مصباحی ؔ شبیر

طلعت عزیز صاحبہ کی کتاب تعلیمی نفسیا ت زیر مطالعہ تھی ۔اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت ہی اہم کتاب لگی تو لگا کہ اس کتاب کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھنا چاہیے تاکہ بہت سارے لوگ استفادہ کر سکیں ۔ اُردو زبان میں نفسیات کے موضوع میں بہت ہی کم کتب دستیاب ہیں ۔اس لئے اس کتا ب کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے ۔ بہرحال اس کتاب کو قومی کونسل برائے فروغ ِاُردو زبان نئی دہلی نے شائع کیا ہے ۔ کتاب میں کل چار باب ہیں ہر باب کے ذیل میں چند سرخیاں ہیں جن کی مدد سے کوشش کئی گئی ہے کہ اُردو زبان سے تعلق رکھنے والے اساتذہ و طلباء اس موضوع کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہوجائیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اُردو زبان میں اتنے حساس موضوع میں ایک سہل کتاب مرتب کرنا بہت سخت کام تھا جو کہ مصنفہ صاحبہ نے بخوبی انجام دیا ہے۔
کچھ کتاب کے بارے میں :۔ اس کتاب کے باب ِ اول میں سب سے پہلے تعلیم کے معنی و ارکان کو وضاحت کے ساتھ بیاں کیا گیا ہے پھر نفسیات کی تعریف اور تعلیمی نفسیات ،تعلیمی نفسیات کے مقاصد اور اس کی اہمیت و ماہیت و وسعت پر مکمل بحث ہوئی ہے ۔تعلیمی نفسیات کے طریقہ ِ کار کے تحت مشاہداہ ،تحقیق کا طریقہ، عملی تحقیق ،مطالعہ احوال کے ذریعے ایک خوبصورت طریقے سے بیاں کیا گیا ہے۔
باب دوم میں نشو و نماو نشونما کے اصول او ر زندگی کے مختلف ادوار کے ذریعے بچوں پر تبدیلی کو بیاں کیا گیا ہے تو ساتھ ہی عہد طفولیت ،ابتدائی بچپن ،درمیانی بچپن و عنفوانِ شباب کے زمانے میں بچوں پر واقع ہونے والی جسمانی تبدیلی کو دکھاتے ہوئے انہی ادوار میں جو ذہنی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ان کو بھی تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں فرد کی نشو ونما کے متعلق ماہرین ِ تعلیم سگمنڈ فرائڈ،ابراہیم ہیر الڈمیسلو،ایرک ۔ایچ۔ایرکسن،جین پیاجے اور جیروم ایس برونرکے نظریات بھی پیش کئے گئے ہیں ساتھ ہی ان ماہرین کے مختصر احوال زند گی بھی اسی کتاب میں موجود ہیں جو اپنے آپ میں اس کتاب کی اہمیت کو اور بھی دو بالا کر دیتے ہیں ۔
باب سوم میں ذہن اور ذہانت کے بارے میں بہت ہی اہم اور معلوماتی گفتگو کی گئی ہے ۔اس میں ذہانت وذہن کی کار کردگی ذہانت کے متعلق ماہرین ِ تعلیم چارلس اسپئیرمین ،لوئس لیون تھرسٹن ،ہارڈورڈ گارڈنر اور جوائے گلفورڈ بین کے نظریات کو بھی پیش کئے گئے ہیں اور ساتھ میں ذہانت کی پیمائش ،مقیاس ذہانت بھی بتائے گئے ہیں ۔
باب چہارم میں آموزش کا بڑا ہی تفصیلی بیاں ہے ۔آموزش کی تعریف ،معانی ،ماہیت ،خصوصیات ،آموزش کو متاثر کرنے والے عوامل اور آموزش کے طریقہ کار کا ذکر ہے ۔اس درمیان ماہرینِ تعلیم ایوان پالو،برہس فریڈرک اسکنز ،ایڈور ڈلی تھارن ڈائک ،کیسالٹ ،کوہلر ،میمو مسنیمووچ وائیگو ٹسکی کے نظریا ت کے ذریعے آموزش کو مکمل بیان کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی ہے ،ساتھ میں ان ماہرین کی مختصر حالاتِ زندگی کو بیاں کیا گیا ہے ۔ تعلیمی نفسیات کو بہتر انداز سے پیش کر نے کے علاوہ اس کتاب کے ذریعے اُردو میں تعلیمی نفسیات میں دلچسپی رکھنے والے اساتذہ و طلباء کے لئے خاطر خواہ مواد فراہم کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔کتاب کے آخر میں آموزشی معذوری پر بھی بحث ہوئی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اُردو میں اس قسم کی تحقیق و مواد کے خواہاں حضرات کے لئے یہ ایک مددگار کتاب ہے ۔اس میں اس موضوع کے لئے وضع انگریزی اصلاحات کا بھی بہت ہی بہترین استعمال ملتا ہے ۔ محترمہ طلعت عزیز صاحبہ و قومی کونسل دہلی اس کتاب کی پیش کش کے لئے واقعی مبارکبادی کے مستحق ہیں ۔تو اساتذہ کرام و طلباء کو چاہیے کہ اس کتاب کا ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کریں تاکہ انہیں اپنے کام میں مزید آسانی ہو ۔





