مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں خود نوشت فن اور روایت کے موضوع پر قومی سمینار کا انعقاد

لکھنؤ ۔۱۳،مارچ
خود نوشت محض ایک فرد کی داستان حیات نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔یہ زندگی بھی ہے اور زندگی نامہ ۔خود نوشت رحم اور خوف کا جذبہ پیدا کرتی ہے کیونکہ دوسروں پر جو کچھ گزرتی وہ ہمارے لیے سبق کا ذریعہ بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ایچ آر ڈی سی کے ڈائرکٹر اور انگریزی ادبیات کے ممتاز اسکالرپروفیسر اے آر قدوائی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیو رسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں خود نوشت فن اور روایت کے موضوع پر منعقدہ دوروزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ کے دوران کیا ۔افتتاحی اجلاس کی صدارت عزت مآب ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے فرمائی جبکہ لکھنؤ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایس پی سنگھ مہمان خصوصی کے طورپر شریک ہوئے ۔افتتاحی اجلاس کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض نے تلاوت کلام سے کیا ۔کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔سمینار کے کوارڈی نیٹر شاہ محمد فائز نے سمینار کا تعارف پیش کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر سرفراز احمد خاں کی کتاب ’’گلہائے سودا ‘‘اور ڈاکٹر نور فاطمہ کی کتاب ’’آزادی کے بعد اقبال تنقید :مسائل و مباحث ‘‘ کی رسم اجرا عمل میں آئی ۔اس موقع پر ڈاکٹر عمیر منظر نے مانو لکھنؤ کیمپس کی اساتدہ کی علمی وتحقیقی خدمات کا تعارف پیش کیا ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر سرفرازاحمد خاں نے انجام دیا جبکہ شکریے کی رسم ڈاکٹر نور فاطمہ نے انجام دیا ۔
پروفیسر اے آر قدوائی نے کہا کہ خود نوشت کے نقوش چوتھی صدی عیسوی سے ملتے ہیں اور ابتدا میں یہ فن اپنے گناہوں کے اقرار کے طور پر جانا گیا ۔گزشہ ایک صدی کے دوران اس فن کو بہت زیادہ فروغ ملا اور خود نوشت لکھنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔اس موقع پر انھوں نے اردو،فارسی اور عربی کی اہم خود نوشتوں کاذکر کرتے ہوئے چوتھی صدی کے سینٹ اگسٹین سے لے کر اے پی جی عبدالکلام کی وونگس آف فائر اور ملالہ یوسف زئی کی خود نوشت کا ذکر کیا ۔
لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایس پی سنگھ نے کہا کہ خود نوشت فرد سے سماج تک کے مطالعہ کا ایک خوب صورت اظہار ہے ۔انھوں نے کہاکہ خود نوشت کی فنی اور علمی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے البتہ لکھنے والے سے کہیں زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ قاری اس کا کس تناظر میں مطالعہ کرتا ہے ۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ خود نوشت کے مطالعہ میں ہمیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ کیا لکھا جارہا ہے اور کیوں لکھا جارہا ہے اور کیسے لکھا جارہا ہے ۔ڈاکٹر ایس پی سنگھ کا خیال تھا کہ خود کی رونمائی میں غلط بیانی سے کام لینے کی صورت میں بسااوقات خود نوشت کا فن نہ صرف مجروح ہوتا ہے بلکہ ادب بھی شک کے دائرے میں آجاتا ہے ۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے کہا کہ خود نوشت تاریخ اور تہذیب وثقافت کے علاوہ علمی فتوحات کا بھی ایک دائرہ بناتی ہے اور لکھنے والے کا تعلق جس شعبہ سے ہوتاہے اس کے ذہنی ارتقا کی عکاسی بھی اس میں دیکھی جاسکتی۔ادبیات کے علاوہ دیگر علوم و فنون سے تعلق رکھنے والوں کی خود نوشتیں بطور مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔
افتتاحی اجلاس میں پہلے مقالات کا سلسلہ شروع ہوا ۔پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر کفیل احمد قاسمی نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر شمس کمال انجم نے انجام دیا ۔ڈاکٹر صبیحہ انور ،پروفیسر مجیب الرحمن ،پروفیسر عمر کمال الدین ،ڈاکٹر صہیب عالم ،ڈاکٹر ثناء اللہ ندوی،پروفیسر اخلاق احمد،ڈاکٹر محمد کاظم نے مقالے پڑھے۔ ظہرانے کے بعد دوسرا اجلاس پروفیسر خالد محمود کی صدارت میں شروع ہوا ۔نظامت کافریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا ۔اس اجلاس میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی ،پروفیسر کفیل احمد قاسمی ،ڈاکٹر ارشدالقادری،ڈاکٹر عبداللہ صابر،ڈاکٹر مجاہدالاسلام ،ڈاکٹر صہیب عالم،ڈاکٹر شاہ نواز فیاض نے مقالے پڑھے ۔کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے پہلے دن کے خاتمے پر تمام مقالہ نگاروں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔سمینار کے مختلف اجلاس میں پرویز ملک زادہ ،ڈاکٹر شبنم رضوی،ڈاکٹر قمر اقبال،ڈاکٹر عرفات ظفر،ارشد جعفری ،وغیرہ موجود تھے ۔





