Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldجوتا فروش مولوی

جوتا فروش مولوی

مصباحی شبیر دراس

” ایک تو تو پڑھائی بالکل بھی نہیں کرتا ہے دوسرادن بھر اسکول میں لڑائی جھگڑے کرتا ہے ، اب کیا کروں میں تیرا”۔ یہ مذکورہ باتیں نسیم کی ماں بڑی شفقت سے نسیم سے کر رہی تھی دوسرے کمرے میں بیٹھے نسیم کے ابا مسکراتے ہوئے نسیم کے کمرے میں داخل ہوئے اور بڑے اطمینان سے کہنے لگے کہ “بیگم آپ کو ان کی چنتا کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ہم نے ان کا مکمل علاج ڈھونڈ لیا ہے اور وہ بھی ایسا علاج جو ان کی ہر بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا” بیگم کافی خوفزدہ ہوکر پوچھنے لگی کہ” آخر آپ نے ایسا کون سا علاج ڈھونڈ لیا جو اپنے آپ سے اتنےمطمئن ہیں؟”۔
“میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ نسیم کو مدرسہ میں داخلہ دلانا ہے اور مدرسہ ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو نسیم تو کیا نسیم سے بھی بڑے بڑے پتھر دل انسانوں کو مولوی بنا دیتا ہے”۔ نسیم کے ابا ایک مسکراہٹ اپنے چہرے میں سجا کر وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد نسیم روتے ہوئے اپنی ماں سے التجا کرنے لگا “ممی میں مدرسے نہیں جاؤں گا”، لیکن ماں کر کیاسکتی تھی سو نہ چاہتے ہوئے بھی منع نہ کرسکی اور منع بھی کیسے کرتی نسیم کی شرارتوں سے نہ صرف گھر بلکہ پورا گاؤں و اسکول والوں کو بھی شکایت تھی۔
ایسا نہیں کہ نسیم پڑھنے لکھنے میں کمزور تھا بلکہ تعلیم میں وہ کافی اچھا تھا لیکن اس کی چند شرارتوں نے اس کی اچھی تعلیم پر پردہ ڈالا ہوا تھا۔
سو نسیم کو گھر سے دور ایک مدرسے میں داخلہ دلوایا گیا۔۔ نسیم کو اسلامی تعلیم پڑھنے کا کوئی شوق و ذوق تو تھاہی نہیں پھر بھی یہاں بھی تعلیم میں وہ کافی ٹھیک تھا لیکن لڑائی جھگڑے سے تو یہاں بھی پرہیز نہیں کرتا تھا ہاں ایک واضح فرق یہ ہوا تھا گھر کی طرح شرارت تو یہاں نہیں کرتا لیکن حق بات کے لیے وہ سیدھے لڑائی تک کرلیتا۔۔۔
اس بار جب رمضان المبارک کی چھٹیاں ہوئی تو گھر جاتے ہی نسیم کے ابا اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ “نسیم تم لڑائی جھگڑے کرتے ہی کیوں ہو اس بار تمہارے استاذ کا فون مجھے تین بار آیا اور ہر بار ایک نئے جھگڑے کی خبر اور اس بار تو تم نے حد ہی کردی معمولی سے جھگڑے میں تم نے ایک طالب علم کو لہو لہان کردیا ہے، بیٹا تم پڑھائی میں تو ٹھیک ہو اور ماشاء اللہ تم بہت جلد عالم دین بن جاوے گے دیکھو سمجھنے کی کوشش کرو ان بری باتوں کو ترک کر و”، سب کچھ خاموشی سے سننے کے بعد نسیم جاکر اپنے کمرے میں سو گیا۔۔۔
اس بار جب مدرسہ آیا تو بہت بہترین طریقے سے سال گزر گیا، جب سال بھر کوئی شکایت نہ ملی تو ان کے والد خود اپنے آپ میں فکر مند ہوئے ، اب نسیم کے برتاؤ میں کافی سدھار آیا تھا ، دوسال جب ٹھیک سے گزرے اور یہ سال مدرسہ میں نسیم کا آخری سال تھا تو اس کے والد نے یہ دیکھنے کے لیے آخر اتنا فرق کیسے آیا مدرسے میں اسی کے گاؤں کے ایک بڑے لڑکے سے وجہ دریافت کیا تو وہ طالب علم بہت اطمینان سے کہنے لگا،، “انکل جی جیسا کہ آپ تو جانتے ہیں کہ نسیم کو مولویت پڑھنے کا کوئی شوق تو شروع سے تھاہی نہیں اور جب ماں باپ بچوں کی اپنی خواہشات کو مار کر اپنی مرضی سے نتائج حاصل کرنے کی ٹھان لیں تو ان کے نتائج بھی ایسے ہی نکلتے ہیں نا”، سوال چنیں اور جواب دیگر سے نسیم کے والد تھوڑے چونک گئے اور کافی حیرت سے اس طالب علم سے پوچھنے لگے کہ “مولانا صاحب آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کیا میرے نسیم میں اب بھی کوئی کمی رہ گئی ہے؟ کیا وہ اب بھی لڑائی جھگڑے کرتا ہے، مجھے تو ایسا نہیں لگتا ہے اب وہ ایک سیدھا سادا مولوی بن گیا ہے اور ان شاءاللہ اس سال فارغ ہو جائے گا۔ اور دین کی خدمت کے لیے کسی مدرسے یا مسجد کا رخ کرے گا”۔۔
“ہاں یہیں تو میں بھی کہہ رہا ہوں یہ صحیح ہے کہ وہ آپ شرارت نہیں کرتا ہے لڑائی جھگڑے نہیں کرتا ہے، جو مدرسہ میں ڈالتے وقت آپ کی خواہش تھی سو نیت کے مطابق آپ کو فیض ملا، لیکن وہ ایک اچھا مولوی بن کر دین کی خدمت کرے یہ آپ کی تمنا ہی رہ جائے گی کیونکہ جن دو تین سالوں سے آپ کو نسیم کے بارے میں مدرسے سے کوئی شکایت نہ ملی اس دوران نسیم کو مختلف علاقوں سے مدرسے میں کچھ ایسے ساتھی ملے جو شاید نسیم کی طرح حالات کے مارے تھے سو سب مل کر دن بھر چوری چھپے بازار جاتے یا کرکٹ و دیگر کھیل کود میں مصروف رہتے اور کتابوں سے دور ان کی زندگی صرف پاس بھر کے لیے چند درسی نوٹوں تک محدود ہوکر رہ گئ تھی۔ انہیں مستقبل کی فکر تھی بھی تو اس مستقبل کو وہ مدرسے کی زندگی سے دور کسی دنیاوی کام یا دھندے میں ڈھونڈ رہیں ہیں خدا خیر کرے۔ کہتے ہیں صحبت کا اثر ہوتا ہے بس نسیم بھی ان کی طرح کسی طرح دستار لے کر فارغ ہو جائے گا”
مولانا کی باتیں سن کر نسیم کے ابا گویا سن پڑ گئے اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکل گیا کہ “اب میں کیا کروں جناب؟” مولانا صاحب سلجھے ہوئے آدمی تھے اس لیے پیار سے سمجھایا کہ “انکل جی آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرور ت نہیں ان شاءاللہ آپ کی محنت رایئگاں نہیں جائے گی فراغت کے بعد اگر نسیم کوئی خدمت دین کا ارادہ رکھتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی اور کام کرنے کی کوشش کرے تو منع نہ کریں بلکہ اس کی حمایت ہی کریں تو بہتر ہو گا۔ کیوں کہ پہلے آپ نے زبردستی کرکے اس کا انجام دیکھ ہی لیا لیکن وہ چھوٹی عمر تھی اس لیے بات اتنی نہیں بگڑی لیکن اس بار وہ بالغ ہے اگر آپ اس کے ساتھ ویسا کرتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔” مولانا کی سنجیدہ باتوں نےنسیم کے باپ پر اتنا اثر کرلیا تھا کہ ان کو اپنی زندگی میں اتنے برسوں بعد یہ سبق ملا کہ کسی بھی بچے کو ہم زبردستی کچھ بھی نہیں بنا سکتے ہیں مولوی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہیں دوسری طرف جیسے ہی نسیم فارغ ہوکر آیا اس کی توجہ زیادہ تر باپ کی جوتوں کی دکان پر ہی ہوتی۔۔۔۔۔ حالانکہ ایک وقت میں اس کے باپ کو لگا کہ یہ مولوی میرے اس بڑے بزنس کو ڈوبا دے گا لیکن آہستہ آہستہ مولوی نسیم نے نہ صرف باپ کا ہاتھ بٹایا بلکہ اپنے باپ کے بزنس کو چار چاند لگاتے ہوئے اسے اور مزید بلندیوں تک لے گیا اور آج ان کی دکان پورے شہر میں اچھے جوتوں کے لیے مشہور ہے اور مولوی نسیم “جوتا فروش مولوی صاحب” کے نام سے مشہور ہیں اور گھر اور پریوار والے بھی اسی مولوی نسیم کی محنت کی برکت سے پورے شہر میں عزت ووقار کی زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔
نسیم کا باپ کبھی کبھی سوچتا ہے نسیم عالم بن کر جوتوں کا بزنس کرتا ہے اور اچھا کماتا ہے اور شان سے جیتا ہے لیکن اس کے ان دوستوں کا کیا ہوا ہوگا جنہوں نے مدرسے میں نسیم کو بگاڑا ضرور تھا لیکن جن کی صحبت نے نسیم کو ایک اچھا شہری تو بنایا تھا شاید وہ بھی جوتے کی کوئی دکان چلارہے ہوں یہ سوچ کر وہ من ہی من میں ہنستے اور نسیم کے دوستوں کو دعائیں دینے لگتے،
ایک دن نسیم گھر میں یوں ہی کچھ چیزیں تلاش کررہا تھا تو والد صاحب کی ڈائری اچانک ان کے ہاتھ لگی۔۔۔ بچوں کے مستقبل کے بارے میں ایک طویل آرٹیکل انہوں نے خود اپنے تجربات کی روشنی میں لکھا تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ “بچوں کواپنی مرضی سے اپنے مستقبل کے تعین کی اجازت دیں تو نتائج بہتر از بہتر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر زبردستی سے تو نتائج صفر ہی نکلتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال میرا خود کا بیٹا نسیم ہے شاید آپ اسے نہ پہچان سکے تو عرف عام میں اب نسیم کو “جوتا فروش مولوی صاحب” کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
کارگل لداخ جموں وکشمیر
8082713692

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular