Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldتبادلۂ عزت

تبادلۂ عزت

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

مصباحیؔ شبیر

ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ قدیم انسان اشیاء کا تبادلہ کیاکرتے تھے ،وہ ایک دوسرے کواپنی چیزیں دے کر اپنی ضرورت کی چیزیں لے لیتے تھے ۔اس طرح ایک عہد گزر گیا ۔پھر تبادلہ اشیاء میں ایک پریشانی یہ پیش آئی کہ ایک شئے ایک شخص کتنی بار لیتا جیسے ایک بار آپ نے موچی کو اناج دیااور موچی نے آپ کو جوتے دئے لیکن دقت یہ ہوئی کہ اناج تو موچی کو بار بار درکار رہتا ہے لیکن ایک جوتے سے آپ ایک سال گزر بسر کرسکتے ہیں بس ایسے مسئلے جب زیادہ پیش آئے تو انسان سوچنے پر مجبور ہوئے ۔انسا ن نے ترقی کی اور سکہ دریافت ہوا سکے کا وجود کیا ہوا کہ یکا یک لوگوں نے اس نظام کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔لوگ سکے کے ذریعے اپنی ضرورت کی چیزیں لیتے اور کسی کو کوئی شکایت بھی نہیں رہتی ۔ یہ نظام اگر چہ ایک کامیاب نظام ِحیات تصور کیا جانا لگامگر دھیرے دھیرے اس نظام میں اتنی خامیاں اُبھرآئیں کہ لوگوں کو پُرانے نظام کی یاد شدت سے محسوس ہونے لگی لیکن آج تک انسان اتنی ترقی نہیں کرپایا ہے کہ جب اور جیسے چاہے اپنے ماضی میں چلا جائے ۔ہم اپنے مستقبل کو بہترتو بناسکتے ہیں لیکن لاکھ ترقی کرلیں لاکھ منصوبے بنائیں اپنے ماضی کو نہیں پا سکتے ہیں ۔ ہاں ایک بات میں ہم آزاد ہیں وہ یوں کہ بھلے ہم اپنے ماضی کو بہتر نہ بنا سکیں یا نہ پا سکیں مگر ہم ماضی کے چند طورو طریقے تو اپنا سکتے ہیں ۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تبادلۂ اشیاء کا نظام بھی کسی نہ کسی طریقے سے ہمارے سماج میں پیوست ہوتاجا رہا ہے ۔ وہ یوں کہ آج لوگوں میں تبادلہ عزت کا نظام بہت فروغ پارہاہے اور اس میںپائی جانے والی شدت اتنی شدید ہے جتنی کہ پُرانے زمانے میں تبادلہ اشیاء میں تھی ۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں ایک استاد کی سماج میں بھلے قدرو قیمت نہ ہو لیکن دوسرے استاد کو اُس کی قدر محسوس ہوتی ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر ،انجینر ،قلم کار ،دُکاندار اور چاہے جس بھی عہدے یا پیشے سے جو بھی تعلق رکھتا ہے اُس کو اپنے پیشے کی ہی اہمیت نظر آتی ہے وہ اپنے پیشے کو سماج کا بنیادی پیشہ قرار دیتا ہے باقی سب پیشے اُس کے نزدیک سماج کی فلاح و بہبود کے لئے ثانوی نوعیت کی اہمیت رکھتے ہیں ۔ بہرحال تبادلہ عزت بھی ہم پیشہ یا ہم صحبت افراد کے درمیان تک محدود ہو کر رہ گیاہے ۔ یہ تبادلہ یوں ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کی عزت وہیں ڈاکٹر کرتے ہیں جو اُس کی صحبت یا مجلس تک محدود ہیں ۔اسی طرح ایک قلم کار یا ایک ایڈیٹر کی عزت وہی لوگ کریں گے جو اُس کے ساتھ رہتے ہیں اور جن کی عزت وہ کرتا ہے ۔ اسی طرح اور بھی دیگر جگہوں یا پیشوں میں تبادلہ عزت ہوتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہیں لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں جن کا آپس میں روز کا لینا دینا رہتا ہے ۔کبھی ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم کسی کو خاطر میں نہیں لاتے لیکن جب اُس سے کوئی ضرورت در پیش آتی ہے تو اُس کی عزت کرنا مجبور ہوتے ہیں یہ بھی تبادلہ کی ایک قسم ہے کہ اُس جزوقتی عزت کے بدلے ہم اُس سے اپنا کام نکلواتے ہیں ۔ بعض لوگ اس تبادلہ عزت کے ہنر کا بہت ہی معقول استعمال بھی جانتے ہیں بلکہ اِسے سماج کا ایک طبقہ باضابطہ ایک ہنر اور ٹائلنٹ کے باب میں شمار کرتا ہے۔ اور یہ بھی اس ناچیز کا مشاہدہ رہا ہے کہ بعض اوقات یہ تبادلہ عزت کا ہنر بہت بھاری پڑتا ہے اور کامیابی نہ ملنے کی صورت میں بہت کچھ گنوانا پڑتا ہے ۔ بہرحال بات زیادہ طویل نہیں آپ کو بھی اپنے اپنے مشاہدات کے اضافے کی بھی گنجائش رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی حق حاصل ہے ۔
دراس کرگل لداخ 8082713692

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular