میں نے کتنی بار کہا ہےخوشبو مجھ کو بہت پسند ہے
خوشبو انسانوں کی
رنگوں کی خوشبو
رشتوں کی خوشبو
سچ مچ مجھ کو بہت
پسند ہے
کیا کہا تم نے
پھر سے بولو
کیا سچ مچ تم یہ
سچ کہتے ہو
تم کو بدبو آتی ہے
انسانوں سے
رشتوں سے
پیار میں بھی
بدبو مہکی تھی
تم کو
لونگ الائچی
بیلا چمیلی
سب میں تم کو
بدبو آتی ہے
سارے رنگ مٹیالے
لگتے ہیں
شفق دَھنک سب
دھند بھرے لگتے ہیں
مجھ کو
تم پر
ترس آتا ہے
کتنی آسانی سے تم نے
اچھائیوں میں
ڈھونڈھ نکالی ہیں
بدبوئیں اور
رنگ مٹیالے کہتے ہو
قوس قزح کے
کاش تم اپنے
اندر ڈھونڈو
نفرت کے سلگتے
شعلوں کو
جس نے تم سے
چھین لیا ہے
پہچان کی طاقت
رنگوں کی
خوشبوؤں کی
انسانوں کی
کاش کہ تم
بجھا سکو
نفرت کے
ان شعلوں کو
پھر زندہ
انسان بنو
تم بھی کہہ دو
ہاں مجھ کو خوشبو
بہت پسند ہے
خوشبو انسانوں کی
پیار کی خوشبو
رنگوں کی خوشبو
رشتوںکی خوشبو
سچ مچ مجھے بہت پسند ہے
’’ٹہرا پانی‘‘
چھل چھل کرتی
دھارا پانی کی
ذہن کو جیسے
آئینہ دکھائے
دم دم بڑھتی
جیون دھارا کا
بھرم بتائے
پر وقت جیسا
شیتل جل بھی
مٹھی میں سے
چھن جاتا ہے
خالی مٹھی
بھیگی بھیگی
یاد دلائے
شیتل جل کی
’’تم‘‘
سہمی سہمی
چپ چاپ کھڑی
میں تم کو تکتی رہتی تھی
تل تل دکھ پہنچانے والے
کاش ایک بار تو
سوچا ہوتا
دکھ پہنچانا
خوشیاں نوچنا
کام نہیں انسانوں کا
آکاش سے اتری
وِچ witch
پاتال سے آئے جن
جوڑنے دو اِن
دونوں کو سمبندھ
ڈاکٹر شمیم نکہت





