9807694588موسی رضا۔
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
عطیہ بی
’’سیما چلو جلدی گھر چلتے ہے آج میں تمہیں ایک جادودکھاتی ہوں‘‘۔
جادو! سیما نے تعجب سے زہرا کی طرف دیکھا۔
ہاں اور کیا مجھے جادو آتا ہے سچ میں کیا تمہیں یقین نہیں۔
ارے جاؤ جاؤ کیوں جھوٹ بولتی ہو بڑی آئی جادو کرنے والی۔ سیما نے اٹھلاتے ہوئے کہا۔
ارے واہ مجھے کیا جادو نہیں آسکتا ۔چلو تم گھر میں، میں تمہیں دکھاتی ہوں اپنا جادو۔
تم کیا جانو مجھ میں کس قدر صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔
ہاں، ہاں معلوم ہے۔ سیما نے زہرا کی طرف سے منھ موڑتے ہوئے کہا۔
تمہیں یقین نہیں ہے نا! چلو اسی بات پر میں تم کو اپنا جادو دکھاتی ہوں۔
دونوں دوڑتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئیں اور دالان میں جا پہنچیں۔
’’چلو جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھاؤ‘‘ زہرا نے تپاک سے سیما سے کہا۔
ہاتھ ! سیمانے تعجب سے پوچھا۔
ہاں ہاں دونوں ہاتھ آگے کرو، جسم کو ڈھیلا کرو اور اپنی آنکھیں بند کرو۔ سیما نے اپنی آنکھیں بند کیں، جسم کو ڈھیلا چھوڑا اور دونوں ہاتھ زہرا کے سامنے کردئے۔
دیکھو آنکھیں نہ کھولنا ورنہ جادو کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ پھر مجھ سے مت کہناکہ جادو نہیں ہوا۔اب میں اپنا جادو شروع کرتی ہوں۔ آبرا کا ڈابرا۔۔ گلی گلی۔۔ چھو۔۔ آجاؤ آجاؤ اوپر، اور یہ کہتے ہوئے زہرا نے سیما کے ہاتھوں کے اوپر سے اپنے ہاتھ گول گول گھمانے شروع کردئے۔ یہ کیا ۔۔دیکھتے ہی دیکھتے سیما کے ہاتھ اٹھنے شروع ہوگئے آؤ میرے پاس آؤ سیما کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی جنبش اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔
’’یہ کیا ہورہا ہے، کیا کر رہی ہو تم دونوں‘‘ یہ سنتے ہی سیما کی آنکھ کھل گئی اس کے آدھے اٹھے ہاتھ نیچے چلے گئے۔
’’ارے امی یہ کیا کردیا آپ نے؟ آپ بھی‘‘
ارے بھائی میں نے کیا کیا میں تو دیکھنے آئی تھی کہ ابھی تک تم دونوں سوئے نہیں۔ تم دونوں کو کل اسکول کی طرف سے پھولوں کی نمائش میں بھی جانا ہے نا۔ پھر چلو جلدی سے سونے چلو اور سیما تم بھی اپنے گھر جاکر آرام کرو بیٹا۔‘‘ سیما یہ سنتے ہی اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئی مگر زہرا کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔
نہیں جانا مجھے کہیں،آپ نے آکر میرا پورا جادو خراب کردیا۔
ارے تو پھر کل کر لینا جادو تم تو بڑی جادوگرنی ہو۔ امی نے زہرا سے مسکراتے ہوئے کہا۔ امی وہ بار بار تھوڑی ہوتا ہے، آپ بھی نا۔۔۔۔ اچھا، اچھا چلو جلدی سے سوجاؤ بڑی آئی جادوگرنی۔
زہرا پیروں کو پٹکتے ہوئے کمرے کی طرف چل پڑی اور بڑبڑاتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی۔میں نہیں جاؤںگی کہیں پھولوں کی نمائش ومائش میں۔اسکول والوں کو تو کوئی کام رہتا نہیں بس نمائش میں لے جارہے ہیں۔ بڑبڑاتے ہوئے اس کی کب آنکھ لگ گئی اسے پتہ بھی نہ چلا۔
صبح ہوتے ہی امی نے دلار بھرے انداز سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے جگایا ، میری شہزادی کب اٹھے گی۔ چلو چلو جلدی تیار ہوجاؤ گاڑی آہی رہی ہوگی۔
’’نہیں امی مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘
’’ایسا نہیں کہتے تم تو میری پیاری بیٹی ہو۔ ‘‘امی نے بڑے خلوص سے زہرا کوواش روم بھیجا۔ ’’جلدی نکلنا زہرا میں تمہارا ناشتہ بنارہی ہوں۔‘‘
تبھی باہر سے ڈرائیور بھیا نے آواز دی۔’’ چلو زہرا بیٹا جلدی کرو‘‘۔
’’آتی ہوں، آتی ہوں‘‘ زہرا نے اندر سے ہی کہا اور جلدی جلدی تیار ہو کر وہ بھاگی۔
’’ارے زہرا ناشتہ تو کرکے جاؤ۔ ‘‘
’’نہیں، نہیں امی دیر ہوجائے گی۔ میں وہیں کچھ کھا لوں گی۔ ٹیچر نے کہا تھا وہ سب اانتظام کریں گی ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی میں سوار ہوگئی۔گاڑی سبھی بچیوں کو لیتے ہوئے بوٹینکل گارڈن کےدروازے پر جا کھڑی ہوئی۔
’’چلو بچو جلدی جلدی اترو‘‘ ٹیچر نے لائن بناکر سبھی بچوں کو اتارا اور سبھی بچے گارڈن کے اندر داخل ہوگئے۔گارڈن بے حد خوبصورت پھولوں اور طرح طرح کے پیڑوں سے سجا ہوا تھا۔
’’ارے واہ زہرا کتنے خوبصورت پھول ہیں‘‘ سیما نے کہا۔
’’ہاں ہیں تو مگر میںکیا کروں۔ ٹیچر بھی پتہ نہیں کیوں یہاں لے آئیں۔ ہم لوگوں کو گھمانا ہی تھا تو کسی پارک میں ہی لے چلتیںکم سے کم وہاں جھولے تو ہوتے۔ اب پورا دن یہاں بور ہونا پڑے گا‘‘۔زہرا نے منھ بگاڑتے ہوئے کہا۔ جہاں سبھی بچے طرح طرح کے پھولوں کو نِہار رہے تھے وہیں زہرا اپنی مستی میںگم تھی۔
’’چلو زہرا، سیما تم دونوں ادھر آؤ دیکھو ان پھولوں کو کتنے خوبصورت پھول ہیں۔ ‘‘ٹیچر نے اپنی جانب بلاتے ہوئے کہا۔
سیما زہرا کا ہاتھ پکڑے ہوئے ٹیچر کی طرف لے گئی اور ٹیچر بچوں کو موسم کے خوبصورت پھولوں اور ان سے ہونے والے فائدوں کے بارے میں بتا رہی تھیں۔ تبھی زہرا کا ہاتھ پاس میں موجود ایک چھوٹے سے گملے میں لگے پودے پر پڑا۔
’’ارے یہ کیا ہوا ؟ اللہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا‘‘۔
’’میم میں نے جان بوجھ کر کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر اس پودے کو دیکھئے کیا ہوگیا ہے ۔‘‘
میم مسکرائیں اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
’’ آؤ میں تمہیں بتاتی ہوں کہ اسے کیا ہوا ہے۔‘‘
زہرا اور تمام بچے اس پودے کی طرف دیکھنے لگے۔
’’زہرا ایک بار پھر اس کی پتیوں کو چھوؤ تم۔‘‘ ٹیچر نے کہا۔
’’نہیں میم اب نہیں چھوؤنگی۔
’’ ارے میں کہہ رہی ہوں نا ، چھوؤ۔‘‘
زہرا نے ان باقی پتیوں کو چھوا تو وہ چھوتے ہی سکڑ گئیں۔ میم یہ بھی سکڑ گئیں ان کو کیا ہوگیا۔
’’کچھ بھی نہیں ہوا زہرا ان کا جادو دیکھا تم نے۔‘‘
’’جادو! ‘‘زہرا نے تعجب سے پوچھا۔
’’ہاں زہرا یہ جادو والا پودا ہے‘‘۔
’’سچ کہہ رہی ہیں آپ میم! ‘‘
’’ہاں بیٹا کچھ ہی دیر میں اس کی سکڑی ہوئی پتیاں پھر سے کھل جائیں گی۔‘‘
’’کیا سچ میں ایسا ہوگا‘‘۔ زہرا نے تعجب سے پوچھا۔
’’ہاں بالکل ، رکو تھوڑی دیر۔‘‘
اور تھوڑی دیر گزرنے پر پتیاں اپنے آپ کھل گئیں۔
’’ارے واہ یہ تو سچ میں جادو ہے۔‘‘
اس پودے کو چھوئی موئی کا پودا کہتے ہیں۔ یہ قدرت کا جادو ہے بیٹا۔
’’چھوئی موئی یہ کیا نام ہے۔‘‘ زہرا نے کہا۔
’’ہاں یہ بہت شرمیلا پودا ہوتا ہے۔ کسی کے بھی چھونے پر یہ شرما جاتا ہے اور اس کی پتیاں سکڑ جاتی ہیں۔‘‘
’’آؤ میں اس کے فائدے بتاتی ہوں۔ اس کوکئی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس کا سائنٹیفک نام Mimosa Pudicoہے۔ اس کو لاجونتی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آسانی سے ہر جگہ مل جاتا ہے۔‘‘
’ارے باپ رے، اتنے نام ہیں اس کے ۔‘‘ سیما نے تعجب سے پوچھا۔
’’اور بھی نام ہیں سیما۔ کہیں کہیں اس لجولی اور Touch me not کے نام سے بھی اسے جانتے ہیں۔‘‘
’’اللہ نے اس چھوٹے سے پودے میں بڑے فائدے پوشیدہ کر رکھے ہیں اس کی شاخوں کا ہار بناکر گلے میں پہنا جائے تو کھانسی اور زکام میں بہت آرام ملتا ہے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی جڑوں کے ٹکڑے آپ کی جلد کو چھوئے تبھی فائدہ ہوگا۔‘‘
’’جڑوں کا ہار کون پہنتا ہے میم‘‘۔
’’پہننے والے پہنتے ہی ہیں بیٹا۔‘‘
’’ہاں جو نہیں پہن سکتا تو ان کی جڑوںکو پیس کر شہد کے ساتھ لیں تو اس سے کھانسی میں آرام ملتاہے۔‘‘
زہرا نے اس پودے کی طرف پھر سے ایک بار تعجب سے دیکھا اور بولی۔
’’ یہ تو کراماتی پودا ہے میم اور اس کا گلابی پھول بھی کتنا خوبصورت ہے۔‘‘
’’ہاں اس کے اور بھی بڑے فائدے ہیں۔ اگر اس کی پتیوں کو ابال کر اس کا کاڑھا بنایا جائے تویہ شوگر کے مرض میں بہت فائدہ مند ہوتا ہے اور اس کی جڑ کو پیس کر دہی کے ساتھ کھانے سے دست بھی بند ہوجاتے ہیں اور پیٹ کو آرام ملتا ہے۔‘‘
’’ایک اور راز کی بات بتاؤں۔ اس کی پتیوں کو پیس کر لگانے سے چہرے کی جھریوں سے نجات ملتی ہے۔‘‘
’’اس کا ایک اور فائدہ ہے، اس کی پتیاں کھائی جائیں توسانس اورکڈنی کے امراض میں بھی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔‘‘
میم کی باتوں کو سبھی بچے غور سے سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اتنے چھوٹے سے پودے میں خدا نے کتنی نعمتیں پوشیدہ کر رکھی ہیں۔’’سچ میں میم! یہ کراماتی پودا ہے۔ ہم نے تو آج تک اس کے بارے میں جانا ہی نہیں کہ اللہ نے ایسا بھی پودا ہمارے لئے بنایا ہےکہ جس کے پھول، شاخیں، جڑ اور پتیاں سبھی نعمت ہیں۔‘‘
’’ہاں بیٹا خدا کی بنائی ہوئی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نعمت پوشیدہ ہے جسے ہم جان ہی نہیں پاتے اسی لئے آپ لوگوں کو یہاں لایا گیا ہے کہ خدا کی اس جادوگری سے آپ سب واقف ہو سکیں اور دوسروں کو بھی بتائیں۔‘‘
وزیر گنج، لکھنؤ