست کے والی ملک غازی الدین حیدر سے منسوب ہے۔ جن کو مغل تخت دہلی سے اپنی تنہا حکومت رکھنے کا اجازت نامہ ملاتھا۔ اس محلے میں بیش تر مکانات بڑے بڑے ہیں ۔ صوبۂ اودھ کے والیان نے اسی محلے میں اپنے مکان کے ساتھ ساتھ صوبے کا دارالخلافہ بھی بنایا تھا۔ اسی محلے میں تمام راجگان و تعلق داران کا بنایاہوا’’کالون تعلق دار کالج‘‘ بھی ہے۔محلے کے نئے علاقے میں فلیٹ نما اور نئے مکانات بننے لگے جس کی وجہ سے اس خطہ کو نیو حیدرآباد کہا جانے لگااور اس کے ایک دورسرے حلقے کا نام پرانا حیدرآباد پڑگیا۔یہ نام سن کر ہمیں پرانی دہلی اور نئی دہلی کی یاد آگئی۔
بیربل شاہ نئی ٹرسٹ، پہلوان شاہ کا مزار، گومتی ندی کا کنارہ اور حیدری مسجد کے ساتھ ایک عجیب شاہی چیزندی کے کنارے دیکھنے کو ملی۔ندی کے کنارے بہت زمین ہونے کے باوجود ایک مسجد اور مندر کی دیوار ایک ساتھ مل کر بنی ہوئی تھی۔ان عمارتوں کے بارے میں کوئی خاص تاریخ تو معلوم نہ ہوسکی ،لیکن روایت کے ساتھ یہ بات مشہور ہے کہ امامِ مسجد اور مندر کے خاص پوجاری کے درمیان بہت گہری دوستی تھی وہ دونوں عمارت کو ملاکرہی اپنی دوستی کی طرح دومذاہب کے درمیان ایک جہتی پیدا کرنے کے لیے رکھنا چاہتے تھے ۔یہ دونوں عبارت گاہیں آج بھی آباد ہیں۔جو ہمیں گنگا جمنی تہذیب کی گواہی دیتی ہیں۔
’’کالاکاں کر ہائوس‘‘جہاں موتی لال نہرو والد جواہر لال نہرو کی وفات ہوئی تھی اور گاندھی جی جس مکان میں قیام کیے تھے وہ میرے قیام گاہ سے چند قدم کی دوری پرتھا۔محلے کے آخری کنارے پر ملک گیر شہرت یافتہ ہنومان مندر ہے ،اسی سے ملاہوا ہنومان پل بھی ہے۔اسی سٹرک سے مغرب کی سمت پر جھولے لال پارک ملا جو اَب ہڑتال کرنے والوں کا مکان ہے۔ اس کے سامنے گومتی ندی کی دوسری جانب ’’چھتر منزل‘‘(مورخین کے مطابق فرانسیسی جنرل کلاوڈ مارٹن نے 1781میں اسے مارٹن ولا کے نام سے تعمیر کرایا تھا۔جیسے بعد میں نواب آصف الدولہ نے خرید لیا) ہے جو واجد علی شاہ والی الملک کا دفتر تھا۔ کچھ اور آگے چلنے پر’’ شہید اسمارک ‘‘قریب دوسو فٹ اونچی سنگ مرمری کی ایک ایک چھوٹے سے پارک میں جو انگریزوں سے جنگ آزادی میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ،کی یاد میں بنائی گئی ہے۔ معلوم چلا کہ پندرہ اگست کو ان کی یادوں کو تازہ کرنے اور ان کی روحوں کو سکون پہنچانے کے لیے دیپ جلائے جاتے ہیں۔ اسی سڑک پر آگے دارلندوہ کی متعدد خوبصورت اور دلکش عمارتیں ہیں جس میں مہمان خانہ، مسجد، درسگاہیں، لائبریری،کانفرنس ہال، دارالفتویٰ،رسالوں کی اشاعت کے لیے دفتراور مشہور زمانہ ماہنامہ ’’تعمیر حیات‘‘ و دیگر رسالے کے دفتاتر موجود ہیں۔ اسی دارالعلوم سے مولانا ابولکلام آزاد، مولاناشبلی نعمانی،عظیم مؤرخ سید سلیمان ندوی ،سید عبدالسلام ندوی،مفتی عبدالسلام ندوی،اور بہت سارے دانشوران نے جنم لیااور سیاست کے ایوانوں سے لے کر ادب ،سیرت اور تاریخ وغیرہ کے سنگ لاخ زمین پر اپنی صلاحیت سے گل کھلائے۔
لکھنؤ کے میرV Rموہن جو بہت بڑے تجارتی تھے۔ ساتھ ہی دل نواز اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ وہ لکھنوی میوزک کے مالک تھے۔
ملک گیر شہرت یافتہ مصنوعی ہاتھ پیر بنانے کے ہسپتال کو بھی ان آنکھوں نے دیکھا۔ اسی کے قریب سائنس سینٹر ہے جس میں مصنوعی سورج چاند تارے جس شکل میں آسمان میں موجود ہیں یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ دن میں اس کی دوبار نمائش ہوتی ہے۔ ایک بار بزبان انگزیزی اور ایک بار بزبان اردو ۔
آگے چلنے پر کن وین شن ہال پارک اور اس کے سامنے بُدھا پارک ملا۔ قریب ہی میں’’ کنگ جارج میڈیکل کالج‘‘ کی خوبصورت عمارت موجود ہے۔
’’پتنگ پارک ‘‘اور اس سے متصل ایک خوبصورت مسجد بھی دیکھی جو پرفضا مقام پر رنگ و روغن سے معمورہے۔ آگے چل کر پیر محمد کے نام سے مشہور ٹیلے والی مسجد جو بہت خوبصورت اور ساتھ ہی یہاں گذشتہ پیر صاحب کی مزار موجود ہے جو وہاں کے وقار میں چار چاند لگاتی ہے۔ اسی سے ملا ہوا گومتی ندی پر شمال سمت میں سیتاپور جانے کے لیے شاہی پل ہے جس کو اکبر بادشاہ نے اپنے نورشن عبدالرحیم خان خاناں کی نگرانی میں تعمیر کروایا تھا۔کچھ ہی دور آگے چلنے پر لڑکوں کا حسین آباد کالج اور آصفی امام باڑہ (بنیاد1784)نظر آیا جو ہندوستان میں تمام امام باڑوں کی جان ہے۔ اسی میں عالمی شہرت یافتہ بھول بھلیاں(بنیاد1784) ہے۔ جس کو آصف الدولہ نے تعمیر کروایا تھا۔ ساتھ ایک بہت خوبصورت مسجد ، بائولی پارک اور بغداد و عراق سے لائے گئے سونے اور چاندے کے تازیہ،علم اور دیگر تبرکات بڑی حفاظت سے رکھے ہیں ۔ ان کی زیات پر کوئی روک نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’بائولی ‘‘میں پہلے بہت پانی آتا تھا اور تمام لوگوں کے لیے ضرورت کے لیے کافی تھا۔ لیکن جب سے ندی میں پانی کم ہوا وہاں بھی کم ہوگیا۔ اس کے سامنے نوبت خانہ ہے۔ جہاں نوبت بجائی جاتی تھی۔ امام باڑے کے سامنے والی سٹرک پر ایسے پتھر لگائے گئے ہیں جو کبھی خراب نہیں ہوتے ۔اس سٹرک میں موٹر کے سفر سے بھی معمولی ہچکولے ملتے ہیں۔ مزید مغرب سمت پر چلنے پر ست کھنڈا، پِکچر گیلری اور حسین آباد کلاک ٹاور جو 300؍فٹ سے زائد اونچائی کلاک ٹاور ہے ، جس میں گھڑی ابھی بھی صحیح وقت بتاتی ہے۔ پکچر گیلری میں دور ِ مغلیہ کے والیان اودھ ،ان کے دوستوں اور ملنے والوںکی تصاویر اور اور دیگر اشیا موجود ہیں۔ جس میں خان بہادر چودھری نصرت علی سکریٹری انجمن تعلق داران کی بھی تصویر ہے ۔ اس وتصویر کو ہم نے پہلے ہی پروفیسر جمال نصرت صاحب کے مہمان خانے میں دیکھ چکا تھا۔ چودھری نصرت علی جمال نصرت صاحب(مودہ عمر74سال) کے پردادا تھے۔ اس کے آگے چھوٹا امام باڑہ جو کالی سفید مینا کاری میں موجود ہے۔ دیکھنے میں یہ چھوٹا ضرور ہے مگر میرے خیال میں ملک کے تمام امام باڑوں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔
’’بیگم حضرت محل پارک‘‘ دیکھتے ہی آنکھیں بھرآئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب حضرت محل کو’’ کاٹھ منڈو‘‘کی جامع مسجد کی قبرستان میں گمنام طور پر مدفون کردیاگیا،تو صوبائی سرکار نے 15؍اگست 1962میں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ’’وکٹوریہ پارک‘‘ کو حضرت محل کے نام سے منسوب کردیا اور ساتھ ہی ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے، آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ سے جڑے رہنے کے لیے سنگ مرمرکا مقبرہ تعمیر کرایا۔پروفیسر جمال نصرت نے بتایا کہ ان کی مورت نہ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمان لیڈی ہونے کے ساتھ ایک پارسا عورت تھی۔ 1857کی بغاوت میں حضرت محل نے جو کار نامہ انگریزوں سے مقابلہ کرتے انجام دی؛رہتی دنیا انھیں کبھی نہیں بھُلاسکتی۔ بیگم حضرت انصاف پسند اور حسن سلوک کی پیکر تھی۔ وہ ہندوستان سے بہت محبت کرتی تھی۔ ان کا ایک قول نقل کیا جارہا ہے جو موجودہ ہندوستان میں مسموم ذہنیت رکھنے والوں کے لیے درس عبرت ہے۔ ’’یہ ہندکی پاک سرزمین ہے۔ یہاں جب بھی کوئی جنگ بھرکی ہے ہمیشہ ظلم کرنے والے کی شکست ہوئی ہے۔ یہ میرا پختہ یقین ہے۔ بے کسو مظلوں کا خون بہانے والا یہاں کبھی اپنے گندے خوابوں کی محل نہیں کھڑا کرسکے گا‘‘ حضرت محل نے جنگ آزادی میں اپنی انتھک کوششوں سے بتادی کہ عورت صرف چاردیواریوں میں رہ کر بحسن و خوبی نظام ہی نہیں سنبھالتی بلکہ وقت آنے پر بڑی دلیری کے ساتھ میدان جنگ میں دشمنوں کا مقابلہ کرکے اسے کھڈیرنے کا ملکہ بھی رکھتی ہے۔
کافی گرمی اور تھک جانے کی وجہ سے لکھنؤ یونیورسٹی کو صرف باہر سے ہی دیکھ سکا اور پھراپنی جائے اقامت پر واپس آگیا۔ میرے محسن نے لسی،چائے اور سموسے اور وہاں کی مٹھائی کی مشہور دکانیں دور سے ہی دکھائی ۔ روزے کی وجہ سے سے اگلی آمد ر موقوف کرتے ہوئے میں ان کی لذتوں سے محروم رہا۔
پروفیسر جمال نصرت صاحب کا مہمان خانہ کتابوں کے انبار کی وجہ سے ایک لائبریری کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس میں تفسیر ، ادب، عقائد، سائنس، رسائل،احادیث، تاریخ،سیرت،انگریزی اور دیگر کتابیں موجود ہیں۔ آپ کے والد وجاہت علی سندیلوی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان کے شہ سوار تو تھے ہی ساتھ میدان اردو ادب کے غازی بھی تھے۔ آپ کی تصانیف 30کے قریب ہیں جن میں ’’نصیب دشمناں، طشت ازبام،جنگل کی گڑی(ہندی)نشاطِ آگہی ،نشاطِ غالب، دھوپ کی عینک، باقیاتِ غالب متنازعہ وصیت نامہ، انتخاب مضامین پطرس،قلی نمبر ۳۹۹،ہاتھوں سے جنگ،اونچا نیچا،گونگی حویلی، غریب مسلمان کدھر جائیں،حساب دوستاں، بے ساختہ بے ضابطہ،بات کا بتنگر، برکت ایک چھینک کی،پھسادی چاچا،(ہندی) رقص تماشائی،دودھ کے دھلے،اردو سیکھیے۔ آسان اردو ، پرواز، روشنی، وغیرہ شامل ہیں۔ آپ ایک اچھے قلم کارطنزو مزاح کے بحرخارہونے کے ساتھ ساتھ شاعربھی تھے۔ آپ کے چند اشعار کوذیل میں درج کیا جارہا ہے۔

انھیں سے جاں بخشی کی توقع ہم کو ہے یارو
اشاروں پر ہی جن کے روز قتل عام ہوتا ہے
یہ شعر موجودہ دور کے حالات پر پورے طورسے صادق آرہا ہے، ساتھ ہی شاعر کے دور میں ملک کے حالات انگریزی سامراجوں کے ظلم و بربریت کی وجہ سے کس قدر ناگفتہ بہ تھے، اس کی بھی عکاسی ہورہی ہے۔
اردو شاعری میں واعظ ،شیخ و برہن ، پیر مغاں،ساقی ،پیمانہ،رند اور مے خانے کا ذکر خوب ملتا ہے۔ اس میں اکثر واعظ پر طنزیہ اشعار ہی شعرا کستے ہیں۔ اس میدان میںوجاہت علی سندیلوی بھی نظرآتے ہیں   ؎
واعظ تیری حوروں میں نہیں غمزئہ و عشوہ
دنیا کے حسینوں کے پرستار رہیں گے
  ٭٭٭
جب رہے محروم وہ پیر مغاں کے فیض سے
شیخ کعبے میں لٹا اور بت کدے میں برہمن
٭٭٭
مے رہی باقی، رہا ساقی نہ پیمانے کا نام
جھومتے ہیں رند پھر بھی لے کے مے خانے کا نام
پروفیسر جمال نصرت صاحب ہی کے مہمان خانے میں مجھے ’’تبرکات انبیاے کرام کا تصویری البم‘‘(ارسلان اختر) کے نام سے ایک کتاب ملی جس میں بہت سارے انبیاے کرام کے مزارات اور ان سے جڑی دیگر عمارت اورحالات، مختصر جملوںمیں تصاویر کے ساتھ درج تھے۔ ان میںسے حضرت آدم کی آمداور ان کے قدم مبارک سے جڑی کچھ باتیں ذیل میں ذکر کردینا مناسب سمجھتا ہوں:
سری لنکا کی چوٹی پر حضرت آدم کے قدم مبارک کا نشان موجود ہے۔مشہور سیاح ابن بطوطہ اپنے سفرنامے میں لکھتے ہیں:
میں جزیرے میں گیا تو میرا اصل مقصد آدم علیہ السلام کے قدم مبارک کی زیارت کرنا تھا۔ اس جزیرے کے لوگ حضرت آدم کو ’’بابا‘‘اور حوا کو’’ ماما‘‘ کہتے ہیں۔
طبری اور ابن عساکر کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے قدم مبارک پر بجلی کی چمک دکھائی دیتی ہے۔ حالاں کہ آسمان پر بادل کا نام ونشان نہیں رہتا۔ روزانہ اس نام مبارک پر بارش ہونا لازمی ہے۔ آج کل اس پر موجودہ نشان کو بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اسے ’’بدھا‘‘کے پہاڑسے پکارتے ہیں۔
اسی کتاب سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلا سجدہ نابلس میں کیا تھا۔
اس سفر میں جو کسر رہ گئی وہ ہے پروفیسر وقار رضوی صاحب سے ملاقات اور ادوھ نامہ کے دفتر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ۔ وقار رضوی صاحب جہاںتحریر و تقریراور ادب و صحافت کے فرائض انجام دیتے ہیں وہی مسلمانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے انتشار کو روکنے کے لیے کافی سرگرم رہتے ہیں۔ آپ رمضان میں افطارکا اہتمام بھی کرتے ہیں جس میں مختلف مذاھب ومسالک کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ صوفیانہ روش کو برقرار رکھنے کے قائل ہیں وہ ہر مسلک کے ماننے والوں کا احترام کرتے ہیں۔ساتھ ہی وہ اس بات کا بھی پیغام دیتے ہیں کہ اس پرفتن دور میں مفتی حضرات کوئی ایسا فتویٰ نہ جاری کریں جو مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلنے کا باعث بنے۔ وہ ہر مسلک کے ماننے والوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ اپنے مسلک پر پورے طورپر عمل کریںمگر کسی دوسرے مسلک کو بُرا بھلا نہ کہیں۔ اے کاش! وقار رضوی صاحب کی ان باتوں پر قوم مسلم عمل پیرا ہوتے۔ جمال نصرت صاحب نے آپ کی اخلاقی پہلوئوں کو بھی خوب اجاگر کیا، جس سے اور بھی وقار صاحب سے ملنے کا اشتیاق بڑھ گیا مگر سوئے قسمت کہ جمال نصرت صاحب کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ہم اس باوقار شخصیت سے ملنے نہ پائے۔خیر!قسمت میں جولکھا تھا وہی ہوا۔
ایم ،اے اردو،دہلی یونیورسٹی۔ دہلی   7275989646
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular