9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عرفان عابدی مانٹوی
تیری شہادتیں ہوئیں انسانیت کے نام
چھلنی ہوا ہے سینہ ہندوستان پھر
مارے گئے ہیں دیس میں میرے جوان پھر
وادی میں تیرے ہائے رے کشمیر راگ ہے
جنت کی اس زمیں پہ جہنم کی آگ ہے
آنسوچھلک کے آنکھ سے ٹپکے زمین پر
دل میں اٹھا ہے درد،شکن ہے جبین پر
کرتی ہے ماں تلاش کہ بیٹا کہاں گیا
جس کو میں کہہ رہی تھی کلیجہ کہاں گیا
بولے کوئی یتیم سے بابا نہ آئے گا
سمجھادو کوئی باپ کو بیٹا نہ آئے گا
یا رب ہمارے دیس کو قوت عطا کرو
جلدی سے ظلم و جور کی بستی فنا کرو
سب چاہتے ہیں اگلے برس میرا نام ہو
ہو کیا خبر کہ یہ بھی سیاست کا کام ہو
چھینا گیا ہے باپ سے اسکا جوان لال
سن کر کے اس خبر کو ہوا آسمان لال
بدلہ ہر ایک جان کا لے کر رہیں گے ہم
لاشوں پہ تیرے لیکے ترنگا چلیں گے ہم
اے ملک کے جوان تمہیں ہو میرا سلام
تیری شہادتیں ہوئیں انسانیت کے نام
سب سے الگ ہے دہر میں میرا حسیں وطن
ہے مختلف گلوں سے مزیّن مرا چمن
عرفان اشکبار کی حالت میں کہہ گیا
سستا نہیں تھا خون جو لمحوں میں بہہ گیا
(+989100798147)





